اردویاہندوستانی،ہنگامہ ہے کیوں برپا؟

زین شمسی
ریختہ پر فریفتہ لوگ بے حد اداس ہیں۔ وہ ”فرحت احساس“ نہیں کر پا رہے ہیں۔اس میں حیرانی کی ایسی کون سی بات ہے کہ ہنگامہ ہے۔ صراف صاحب نے ویب سائٹ بنائ، ٹیم بنائ،ایسے لوگوں کو جوڑا جو کرم ویر تھے۔ سر جھکا کر کام کرتے تھے اور کرتے ہیں۔ انہوں نے بہترین ویب سائٹ اردو کو دی، جس میں ہندی اور انگریزی کے توسط سے اردو کو سمجھا اور جانا گیا۔ ریختہ ایک مقبول عام اردو ویب سائٹ ہے، اس بات سے کوئی انکار کر ہی نہیں سکتا۔
ہوا یہ کہ بنجر زمین پر انہوں نے پھول کھلا دیااور اس کی خوشبو سونگھنے کے لیے اردو والے اس چمن کو سینچنے لگے۔ لیکن یہ کہنا بالکل درست نہیں ہوگا کہ اس ویب سائٹ کی آبیاری میں اردو والوں کا پسینہ لگا ہے۔ اردو والٕے تو ان سے دست بستہ درخواست گزار رہے کہ ہماری تحریروں کو اپنی ویب سائٹ میں جگہ دیں۔ انہوں نے جگہ دی بھی؛ لیکن ریختہ نے ایسی نایاب کتابوں کو بھی اپنی ویب سائٹ میں جگہ دی، جو دیگر اردو اداروں اور اکادمیوں میں دیمک کی نذر ہو رہی تھیں۔ انجمن ترقی اردو میں موجود بیشمار ادبی صحیفے کو ریختہ نے اپنا لیا۔ چونکہ انجمن اب ادبی لابنگ اور سیاسی شاپنگ کا گہوارہ ہے، اس لیے وہاں کتابوں کا کوئی کام بھی نہیں۔ کتابیں ریختہ کے کام آئیں۔اردو اکادمیاں اور اردو کونسل قورمہ بریانی کے لالچی لوگوں کو اپنے پاس بلا کر اردو کی ترقی کے نام پر فنڈ کی بندر بانٹ میں کامیابی کے ساتھ مشغول ہیں۔ انھیں اردو سے کم، اردو کے ذریعےملے عہدے سے زیادہ لگاؤ ہے۔ اردو اخبارات کے ایڈیٹر کی فضول کتابوں کو شائع کر کے اپنے خلاف اٹھنے والی آواز کو چالاکیوں کے ساتھ دبانے میں مگن ہیں۔ایسے میں صرف ریختہ ہی ہے،جو پورے لگن و محنت کے ساتھ اردو کے فروغ میں سرگرم ہے۔
ہنگامہ کچھ یوں ہے کہ اس نے اردو کی جگہ ہندوستانی کا استعمال کیوں کیا؟جو لوگ جشنِ ریختہ میں شامل رہے ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس تقریب میں اردو لکھنے پڑھنے والے لوگ کم جاتے ہیں۔ پروفیسران تو نہ کے برابر ہی جا تے ہیں اور جاتے بھی ہیں تو کسی کونے میں اپنی بے قدری کا رونا روتے رہتے ہیں۔ وہاں دراصل اردو کو دیکھنے کے لیے اس کے چاہنے والے جاتے ہیں۔ وہ اب بھی جائیں گے۔ ویسے ہی جوق درجوق جائیں گے۔ واویلا مچا کر آپ اسے روک نہیں سکتے۔
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہندوستانی کا نام دے کر سنجیو صراف اردو کو بچانے کی کوشش کر رہے ہوں۔ ابھی اتنی جلدی فیصلہ پر مت پہنچیے۔ انہوں نے محنت کی، اپنے بل بوتے پر ریختہ کوکھڑا کیا ہے،یہ ان کا اثاثہ ہے، وہ جو چاہیں کریں۔
آپ نے ہم نے کیا کیاسوائے ایک کمزور احتجاج کے۔ عدالت نے ایف آئی آر سے اردو کے الفاظ ہٹانے کا اعلان کر دیا۔ آپ نے کیا کیا؟ فلموں کو ہندی سرٹیفکٹ دیاگیا، آپ نے کیا کیا؟ پرائمری اسکولوں سے اردو ختم کر دی گئ،آپ نے کیا کر دیا؟کالجوں اور یونیورسٹیوں سے اردو غائب ہوتی گئ، آپ نے کیا کر لیا؟
بیچارے مدرسہ والے اردو بولتے ہیں، تو آپ ہی ان پر ہنستے ہیں کہ وہ کچھ اور نہیں بول سکتے۔ اِس معاملےمیں بھی آپ کچھ نہیں کر سکتے۔ جو کریں گے صراف ہی کریں گے۔ اردو کا ماضی بھی ریختہ تھا اور مستقبل بھی۔
ویسے میں نے ریختہ کے ابتدائی دور میں ہی جب ریختہ کے حق میں لن ترانیاں عروج پر تھیں، لکھا تھا کہ ایسا نہ ہو کہ آپ کا اثاثہ کسی ایک ویب سائٹ پر جا کر مقفل کر دیا جائے اور بغیر فیس کے آپ غالب و میر بھی نہ پڑھ سکیں۔
ویسے صراف صاحب آپ اس بات کو سمجھیے کہ اردو کا نام ہندوستانی نہیں ہے، اردو ضرور ہندوستانی ہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*