اردو تدریس کا آف لائن سے آن لائن تک کا سفر-پروفیسر اسلم جمشید پوری

درس و تدریس ایک اہم شعبہء زندگی ہے ۔اسے پیشہ بھی کہہ سکتے ہیں، لیکن یہ ہمیشہ سے پیشے سے زیادہ خدمت رہا ہے۔ زمانۂ قدیم میں یہ صرف خدمت ِ خلق ہی ہوا کرتا تھا۔اور خدمت کے بدلے کسی لین دین کا کوئی تصور بھی نہیں تھا۔ پیر ، فقیر ، رشی، منی، سنت ، یا مذہبی اتالیق، سب کے سب تعلیم کو عام کرنا اور انسان کو تعلیم یافتہ بنانا، اپنی زندگی کا اہم مقصد و مصرف سمجھتے تھے۔ ایسے میں استاد وشاگرد دونوں درس و تدریس کو عبادت تسلیم کرتے تھے۔ یہی باعث ہے کہ وہ اس کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی نہیں برتتے تھے۔ بلکہ دلجمعی، لگن اور جانفشانی سے حصول علم میں سرگرداں رہتے تھے۔ زندگی کا ایک مخصوص حصّہ پیر کی خدمت میں صرف کرتے ۔ اور جب برسوں کی محنت و ریاضت کے بعد استاد فراغت کے وقت خلق ِخدا کی خدمت کی تاکید کے ساتھ میدان ِ عمل میں اتر نے کی اجازت دیتا ۔اور پھر ایک شاگرد کے استاد بننے اور تعلیم کو عام کرنے کا نیا سلسلہ نئے علاقے میں جاری و ساری ہو جاتا۔ صدیوں تک یہ طریقۂ کار رائج رہا۔آہستہ آہستہ جھونپڑی اور چھپر سے مدارس و مکاتب، کا سلسلہ شروع ہوا۔ درس و تدریس کا یہ عمل اور شعبہ، بلا معاوضہ جذبہء خدمت کی شکل میںجاری رہا۔
صدیاں گذرتی رہیں۔ زمانہ تیزی سے تغیر و تبدل سے دو چار ہوتارہا۔ حالات تبدیل ہوئے درس و تدریس نے خدمت کے ساتھ ساتھ پیشے کی شکل بھی اختیار کر لی۔ اسکول ، کالج ، یونیورسٹیز کا قیام عمل میں آیا ۔ پیشہ وارانہ مہارت کی اہمیت بڑھتی گئی ۔ ہر شعبہء حیات میں پیشہ ور ماہر ین رکھے جانے لگے۔درس و تدریس میں بھی پیشہ واریت کی شروعات ہوگئی۔ خدمت کا جذبہ کہیں کم کہیں زیادہ تو ہوا لیکن بالکل ختم نہیں ہوا۔ کلاس روم تدریس طالب علم کے ساتھ ساتھ اساتذہ کے لیے بھی بہت کار آمد ثابت ہوئی۔ لیکن ایک زمانے تک اس طریقۂ تعلیم میں یکطرفہ عمل جاری رہا۔ یعنی ایک طرف علم کا دریا رواں ہے۔ طالب علم صرف سن اور دیکھ رہے ہیں۔ ہمارے متعدد اور بے شمار علم و فن کے ماہر اور متعدد اساتذہ اس طریقہ ء تدریس کو ہی پسند کرتے رہے اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اس طرز سے ایک زمانہ فیضیاب ہوتا رہا ہے۔
تغیر وتبدیل نے وقفے وقفے سے بہت کچھ تبدیل نہ کیا ہوتا تو ہم آج انہیں راہوں پر گامزن رہتے۔ جیسے جیسے اساتذہ کے لیے تربیت گاہیں اور نئے نئے کورسز مثلاً ٹیچرز ٹریننگ ڈپلومہ، بی ٹی سی، بی ایڈ، شروع ہوتے گئے۔ درس و تدریس کا معیار بھی تبدیل ہوا اور دو طرفہ طریقۂ تدریس سامنے آیا۔ یعنی اب لکچر کو زیادہ دلچسپ بنایا جانے لگا۔ طالب علموں کی شراکت کافی صدبڑھ گیا۔ طالب علم آزادانہ طور پر سوال کرنے لگا۔ ہوم ورک کے نام پر طالب علموں کی اسباق میں شرکت میں اضافہ ہوا۔ امدادی اشیاء Teaching aid کا استعمال یعنی تصاویر ، جددل، نقشے ، گلوب ، وغیرہ کا سبق کے مطابق استعمال ہونے لگا۔اور اس کے بہت بہترنتائج بھی سامنے آئے۔
کمپیوٹرکے آجانے کے بعد تبدیلی کا ایک زبردست دور آیا۔ بہت کچھ تبدیل ہونے لگا۔ سلائڈس کے ذریعہ بڑے پردے پر بہترین تاثر کے ساتھ تدریس میں بھی تبدیلی ہوئی۔ خط و کتابت کا معاملہ تبدیل ہو گیا۔ انٹرنیٹ نے خط و کتابت کو نہ صرف بالکل مفت کر دیا بلکہ وقت کے عنصر کو ختم ہی کر دیا۔ پلک جھپکتے ہی خط ( ای میل) دنیا کے کسی بھی ملک میں موصول ہونے لگا۔ انجیئرنگ ، میڈیکل، مینجمنٹ کے شعبوں میں درس و تدریس کا نیا منظر نامہ سامنے آگیا۔اسمارٹ بورڈ، پی پی ٹی پریزینٹیشن ، ڈیجیٹل پروچیکٹر سے بڑے بورڈ پر کمپیو ٹر کے ذریعہ پڑھائی ہونے لگی ۔
اس پس منظر میں اردو کی درس و تدریس کا جائزہ لیاجائے تو کلاس روم تدریس میں لیکچر طریقۂ کار تک اردو تدریس دیگر زبانوں اور موضوعات کے شانہ بہ شانہ ترقی کی راہوں پر گامزن رہی۔ جہاں تک امدادی اشیاء اور کمپیوٹر کا تدریس میں استعمال کا سوال ہے تو ہمیں کچھ حد تک مایوسی ضرور ہوتی ہے۔ انٹر نیٹ کو عام ہوئے تقریباً 20-25 برس ہو چکے ہیں لیکن آج بھی ہمارے بعض اساتذہ اس سے بخوبی واقف نہیں ۔ اسمارٹ بورڈ، اسمارٹ کلاسز، ڈیجیٹل پروجیکٹر، پی پی ٹی پریزینٹیشن وغیرہ کے معاملے میں بھی اُردو اور اردو اساتذہ ابھی بہت پیچھے ہیں ۔ ہاں جہاں تک فاصلاتی نظام تعلیم میں اردو کی صورت حال کا معاملہ ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ اردونے فاصلاتی نظام کو بہت جلد اپنایا اور بخوبی طلبا و طالبات کو گھر بیٹھے تعلیم سے آراستہ کیا۔ آج درجنوں ایسی درس گاہیں ہیں جہاں فاصلاتی نظام کے تحت اردو کی تدریس بخوبی جاری ہے۔انٹر نیٹ پراردو سکھانے والے درجنوں کورسزموجود ہیں۔ متعدد ویب سائٹس ، پورٹل ، ای میگزین ، ای اخبارات وغیرہ سبھی نے اردو کو نئے ماحول اور فرنٹ پر مستند کیا ہے۔
اردو کی تدریس میں بھی نئے نئے در وا ہوتے رہے۔زبان کے متعدد موضوعات ہوں یا پھر نظم،غزل،افسانہ یا پھر ڈراما،تدریس کے نئے طریقوں نے اپنے ہدف کو حاصل کیا ہے۔تدریس کے مقاصد،طریقہء کار اور نتائج کے تعلق سے ماہر تعلیم پروفیسر غضنفر لکھتے ہیں :
’’درس و تدریس کا کام مخزن متن کو کھولنا، اسباق علم وفن کے طلسمات میں داخل ہونا، مضامین کے دفینوں میں بندمعلومات کے خزانوں تک پہنچنا، معنی و مفہوم کے موتیوں کو تلاش کرنا ، زبان و بیان کے نگینوں کو کھوج نکالنا اور ان موتیوں کی چمک دمک سے طلبا کے احساس و ادراک کو باشعور وبالیدہ بنانا ، ان کے دل و دماغ کو روشن کرنا اور رگ وریشے میںلطف و انبساط کی لہر یں دوڑانا ہے۔ یہ کام کسی بہتر طریقۂ کار یا تدریسی منصوبہ بندی کے بغیر ممکن نہیں۔ دنیائے درس وتدریس میںموثر طریقۂ تعلیم یا تدریسی منصوبہ بندی ہی وہ قطب نما ہے جو اساتذہ اور طلبا دونوں کو اسباق کی صحیح سمتوں کا پتا دیتا ہے اورانہیں مواد و موضوع کی گہرائیوں تک پہنچا تا ہے لیکن راہ نمائی کا یہ کام تدریسی منصوبہ بندی کے لیے بھی آسان نہیں۔‘‘
(جدید طریقہ ء تدریس ، غضفر،ص ۱۴،ایجوکیشنل پبلشنگ ہائوس،دہلی،۲۰۱۹)

گذشہ مارچ سے نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا جس طرح سے لاک ڈاؤن کے دور سے گذررہی ہے ایسے میں تدریس کے شعبے میں بھی زبردست تبدیلیاں آئی ہیں۔ اب آن لائن ٹیچنگ جو کل تک فیشن اور اسٹیٹس کے لیے استعمال ہو رہی تھی ۔ اب وقت کی ضرورت بن گئی ہے ۔ایسے میں دیگر مضامین کے ساتھ اردو میں بھی آن لائن تدریس ایک متبادل کے طور پرسامنے آئی ہے۔ ماہرین زبان اور دانشوروں کا خیال ہے کہ یہ وقتی ضرورت تو ہو سکتی ہے لیکن کلاس روم تدریس کا متبادل نہیں ۔ ایسے ماہرین اور دانشوروں سے معذرت کے ساتھ کہ آپ کا خیال درست ہے لیکن فی الحال وقت کا تقاضا ہے کہ ہم آن لائن تدریس سے روبرو ہوں، اور اس میں درپیش مسائل کا تدارک کرتے ہوئے نیا اور مستحکم لائحۂ عمل تیار کرکے جدید ٹکنالوجی کو اپنائیں۔
آن لائن اردو تدریس میں ایک بڑا خطرہ انٹر نیٹ کی عدم دستیابی یا کمزور نیٹ یعنی نیٹ کی رفتار کم ہونا۔ نیٹ کی دستیابی اس تدریس کی ریڑھ ہے۔ ایسے میں ضروری ہو گیا ہے کہ طالب علموں اور اساتذہ کے پاس اچھے موبائل ، لیپ ٹاپ،ٹیبلیٹ اچھی اسپیڈ کے انٹر نیٹ کے ساتھ موجود ہوں۔ پھر ہمارے طلبہ کے ساتھ ساتھ اساتذہ کو آن لائن تدریس کی تربیت بھی ضروری ہے۔یہاں ایک اور بات کی وضاحت بہت ضروری ہے۔اردو کے اچھے استاد کے لئے اوصاف کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر ریاض احمد لکھتے ہیں :
٭ اردو زبان کی مہارت سے واقفیت
٭ اردو زبان کے آغاز و ارتقا سے واقفیت
٭ اردو ادب سے واقفیت
٭ علمی و درسی قابلیت
٭ خوش الحانی ( بہتر نظم و نثر خوانی)
٭ دیگر مشترک زبانوں سے واقفیت
٭ دیگرمضامین کی واقفیت
(اردو تدریس : جدید طریقے اور تقاضے،ڈاکٹر ریاض احمد،ص ۲۵۲،مکتبہ جامعہ لمیٹڈ،دہلی،۲۰۱۳)
آج کے دور میں اس میں چند خوبیوں کا شامل ہونا ضروری ہے۔مثلاً
۔ کمپیوٹر کا مکمل علم
۔ اردو فونٹ ان پیج اور یونیکوڈ کا استعمال
۔ انٹر نیٹ اور آن لائن کی باریکیوں سے گہری واقفیت
۔ نئی تکنالوجی سے کا استعمال
درج ِ بالا اوصاف ایک اردو استاد میں ہوں گے ،تو اردو اساتذہ کسی بھی حال میں کسی سے پیچھے نہیں ہوں گے ۔
ویسے خوشی کی بات ہے کہ اِدھر لاک ڈاؤن وقفے میں اُردو میں آن لائن تدریس بخوبی جاری ہے۔ ہندوستان کی کم و پیش ۴؍ درجن سے زائد یونیورسٹیز اور کالجز میں آن لائن تدریس کا بہتر نظام لاگو ہو چکا ہے۔ ہمارے اساتذہ خوب سے خوب تر کوشش کر رہے ہیں۔ ہاںیہ ضرور ہے کہ یہ تعداد بہت کم ہے ۔ کثیر تعداد میں کالجز اور شعبہ ہائے اردو میں کمزور نیٹ ، کمپیوٹرس ، موبائل، لیپ ٹاپ کی کمی کے سبب آن لائن تدریس میں دقت بدستور قائم ہے۔
یونیکوڈ اردو کا استعمال اس تدریس میں خاصا معاون ہے۔ ضرورت ایک بہت اچھے ہندوستانی اردو ایپ کی ہے جو تدریس میں معاون ہو اور اردووالوں کی ضروریات کو بخوبی پورا کرے۔ اس طرف دیگر وسائل کے استعمال سے بھی آن لائن تدریس کو زیادہ پر اثر بنایا جا سکتا ہے۔ مثلاً آڈیو۔ویڈیو لیکچر کا استعمال بھی اس سلسلے میں خاصا معاون ہے۔ خوشی کی بات ہے کہ ہمارے بہت سے اداروں اور اسکالرز کی ذاتی کاوشوں سے سوشل میڈیا پر متعدد دلیکچر آڈیو اور ویڈیو میں دستیاب ہونے لگے ہیں۔ متعددتنظیمیں انٹر ویوز اور مختلف موضوعات پر لیکچر کا آن لائن اہتمام بھی کر رہی ہیں۔ فیس بک اوریو ٹیوب پر بہت سارا مواد آن لائن ہوتا رہتا ہے۔ کالجز اور یونیورسٹی کے اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ ایسے آڈیو۔ ویڈیو لیکچر ز، انٹر ویوز،مباحثوںوغیرہ کو ایک فولڈر میں جمع کر لیں اور ان کا تدریس میں استعمال کریں۔
آن لائن تدیدس میں اُردو کو ای بکس کی بھی بے حد ضرورت ہے۔ ا س سلسلے میں بھی ریختہ ، اردو کونسل، اردو چینل اور دیگر اداروں کی سائٹس پر اردو کی مختلف موضوعات پر بے شمارکتب موجود ہیں۔ ریختہ کی کتابیں اپنی پالیسی کے تحت ڈاؤن لوڈ نہیں ہوتی ہیں۔ ہمارے متعدد سرکاری و نیم سرکاری اور پرائیوٹ اداروں کوای بکس کی اشاعت پر خاص توجہ دینی چاہیے خاص طور پر ہمارے معروف پبلشرز اس طرف خاص توجہ کریں تو یہ مسئلہ بھی حل ہو سکتا ہے۔ جس طرح اِن دنوں زیادہ تر اردو کے رسائل آن لائن شائع ہونے لگے ہیں۔
آن لائن تدریس میں اساتذہ کی ذمہ داریاں پہلے کے مقابلے زیادہ بڑھ جاتی ہیں۔ اُنہیں اب ،پہلے سے زیادہ اپنے ہر لیکچر کی تیاری کرنی چاہیے۔ آن لائن تدریس کو دلچسپ بنانے کے لیے اسکرین شیئر کے ذریعہ بہت سی تصاویر ، جدول اور دیگر حوالوں کو بھی طلبہ کے سامنے رکھا جا سکتا ہے۔ اساتذہ کو یہ بھی خیال رکھنا ہوگا کہ کلاس روم تدریس میں ان کے لیکچر ، جملے و غیرہ ، ریکارڈ نہیں ہوتے تھے۔ اب یہ عمل بھی ہوتا ہے۔ لہٰذا بہت سوچ سمجھ کر اپنا تیار کردہ مواد ہی استعمال کیا جائے، ورنہ جہاں طالب علم اساتذہ کی چوری پکڑ لے گا پل بھر میں پوری دنیا کے سامنے سب کچھ آ جائے گا۔ دوسرے آج کل کاپی رائٹ کا بھی معاملہ ہے۔ کسی اور کی کتاب ، مضمون ، مقالے کا استعمال بغیر اجازت کے بہت مہنگا پڑ سکتا ہے۔قانونی چارہ جوئی کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
آن لائن تدریس میں طلبہ و طالبات کو بھی سنجیدہ ہونے کی ضرورت ہے۔ وقت پر گھر میں اپنی ایک مخصوص جگہ پر پوری تیاری کے ساتھ موجود رہیں۔ انٹر نیٹ برابر چیک کرتے رہیں۔اپنی آواز کو اس وقت تک میوٹ (بند) رکھیں جب تک آپ سے کوئی سوال نہ کیا جائے یا آپ کو کچھ پوچھنا ہو ۔ ورنہ سبھی لوگ پریشان ہوتے ہیں۔ پھر آپ کے آس پاس کی غیر ضروری آوازیں، بھی خلل انداز ہوتی ہیں۔ طالب علم سنجیدہ ہو کر یہ سمجھے کہ وہ کالج یا یونیورسٹی میں ایک وقت ِ مقرر کے لیے کلاس میں ہے۔ جو ضروری ہدایات دی جائیں ان پر عمل کریں۔ یہ بھی خیال رکھے کہ اس کی حرکات و سکنات بھی ریکارڈ ہو رہی ہے ۔طالب علم خود بھی ریسرچ کرتے رہیں اور آن لائن تدریس کے طریقے میں اساتذہ کی مدد بھی کریں۔
ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہم تدریس میں آف لائن سے آن لائن تک کا سفر طے کر چکے ہیں ۔ایسے میں جہاں ہماری ذمہ داری اردو کا تحفظ ہے وہیں ہمارے اندر خدمت کا جذبہ بھی قائم رہے تاکہ اردو کی اپنی شناخت یعنی رواداری،اخوت،انسان دوستی،مشترکہ تہذیبی روایات کاتحفظ وغیرہ بھی قائم ودائم رہے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*