اردو زبان میں قرآن مجید کا غیرمنقوط ترجمہ ـ نوراللہ فارانی

منفرد لوگ ہی منفرد کام سرانجام دیتے ہیں۔ایسے ہی ایک منفرد کام کرنے والی منفرد شخصیت محترم ڈاکٹرمحمد طاہر مصطفی صاحب ہیں۔آپ دنیائے اسلام کے وہ پہلے سعادت مند انسان ہیں جس کو خالق کائنات نے اپنی ابدی کتاب قرآن مجید کا اردو زبان میں غیر منقوط ترجمہ کرنے کی سعادت سے نوازا ہے۔
آپ کے اس نادر اور جدت پرمشتمل کارنامہ پر سرسری نظر ڈالنے سے پہلے اس صنف کا دوسری زبانوں بالخصوص عربی میں قرآن مجید کی تفسیر وترجمہ سے تعلق اور ربط کا اجمالی تذکرہ کرتے ہیں۔
عربی زبان میں قرآن مجید کی غیر منقوط جزوی تفسیر کی پہلی کاوش مفتی آمد علی بن محمد حزوری آمدی شافعی (ت :۱۲۱۰ھ) کی ’’سورہ فاتحہ کی غیرمنقوط تفسیر‘‘ ہے ایضاح المکنون میں اس کا تذکرہ موجود ہے۔اسی طرح عبدالسلام بن عمر بن محمد حنفی ماردینی نے بھی سورہ فاتحہ کی غیرمنقوط تفسیرلکھی۔کنتور کے ایک عالم امداد علی کنتوری نے سورۂ یوسف کی غیرمنقوط تفسیر لکھی۔رام پور کے صاحبزادہ علی عباس خان نے بھی 93صفحات پر مشتمل سورۂ یوسف کی غیر منقوط تفسیر لکھی جس کے دو نسخے رام پور کے رضا لائبریری میں موجود ہیں۔
علامہ ابوالفیض محمد حسن فیضی جہلمی کی ایک غیرمنقوط اور غیر مطبوع سورہ فاتحہ کی تفسیرکا تذکرہ بھی ملتا ہے۔
شیخ محمود آفندی حمزاوی کی غیر منقوط تفسیر "درالاسرار”
پہلی مرتبہ ۱۳۰۶ھ میں شیخ محمود حمزاوی کے فرزند نے والد کی وفات کے بعد ایک جلد میں طبع کرائی،اب یہ تفسیر دو جلدوں میں درالکتب العلمیہ بیروت نے شائع کی ہے۔یہ پوری تفسیر ہے۔
ابو الفیض فیضی عجمی دنیا کے وہ پہلے مفسر ہیں جنہوں نے بے مثال عربی دانی کا سکہ بٹھا کر مکمل غیر منقوط تفسیر لکھی۔١٠٠۲ھ میں یہ تفسیر مکمل ہوئی، بادشاہ اکبر نے قرآن کی اس نادر اور جدت پر مشتمل تفسیر لکھنے پر فیضی کو اس وقت کے دس ہزار روپے بطور انعام دیے۔اس تفسیر کی بدولت آپ کو شہرت دوام حاصل ہوئی۔
قطب الدین بھبہانی نے بھی ایک مکمل غیر منقوط تفسیر ’’التفسیرالمعمول من غیر الحروف المنقوطۃ‘‘ کے نامی سے لکھی ہے۔یہ تفسیر تین جلدوں پر مشتمل ہے مکتبہ السماوی ایران میں موجود ہے۔
جناب رسول بخش تمیمی صاحب کی "مطالع الالہام "سندھی زبان میں لکھی قرآن کے آخری پارہ” عم "کی غیرمنقوط تفسیر ہے۔ آیات کا ترجمہ قطب الاقطاب علامہ سید تاج محمود امروٹی رحمہ اللہ کا ہے جو کہ نقطہ دار ہے ۔جبکہ غیرمنقوط تفسیر رسول بخش تمیمی صاحب کی ہے۔
اب آتے ہیں اردو زبان میں قرآن کے غیر منقوط ترجمے کی طرف۔اس ترجمے کا آغاز 14مئی 2011ء کو ہوا،اور دوسال سولہ دنوں کی قلیل مدت میں 30 مئی 2013ء کو قرآن مجید کے 30 پاروں کا اردو زبان میں پہلا غیرمنقوط ترجمہ مکمل ہوا۔1421صفحات پر مشتمل اس تفسیری غیرمنقوط ترجمہ میں 98فیصد الفاظ اردو کے اور صرف دو فیصد دوسری زبانوں کے استعمال ہوئے ہیں۔جس کا کوئی نعم البدل اردو زبان میں مترجم کو نہ مل سکا۔
ڈاکٹر طاہر مصطفی یونیورسٹی آف مینیجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبہ اسلامی فکر و تہذیب میں پروفیسر ہیں۔​آپ کے والد مولانا عبدالمجید عارفؒ مولانا سید عطاءاللہ شاہ بخاریؒ کے تربیت یافتہ اور عقیدت مندوں میں سے تھے۔
ڈاکٹر طاہر مصطفیٰ اس سے قبل اسماء النبی پر پی ایچ ڈی کی ڈگری لے چکے ہیں۔آپ کے اس ترجمہ کا تذکرہ قرآن مجید کے تراجم وتفاسیر کے باب میں ہمیشہ ایک منفرد اور حیرت انگیز کارنامے کی صورت میں ہوگا۔چونکہ غیرمنقوط ترجمانی میں بنسبت عام ترجمے کے قاری کو سمجھنے میں مشکلات پیش آتی ہیں بالخصوص غیر عالم کو۔اس لیے اس احساس کے پیش نظر مترجم نے قرآنی متن کے نیچے پہلے مولانا محمد جوناگڑھی کا سلیس اردو ترجمہ شامل کیا ہے اوربعد میں اپنا غیر منقوط تفسیری تعبیر یاترجمہ درج کیا ہے۔اس ترجمہ کے مطالعہ سے مترجم کی جگرکاوی اور پتہ ماری کا اندازہ ہوجاتا ہے۔نقطہ دار الفاظ کا اردو نعم البدل نہ ملنے کی وجہ سے بعض جگہ صوتی رعایت بھی برتی گئی ہے جیسے "رات” کے لیے "لےل کی گھڑی ” اور "دیکھو ” کو بھی صوتی اعتبار سے "دے کھو” لکھا گیا ہے۔ آنکھ کو بغیر ن کے نقطہ کے "آںکھ "لکھا گیا ہے۔آنکھ کے لیے ایک متبادل لفظ میرے ذہن میں ہے لیکن یہاں لکھنے سے خائف ہوں کہیں ایسا نہ ہو کہ پڑھنے والے مجھ پر "اندھے کو اندھیرے میں بڑی دور کی سوجھی ” کی پھبتی کسیں۔کیونکہ یہ تفسیری ترجمہ تیار ہونے کے بعد سات سال تک تصحیح ونظر ثانی کے مراحل سے گزرتا رہا۔اور فاضل مترجم ایک ایک لفظ کے متبادل سوچنے ڈھونڈنے اور استعمال کرنے کے لیے ہفتوں سرگردان اور متفکر رہتے تب کہیں جاکر اللہ پاک مدد فرماتے اور کوئی متبادل غیر منقوط لفظ پالیتے۔
قرآن مجید کے اس ترجمہ کی اشاعت کے لیے ڈاکٹر صاحب کے دوستوں نے مل کر سات آٹھ لاکھ روپے کی رقم عطیہ کی۔ ڈاکٹر صاحب کے ایک شاگرد نے بارہ لاکھ روپے ہدیہ کیے۔ اس کے بعد اشاعت ممکن ہو سکی۔ ریاست اورجس دانش گاہ میں ڈاکٹر صاحب پڑھاتے ہیں۔ان دونوں کی نظروں سے یہ عظیم کارنامہ اوجھل رہا۔
بہر حال یہ تفسیری ترجمہ جدت فن اور ادبی حوالے سے ایک اہم نادر اور تاریخی شہ پارہ ہے۔تاریخ کے اوراق میں مترجم کانام ہمیشہ امتیازی حیثیت سے اسی نسبت کے حوالے سے سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔حکومت وقت کو چاہیے کہ اس عظیم علمی ادبی اور تفسیری کارنامہ کی انجام دہی کے بدلے ڈاکٹر صاحب کو ملک کے سب سے بڑے اعزاز سے نواز دے۔اگرچہ مترجم کسی دنیاوی ایوارڈ کے حریص نہیں وہ تو ربانی ایوارڈ کے حصول کے آرزو مند ہیں۔
اس غیرمنقوط ترجمہ پر اب مختلف زاویوں اور متعدد حوالوں سے محقیقین تحقیق کریں گے مقالات لکھیں گے۔مترجم اپنے حصہ کا کام انجام دے چکے ہیں۔اور زبان حال سے یہ فرمارہے ہیں:

سپردم بہ تو مایہ خویش را
تو دانی حساب کم وبیش را

میں نے تو اپنا سارا سرمایہ تمہارے حوالے کر دیا اب تم جانو اور تمہارا کام۔
راقم الحروف اس عظیم سرمایہ کے مالک ہونےسے اب تک محروم ہے۔یہ کالم مختلف تحریرات اور اخبارات کے تراشوں کی روشنی میں ترتیب دیاگیا ہے۔
کالم کے آخر میں تسمیہ اور سورہ اخلاص کے ترجمہ کا ایک جھلک دیکھئیے اور مترجم کی محنت اور کمال فن کی داد دیجئیے۔
اللہ کے اسم سے کہ رحم والا ہے اور لا محدود رحم والا ہے۔
"کہہ دو کہ اللہ احد ہے، اللہ ارحام کے سارے واسطوں سے ماورا ہے،سوال ہی معدوم کہ اللہ کسی کی اولاد ہو کہ کوئی اس کی اولاد،سوال ہی معدوم کہ کوئی اس کا ہمسر ہو”۔