اردو یونیورسٹی میں عملی تحقیق پر ورکشاپ کا افتتاح،پروفیسر رحمت اللہ اور پروفیسر محمودصدیقی کاخطاب

حیدرآباد:تعلیم و تربیت اور تحقیق کے تقاضوں سے واقفیت کے بغیر معاشرہ تر قی نہیں کر سکتا اور انسانیت کی فلاح کے لیے تحقیق نا گزیر ہے۔ان خیالات کا اظہار پروفیسر ایس ۔ایم۔رحمت اللہ ،شیخ الجامعہ (کارگزار)،مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے کل عملی تحقیق پر منعقدہ پانچ روزہ آن لائن ورکشاپ کی افتتاحی تقریب میں کیا۔مر کز پیشہ ورانہ فروغ برائے اساتذہ اردو ذریعۂ تعلیم (سی پی ڈی یو ایم ٹی)اور ڈین ریسرچ اینڈ کنسلٹنسی ،مانو کے زیر اہتمام جاری ورکشاپ کے افتتا حی پروگرام میں صدارتی کلمات پیش کر تے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتِ حال میں اساتذہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ تعلیم و تر بیت کی اہمیت و افادیت کو سمجھتے ہوئے تحقیق کے تقاضوں سے بھی واقف ہوں ۔انہوں نے مولانا ابو الکلام آزاد کے فلسفہ تعلیم اور قرآنی تعلیمات کے حوالے سے کہا کہ اردو ذریعہ تعلیم سے منسلک اساتذہ کو عملی تحقیق پر ماہرین کے خیالات سے استفادہ کر تے ہوئے اپنے تعلیمی اداروں کے تدریسی مسئلوں کو حل کرنے میں پیش پیش رہنا چا ہیے۔پروفیسر صدیقی محمد محمود ،کار گزار، رجسٹرار نے پہلے تکنیکی اجلاس میں عملی تحقیق پر سیر حاصل گفتگو کر تے ہوے بتا یا کہ عملی تحقیق کا بنیادی مقصد موجودہ و سائل کی مدد سے کسی تدریسی مسئلے کا فوری حل نکالنا ہے۔پروفیسر محمد عبدالسمیع صدیقی ،ڈائرکٹر ،سی پی ڈی یو ایم ٹی،نے پانچ روزہ آن لائن ورکشاپ کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔انہوں نے بتا یا کہ اردو یونیورسٹی کے انسٹرکشنل میڈیا سینٹر کے ذریعہ یوٹیوب پر ورکشاپ کا لائیو ٹیلی کاسٹ کیا جا رہا ہے۔قبل ازیں پروفیسر سلمیٰ احمد فاروقی،ڈین،ریسرچ اینڈ کنسلٹنسی نے تمام شرکا اور مہمانوں کا خیر مقدم کیا۔ افتتاحی اجلاس کی کاروائی ورکشاپ کی کوآرڈینیٹر ،ڈاکٹر وقار النساء، اسوسئیٹ پروفیسر شعبۂ تعلیم و تر بیت نے چلائی اور ڈاکٹر عبدالعلیم نے تلاوت قرآن پاک کی۔