اُردو یونیورسٹی میں یومِ اساتذہ پر ویبینار

حیدرآباد:مولانا ابوالکلام آزاد نے بحیثیت وزیر تعلیم ملک میں تعلیم کی مستحکم بنیاد رکھی۔ انہوں نے 14 برس تک لازمی اور مفت تعلیم، لڑکیوں کی تعلیم، پروفیشنل ، تکنیکی تعلیم، ریسرچ پر توجہ دی۔ انہوں نے یو جی سی، آئی آئی ٹی، ساہتیہ اکیڈیمی، سنگیت کلا اکیڈیمی اور دیگر اہم ادارے قائم کیے۔ نئی تعلیمی پالیسی 2020 میں انہیں موضوعات پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر چاند کرن سلوجا، ڈائرکٹر سنسکرت پروموشن فائونڈیشن، نئی دہلی نے آج مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں یومِ اساتذہ کے سلسلے میں منعقدہ ویبنار میں پہلا خصوصی لکچر دیتے ہوئے کیا۔ ’’نئی تعلیمی پالیسی -20 کی روشنی میں اساتذہ کا بدلتا رول‘‘ کے عنوان سے شعبۂ تعلیم و تربیت نے ویبنار کا انعقاد کیاتھا۔ پروفیسر ایس ایم رحمت اللہ، وائس چانسلر انچارج نے صدارت کی۔ پروفیسر صدیقی محمدمحمود، رجسٹرار انچارج نے خیر مقدم اور موضوع کا تعارف کروایا۔ پروفیسر سلوجا نے بتایا کہ مولانا آزاد نے کہا تھا کہ تعلیم کا مقصد تنگ نظری کو دور کرنا ہے۔ بطور خاص مولانا نے فنون پر توجہ دی۔ نئی تعلیمی پالیسی میں بھی اس کا احاطہ کیا گیا ہے۔ فنون شناس اور کھلے ذہن کے ساتھ تعلیم انسان کو دماغی، سماجی اور نظریاتی ترقی فراہم کرتی ہے۔ پروفیسر ایس ایم رحمت اللہ نے صدارتی خطاب کے دوران کہا کہ قرآن و حدیث میں مسلمانوں کو خصوصی طور پر تعلیم پر توجہ دلائی گئی ہے۔ لیکن سچر کمیٹی کی رپورٹ نے ثابت کردیا ہے کہ ہندوستان میں مسلمان تعلیمی میدان میں بہت زیادہ پچھڑے ہوئے ہیں۔ اردو یونیورسٹی اس تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کی اپنی کوشش میں لگی ہوئی ۔ نئی قومی تعلیمی پالیسی 2020 بطور خاص طلبہ کو مرکزیت دی گئی ہے۔ اس لیے اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ طلبہ کو بہتر سے بہتر تعلیم فراہم کریں۔ آج کا تعلیمی نظام مولانا آزاد کے نظریات پر مشتمل ہے۔ مولانا آزاد کے افکار جیسے مادری زبان میں تعلیم، لازمی تعلیم، لڑکیوں کی تعلیم وغیرہ قومی تعلیمی پالیسی 2020 میں استفادہ کیا گیا ہے۔ اس لیے ہم بلا مبالغہ مولانا آزاد محض ماہر تعلیم نہیں تھے بلکہ مفکرِ تعلیم تھے۔ نیشنل ایجوکیشن پالیسی 2020 کے لیے کئی ماہرین کی آراء سے استفادہ کرتے ہوئے مرتب کی گئی ہے۔ اساتذہ پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ مادری زبان میں تعلیم ہوتو بچہ اچھی طرح سمجھ سکتا ہے، اس کو انگریزی میں بھی مہارت دلانے کی کوشش کرے۔ ڈاکٹر عبدالکریم عبدالمجید سالار، اقراء ایجوکیشن سوسائٹی، جلگائوں، مہاراشٹرا نے دوسرے خصوصی لکچر میں کہا کہ قدیم زمانے میں جو طاقتور ہوتا وہی سردار ہوا کرتا تھا۔ بعد میں دولت حکومت کے لیے ضروری رہی لیکن آج وہی حکومت کرتا ہے جس کے پاس علم اور ٹکنالوجی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ اس کی استاد کی ضرورت سے ملا۔ انسان کو ابتداء سے ہر چیز سکھانی پڑتی ہے اور اسے استاد کی ضرورت ہوتی ہے جو پہلے اس کی ماں پھر اس کے دار رشتہ اور پھر ٹیچر پورا کرتے ہیں۔ انہوں نے استاد کو طلبہ کو تیار کرنے والی ’’ڈائی‘‘ قرار دیا اور کہا کہ اس میں نقص ہوتو پھر اس راست اثر تعلیم پر پڑتا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کا قول نقل کیا جس میں انہوں نے کہا تھا اچھا ٹیچر وہ نہیں جو بہت اچھا پڑھاتا ہو بلکہ وہ ہے جو بچے کو پڑھنے کے قابل بنائے۔ پروفیسر صدیقی محمد محمودنے خیرمقدمی خطاب میں کہا کہ اساتذہ کو قوم ساز کہا جاتا ہے۔ دیگر پروفیشنلس بھی قوم کی تعمیر میں تعاون کرتے ہیں لیکن اساتذہ کو ہی قوم ساز کہنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ محض تعلیم ہی نہیں دیتے بلکہ طلبہ کو بہتر انسان بنانے کے لیے تربیت بھی کرتے ہیں۔ جو بہتر انسان ہوگا وہ بہتر پروفیشنل بھی ہوگا۔ انہوں نے کویڈ 19 وباء کے دوران ڈاکٹروں اور دیگر پیشہ ور افراد کا ذکر کیا جنہوں نے اپنی جان کی بازی لگاکر اس برے وقت میں قوم کی خدمت کی۔
یومِ اساتذہ کے سلسلے میں یونیورسٹی کے سابق اساتذہ پروفیسر ایس اے وہاب، پروفیسر آمنہ کشور، پروفیسر خالد سعید، پروفیسر سید شاہ محمد مظہر الدین فاروقی ، پروفیسر فاطمہ بیگم اور پروفیسر گھنٹہ رمیش کو یادگاری تحفے اور تہنیتی مکتوب بھیجے گئے جسے جناب محمد مصطفی علی سروری، اسوسیئٹ پروفیسر، شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت کی سرپرستی میں یونیورسٹی الومنائی اسوسی ایشن کے صدر جناب اعجاز علی قریشی، جناب ایوب خان، جنرل سکریٹری اور دیگر نے ان تک پہنچائے اور ان کے ویڈیو پیامات ویبنار کے دوران انسٹرکشنل میڈیا سنٹر کے تعاون سے پیش کیے گئے۔ ڈاکٹر وقار النساء، اسوسیئٹ پروفیسر نے کارروائی چلائی۔ ڈاکٹر اختر پروین، اسسٹنٹ پروفیسر نے پروفیسر سلوجا کا اور محترمہ رابعہ اسمٰعیل نے ڈاکٹر عبدالکریم کا تعارف پیش کیا۔ شہباز احمد کی تلاوت کلام پاک سے ویبنار کا آغاز ہوا ۔ ڈاکٹر اشونی اسوسیئٹ پروفیسر و کنوینر ویبنار نے شکریہ ادا کیا۔ پروفیسر محمد مشاہد، صدر شعبۂ تعلیم و تربیت نے انتظامات کی نگرانی کی۔ ڈاکٹر محمد کامل، ڈائرکٹر انچارج مرکز برائے آئی ٹی ویبنار کے انعقاد میں حصہ لیا۔