اردو زبان و ادب پر عربی کے اثرات

مصنف:ڈاکٹر سید علیم اشرف جائسی

مترجم:محمد طارق
تبصرہ:امیر حمزہ

اس دنیاکی لسانی تاریخ میں کئی موڑ ایسے دیکھنے کو ملتے ہیں جب ایک زبان کا غلبہ دوسری زبان پر ہوجاتا ہے اور علاقائی زبان ثانوی زبان بن کر رہ جاتی ہے، اسی طریقے سے کئی زبانیں ایسی ہوئی ہیں جنھوں نے اپنے اثرات بہت ہی دوراور دیر تک قائم کیے ہیں ۔یہ جغرافیائی اور مذہبی دونوں سطح پر ہوا ہے۔ اسلام کی آمد کے بعد عربی زبان کے سامنے کئی علاقائی زبانوں نے دم توڑا تو کئی قدیم اور مضبوط تہذیبوں کی نمائندگی کرنے والی زبان بھی فاتح کی زبان کو اپنے اندر سموتی چلی گئی اس کی واضح مثال فارسی زبان ہے جس میں عربی کا اثر اتنا زیادہ بڑھا کہ ایک مکمل زبان ہونے کے باوجود عربی کے الفاظ و تراکیب فارسی کے ہر جملے میں نظر آنے لگے ساتھ ہی شاعری میں عربی کے مصرعے تک باندھے جانے لگے۔ یہی کچھ اردو زبان کے ساتھ بھی پیش آیا کہ اس زبان نے اپنی ادبی اور علمی شروعات فارسی زبان کے ماتحت کی اور ایک حد تک فارسی، عربی کے الفاظ و تراکیب سے پر ہوچکی تھی۔ تو ایسے میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اردو کے شاعروں نے فارسی و عربی شاعری سے کشید کیا ہی ساتھ ہی شاعری بھی فارسی میں کی اور اسی کے ساتھ عربی کے اثرا ت بھی اردو پر ہوئے دوسری وجہ دینی بھی ہے ۔زبان کس طر ح بدلتی ہے اس کے واضح اثرا ت آپ اردو کے دو شاعروں کے یہاں دیکھ سکتے ہیں ایک جعفر زٹلی اور دوسرے اکبر الہ آبادی ۔زٹلی کے یہاں ہندو ی اور اردو کے اسماو صفات رقم ہو نا شروع ہوجاتے ہیں۔ ان کے عہد کے بعد اردو زبان اپنے عروج کو پہنچتی ہےاوراکبر الہ آبادی کے دور سے ہی زبان کروٹ لینا شروع کردیتی ہے یعنی انگریزی کا اثر اردو زبان میں بڑھنے لگتا ہے ۔اردو زبان کا بیشتر ادبی سرمایہ فارسی زبان سے آیا ہے اور اس زمانے کے اردو کے اکثرعلما عربی زبان و ادب سے واقف تھے۔ ان دونوں وجوہات کا ایسا گہرا اثر ہوا کہ اردو زبان وادب میں ہزاروں الفاظ عربی کے داخل ہوگئے ، جس پر زیر تبصر ہ کتاب میں مدلل گفتگو کی گئی ہے ۔اس کتاب کے مصنف عربی زبان و ادب کے مشہور ومستند عالم پروفیسرعلیم اشرف جائسی ہیں ۔ موصوف کا تعلق مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی سے ہے ۔ یہ کتاب ان کے تحقیقی مقالے کا حصہ ہے جو پروفیسر سید کفیل احمد کی نگرانی میں مکمل ہوا۔اس کو اردو کا جامہ محمد طارق نے پہنایا جن کا تعلق مولانا آزادنیشنل اردو یونی ورسٹی حیدرآباد کے شعبہ ترجمہ سے ہے ۔جہاں تک ترجمہ کی بات ہے تو فنی طور پر بہت ہی عمدہ اور سلیس ہے، اس میں معنوی ترسیل کی مکمل کوشش ملتی ہے ، بلکہ زبان سے یہ احساس ہوتا ہی نہیں کہ یہ ترجمہ ہے۔
یہ کتاب چار ابواب پر مشتمل ہے اور تمام ابواب میں کل فصول کی تعداد چودہ ہے ۔پہلے باب میں اردو زبان کی نشوو نما اور ارتقا کا تاریخی جائزہ ہے ۔اردو زبان کی نشوو نما پر جتنے بھی نظریات ہیں ان میں سے انہوں نے ہندوستانی، پنجابی اور ہریانوی نظریات پر بحث کی ہے۔ اس پر گفتگو کر تے ہوئے مصنف کو’’ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہر کسی نے اپنے نظریے کے اثبات پر توجہ دینے کے بجائے دوسروں کے خیالات و آرا کی تردید و ابطال پر زیادہ توجہ دی ہے ۔‘‘ ارتقا کی فصل میں دس مقامات و ادوار کے ساتھ صوفیا کا بھی خصوصی ذکر ہے جن میں سے اکثر کا تعلق تشکیلی دور سے ہے۔ دوسرے باب میں اردولغات پر عربی زبان کے اثرات پرتفصیلی گفتگو کی گئی ہے ۔ اس باب کی تمہید میں وہ دلچسپ باتیں بھی لکھتے ہیں کہ عربی زبان میں تمدن ، حکومت اور فرنیچر سے متعلق الفاظ کی بڑی تعداد فارسی سے ، علم و فلسفہ سے متعلق یونانی سے ، زراعت کے الفاظ نبطی سے ، دینی رسومات عبرانی یا سریانی سے ، مسالہ ، دوا اور خوشبو وغیرہ کے الفاظ ہندی الاصل سے آئے ہیں۔ دو زبانوں کے درمیان آپسی رشتہ کیسے قائم ہوجاتا ہے اس پر بھی معروضی گفتگو ہے ۔ جیسے آج کے دور میں ہم سمجھ سکتے ہیں کہ اردو سمیت کئی زبانوں میں سائنس اور جدید ایجادات کے متعلق الفاظ انگلش سے بلا کسی تغیر و تبدل کے آرہے ہیں ۔ اس باب میں دوفصلیں ہیں ۔پہلی فصل میں ان عربی الفاظ کا ذکر ہے جو بغیر کسی لفظی و معنوی تصرف کے اردو میں استعمال ہوتے ہیں ۔اس فصل کے حاشیے میں انہوں نے سمیر عبدالحمید ابراہیم کے لغت کا ذکر کیا ہے جس میں ہزاروں ایسے عربی الفاظ شامل کر دیے گئے ہیں جو نہ کسی اور دوسرے اردو لغت میں موجود ہیں اور نہ ہی اردو والے اس کو بولتے ہیں ۔حاشیہ میں ہی انہوں نے سیکڑوں الفاظ کے متعلق تلفظ کی تفریق کا ذکر کیا ہے۔ دوسری فصل میں ان الفاظ کا ذکر ہے جو لغت میں لفظی ،معنوی یا دونوں قسم کے تغیر کی ساتھ در ج ہیں ۔اس فصل میں انہوں نے لفظی تغیر کے چار اور معنوی تغیر کے چھ اسباب بیان کیے ہیں ساتھ ہی صوتی و دلالتی تغیر کی چھبیس اقسام کا ذکر کیا ہے ۔ایسے الفاظ کی تعداد تقریبا دو ہزار ہے ، اس میں انہوں نے ہر لفظ کا اردو معنی اور عربی معنی کا ذکر الگ الگ کیا ہے۔ اس کے بعددو سو سے زائد ان الفاظ کا ذکرکیا ہے جو اردو میں استعمال ہوتے ہیں لیکن عام بول چال میں حرکاتی تغیر واقع ہوچکا ہے ۔اس باب کی تیسری فصل میں ان عربی الفاظ کا ذکر کیا گیا جن کے ساتھ غیر عربی لاحقے اور سابقے آگئے ہیں ۔چوتھی فصل میں ان عربی مرکبات کا ذکر ہے جن کا ذکر اردو میں بکثرت ہوتا ہے بلکہ وہ روزمر ہ کی زبان میں بھی مستعمل ہیں جیسے فی الحقیقت ، فارغ البال وغیرہ ۔تیسرا باب اردو زبان کے علوم پر عربی زبان کے اثرات پر ہے۔ اردو زبان جب انیسویں اور بیسویں صدی میں بہت ہی زیادہ متعارف ہوگی ، ہر طرف لکھی اور پڑھی جانے لگی یہاں تک کہ ذریعہ تعلیم بھی اردو ہی ہوگئی اور اردو زبان میں علوم کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا ۔جو علوم پہلے عربی زبان میں پڑھائے جاتے تھے وہ اب اردو زبان میں پڑھائے جانے لگے۔ اگر صرف علوم کی بات کی جائے تو کئی علوم ہیں جو پہلے عربی زبان میں پائے جاتے تھے وہ اب اردو زبان میں بھی ہیں جن سے اصطلاحات و اسما و صفات براہ راست عربی زبان سے ہی آئے ہیں جیسے علوم حکمت وکلام وفلسفہ ودیگر لیکن یہاں مصنف نے صرف ان علوم کو شامل کیا ہے جن کا تعلق داخل زبان سے ہے جیسے پہلی فصل میں بلاغت سے علم بیان ، معانی اور بدیع ۔ دوسری فصل میں عرو ض وقافیہ ۔تیسر ی فصل میں صرف و نحو۔چوتھی فصل میں رسم الخط و املااور پانچویں فصل میں تنقید کے اردو زبان پر اثرات کیا ہیں۔واضح ہوکہ ان علوم میں عربی کا اثر ارد و زبان میں اتنا زیادہ ہے کہ گویا یوں سمجھ لیا جائے کہ تمام اصطلاحات کو ہو بہو نقل کر دیا گیا ہے۔چوتھے باب میں اردو ادب پر عربی زبان کے کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں اس پر گفتگو ہے ۔اس میں تین فصلیں ہیں ۔ پہلی فصل میں مجموعی اثرات کاذکر ہے جس میں مفردات ، تلمیحات ، تشبیہات و استعارات ، اصطلاحات و تراکیب وغیرہ پر گفتگو ہے۔دوسری فصل میں اردو نثر پر عربی کے اثرات کو پیش کیاگیا ہے ، نثر کی جو اقسام عربی میں پائی جاتی ہیں وہ اردو میں بھی پائی جاتی ہیں نام بھی وہی ہیں اس کے علاوہ چند نثری اصناف وہ ہیں جن کا تعلق عربی زبان و ادب سے رہا ہے جیسے تحریری قصے ، خطبات ، خطوط و مکاتیب ، سیر ت و سوانح ، ادبی مقالات ۔ اردو کی دینی تحریروں پر عربی کے اثرات کا مختصر ذکر کیا گیا ہے اگر اس کی تفصیل میں جاتے تو شاید اتنی ہی ضخیم ایک اور کتاب تیار ہوجاتی ۔تیسر ی فصل میں پہلے تو مجموعی طور پر اردو شاعری پر عربی زبان کے اثرات پر گفتگو ہوئی ہے اس کے بعد عربی شاعری اور فارسی شاعری کے اردو زبان پر کیا اثرات مر تب ہوئے ہیں اس پر بات کی گئی ہے ۔اردو اور عربی اصناف شعر جیسے قصیدہ ، غزل، مرثیہ ، مثنوی اور رباعی جن کا سرا عربی زبان سے ملتا ہے اور اردو میں براہ فارسی منتقل ہوئی ہیں ۔ رباعی میں اشکال بھی ہوسکتا ہے لیکن اتنا تو واضح ہے کہ اس کے اوزان وا رکان عربی سے ہیں ۔الغرض یہ کتاب مکمل دستاویز ہے ان تمام عناصر کے لیے جن کا ورود اردو میں عربی سے ہوا ہے ۔ اس کتاب کی تصنیف میں جس قدر محنت کی گئی ہے وہ جدید محققین کے لیے مثال ہے اور مترجم کی محنت صاف جھلکتی ہے کہ انہوں نے کس جانفشانی سے تمام چیزوں کو اردو کے ماحول میں ڈھال کر پیش کر دیا ۔ قومی کونسل کا شکریہ کہ اس نے اس قیمتی علمی وتحقیقی سرمایے کو شائع کر کے بین لسانی روابط کو منظر عام پر لایا ۔