اردو سے غیرپیشہ ورانہ طور پر وابستہ افراد کی اردو خدمات ـ حقانی القاسمی

(شمس الرحمن فاروقی کے خصوصی حوالے سے)

ہندی ،ہندوی ،ہندوستانی اور ریختہ سے موسوم اردو زبان کی پرورش و پرداخت ،تجمیل و تکمیل میں سبھی طبقات کا خون جگر شامل ہے۔ یہ وہ امتزاجی زبان ہے جس میں عربی فارسی، سنسکرت وغیرہ کے بہت سے الفاظ ہیں۔ تکثیریت اس کی سرشت میں ہے۔ یہ ہند آریائی زبان کسی قوم، ملک اور مذہب سے مشخص نہیں ہے۔ اپنے مزاج اور ماہیت کے اعتبار سے یہ زبان نہایت کشادہ قلب اور وسیع النظر واقع ہوئی ہے کہ یہ دوسری زبانوں سے الفاظ و افکار مستعار لے کر اپنی ثروت میں اضافہ کرتی رہی ہے۔ ابلاغ و ترسیل کی یہ نہایت عمدہ زبان ہے اور اس زبان میں ہندوستانیت کی خوشبورچی بسی ہے۔ اسے کچھ لوگ لسانی عجوبہ (Linguistic Wonder) بھی کہتے ہیں۔
اردو زبان سے محبت اور معاش دونوں طرح کے رشتے ہیں اور ان دونوں رشتوں سے جڑے ہوئے افراد نے مختلف سطحوں پر اردو زبان کی توانائی، تابانی اور تابندگی میں اضافہ کیا ہے۔ یہ اس زبان کی مقبولیت کی واضح دلیل ہے کہ وہ افراد بھی جن کا اس زبان سے باضابطہ رشتہ نہیں ہے یا جن کے لیے یہ ذریعہ معاش نہیںہے، انھوں نے بھی اردو زبان کو وسیلۂ اظہار بنایا اور اپنے دلی جذبات اور احساسات کی ترسیل کےلیے  اس زبان کو اختیار کیا۔ خاص طور پر دیگر علوم و فنون اور ادبیات سے تعلق رکھنے والوں نے بھی گیسوئے اردو کو سنوارنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔
اردو ادب کی ابتدائی تاریخ دیکھی جائے تو اس زبان کے ارتقاء میں صوفیاء کرام کا بہت اہم رول رہا ہے۔جنھوں نے اپنے ملفوظات اور مواعظ کے ذریعہ اردو زبان کو عام لوگوں تک پہنچایا۔ کلاسیکی ادب کے اہم ناموں میں بیشتر وہ افراد ملیں گے جو براہ راست اردو زبان سے رشتہ نہیں رکھتے۔اس میں میر،غالب،مصحفی ، نظیر اور ناسخ جیسے نام بھی ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ اردو سے پیشہ وارانہ طورپر نا وابستہ افراد کی محبتیں اس زبان کو حاصل نہ ہوتیں تو اس کا کینوس نہایت محدود اور مختصر ہوتا۔
اردوزبان کو محدود دائرے سے نکال کر ایک وسیع تر کینوس میں شامل کرنے کا سہرا ان افراد کو بھی جاتا ہے جنھوں نے دوسری زبانوں میں تعلیم حاصل کی مگر اردو سے اپنی والہانہ محبت اورشیفتگی کا ثبوت دیتے ہوئے اس زبان کے علمی اور ادبی سرمائے کو قابل افتخار بنایا اور سائنسی، سماجی، تکنیکی علوم کے تراجم کے ذریعے اس کی وقعت اور معنویت میں اضافہ کیا۔ اردو ادب کی تاریخ میں ایسے بہت سے نام ملیں گے جنھوں نے اردو میں ایم اے اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں نہیں حاصل کیں مگر اردو کے ادبی منظر نامے پر ان ناموں نے اعتبار اور وقار حاصل کیا۔ بلکہ یہ کہنا بجا ہوگا کہ اگر یہ نام نہ ہوتے تو شاید وسیع تر پیمانے پر اردو زبان کے پھیلاؤ اور فروغ کی صورت نہ نکل پاتی۔ یہ زبان صرف بادہ و ساغر کا فسانہ اور گل و بلبل کی حکایت بن کر رہ جاتی ۔
اردو سے ناوابستہ افراد نے مختلف اصنافِ ادب میں امتیازی نقوش مرتسم کیے ہیں۔ مثنوی اور مرثیہ نگاروں میں بیشتر وہ افراد ہیں جن کا پس منظر عربی اور فارسی رہا ہے۔ فکشن کا منظر نامہ بھی ایسے ہی ناموں سے منور ہے۔ ماضی سے تاحال ناوابستگان اردو کی ایک طویل فہرست ہے جس میں پریم چند، سجادحیدریلدرم، سلطان حیدر جوش، محمد علی ردولوی، راشد الخیری،کرشن چندر، سعادت حسن منٹو، قرۃ العین حیدر، عصمت چغتائی، اوپندر ناتھ اشک، راجندر سنگھ بیدی، بلراج مینرا، بلونت سنگھ، خواجہ احمد عباس، حیات اللہ انصاری، دیویندر اسّر، رام لعل، سجاد ظہیر، رشید جہاں، احمد علی، احسن فاروقی، سریندر پرکاش، نیر مسعود، عزیز احمد، علی عباس حسینی،اعظم کریوی، غلام عباس، ممتاز شیریں، نیاز فتح پوری،قدرت اللہ شہاب،مرزا ادیب،ممتازمفتی،حیات اللہ انصاری، غلام عباس،اوپندر ناتھ اشک، ذکیہ مشہدی،نجمہ محمود، رضاء الجبار، قیصر تمکین، اقبال مجید، قاضی مشتاق احمد، انور سجاد،احمد داؤد،عبداللہ حسین، ضمیرالدین احمد، شوکت صدیقی، شفیق الرحمن، دیویندر ستیارتھی، ظفر عمر، امراؤ طارق، پیغام آفاقی،شفیع جاوید، عبدالصمد، مظہرالزماں خان، شموئل احمد،انیس رفیع،صدیق عالم، شبیر احمد، سید احمد قادری، شائستہ فاخری ، سلمیٰ صنم، رتن سنگھ، رخشندہ روحی وغیرہ کے نام ملتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر وہ افراد ہیں جنھوںنے دوسرے موضوعات سے ڈگریاں حاصل کیںیا جن کی تعلیم صرف میٹرک، ایف اے اور بی اے تک ہے۔ ان میں سے بعض عالمی شہرت یافتہ فکشن نگار ہیں جن کے ترجمے دوسری زبانوں میں بھی ہو چکے ہیں اور جنھیں فکشن کے معیار اور معمار کے طور پر جانا جاتا ہے۔ فکشن کے حوالے سے عصری جامعات میں جن پر تحقیقی اور تنقیدی مقالے لکھے گئے ہیں یا لکھے جاتے ہیں ان میں سے بھی بیشتر ایسے ہیںجو اردو کے اعلیٰ ڈگری یافتہ نہیں ہیں۔ بلکہ بعض تو ایسے ہیں جن کا میدان ہی زبان و ادب سے مختلف ہے۔ وہ غیرادبی شعبہ سے وابستہ رہے ہیں۔
اردو کی ادبی تاریخ اور تذکرہ نویسوں میں بھی ایسے بہت سے بڑے نام ہیں جن میں ڈاکٹر بابو سکسینہ اور لالہ سری رام قابل ذکر ہیں۔ رام بابو سکسینہ کی تاریخ ادب اردو (انگریزی) اردو کی باضابطہ اولین تاریخ ہے جو حوالہ جاتی حیثیت کا حامل ہے۔ رام بابو سکسینہ نے انگریزی ادبیات میں ایم اے کیا تھا اور اعلیٰ سرکاری عہدو ںپر فائز رہے۔ سب سے ضخیم تذکرہ ’خمخانۂ جاوید‘ لکھنے والے لالہ سری رام نے انگریزی میں ایم اے کیا تھا اور منصفی کے عہدے پر فائز رہے۔
اسی طرح اردو زبان و ادب کے اہم محققین کی فہرست کا جائزہ لیا جائے تو ان میں بیشتر محققین کا تعلق دوسرے موضوعات اور دوسری زبانوں سے ہے۔ مگر انھوں نے اردو ادبیات میں غیر معمولی دلچسپی کا مظاہرہ کیا اور اپنی تحقیقات عالیہ سے اردو دنیا کو فیضیاب کیا۔ ان محققین میں مالک رام، مختارالدین احمد،کالی داس گپتا رضا، امتیاز علی عرشی، قاضی عبدالودود ، نثار احمد فاروقی، پروفیسر نذیر احمداور رشید حسن خان وغیرہ کے نام شامل ہیں۔ ان میں وہ بھی ہیں جو ماہرین غالبیات کے طور پر اپنی شناخت رکھتے ہیں۔ مالک رام نے تاریخ سے ایم اے کیا۔ مختارالدین احمد آرزو عربی ادبیات کے عالم و فاضل تھے۔ امتیاز علی عرشی کا تعلق عربی و فارسی ادبیات سے تھا۔ قاضی عبدالودود جیسے محقق حافظ قاری ہونے کے ساتھ ساتھ بار ایٹ لاء تھے۔ نثار احمد فاروقی عربی زبان کے مستند اسکالر تھے اور نذیر احمد کا میدان فارسی ادبیات ہے۔ اور رشید حسن خان نے بھی اردو کی باضابطہ کوئی ڈگری نہیں حاصل کی۔ ان شخصیات نے مرزا اسداللہ خاں غالب کے تعلق سے جو تحقیقات کی ہیں انھیں کی بنیاد پر غالب تحقیق کی روایت آگے بڑھ رہی ہے۔ ان لوگوں نے غالب کے تعلق سے جو تحقیقی انکشافات کیے  ہیں وہ قابل رشک ہیں اور ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ غالب پر صحیح معنوں میں انہی افراد نے داد تحقیق دی ہے۔
اردو تنقید کو بھی جن شخصیات نے نئے زاویے، نئی جہات اور عالمی رجحانات و تحریکات سے آشنا کیا ،ان میں سے بھی بیشتر افراد وہ ہیں جو شعبہائے اردو سے تعلق نہیں رکھتے اور نہ ہی اس زبان میں ان کے پاس اعلیٰ ترین ڈگریاں ہیں۔ ان نقادوں میں الطاف حسین حالی، سید امداد امام اثر، شبلی نعمانی، کلیم الدین احمد،محمدحسن عسکری،ڈاکٹر عبدالعلیم، مرزاخلیل احمد بیگ، اسلوب احمد انصاری، پروفیسر عبدالمغنی، وارث علوی، فضیل جعفری، باقر مہدی، اصغر علی انجینئر، دیویندر اسر، نظام صدیقی، کرامت علی کرامت، قیصر ضحی عالم، انور صدیقی، نقی حسین جعفری،فہیم اعظمی، حمید نسیم،خورشید سمیع، سکندر احمد وغیرہ کے نام بہت اہم ہیں۔ ان لوگوں نے اردو کے تنقیدی مطالعات کو ایک نئی راہ اور نئی روشنی دی ہے۔بلکہ یہ کہا جائے تو بہتر ہوگا کہ اردو تنقید کے افق کووسیع کرنے میں ان لوگوں کا کردار بہت اہم ہے۔ ان میںالطاف حسین حالی تو ایسی شخصیت ہیں جنھوں نے اردو تنقید کا پہلا منشور ’مقدمہ شعر و شاعری‘ کی صورت میں تحریر کیا۔ امداد امام اثر نے کاشف الحقائق لکھ کر اردو تنقید کو استحکام عطا کیا ۔ انھوں نے وکالت کی تعلیم حاصل کی تھی۔ شبلی کا پس منظر عربی اور فارسی تھا۔ انھوں نے شعر العجم اور موازنہ انیس و دبیر جیسی کتابیں لکھیں۔ ڈاکٹر عبدالعلیم مشہور مارکسی نقاد ہیں جو شعبہ عربی مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے صدر اور بعد میں اے ایم یو کے وائس چانسلر بھی رہے۔ انگریزی ادب کے کلیم الدین احمد ایک سخت گیر ناقد کی حیثیت سے شہرت رکھتے ہیں۔ جنھوں نے ’اردو تنقید پر ایک نظر‘ کے ذریعہ تہلکہ مچایا۔انھوںنے کہاکہ’’ اردو میں تنقیداقلیدس کا خیالی نقطہ اور معشوق کی موہوم کمرہے‘‘ اور ان کا ایک فقرہ بہت مشہور ہوا کہ ’’غزل نیم وحشی صنف سخن ہے‘‘جس پر نہ جانے کتنی کتابیں اور مقالے لکھے جا چکے ہیں۔ پروفیسر مسعود حسین خان اور مرزا خلیل بیگ کا میدان لسانیات ہے مگر انھوں نے اردو تنقید کو ایک نیا لسانیاتی زاویہ عطا کیا اور لسانیاتی تنقید کی راہ ہموار کی۔ان کے علاوہ اسلوب احمد انصاری(انگریزی)، وارث علوی(انگریزی)، عبدالمغنی (انگریزی)، فضیل جعفری (انگریزی)نے اپنی تنقیدی تحریروں سے تحرک پیدا کیا اور قارئین کے ذہنوں کو مہمیز کیا۔باقر مہدی اور دیویندر اسر کا میدان معاشیات ہے مگر انھوں نے اپنی تنقیدی تحریروں سے چونکایا ہے۔ اصغر علی انجینئر بھی اہم مارکسی ناقد ہیں جنھوں نے پریم چندپر کتاب تحریر کی اور کروچے کی جمالیات پر ان کی اچھی نظر تھی۔ ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ یافتہ ناقد نظام صدیقی تنقید کا ایک معتبر نام ہے اور ان کا تعلق انگریزی اور فرانسیسی ادبیات سے ہے۔ کرامت علی کرامت ریاضیات کے پروفیسر رہے ہیں۔ شاعر اور نقاد کی حیثیت سے ان کی شناخت ہے۔ انھوں نے اضافی تنقید جیسی ایک اہم کتاب لکھی ہے جس میں بہت ہی اہم تنقیدی مسائل و مباحث ہیں۔ قیصر ضحی عالم ، انور صدیقی اور نقی حسین جعفری تینوں انگریزی ادبیات کے ہیں۔ مگر انھوں نے اردو میں اپنی تنقیدی تحریروں کے ذریعہ نئے ادبی مباحث پر فکر انگیز گفتگو کی ہے اور اردو کے تنقیدی سرمائے میں اضافہ کیا ہے۔ فہیم اعظمی نے فلسفہ اور تاریخ میں ایم اے کیا تھا اور ا نھوں نے اپنے رسالہ صریر کے ذریعہ نئے تنقیدی مباحث کو عام کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ ان کے تنقیدی مضامین میں معروضیت، علمیت اور منطقیت ہوتی ہے۔ حمید نسیم بھی ایک اہم نقاد ہیں جن کی کتاب ’پانچ جدید شاعر‘ بہت وقیع ہے۔ انھوں نے بھی انگریزی سے ایم اے کیا تھا۔ سکندر احمد نے اپنی تنقیدی تحریروں سے ادبی حلقوں کو چونکایا۔ فکشن پر انھوں نے بہت ہی اہم مضامین تحریر کیے۔ وہ اسٹیٹ بینک آف انڈیا میں ڈپٹی جنرل مینجر تھے اور ان کا میدان بھی معاشیات اور بینکنگ ہے۔
غالب اور اقبال تنقید میں بھی ان افراد کی تنقیدی تحریریں زیادہ وقیع اور معنی خیز ہیں جن کا اردو ادبیات سے باضابطہ رشتہ نہیں رہا ہے۔ ان میں عبدالرحمن بجنوری، خلیفہ عبدالحکیم،یوسف حسین خان، مظفر حسین برنی،شیخ حبیب اللہ ، وہاب قیصر، شمیم طارق وغیرہ کے نام لیے جا سکتے ہیں کہ انھوں نے غالب اور اقبال کو ایک نئے زاویے سے پرکھا اور تفہیم غالب و اقبال کی نئی صورتیں پیدا کیں۔ عبدالرحمن بجنوری غالب تنقید کا ایک بڑا نام ہے جنھوں نے ’محاسن کلام غالب‘ لکھ کر غالب شناسی کی ایک نئی طرح ڈالی۔ ان کا یہ فقرہ بہت مشہور ہوا کہ ’ہندوستان میں دو مقدس کتابیں ہیں۔ ایک وید مقدس دوسرا دیوان غالب۔‘ بجنوری بھی ایل ایل بی اور بارایٹ لاء تھے اور انھوں نے جرمنی سے پی ایچ ڈی کی تھی۔ خلیفہ عبدالحکیم انگریزی کے اسکالر تھے۔ انھوں نے اقبال کو ایک نئے زاویے سے سمجھا اور پرکھا ہے۔یوسف حسین خان اردو ادب کا ایک نہایت معتبر نام ہے۔ جن کا میدان تاریخ ہے مگر انھوں نے غالب اور آہنگ غالب، حافظ اور اقبال، اور روحِ اقبال جیسی کتاب تحریر کی ہے اور اقبال شناسی کو ایک نئی سمت بھی عطا کی ہے۔ انہی کی ایک کتاب اردو غزل کے حوالے سے ہے جو بہت ہی اہم اور وقیع سمجھی جاتی ہے۔ مظفر حسین برنی جو کئی ریاستوں کے گورنر رہے ۔ انھوں نے بھی اقبال پر بڑی قیمتی کتابیں تحریر کی ہیں ۔ ان کا اہم کارنامہ مکاتیب اقبال ہے۔ شیخ حبیب اللہ محکمہ پولیس سے وابستہ تھے ۔ مگر انھوں نے اقبال پر بہت قیمتی مضامین تحریر کیے۔ وہاب قیصر کا تعلق فزکس سے ہے۔ انھوں نے تفہیم غالب کو ایک نیا زاویہ عطا کیا اور کلام غالب کی سائنسی تعبیر و تفہیم کے ذریعہ غالب شناسی کو ایک نئی جہت دی۔ ان کی کتاب سائنس اور غالب اس تعلق سے بہت معروف ہے۔ ’غالب کا دل‘ کے عنوان سے اپنے مضمون میں انھوں نے 243 ایسے اشعار کا انتخاب کیا ہے جس میں غالب نے دل کو مختلف حیثیتوں میں پیش کیا ہے۔ اسی طرح جگر سے متعلق غالب کے اشعار کی طبعیاتی تشریح کی ہے۔شمیم طارق نے بھی تنقید میں اپنی ایک شناخت پیدا کی ہے۔ ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ یافتہ شمیم طارق کامرس کے طالب علم رہے ہیں۔ مگر انھوں نے غالب اور تحریک آزادی لکھ کر ایک نئی تحقیق پیش کی ہے۔ اس کے علاوہ صوفیاء کی شعری بصیرت میں شری کرشن بھی ایک نیا موضوعاتی جزیرہ ہے۔
اردو کے شعری منظرنامے پر جو نام بہت مقبول اور معتبرہیں، ان میں بھی بیشتر نام وہ ہیں جن کا اردو زبان سے باضابطہ رشتہ نہیں ہے اور نہ ہی اس زبان کی اعلیٰ ڈگریاں انھوں نے حاصل کی ہیں۔ ان شاعروں نے غزلیہ ، نظمیہ شاعری کو نئے ڈائمنشن عطا کیے ہیں اور شاعری کے افق کو وسیع سے وسیع تر کرنے میں اہم کردار عطا کیا ہے۔حیرت ہوتی ہے کہ اس میں بیشتر وہ بڑے نام شامل ہیں جن کے بغیر اردو کی معاصر شعری تاریخ مکمل ہی نہیں ہو سکتی۔ ان میں علامہ اقبال، فیض احمد فیض، میراجی، ن۔م راشد، غلام ربانی تاباں، مجروح سلطانپوری، اخترالایمان، ساحر لدھیانوی جیسی بڑی شخصیتیں بھی ہیں۔یہ اردو شاعری کے وہ نام ہیں جنھوں نے اردو شاعری کو ایک نیا لفظیاتی اور استعاراتی نظام عطا کیا اور جن کے اثرات اردو شاعری پر بہت گہرے ہیں۔ علامہ اقبال نے فلسفے سے ایم اے اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ فیض احمد فیض کا تعلق بھی انگریزی اور عربی ادبیات سے تھا۔ میرا جی کی تعلیم واجبی تھی۔ ن۔م راشد نے معاشیات سے ایم اے کیا تھا۔ غلام ربانی تاباں ایل ایل بی تھے۔ مجروح نے بھی عربی اور طب کی تعلیم حاصل کی۔ ساحر لدھیانوی بھی صرف بی اے تھے۔ ان کے علاوہ امین اشرف ، امیر چند بہار، ضیاء فتح آبادی،عمیق حنفی، کرشن کمار طور، خلیل مامون، پرتپال سنگھ بیتاب، ساجدہ زیدی، زاہدہ زیدی، تیغ الہ آبادی، شاہد میر، فاروق ارگلی، نصرت مہدی، خلیل تنویر، شبنم عشائی، جینت پرمار، عبدالاحد ساز، شکیل اعظمی، عالم خورشید، عبیدالرحمن، عطاء الرحمن طارق، سلیم انصاری وغیرہ معاصر شعری منظرنامے کے معتبر نام ہیں۔ (یہ فہرست اور طویل ہوسکتی ہے مگر اختصار کی وجہ سے چند ناموں پر اکتفا کیا گیا ہے۔)ان میں بیشتر وہ افراد ہیں جنھوں نے انگریزی، فلسفہ یا کامرس سے تعلیم حاصل کی یا ان میں انجینئر ہیں۔منور رانا مشاعروں کے نہایت مقبول شاعر ہیں جنہیں ساہتیہ اکاڈمی کا مؤقر ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔ وہ بھی کامرس کے گریجویٹ ہیں۔ اسی طرح ایک دوسرے ساہتیہ اکاڈمی ایوارڈ یافتہ شاعر عنبر بہرائچی ہیں جنھوں نے جغرافیہ سے ایم اے کیا ہے اور جن کی کتاب’ سنسکرت شعریات‘ ایک حوالہ جاتی حیثیت کی حامل ہے۔ وہ اے ڈی ایم کے منصب پر فائز تھے۔ ان کی کتاب ’سوکھی ٹہنی پر ہریل‘ کو ایوارڈ دیا گیا۔ اسی طرح ش۔ک۔ نظام ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ یافتہ شاعر ہیں۔ جنھوں نے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی اور جودھپور بجلی گھر میں ملازمت کی۔ندا فاضلی اردو کے نہایت مقبول شاعر ہیں انھیں بھی ساہتیہ اکادمی ایوارڈ مل چکا ہے۔ ان کے نغمے اور اشعار مقبولِ خاص و عام ہیں۔انھوں نے بھی انگریزی ادب میں ایم ۔ اے کیا ہے ۔
اردو ڈرامے میں بھی بہت سے نمایاں نام ہیں جن کا تعلق باضابطہ اردو سے نہیں رہا ہے خاص طور پر ڈاکٹر عابد حسین، پروفیسر محمد مجیب۔ ان دونوں کا میدان مختلف ہے۔ پروفیسر محمد مجیب بی آکسن ممتازمورخ تھے۔ ان کے ڈرامے ’حبہ خاتون اور خانہ جنگی‘ بہت مشہور ہیں۔ اسی طرح عابد حسین کا تعلق فلسفے سے تھا جو ایک دانشور کی حیثیت سے شہرت رکھتے ہیں۔ انھوں نے بھی انشائیے اور ڈرامے لکھے ا ور اردو نثر کو ایک نیا اسلوب بھی عطا کیا۔
طنز ومزاح اردو کی مقبول ترین صنف ہے اس میں بھی جن لوگوں نے طبع آزمائی کی اور اس صنف کو عروج بخشا ۔ ان میں پطرس بخاری، ملا رموزی، شوکت تھانوی، مشتاق احمد یوسفی، فکر تونسوی، کنہیا لال کپور،سید محمد جعفری، رضا نقوی واہی، نصرت ظہیر، اسرار جامعی، منظور عثمانی وغیرہ بڑے اہم نام ہیں ۔پطرس بخاری تو طنز ومزاح کا ایسا نام ہے جن کے طنزیے ’اردو کی آخری کتاب‘، لاہور کا جغرافیہ اور کتے شاہکار کی حیثیت رکھتے ہیں وہ نہ صرف انگریزی ادبیات میں ایم۔ اے تھے بلکہ لاہور میں انگریزی ادب کے پروفیسر کی حیثیت سے تدریسی خدمات بھی انجام دیں۔ ملا رموزی جنھوں نے گلابی اردو ایجاد کی وہ بھی حافظ قران اور مدرسہ الٰہیات کانپور کے فارغ التحصیل تھے۔ مقبول مزاح نگار شوکت تھانوی نے بھی صرف ابتدائی تعلیم حاصل کی تھی مگر طنز و مزاح میں ان کا نام نمایاں ہے۔ مشتاق احمد یوسفی طنز و مزاح کااتنا اہم نام ہے کہ لوگ اس عہد کو عہد یوسفی سے تعبیر کرتے ہیں جن کے برجستہ فقرے بہت سے لوگوں کو زبانی یاد بھی ہیں ۔ خاکم بہ دہن، زر گزشت ان کی شاہ کار تصانیف ہیں۔ انھوں نے بھی فلسفے میں ایم۔ اے کیا ۔ایل۔ ایل ۔بی کی ڈگری حاصل کی۔ انڈین سول سروس میں کمشنر رہے اور پھر بینکنگ کے اہم عہدوں پر فائز رہے۔ فکر تونسوی طنز و مزاح کا ایک عالم گیر شہرت یافتہ فنکار ہیں جن کا کالم ـ’ پیاز کے چھلکے ـ‘ آج بھی لوگوں کے ذہن میں محفوظ ہے اور جن کی کتاب چھٹا دریا آج بھی خون کے آنسو رلاتی ہے ۔ انھوں نے صرف بی۔ اے سال اول تک تعلیم حاصل کی اور صحافت سے جڑ کر نام کمایا۔ کنہیا لال کپور بھی طنز و مزاح میںوقعت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ انھوں نے بھی انگریزی ادبیات میں ایم۔ اے کیا تھا اور انگریزی کے لیکچرر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔سید محمد جعفری بھی طنز و مزاح کا ایک اہم نام ہے۔ انھوں نے اپنی طنزیہ اور مزاحیہ شاعری سے اپنی ایک الگ شناخت قائم کی ۔ انھوں نے فارسی اور انگریزی میں ایم۔ اے کیا تھا۔ رضا نقوی واہی طنزیہ و مزاحیہ شاعری کا ایک معتبرنام ہے۔ ان کے طنزیہ اشعار آج بھی بطور حوالہ استعمال کیے جاتے ہیں ۔ خاص طور پر پی ایچ ڈی کے عنوان سے ان کا طنزیہ بہت مشہور ہے۔ انھوں نے بھی صرف انٹر آرٹ پاس کیا تھا ۔ نصرت ظہیر بھی طنز و مزاح نگار اور کالم نگار کی حیثیت سے بہت شہرت رکھتے ہیں۔ صحافت میں بھی ان کی الگ شناخت ہے ۔ انھوں نے بھی اعلیٰ تعلیم نہیں حاصل کی ۔ اسرار جامعی طنز و مزاح کاباوقار نام ہے جن کے بہت سے اشعار لوگوں کی زبان پر ہیں۔ انھوں نے بھی رانچی سے بی ایس سی کیا تھا۔
اردو صحافت کو جن لوگوں نے بام عروج تک پہنچایا اور اخبارات کے ذریعہ عوامی ذہن کو بیدار کیا اس کی پوری تاریخ پر نظر ڈالی جا ئے تو اردو صحافت کے منظر نامے پر جو اہم نام نظر آئیں گے ان میں سے بیشتر وہ افراد ہیں جن کا پس منظر اردو نہیں ہے اور جنھوں نے اردو صحافت کی تاریخیں لکھی ہیں وہ بھی دوسرے شعبہ سے وابستہ ہیں ۔ امداد امام صابری نے اردو صحافت کی مبسوط تاریخ مرتب کی۔ ان کا پس منظر اردو نہیں تھا۔ گر بچن چندن جنہوں نے ’جامِ جہاں نما‘ پر حوالہ جاتی کام کیا ۔ وہ بھی اردو سے باضابطہ جڑے ہوئے نہیں تھے۔بیشتر اردو رسائل و مجلات کے مدیران اور مالکان وہ ہیں جن کا پس منظر اردو نہیں رہا ہے۔
انجینئرنگ، وکالت، بزنس ، میڈیکل اور سائنس سے وابستہ افراد کی تعداد بھی بہت ہے جنھوں نے اردو زبان و ادب کو وسعتوں سے ہمکنار کیا ہے ۔ اردو زبان کو نئی لفظیات، اصطلاحات اور تراکیب عطا کی ہیں۔ وکیلوں کی ایک بڑی تعداد ہے۔ جس میں اکبر الہ آبادی اور پنڈت آنند نارائن ملا جیسے بڑے نام بھی ہیں، وہیں انجینئرنگ میںاسلم بدر، شکیل دسنوی، فاروق انجینئر، سہیل اختر اور سلیم انصاری جیسی شخصیتیں ہیں۔ اور میڈیکل میں اتنے بڑے بڑے نام ہیں کہ حیرت ہوتی ہے کہ مصروف ترین اور غیر ادبی شعبہ سے وابستہ ہوتے ہوئے ان لوگوں نے اردو ادب کو نئے ڈائمنشن دیئے ہیں ۔ ان میں بعض نام تو ادبی منظر نامے پر بہت ہی نمایاں ہیں جو ہمارے تنقیدی حوالوں میں بھی شامل رہتے ہیں۔ ڈاکٹر ابرار احمد، ثروت زہرا، ارمان نجمی، حسن شکیل مظہری، ڈاکٹر حنیف ترین، ڈاکٹر اسلم حبیب، زویا زیدی وغیر اردو شاعری کے بہت معتبر نام ہیں ۔ وہیں فکشن نگاروں میں بھی بہت بلند نام ہیں ۔ انگارے والی رشید جہاں، مصطفی کریم، انور سجاد، حسن منظر، آصف فرخی، انور زاہدی، خالد سہیل، بلند اقبال ان کے علاوہ ڈاکٹر ادریس، ڈاکٹر امجد حسین ، راج بہادر گوڑ، سید تقی عابدی، عبد المعز شمس، ڈاکٹر عابد معز یہ وہ نام ہیں جن سے ادبی دنیا اچھی طرح واقف ہے ( اس کی تفصیل ایک موضوعی مجلہ انداز بیاں، شمارہ ۳، میڈیکل ڈاکٹروں کی ادبی خدمات میں دیکھی جا سکتی ہے)
جہاں تک سائنس کی بات ہے تو اردو میں سائنسی اور تکنیکی ادب تحریر کرنے والوں کی تعداد بھی خاصی ہے۔اس ذیل میں شمس العلماء، کبیر ثانی، شاہان اودھ، دلی کالج،سائنٹفک سوسائٹی علی گڑھ دارالترجمہ عثمانیہ سے جڑے ہوئے افراد کے نام بھی لیے جاسکتے ہیں جنھوں نے سائنس کی کتابوں کے اردو میں ترجمے کیے ۔خاص طورپر سید علی بلگرامی، رتن لال، چودھری برکت علی،محمد عبدالرحمن خاں، رائے منولال مولوی عبدالباری، ڈاکٹر عبدالسلام بہت وغیرہ بہت اہم ہیں۔ اس تعلق سے اندرجیت لال ، اظہار اثر ، اسلم پرویز،محمد خلیل سائنسداں اور عبید الرحمن کے نام لیے جا سکتے ہیں ۔اندرجیت نے آج کی سائنس اور سائنس کی باتیں کے عنوان سے کتاب تحریر کی۔اظہار اثر نے صرف میٹرک تک تعلیم حاصل کی تھی مگر انھوں نے جاسوسی ناول کے علاوہ سائنسی مضامین بھی تحریر کیے ۔’ آج کی سائنس‘ ان کی وقیع کتاب ہے۔ڈاکٹر اسلم پرویز سائنس کا ایک بہت ہی معتبر نام ہے۔انھوںنے نباتات میں پی ایچ ڈی کی اور ’ انجمن فروغ سائنس‘ کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا اور انھوں نے فروری 1994سے ماہنامہ ’ سائنس ‘ کی اشاعت کا آغاز کیا جو مسلسل شائع ہورہا ہے۔مولانا آزاد نیشل اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے اسلم پرویز نے سائنس کی باتیں، سائنس پارے، سائنس نامہ جیسی کتابیں اردو دنیا کو دی ہیں۔ محمد خلیل نے ’سائنس کی دنیا‘ رسالے کے ذریعہ سائنسی ادب کو فروغ دیا اور اپنی تصنیفات کے ذریعہ سائنسی ذوق پیدا کیا جبکہ انھوں نے بوٹنی میں ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کی ہے ۔ اسی طرح عبید الرحمن بھی سائنس بیک گرائونڈ کے ہیں۔وہ ایک خوش فکر شاعربھی ہیں۔اردومیں سائنس سے متعلق ان کی دو کتابیں سائنس سب کے لیے اور کچھ سائنس سے شائع ہوچکی ہیں۔
یہاںاس بات کا ذکر بھی ضروری ہے کہ میڈیکل اور انجیئرنگ سے متعلق کتابوںکے اردو میں جن لوگوںنے ترجمے کیے، ان کا بیک گرائونڈ بھی اردو نہیں سائنس تھا۔حیرت کی بات یہ ہے کہ رڑکی میں تھامس انجیئنرنگ کالج میں اردو کے ذریعے انجینئرنگ کی تعلیم دی جاتی تھی اور اس کے نصاب کے مترجمین وہ تھے جواردو سے باضابطہ جڑے ہوئے نہیں تھے۔
اصطلاحات سازی اور فرہنگ نویسی میں بھی زیادہ تر نام وہ ہیں جن کا پس منظر عربی فارسی یا دوسری زبانیں ہیں۔ مولوی وحیدالدین سلیم نے سب سے پہلے وضع اصطلاحات پر کتاب لکھی اورداالترجمہ عثمانیہ کی اصطلاح سازی کمیٹی سے جو افراد وابستہ رہے ، ان میں نظم طباطبائی ، عبداللہ عمادی ، شیخ فیروزالدین مراد، محمد نذیر الدین ، قاضی تلمذ حسین کے نام ہیں۔ لغت نویسی جیسا مشکل کام بھی انہی افراد نے انجام دیا جو عربی اور فارسی پس منظر رکھتے تھے۔ اردو کا پہلا لغت نویس ملا عبدالواسع ہانسوی تھے۔ جنھوں نے غرائب اللغات لکھی۔ نفائس اللغات مولوی اوحد الدین بلگرامی کی تصنیف ہے تو جامع اللغات مفتی غلام سرور لاہوری کی۔ نوراللغات کے مصنف مولوی نورالحسن نیرکاکوروی ہیں۔ تو فیروزاللغات مولوی فیروزالدین کی تالیف ہے۔ فرہنگ آصفیہ کے مصنف بھی مولوی سید احمد دہلوی ہیں۔ تدوین لغت اور تلفظ و املاکے تعلق سے اساسی نوعیت کے کام بھی ایسے ہی پس منظر رکھنے والے ا فراد نے کئے ہیں۔
اردو کی ادبی تحریکات اور رجحانات کے حوالے سے بھی دیکھا جائے تو یہاں بھی سر فہرست وہی نام نظر آتے ہیں جو اردو سے براہ راست وابستہ نہیں رہے ہیں اور دوسری زبانوں اور شعبوں سے جن کا تعلق رہا ہے۔ ترقی پسند تحریک جس کے اثرات اردو ادب پر سب سے زیادہ پڑے اور اس تحریک نے اردو ادب کو ایک نیا نظریہ اور ایک نیا زاویہ دیا۔ اس تحریک سے جڑنے والوں میں اردو کے ادیبوں کی ایک بڑی تعداد ہے۔ اس کے بانیان میں جو اہم شخصیات ہیںان میں محمد دین تاثیر اور سجاد ظہیرکے نام شامل ہیں۔ محمد دین تاثیر ترقی پسند تحریک کے بانیوں میں سے ہیںجنھوں نے انگریزی سے تعلیم حاصل کی۔ سجاد ظہیر بھی ترقی پسند تحریک کے معماروں میں سے ہیں۔ انھوں نے معاشیات سے ایم اے کیا تھا اور پھر بارایٹ لاء کی ڈگری حاصل کی تھی۔ ان کی کتابوں میں روشنائی اور ذکر حافظ قابل ذکر ہیں۔ اختر حسین رائے پوری نے ترقی پسند تحریک کو نظریاتی استحکام عطا کیا ’ ادب اور انقلاب‘ نامی کتاب لکھ کر ترقی پسند تنقید کو ایک نئی سمت عطا کی ۔ انھوں نے بھی تاریخ سے ایم۔ اے کیا تھا۔ اسی طرح جدیدیت کی تحریک کے بانی شمس الرحمن فاروقی ہیں۔ یہ وہ تحریک ہے جس نے اردو ادب کو بہت متاثر کیا اور اس تحریک کے ترجمان مجلہ ’شب خون‘ نے ایک جنریشن کی ذہنی تربیت کی ہے ۔ بہت سے تخلیق کاروں کو جدیدیت کے پلیٹ فارم سے شہرت و مقبولیت نصیب ہوئی۔اس تحریک کے رائد و قائد شمس الرحمن فاروقی نے بھی الہ آباد یونیورسٹی الہ آباد سے انگریزی ادب میں ایم۔ اے کیا تھا اور پھر انگریزی ادب کے لیکچرر کی حیثیت سے ستیش چند ڈگری کالج بلیا اور شبلی نیشنل کالج اعظم گڑھ میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ اس کے بعد انڈین پوسٹل سروس سے وابستہ ہوئے اور چیف پوسٹ ماسٹر جنرل کے عہدے تک پہنچ کر سبکدوش ہوئے۔ وہ مختلف اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز رہے اور کئی اہم اداروںکے رکن کی حیثیت سے خدمات انجام دیں ۔ انھیں بہت سارے اعزازات ملے۔ انھیں برلا فاونڈیشن کی طرف سے شعر شور انگیز پر سرسوتی سمان بھی ملا اور ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے بھی سرفراز ہوئے۔ حکومت ہند نے پدم شری ایوارڈ بھی دیا۔
اردو تنقید میں شمس الرحمن بہت بڑا نام ہے جنھوں نے ادبی دنیا کو شعر شور انگیز، تفہیم ِ غالب، ساحری شاہی صاحب قرانی، شعر غیر شعر اور نثر، افسانے کی حمایت میں ، اثبات و نفی ، انداز گفتگو کیا ہے، تعبیر کی شرح، جدیدیت کل اور آج، لغات روز مرہ جیسی کتابیں دیں تو وہیں فکشن کو کئی چاند تھے سر آسماں جیسا عظیم ناول عطا کیا ۔ سوار اور دوسرے افسانے جیسا مجموعہ دیا۔ انھوں نے جہاں اپنے تنقیدی مقالات اور مضامین سے اردو زبان ادب کو مالا مال کیا ۔ قارئین کو نئے عالمی ادبی رجحانات اور میلانات سے متعارف کرایا۔ شب خون جیسے جدیدیت کے ترجمان مجلے سے نئے ادبی مباحث اور سوالات قائم کیے، وہیں انھوں نے اردو زبان و ادب کو انگریزی حلقوں سے متعارف کرانے کی کوشش کی ۔ انھوں نے مشہور جاسوسی ناول نگار ابن صفی کے چار ناولوں کا انگریزی میں ترجمہ کیا جو Dr. Dread Seriesکے عنوان سے شائع ہوا ۔
فاروقی بین علومی تنقید کا ایک اہم نام ہے۔انھوں نے اپنے تنقیدی افکار و نظریات سے ایک بڑے حلقے کو متاثر کیاہے۔مشرقی شعریات اور مغربی ادبیات پر ان کی بہت گہری نظرتھی ۔انھوںنے اپنی شاہکار تصنیف ’ شعرشور انگیز‘ میں غزلیات میر کا مشرقی شعریات کی روشنی میں مطالعہ کیا او رمغربی اصول نقد کا بھی التزام رکھا۔ان سے قبل بھی تفہیم میر کا یہ باب گویا بند سا تھا۔انھوںنے میر شناسی کی ایک نئی روایت کی ۔اس کے علاوہ انھوںنے غالب اقبال ، فکشن اور دیگر اصناف ادب ، خاص طورپر داستان پر جو کام کیا ہے ، وہ نہایت وقیع ہے۔بیان وبدیع کے حوالے سے ان کے مضامین بہت قیمتی ہیں۔کلاسیکی اور عصری ادبیات کا بہت ہی گہرا مطالعہ تھا۔ ان کی تنقید جامد نہیں بلکہ متحرک تھی ۔ان کی تنقیدی تحریروں نے بہت سے سوالات قائم کیے۔اپنی ہر تحریر میں انھوںنے اپنی علمیت اور اسکالرشپ کا ثبوت دیا۔اور سچ کہاجائے تو اردو تنقید کو ایک نیامنہاج ومعیاربھی عطاکیا۔تفہیم وتعبیر اور شرحیات کے باب میں ان کا اندازِ نظر دوسرے ناقدوں سے بالکل الگ ہے۔ انھوں نے اردو تنقید کو ایک نیا محاورہ اور ایک نئی نظر اور نظریہ بھی دیا ۔ شاعری اور فکشن کے مباحث پر ان کی گہری نظر تھی۔ انھوں نے عالمی ادبیات سے بھر پور استفادہ کیا اور اردو ادبیات پر عالمی نظریات کے اطلاق کی صورتیں بھی تلا ش کیں۔انھوںنے اپنے ذہنی سفر کے حوالے سے بہت قیمتی بات لکھی ہے کہ:
’’جب میں نے تنقید پڑھنی شروع کی تو انگریزی اور اردو کی بہت سی تنقید مجھے خاصی ناقص، تعمیم زدہ، غیر قطعی اور سطحی معلوم ہوئی۔مجھے کولرج ، رچرڈس، اور ایک حد تک الیٹ تنقیدنگاروںکے بادشاہ نظرآئے۔میں نے یہ کوشش کی کہ ان کے طریق کار اورطرز استدلال کو اردومیں اپنائوں۔بہت دنوں بعد حالی کی عظمت مجھ پر منکشف ہوئی۔میں نے دیکھا کہ ان کے یہاںبھی ادب کے بنیادی اصولوں سے گہری دلچسپی ہے۔مجھے یہ محسوس ہوا کہ اصل الاصول پر تنقید کے اعتبار سے حالی سے بڑا نقاد ہمارے یہاں نہیں ہوااور ہم میں سے کوئی بھی ان کے اثر سے آزادنہیں۔بہرحال اردو تنقید میں بہت سے نظریات، بہت سے طریق کار جن کے بارے میں بلاکسی تامل کے کہہ سکتاہوں کہ میں نے عام کیے اور جن کو شروع میں بہت شبہے کی نظرسے دیکھا گیا، میری نظر میں بالکل بنیادی، بلکہ مبادیاتی حیثیت رکھتے ہیں۔‘‘انھوںنے یہ بھی لکھا ہے کہ’’ میرے نظریات کو مہلک ، ماخوذ، رجعت پرست، انتہائی غیر رسمی، انقلابی حد تک نئے ، گمراہ کن، نئی روشنی سے بھرپور سب کچھ کہا گیا ہے۔مجھے نہیں معلوم کہ مستقبل میرے بارے میں کیا فیصلہ کرے گا۔‘‘
فاروقی کی تنقید ات عالیہ کے گہرے مطالعہ کے بعد یہ بات بغیر کسی تامل کے کہی جاسکتی ہے کہ اردو زبان وادب کامستقبل فاروقی کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کرسکتا۔انھوںنے ادبی دنیا کو ایسی بیش قیمت تحریریں دی ہیں جو ہمیشہ زندہ رہیں گی اورادبی کائنات کو روشن کرتی رہیں گی۔