اردو زبان کی تدریس و ترویج کے لیے تکنیکی وسائل کا استعمال وقت کی ناگزیر ضرورت:ڈاکٹر شیخ عقیل احمد

قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے زیر اہتمام ’آن لائن اردو زبان و ادب کی تدریس :مسائل و امکانات ‘کے موضوع پر قومی ویبینار

نئی دہلی:آج قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کی جانب سے ’آن لائن اردو زبان و ادب کی تدریس :مسائل و امکانات ‘کے موضوع پر ایک قومی سطح کا ویبینار منعقد کیاگیا جس میں ملک بھر کی موقر یونیورسٹیزکے اساتذہ و دانشوران اور ماہرین تعلیم نے شرکت کی ،اردو زبان و ادب کی آن لائن تدریس کے مختلف مسائل و امکانات پر گراں قدر مقالات پیش کیے گئے اوران مقالات کی روشنی میں کئی اہم تجاویز زیر غور آئیں۔کونسل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے اس موقعے پر تمام شرکاکا استقبال کرتے ہوئے موضوع کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور کہاکہ آج عالمی سطح پر آن لائن نظامِ تعلیم پر زور دیا جارہاہے اورتمام تعلیمی ادارے بتدریج اس نظام کو اپنا رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں اردو زبان کو بھی نئے حالات سے ہم آہنگ کرنے اوراس کی تعلیم و تدریس اور ترقی کی رفتار برقرار رکھنے کے لیے ممکنہ اسباب و وسائل اور امکانات پر غوروخوض کے مقصد سے آج کا یہ سمینار منعقد کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہاکہ اردو کی آن لائن تعلیم کے حوالے سے کئی مسائل ہیں جن پر قابو پانا ضروری ہے تبھی یہ سلسلہ کامیاب ہوسکتا ہے،خصوصاً پرائمری سطح کی آن لائن تدریس پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔قومی اردو کونسل اس سلسلے میں منظم منصوبہ بندی کے ساتھ کام کررہی ہے۔ ویبینار کی صدارتی تقریر میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے پروفیسر خواجہ اکرام الدین نے کہاکہ وباکی وجہ سے جہاں زندگی کے دوسرے شعبے متاثر ہوئے ہیں وہیں تعلیمی سسٹم بھی آف لائن سے آن لائن کی طرف منتقل ہورہاہے اور اردو زبان اس حوالے سے پیچھے نہیں ہے،انھوں نے کونسل سمیت ان تمام اداروں اور افراد کو مبارکباد پیش کی جو اردو زبان کی آن لائن تدریس کے علاوہ اس کے فروغ کے لیے آن لائن مذاکرہ،مشاعرہ اور ویبینار وغیرہ منعقد کروا رہے ہیں۔انھوں نے کہاکہ ہمیں حالات سے گھبرانے یا مسائل کی شکایت کرنے کے بجائے دستیاب وسائل کو استعمال کرنے پر توجہ دینی چاہیے،ہم اسی طرح خود کو نئے حالات سے ہم آہنگ کر سکتے ہیں۔خواجہ اکرام نے کہا کہ ہم لوگ ابھی آن لائن نظامِ تدریس سے اتنے مانوس نہیں ہیں اس لیے تھوڑی پریشانی تو ہوگی مگر معمولی توجہ اور سنجیدگی سے کام لے کر ہم خودکو اس نظام سے ہم آہنگ کر سکتے ہیں۔انھوں نے اردو زبان کی آن لائن تدریس اور مذاکرہ و سمینار وغیرہ کے کامیاب انعقاد کے لیے ایک مکمل ایپ ، تیار کیے جانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ قومی اردو کونسل یہ کام بخوبی انجام دے سکتی ہے۔کونسل کے ڈائریکٹر نے ان کے مشورے کو قابل قدر قرار دیتے ہوئے کہاکہ کونسل کی جانب سے اردو زبان کی آن لائن تدریس کے لیے ایپ بنانے کاکام جاری ہے اور جلد ہی یہ ایپ تیار ہوکر محبینِ اردو کے ہاتھوںمیں پہنچ جائے گا۔
قبل ازاں اس ویبینار میں اہم مقالات پیش کیے گئے جن میں اردو زبان کی آن لائن تدریس کے مختلف مسائل اور امکانات زیر بحث آئے۔مقالہ نگاروں نے اس پہلو پر زور دیاکہ آن لائن تدریس کو وقتی ضرورت کے طورپر تو قبول کیاجاسکتا ہے مگر اسے مستقل نظام کے طورپر اپنایا نہیں کیاجاسکتا،کیوں کہ آف لائن اور درسگاہ میں دی جانے والی تعلیم کے جوفوائد ہیں وہ آن لائن تدریس سے حاصل نہیں کیے جاسکتے۔اسی طرح مقالہ نگاروں نے اس پہلو کی بھی نشان دہی کہ ہندوستان جیسے ملک میں جہاں اب بھی ملک کے بڑے حصے میں انٹرنیٹ اور بجلی کی سہولت دستیاب نہیں ہے،وہاں آن لائن تدریس کا تجربہ پوری طرح کامیاب نہیں ہوسکتا۔جبکہ بعض مقالہ نگاروں نے آن لائن تدریس کے مثبت پہلوؤں پر بھی اچھی طرح روشنی ڈالی اور بتایاکہ اردو زبان و ادب کی تدریس کو ترقی یافتہ بنانے کے ساتھ اس کا دائرہ وسیع کرنے میں بھی تکنیکی ذرائع کو بخوبی استعمال کیا جاسکتا ہے۔اس ویبینار میں پروفیسر ظفر احمد صدیقی(علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)،پروفیسر شہاب عنایت ملک(یونیورسٹی آف جموں)، پروفیسر اسلم جمشیدپوری (چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ)، ڈاکٹر مشتاق احمد(پرنسپل سی ایم کالج،دربھنگہ)، پروفیسر شہاب ظفر اعظمی(پٹنہ یونیورسٹی)،پروفیسر ندیم احمد(جامعہ ملیہ اسلامیہ)، ڈاکٹر مسرت جہاں(مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی،حیدرآباد)،ڈاکٹر محمد کاظم(دہلی یونیورسٹی)ڈاکٹر درخشاں زریں(عالیہ یونیورسٹی کولکاتا)، ڈاکٹر شعیب رضاخان(این آئی او ایس)، نے اپنے مقالات پیش کیے۔ویبینار کی نظامت کے فرائض دہلی یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر امتیاز احمد نے بخوبی انجام دیے۔ڈاکٹر شیخ عقیل احمد کے اظہار تشکر کے ساتھ ویبینار اختتام پذیر ہوا۔اس ویبینار میں کونسل سے ڈاکٹر کلیم اللہ (ریسرچ آفیسر)،ڈاکٹر اجمل سعید(اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر)،افضل خان، فیاض احمد،نوشاد منظر اوربڑی تعداد میں دانشوران اورریسرچ اسکالرز موجود تھے۔