اردو شعروادب میں بہارکے ندوی علما کی خدمات کا اجرا

پھلواری شریف(پریس ریلیز):معروف عالم دین اورصاحب قلم مولاناڈاکٹرسجاداحمدندوی کی کتاب’’اردوشعروادب میں بہارکے ندوی علماء کی خدمات‘‘ کا اجراآج آل انڈیاملی کونسل پھلواری شریف پٹنہ کے دفترمیں کونسل کے قومی نائب صدرمولاناانیس الرحمن قاسمی،ریاستی نائب صدرمولاناابوالکلام قاسمی شمسی،ریاستی جنرل سکریٹری مولانامحمدعالم قاسمی،دیوبندسے تشریف لائے مہمان مولاناریاست اللہ قاسمی اورریاستی کارگزارجنرل سکریٹری مفتی محمدنافع عارفی اورمولانانورالسلام ندوی کے ہاتھوں عمل میں آیا۔اس تقریب اجراکی صدارت مولاناانیس الرحمن قاسمی نے کی۔اس باوقارعلمی تقریب کاآغازمولاناجمال الدین قاسمی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔مولاناانیس الرحمن قاسمی نے اپنی صدارتی گفتگومیں کہاکہ یہ کتاب مختصرہونے کے باوجودمفیدہے،اس کی حیثیت اس ضمن میں کام کرنے والوں کے لئے خشت اول کی حیثیت رکھتی ہے۔مولانانے ندوی فضلاکےشعری وادبی کارناموں پرگفتگوکی ہے،لیکن اس سلسلے میں مزیدتحقیق کاکام ہوناچاہئے،ہم امیدکرتے ہیں کہ آئندہ کی جلدوں میں ڈاکٹرسجادندوی اپنے اس کام کواوربھی زیادہ منضبط اندازمیں پیش کریں گے،یہ کتاب ندوی فضلاکے ادبی کارناموں کے ایک گوشے کواجاگرکرتی ہے تاہم یہ حرف آخرنہیں ہے بلکہ مزیدکام کی ضرورت ہے۔
اس موقع پرمولاناابوالکلام قاسمی شمسی نے مصنف ڈاکٹرسجاداحمدندوی کومبارکبادپیش کرتے ہوئے کہا کہ علماے بہارکی خدمات پرمیں نے بھی بہت پہلے کام کیاہے جوتذکرہ علمائے بہارکے نام سے تین جلدوں میں شائع ہوچکی ہے۔یہ کتاب اصل میں اس سلسلہ کی خشت اول تھی اس کے بعدالحمدللہ علمائے بہارپرمتعددافرادنے پی ایچ ڈی کی،اسی سلسلے کی ایک خوبصورت کڑی ڈاکٹرسجادندوی کی یہ کتاب ہے۔اس کے لئے آپ قابل مبارکبادہیں کہ آپ نے ان علماء کی ادبی کاوشوں سے علمی دنیاکومتعارف کرانے کی کوشش کی جن سے عام طورپرلوگ ناواقف تھے۔رسم اجراکی اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آل انڈیاملی کونسل بہارکے کارگزارجنرل سکریٹری مفتی محمدنافع عارفی نے کہاکہ زبان وقلم اللہ کی عظیم نعمت ہے،مولاناسجادندوی قابل مبارکبادہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ان دونوں نعمتوں سے نوازا ہے،ان کی تحریریں سنجیدہ اورسلجھی ہوئی ہوتی ہیں،یہ کتاب ان کی قلمی کاوشوں میں ایک مفیداضافہ ہے۔یہ کتاب ان کی مادرعلمی ندوۃ العلماء سے ان کے گہرے تعلق کابھی ثبوت ہے۔جبکہ ڈاکٹرمحمدعالم قاسمی جنرل سکریٹری آل انڈیاملی کونسل نے کہا کہ مولاناسجادہمارے گہرے دوست ہیں،وہ ایک عرصہ تک امام بھی رہے ہیں اورامامت کے منصب پررہتے ہوئے انہوں نے پی ایچ ڈی کی اورآج ان کی یہ کتاب ہمارے ہاتھوں میں ہے۔اس لئے میں ان کودوہری مبارکبادپیش کرتا ہوں،انہوں نے مزیدکہاکہ یہ کتاب اردوزبان وادب میں ایک اضافہ کی حیثیت رکھتی ہے۔مولاناڈاکٹرنورالسلام ندوی نے اس تقریب کی نظامت کرتے ہوئے کتاب کاتعارف پیش کیا،انہوں نے کتاب کاتعارف کراتے ہوئے کہاکہ یہ کتاب 57ندوی فضلاکے ادبی خدمات کاتعارف کراتی ہے۔ جس میں بعض علم وادب کے اساطین تھے،جبکہ بعض نئے قلم کاربھی ہیں،یہ مصنف کے حوصلے کی بات ہے کہ انہوں نے نئے لکھنے والوں کوبھی اپنی کتاب میں جگہ دی ہے،اس کتاب میں جن علماء کاذکرآیاہے ان میں علامہ سیدسلیمان ندوی،انجم مان پوری ندوی،مولانامسعودعالم ندوی،قاضی عبدالرو?ف ندوی،مولاناریاست علی ندوی،ڈاکٹرعبداللہ عباس ندوی،شاہ جعفرپھلواروی ندوی اورمولانانذرالحفیظ ندوی جیسے علم وداب کے درخشاں ستارے،جب کہ نئے لکھنے والوں میں سراج الہدی ندوی،رضوان احمدندوی،امتیازعالم ندوی،بدیع الزماں ندوی اورڈاکٹرنورالسلام ندوی جیسے نوواردان ادب کابھی ذکرجمیل ہے۔اخیرمیں کتاب کے مصنف اوراس تقریب کی روح مولاناڈاکٹرسجاداحمدندوی نے مہمانوں کاشکریہ اداکیااورمولاناابوالکلام قاسمی شمسی کی دعاپراس پروقارتقریب کااختتام ہوا۔اس تقریب میں جن اہل علم نے شرکت کی ان میں نسیم احمدقاسمی،رضاء اللہ قاسمی،تنویرعالم علیگ،مولانایوسف فریدی،مولاناحمادغزالی وغیرہ کے نام قابل ذکرہیں۔