اردو صحافت کے بنیاد گزار:حسرت موہانی،ابوالکلام آزاد،محمد علی جوہر،ظفر علی خاں-ڈاکٹر منور حسن کمال

صحافت اردو زبان کا لفظ ہے اور ـ’صحف ‘ سے بنایا گیا ہے ، جس کے لغوی معنیٰ صفحہ ، کتاب یا رسالہ کے ہیں ۔ اردو میں صحافت سے اخبار نویسی مراد لی جاتی ہے ، اس حوالے سے صحافی کواخبار نویس کہا جاتا ہے ۔انگریزی میں(Journalism)جرنل (Journal)سے ماخوذ ہے۔جس کے معنیٰ روزانہ کا حساب یا روز نامچہ بتائے جاتے ہیں ۔ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ اخبارات نے بہت سی حکومتوں کے قیام میں نہ صرف اہم کردار ادا کیا ہے ، بلکہ بہت سی حکومتوں کو استحکام بھی بخشا ہے۔
مشہور فاتح اور حکمراں نپولین بونا پارٹ کہتا ہے کہ تین مخالف اخباروں سے ایک ہزار بندوقوں سے بھی زیادہ خوف کھانا چاہیے ۔ (سید اقبال قادری ، رہبر اخبار نویسی :26)
تاریخ میں یہ بھی واقعہ درج ہے کہ اکبر اعظم کے زمانے میں وسط ایشیا کے ایک حکمراں نے کہا تھا : ’’مجھے اکبر اعظم کی تلوار سے اتناخوف نہیں ہوتا، جتنا ابوالفضل کے قلم سے ڈر لگتا ہے ۔‘‘اس سے اندازہ ہوا کہ قلم و صحافت کی طاقت عہد قدیم سے ہی تسلیم کی گئی ہے ۔ صحافت کی مشہور زمانہ کتاب’’ صحافت پاک و ہند میں‘‘ کے مصنف ڈاکٹر عبد السلام خورشید کے مطابق صحافت ایک عظیم فن ہے ۔اس کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو تازہ خبروں سے آگاہ کیا جائے ۔اس حوالے سے کہنا چاہیے کہ صحافت ابلاغ کا وہ مستند ذریعہ ہے ، جو عوام کو حالات اور واقعات کا شعور بخشتا ہے۔عوام کے شعور کو بالیدہ کرنے کے لیے بھی صحافت نے بڑا کام کیا ہے، جس کی ہر دور میں ستائش کی گئی ہے ۔عوامی اور سیاسی سطح پر صحافت نے وہ کارنامے انجام دیے ہیں جن کی مثال دوسری اصناف میں نایاب نہیں توکمیاب ضرور ہیں ۔
بیسویں صدی کے آغازمیں اردو صحافت نے نئی کروٹ لی۔مسلمان اپنے سیاسی حقوق کی بازیافت کے لیے جد وجہد کرنے کی ضرورت محسوس کرنے لگے۔ اس کے بنیادگزار مولانا حسرت موہانی تھے۔انہوں نے 1903 میں علی گڑھ سے’’اردوئے معلی‘‘ جاری کیا۔وہ ایک بلند پایہ شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ قوم کی زبوں حالی سے بڑے متفکر رہتے تھے ۔اردو ئے معلی میں علمی اور ادبی مضامین کی اشاعت کے ساتھ ساتھ انہوں نے سیاسی مضامین کی اشاعت کا سلسلہ بھی شروع کیا ۔وہ ایک حق گو اور جری انسان تھے ۔ انہوں نے اردوئے معلی کی مئی 1907 کی اشاعت میں ایک مضمون ’’بے چینی کے آثار ‘‘ کے زیرعنوان لکھا :
ـــــــ’’اور صداقت کی آخری فتح پر یقین رکھتے ہوئے راہ حق میں جو مصائب آئیں ان کو بہ کشادہ پیشانی برداشت کریں اورخوب سمجھ لیں کہ آزادی کی دولت آسانی سے حاصل نہیں ہوسکتی۔۔۔۔۔‘‘
اردو صحافت کے قلم کی اسی کاٹ اور ریاضت کو مولانا حسرت موہانی کے ساتھ ساتھ مولانا ابوالکلام آزاد ،مولانا محمد علی جوہر اور مولانا ظفر علی خاں نے پروان چڑھایا۔ اردو صحافت کے یہ بنیاد گزار اس کو ایسی بلندیوں پر لے گئے جہاں اس میں ایک منظم ہم آہنگی نظر آنے لگی۔ان میں سے ہر ایک اپنی جگہ اردو صحافت کا ایک روشن مینار ہے۔ اگر چہ اس وقت اردو صحافت کئی اعتبار سے کمزور و ناتواں تھی۔ مسلمانوں کی اس مجتہد اور قلم فروش جماعت کے پاس وسائل کی کمی تھی ۔میدان صحافت میں قدم رکھنے والے یہ ایسے دیوانے تھے جو حصول نفع کے لیے نہیں بلکہ تلاش زیاں میں آگے آئے تھے،لیکن قدرت نے اس جماعت کی کمزوری کا مداوا اس شکل میں کر دیا کہ پورے ملک میں ان کی شہرت ہو گئی۔یہ جو کچھ لکھتے اور کہتے اس کے اثرات بر طانیہ میں بھی محسوس کیے جانے لگے تھے۔ان کے نابغۂ روزگار مضامین اردو صحافت اورمسلمانوں کی آواز کو موثر بنانے کا سبب بنے ۔اس طرح ان اخبارات اور ان کے مالکان ومدیران کی مالی کمزوریاں کوئی بڑی رکاوٹ نہیں رہیں،بلکہ یہ لوگ قوم کی خدمت کے جذبے کے ساتھ میدان صحافت میں اس طرح بڑھتے چلے گئے گویا کسی ہموار اور مسطح پہاڑی پر چڑھتے جا رہے ہوں ۔
اردو کے ان مجاہدوں حسرت ،آزاد ،جوہر اور ظفر کا ہدف اگرچہ ایک ہی تھا ،لیکن ان کا اسلوب اپنی اپنی جگہ ایک الگ شناخت رکھتا ہے۔اردو صحافت کے یہ لوگ نڈر ، بیباک ،پرجوش اور پر عزم صحافی تھے ۔حسرت موہانی جہاں شاعر و ادیب اور سیاستداں اور مولانا ابوالکلام آزاد جہاں ایک بلند پا یہ عالم ،بے مثال خطیب اور گنگا جمنی تہذیب کے علم بردار تھے۔وہیں مولانا محمد علی جوہر آکسفورڈکے تعلیم یافتہ بیباک مقرر اور اردو ،انگریزی کے بے مثال انشا پرداز تھے۔اسی طرح مولانا ظفر علی خاں اردو نثر میں ایک منفرد اسلوب کے مالک اور ایک ایسے مترجم کی حیثیت سے شناخت قائم کر چکے تھے،جس کی تحریروں پر ترجمہ کا نہیں حقیقی تحریر کا گمان ہوتا تھا ۔ملک وقوم کی تعمیر کا مسئلہ ہو یا تحریک آزادی کا، معاشی و اقتصادی بحران کا معاملہ ہو یا سیاسی و قومی بیداری کا ۔قومی یکجہتی کی بات ہو یاحب الوطنی اورجاں نثاری کی ، ہر لحاظ سے اردو صحافت کے یہ بنیاد گزار بلندو برتر نظر آتے ہیں ۔اردو صحافت کے ان بنیاد گزاروں کا تذکرہ قدرے تفصیل طلب ہے۔ساتھ ہی ان کے اخبارات ’اردوئے معلی‘، ’الہلال‘، ’کا مریڈ‘ اور ’ہمدرد‘او’ز میندار‘ کا تذکرہ بھی نا گزیر ہے۔
حسرت موہانیؔ:
سید الاحرار اور رئیس المتغزلین ــمولانا فضل الحسن جن کو دنیا حسرت موہانی ( 4 اکتوبر 1878 ء تا 13 مئی 1951 ء )کے نام سے جانتی ہے ، نہ صرف اردو ادب ، شاعری میں ممتاز و بلند مقام رکھتے ہیں ، بلکہ اردو صحافت کے ان سرکردہ سپہ سالاروں اور جاں نثاروں میں ہیں ، جنہوں نے بے باک صحافت کے پرچم کو بلند کرنے میں اپنی تمام تر قوتیں صرف کر دیں ۔ اس لیے انہیں بانیِ اردو صحافت بھی کہا جاتا ہے۔حالاں کہ یہ خط مولوی محمد باقر مدیر ’’دہلی اردو اخبار‘‘ کے سر ہے ، لیکن حسرت کی اردو صحافت کو پروان چڑھانے میں نمایاں خدمات ہیں۔
حسرت موہانی نے بر طانوی سامراج کے سامنے کبھی بھی سر نہیں جھکایا ۔وہ کئی مر تبہ جیل بھی گئے، اور جیل میں ان کے ساتھ عام قیدیوںکے جیسا سلوک کیا گیا، لیکن زبان پر کبھی شکوہ نہیں آیا۔حسرت موہانی نے یکم جولائی 1903 ء میں اردوئے معلی جاری کیا ۔یہ رسالہ 1942ء تک جاری رہا ۔کئی مرتبہ بندہوا ، پھر جاری ہوا۔ حکومت اس رسالے پر پابندی لگاتی ،کچھ دن بند رہتا پھر پابندی ختم ہونے کے بعد جاری کر دیا جاتا ۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حسرت موہانی کو اردوئے معلی سے کس قدر عشق تھا ۔
پروفیسر آل احمد سرور کے مطابق اس رسالے کا سب سے بڑا مقصد ’’درستی مذاق ‘‘قرار دیا گیا تھا ۔ یہ صرف ایک ادبی رسالہ نہیں تھا بلکہ اس رسالے میں قومی اور بین اقوامی سیاسیات اور حالات حاضرہ پر تبصرے بھی شائع ہوا کرتے تھے ۔حسرت موہانی ادب کے ساتھ ساتھ سیاسی ذہن کے بھی مالک تھے ۔ اس ادبی جریدے سے انہوں نے ادب کی ترویج کے ساتھ ساتھ اپنے سیاسی و فنّی نظریات کو بھی بڑی بیباکی کے ساتھ شائع کیا۔حسرت موہانی نے اردو ادب میں جو گراں قدر خدمات انجام دی ہیں، وہ تاریخ کاایک سنہری باب ہے۔اردوئے معلی نے اردو صحافت کو زبان دی ۔آداب وا خلاق کے ضابطے مقرر کیے۔شائستگی کے اصولوں سے ہمکنار کرکے شعر و ادب کے نکات سے آشنا کیا۔اردوئے معلی نے ملک کے تعلیم یافتہ طبقے کے ذہنوں میں بیداری پیدا کی اور ان میں سیاسی اور ادبی شعور کو پختہ کیا ۔اردوئے معلی کئی مرتبہ برطانوی سامراج کے جبر و استبداد کا شکار ہوا۔اس لیے کہ حسرت ہی کی تحریروں کا اثر تھا کہ حکومت ِوقت کو اپنا مستقبل ڈولتا ہوا نظر آنے لگا ۔حسرت موہانی نے ایک اہم کام یہ انجام دیا کہ اردوئے معلی کے ذریعہ اساتذہ کے دیوان فراہم کرکے ان کا انتخاب شائع کرتے تھے۔ان کی اس سعی مسلسل کی بدولت حاتمؔ، سوزؔ، مصحفیؔ، جرأت ، قائم اور میر حسن وغیرہ کا کلام محفوظ ہو گیااور فنی حیثیت سے بھی انہوں نے ’نکاتِ سخن‘ ،’محاسن سخن‘،’معائبِ سخن‘،شائع کرکے اردوئے معلی کو تقویت بخشی۔یہی نہیں حسرت نے دیوان ِغالب کی شرح بھی شائع کی۔ان کی پوری زندگی شاعری ،صحافت اور سیاست سے عبارت ہے۔
اردوئے معلی کی تاریخ میں ایک سخت موڑ اس وقت آیاجب 1908 ء میں اردو ئے معلی نے مصری رہ نما مصطفی کمال کی موت پر ایک خصوصی شمارہ شائع کیا۔ رسالے میں مصر میں برطانیہ کی پالیسی کے زیرِ عنوان ایک مضمون مصنف کے نام کے بغیر شائع ہوا، جس میں برطانوی حکومت کی حکمتِ عملی پر جارحانہ تنقید کی گئی تھی،یہ مضمون اگرچہ کسی اور کا لکھا ہو اتھا ،لیکن حکومت نے اس مضمون کے ماٰخذ کو باغیانہ قرار دیتے ہوئے حسرت موہانی کو بطور مدیر حراست میں لے لیا اور ان کے خلاف غداری کا مقدمہ قائم کر دیا گیا ۔علی گڑھ کے سر بر آور دہ رہ نما اس صورت حال سے پریشان ہو گئے ۔ یہاں تک کہ نواب وقارالملک نے بھی حسرت موہانی کومعتوب قرار دیا ۔ حکومت نے کتب خانہ اور پریس ضبط کر لیا۔حسرت کے خلاف مقدمہ چلایا گیا اور انہیں دو برس کی سزا 500 روپے جرمانہ کے ساتھ سنائی گئی۔جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مزید 6 مہینے کی سزا رکھی گئی۔حسرت موہانی جرمانہ ادا کرنے سے قاصر تھے،اس وجہ سے ان کا نہایت نادر کتب خانہ جس میں سیکڑوں نایاب قلمی کتابیں اورکمیاب تصانیف موجود تھیں ۔بہت سے دیوان اور تذکرے تھے،جنہیں انہوں نے انتہائی تلاش و جستجو کے بعد جمع کیا تھا ،سب کچھ کباڑ کی طرح نیلام کر دیا گیا ۔بیگم حسرت نے ایک جگہ لکھا ہے کہ یہ کتب خانہ ]تقریباً[ساڑھے چار ہزار کی مالیت کا تھا اور حکومت نے اسے صرف ساٹھ روپے میں فروخت کر دیا، کہنے والوں نے کہا اور لکھنے والوں نے لکھا کہ اگر حسرت چاہتے اور مضمون نگار کا نام ظاہر کردیتے تو اس عتاب سے بچ سکتے تھے ،لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا اور سب کچھ اپنے جان و مال پر برداشت کیا۔
حسرت کی زندگی کو مجموعہ اضداد کہا گیا ہے،وہ مذہبی طور پر راسخ العقیدہ مسلمان تھے۔سخت پابندشریعت تھے ۔ روحانی ذوق نے انہیں متصوفانہ پیراہن عطا کیا، پھر میدانِ سیاست میں وہ ایک بڑے انقلاب کے علم بردار بنے۔ان کی زندگی میں غضب کی درویشانہ صفات تھیں ، جس کی وجہ سے وہ ہر جگہ اپنی چھاپ چھوڑنے میں کامیاب رہتے تھے۔
حسرت موہانی نے تذکرۃالشعرا 1941) (،استقلال(1921) ، اور مستقل (1928) جیسے رسائل بھی نکالے۔ان رسالوں میں وہ اپنے ادبی ،سیاسی اور مذہبی خیالات وافکار کا اظہار انتہائی بیباکی کے ساتھ کرتے رہے۔ان چاروں میں جو مقام و مرتبہ اردوئے معلی کو حاصل ہوا، وہ دوسرے کسی رسالے کے حصے میں نہ آیا۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ یہ طویل عرصہ یعنی جولائی1903ء سے مارچ 1942 تک جاری رہا۔ اردوئے معلی کی زندگی میں بہت سے نشیب وفراز آئے،لیکن کروٹیں لے لے کر یہ پھر جاری ہوتا رہا اور اپنی بے خوف اور بے باک صحافت کے باوصف لوگوں میں اپنی مقبولیت کا جواز فراہم کرتا رہا ۔
ابوالکلام آزادؔ:
مولانا ابوالکلام آزاد(11 نومبر1888ء تا 22 فروری 1958) بڑی عظیم المرتبت شخصیت کے مالک تھے۔وہ آسمانِ صحافت پر ماہ کامل کی طرح چمکے۔انہوں نے اپنے علم وعرفان کے بحر بیکراں سے ایسے روشن موتی چنے جن کی چمک دمک سے اردو صحافت آج تک روشن ہے۔عربی ،فارسی اور اردو پر انہیں دسترس حاصل تھی۔اخبار بینی کا شوق بچپن سے ہی پروان چڑھنے لگا تھا ۔ اسی کم سنی میں شعرو شاعری کا ذوق پیدا ہو ا ،بمبئی سے شائع ہونے والے گلدستہ ’ارمغان فرخ‘کے مصرع کی طرح:’پوچھی زمین کی تو کہی آسمان کی‘ پر غزل لکھ کر بھیجی ۔ اسی زمانے میں آزاد تخلص اختیار کیا ۔1899 میں کولکاتہ سے ’نیرنگ عالم‘ جاری کیا۔اس طرح مولانا آزاد نے عملی طور پر صحافت کے گلیارے میں قدم رکھ دیا۔ان کی نگارشات’خدنگ نظر‘میں بھی شائع ہوتی تھیں اور ’مرقع عالم‘ہر دوئی میں بھی۔1900 میں کولکاتہ ہی سے محمد موسیٰ نے ہفت روزہ’ المصباح ‘جاری کیا ۔اس کے مدیر آزاد مقرر ہوئے۔انہوں نے ہفت روزہ ’ایڈورڈ گزٹ‘کی ادارت بھی سنبھا لی۔’احسن الا خبار‘جو مولوی احمد حسین فتح پوری نے کلکتہ سے جاری کیا ،عملی طور پر آزاد ہی اس کو ترتیب دیتے تھے۔اس میں ان کے مضامین بھی شائع ہوتے تھے۔مولوی حسین احمد نے1902 میں ’تحفہء محمدی‘جاری کیا۔مولانا آزاد اس کے مدیر تھے اور اس کے لیے مختلف موضوعات پر مضامین بھی لکھتے تھے ۔1903 میں مولانا آزاد نے کلکتہ سے’لسان الصدق‘جاری کیا،جو ایک سال بعد بند ہو گیا۔’ریویو‘ لسان الصد ق کے ضمیمہ کے طور پر شائع ہوتا تھا ، اس میں اردو کی تنقید ی کتابوںپر تبصرے شائع کیے جاتے تھے۔یہ 20 جون 1905ء کو جاری ہوا ۔’الندوہ‘اکتوبر1905ء سے مارچ 1906ء تک مولانا آزاد کی ادارت میں شائع ہوا اور اپریل 1906 سے ’وکیل ‘ کی ادارت سنبھالی، لیکن پھر واپس کلکتہ آگئے ۔’دارالسلطنت‘کلکتہ سے 1907 میں شائع ہوا۔اس کا نام پہلے’ اردو گائیڈ ‘رکھا گیا تھا ۔ دوبارہ پھر امرتسر جا کر وکیل کی ادارت کی ۔ یہاں تک پہنچتے پہنچتے مولانا ابوالکلام یہ رائے قائم کر چکے تھے کہ جو مقاصد ان کے پیش نظر ہیں ، وہ اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتے جب تک ایک طاقت ور مضبوط اور وسیع انتظام کے ساتھ اپنا ذاتی اخبار نہ نکالا جائے اور ذاتی پریس نہ ہو۔چنانچہ 13 جولائی 1912کو کلکتہ سے ہفت روزہ ’الہلال‘کا اجرا ہوا ، جس نے اردو صحافت میں ایک نئی طرز کی بنیاد ڈالی ۔
مولانا ابو الکلام آزاد نے الہلال کے ذریعہ اور اپنے صحافی شعور ،بالغ ذہنی اور بلاغت وآگہی سے ملک کی سیاسی و سماجی تہذیبی و معاشرتی اور لسانی و ادبی سطح پر جو صحافتی معیار و وقار قائم کیا ہے ، وہ اردو کی ادبی و صحافتی تاریخ کا ایک روشن باب ہے ۔ انہوں نے نہایت سنجیدگی اور بڑی نوش اسلوبی سے اردو صحافت کو آفاقی سطح پر جس طرح پروان چڑھایا، ایک زمانہ اس کا شاہد ہے اور معترف بھی۔
معروف مصری ادیب طہٰ حسین نے مولانا آزاد کی صحافت کی تعریف اس طرح کی :
’’ان (مولانا )کی صحافت خود اپنی صحافت تھی، جسے خود انہوں نے ایجاد کیا تھا او ر ان کے ساتھ ختم ہو گئی ‘‘۔
الہلال کے مضامین کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ۔ایک سلسلہ وہ جو بنیادی طور پر اس وقت سیاسی مسائل یا واقعات سے متعلق تھا۔ان مضامین اور شذرات میں بعض قیمتی علمی مباحث بھی آگئے ہیں ، لیکن اگر غور کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اصل میں ان کا موضوع اس وقت کے سیاسی امور ہی تھے۔دوسرا سلسلہ مضامین وہ ہے جس میں اگرچہ ضمناًسیاسی مسائل کا تذکرہ ہے، لیکن اصلًا ان میں اسلام کی دعو ت کو پیش کیا گیا ہے۔جہاں تک ان کے طرز تحریر کا تعلق ہے تو اس بات کے ان کے مخالفین بھی معترف تھے کہ وہ کسی بھی موضوع پر نہایت فصاحت وبلاغت کے ساتھ اظہار خیال کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔اس وقت ملک کے سیاسی حالات نے آزاد کے شعور کی پختگی میں بڑی مدد کی۔ ’الہلال‘ کی مقبولیت سے مولانا آزاد کا حوصلہ بڑھنا فطری بات تھی ۔ اس بات کا اعتراف انہوں نے 25 دسمبر 1913ء کے الہلال میں ان الفاظ کے ساتھ کیا :
’’اس چھ مہینے کے قلیل زمانے میں جو حیرت انگیز اور محیرالعقول مقبولیت ’الہلال‘ نے پیدا کی ہے، وہ ہر لحاظ سے اردو پریس کی تاریخ میں ایک مستثنیٰ واقعہ ہے۔ شاید ہی آج تک کوئی چھپی ہوئی چیز اس کثرت اور شغف کے ساتھ پڑھی گئی ہے۔جس قدر گزشتہ چھ ماہ کے عرصے میں ’الہلال ‘ کے اوراق پڑھے گئے ہیں۔ ‘‘
’الہلال‘ نے مسلمانوں کو ان کی پسندیدہ باتیں سنائیں ۔الہلال نے مسلمانوں کو اپنے مذہب پر فخر کرنا سکھایا۔ان کے مضامین اوسط پڑھے لکھے مسلمان کے دل میں بھی کسی اور دنیا کی چاہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔یہ بات اس لیے بھی ضروری تھی کہ ملت کو اس قابل بنا دے کہ وہ اسلام کے اعلیٰ اصولوں کو پھر اپنی گرفت میں لے لے۔ انہوں نے مسلمانوں کو بیدار کیا ۔ انہیں اپنی شخصیت کا ادراک کرایا۔وہ اپنی دلوں کو مسخر کرنے والی تحریروں کی مسلمانوں کو یہ باور کرا رہے تھے کہ مسلمانوں کی ساری مصیبتیں اس غفلت کا نتیجہ ہیں کہ انہوں نے اسلامی تعلیمات پر عمل کرنا چھوڑ دیا ہے ۔انہوں نے مسلمانوں کو اپنی سیاست کی بنیاد مذہب پر رکھنے کی تلقین کی۔وہ تحریک اتحاد اسلامی کے پر جوش حامی اور مبلغ تھے۔مولانا آزاد کی ان تحریروں سے آج بھی اتنی ہی شدت سے ضرورت محسوس کی جا رہی ہے، جتنی اس وقت تھی ۔ آج بھی ان کی تعلیمات اور روشن تحریریں ،تاریکیوں کو چھانٹ کر اجالے بکھیرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
محمد علی جوہرؔ:
مولانا محمد علی جوہر( 10 دسمبر 1878،4 جنوری 1931) ابھی صرف 2 برس کے ہوئے تھے کہ ان کے والدماجد کا انتقال ہو گیا ۔ آغوش مادر) آبادی بانو بیگم بی امّاں ) میں ہی ماں باپ کا پیار ملا ۔ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی۔پھر بریلی سے ہائی اسکول کرتے ہوئے علی گڑھ پہنچے ۔ وہ ایک اچھے اور ذہین طالب علم تھے۔ کرکٹ ان کا پسندیدہ کھیل تھا ۔وہ ایک زبردست مقرر تھے ۔1896 میں بی اے میں اول پوزیشن حاصل کی ۔یہاں سے بر طانیہ گئے اور آئی سی ایس کا امتحان دیا، لیکن کامیاب نہ ہوسکے۔ والدہ ماجدہ کے اصرارپر واپس آکر شادی کر لی۔اس کے بعد پھر برطانیہ گئے اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے بی اے پاس کیا ۔آکسفورڈ یونیورسٹی کے پہلے ہندوستانی سیکریٹری کی حیثیت سے وہاں خوب شہرت پائی ۔واپس آکر رامپور میں اعلیٰ ملازمت پر تقر ر ہوا۔اس کے بعد چند برس ریاست بڑودہ میں بھی رہے۔اس دوران ملک کے انگریزی اخبارات میں ان کے مقالے شائع ہوتے رہتے تھے۔1910میں ملازمت چھوڑ کر صحافت کی وادیِ پر خار میں قدم رکھا ۔ان کا میدان چونکہ انگریزی تھا ، اس لیے انہوں نے پہلے انگریزی میں14 جنوری 1911کو کلکتہ سے ’دی کامریڈ ‘جاری کیا ۔وہ اگرچہ آکسفورڈ کے تعلیم یافتہ اور اس وقت مسٹر محمد علی کہلاتے تھے ، لیکن قومی اور ملی محبت ان کے رگ وپے میں خون کی طرح رواں دواں تھی۔وہ ملک کے ا ن قد آور رہنماؤں میں سے تھے ، جو ایک خاص نظریہ کے علمبردار تھے۔یہ نظریہ مذہب اور سیاست کی ہم آہنگی کا نظریہ ہے۔ان کی ذات میں اسلام اور ہندوستان کی عظمت ،قوم کی عزت ووقار اور ملک و قوم کی آزادی کا بے پناہ جذبہ موجزن رہتا تھا۔کامریڈ میں شائع ان کے حریت پسند مضامین نے ہندوستان کے تعلیم یافتہ افراد میں ایک اضطراب و بے چینی پیدا کر دی تھی۔اس اضطراب و بے چینی سے برطانوی استعمار بھی لرزہ براندام ہو گئے تھے۔مہنگے کاغذ اور خوبصورت طباعت کے سبب ــ’دی کامریڈ‘ نے خوب شہرت حاصل کی ۔بین اقوامی سطح پر بھی مشہور ہوا اور ہندوستان سے بہت سے انگریز تحفہ کے طور پر کامریڈ کی کاپیاں لے جاتے تھے ۔اس وجہ سے اس کے حلقہ قارئین میں بہت سے غیر ملکی بھی شامل ہوگئے۔کامریڈ ہندو – مسلم اتحاد کی وکالت کرتا تھا اور دونوں بڑی قوموں کو قومی معاملات میں مل کر کام کرنے کا داعی تھا ۔ان کے اداریے اور مضامین مسلم مسائل کے لیے قومی اور عالمی حمایت کا راستہ استوار کرنے کے لیے رقم ہوتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور بڑی حد تک قومی سیاست پر اثر انداز ہوتے تھے۔ جب ملک کی راجدھانی کلکتہ سے دہلی منتقل ہوئی تو انہوں نے 14 ستمبر 1912 کو اپنے اخبار’دی کامریڈ‘ سمیت خود کو دہلی منتقل کر لیا ۔پھر یہاں سے انہوں نے 13 فروری1913 کو ’نقیب ہمدرد‘ جاری کیا۔اس کے بعد13 جون1913 کو’ہمدرد ‘کا اجرا عمل میں آیا۔’کامریڈ ‘ انہوں نے پہلے ہی ترکوں کی ہمدردی کے لیے وقف کر رکھا تھا ۔انہوں نے ’ہمدرد‘ کو بھی ترکوں کی ہمدردی کے لیے وقف کر دیا۔ 26 ستمبر1914کو ان کامشہور اداریہ ’چوائس آف دی ٹرکس‘ کامریڈ میں شائع ہوا۔’کامریڈ کی ضمانت ضبط کر لی گئی ‘ ۔ رام پور میں نظر بند کیا گیا ۔ پھر مہرولی(دہلی) میں نظر بند کیے گئے۔کچھ عرصے بعد یوپی کے ایک مقام پر لے جایا گیا وہاں سے پھر چھندواڑہ منتقل کر دیے گئے۔ جب رہا ہوئے تو کامریڈ بند کرکے ’ہمدرد‘ کی جانب پوری توجہ کی۔اس میں جذباتی، اصلاحی مضامین اور اداریے تحریر کیے۔’ہمدرد‘ ان کے خیالات اور عزائم کی بھر پور ترجمانی کرتا تھا ۔
تحریک خلافت اور تحریک عدم تعاون کے دوران پھر گرفتار کر لیے گئے تو’ہمدرد‘ بند ہو گیا۔اس کا دوسرا دور 18 اکتوبر1924 کو شروع ہوا، لیکن اس وقت ان کی مصروفیات بہت زیادہ بڑھ گئی تھیں۔اس ہنگامی اور مضطرب سیاسی دور میں بھی ’ہمدرد ‘کو بہترین انداز میں چلاتے رہے۔مئی 1928 میں علاج کی غرض سے جب بر طانیہ روانہ ہوئے تو ہمدرد کو بند کر دینا چاہتے تھے،لیکن اس کو نکالنے کی ذمہ داری مولاناظفرالملک اور مولانا عبدالماجد دریابادی نے قبول کر لی۔ یہ لوگ بڑی محنت سے 1929 تک نکالتے رہے لیکن پھر یہ اخبار بند ہو گیا۔
ملک کے باشندوں کوآزادیِ وطن کے لیے بیدارکرنے کی غرض سے محمد علی جوہر نے صحافت کو مؤثر ذریعہ بنایا ۔ انہوں نے صحافت کے لیے کچھ ضابطہ اخلاق بھی وضع کیے تھے ۔ جو انہوں نے ’ دی کامریڈ ‘ 6 جون 1913 ء کی اشاعت میں شامل کیے ۔ صحافتی حلقوں میں ان نکات کی خوب پزیرائی ہوئی اور انہیں قدرو منزلت کی نگاہ سے د یکھا گیا ۔
وہ نکات درج ذیل ہیں :
٭ اخبارات کو ذاتیات سے پاک ہونا چاہیے ،نہ کسی دشمن کے خلاف زیادہ لکھنا چاہیے اور نہ کسی کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملانا چاہیے۔مخالفت ہمیشہ اصول کے دائرے میں کی جانی چاہیے ۔
٭ جو کچھ لکھا جائے وہ عبارت آرائی کے لیے نہیں بلکہ متانت اور سنجیدگی کے ساتھ لکھا جائے ۔
٭ اخبار کا مقصد یہ ہو کہ اپنی قوم کو فائدہ پہنچایا جائے ۔یہ مقصد ہرگز نہ ہو کہ کسی دوسری قوم کو نقصان پہنچایا جائے ۔مذہبی مباحث سے بھی اخبارات کو دور رہنا چاہیے ۔
٭ اخبار خبروں کا مجموعہ ہونا چاہیے ۔اخبار میں ہمیشہ صحیح و مصدقہ خبریں شائع کی جانی چاہئیں ۔
٭ ایڈیٹوریل محض بھرتی کے لیے نہیں ہے ، کسی تازہ اور اہم واقعہ پر لکھا جائے اور اس کے لیے پوری تحقیق ، محنت اور مطالعے سے کام لیا جائے ۔
٭ صحافی سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ واقعات کو پوری طرح صحت کے ساتھ درج کرے ، اس کا خیال بہر حال رکھا جائے ۔
٭ صحافی رائے عامہ کا ترجمان اور ر ہ نما ہوتا ہے، اسے اپنے ہنر سے عوام کی تائید کے ساتھ ساتھ عوام کو درس بھی دینا چاہیے ۔ان نکات کی روشنی میں جب محمد علی جوہر کی صحافتی زندگی کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ بات ایک حقیقت کی طرح سامنے آتی ہے کہ انہوں نے اپنی رائے سے یک سرِ مو بھی انحراف نہیں کیا ، ہمیشہ قوم و ملت کی ترجمانی کی اور صحافت کی بلند اقدار کے ہر جگہ اور ہر سطح پرپاسبان نظر آئے ۔ انہوں نے اس حقیقت کو بھی ثابت کیا کہ صحافی کسی سیاسی پارٹی کا ترجمان نہیں ہوتا ، لیکن بعض مواقع پر انہوںنے سیاسی پارٹیوں کے عقائد کو اپنے موقف کے طور پر پیش کیا ، لیکن وہاں بھی قوم و ملت کا مفاد ہی ان کے پیشِ نظر رہا۔
10 نومبر 1930ء کو گول میز کانفرنس میں شرکت کے لیے لندن گئے ۔ یہ کانفرنس 19 جنوری 1931ء تک جاری رہی ۔جہاں انہوں نے اپنا تاریخی جملہ کہا تھا :
ــــ’’میں تو آزادیِ کامل کو اپنا مسلک قرار دے چکا ہوں ۔ میں اس وقت تک اپنے غلام ملک میں واپس نہیں جاؤںگا ، جب تک اپنے ہمراہ آزادی کو لے کر نہ جاؤں ۔ اگر تم نے ہمیں ہندوستان میں آزادی نہ دی تو تمہیں مجھے یہاں قبر کی جگہ دینی ہوگی۔ ‘‘
محمد علی جوہر لندن میں قیام کے دوران سخت بیمار ہوگئے اور 4 جنوری 1931 ء کو اپنے مالک حقیقی سے جا ملے ۔ ان کی تدفین سرزمین انبیا ء فلسطین میں عمل آئی ۔
ظفر علی خاںؔ:
مولانا ظفر علی خاں(19 جنوری 1873ء تا 27 نومبر 1956 ء ) سیالکوٹ دہا کے ایک گاؤںکوٹ مہرٹھ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مولوی سراج الدین تھے۔ انہوں نے مشن ہائی اسکو ل وزیر آباد سے مڈل کلاس کا امتحان پاس کیا۔پھر پٹیالہ سے دسویں پاس کی اور پھر علی گڑھ میںمحمڈن اینگلو اورینٹل کالج میں داخل ہوئے ۔ یہاں سے 1894ء میں بی اے فرسٹ ڈویژن سے پاس کیا اور خوب شہرت حاصل کی ۔ علامہ شبلی نعمانی ان سے بہت زیادہ متاثر تھے۔انہوں نے اپنی سفارش پر نواب محسن الملک کے پرائیویٹ سکریٹری کے عہدے پرتقرر کرا دیا۔نواب محسن الملک نے سپہ سالار نواب افسر الملک حیدرآبادکے نام ایک تعارفی خط دے کر روانہ کیا۔وہاں ملازم ہوئے اور فنون حرب میں کمال حاصل کیا ۔لیکن ان کے خمیرمیں تو ایک سیاست داں،ایک صحافی اور ایک شاعر رچا بسا ہوا تھا ۔اس لیے فوج سے علیحدہ ہو ئے اور حیدر آباد میں ہی ہوم آفس کے’دارالترجمہ‘ سے وابستہ ہو گئے ۔ وہاں سے اپنے دوست میر محفوظ علی بدایونی کے پاس بربرہ(افریقہ) چلے گئے۔وہاں سے واپس بمبئی ( ممبئی) آکر تجارت شروع کی،لیکن سخت ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ۔عزیز مرزا جو اب دوبارہ ہوم سکریٹری مقرر ہو گئے تھے، انہوں نے ظفر علی خاں کو بلوا لیا۔ علم و دانش کے مرکز حیدر آباد میں ان کی ادبی سرگرمیاں شروع ہو گئیں،1898ء میں لارڈ کرزن کی مشہور کتاب Gardens of Persian کا ترجمہ ’’ خیابانِ فارس‘‘ کے نام سے کیا، جس نے علمی دنیا میں ان کی دھوم مچادی۔پھر1900 میں علامہ شبلی نعمانی کی الفاروق کا انگریزی ترجمہ پیش کیاتوان کی دھاک بیٹھ گئی۔1902میں ظفر علی خاں نے علمی و ادبی اور تاریخی رسالہ’’افسانہ‘‘ کا اجرا کیا۔ 1903 میں ’’دکن ریویو‘‘ جاری کیا ۔
ظفر علی خاں کی سیاسی زندگی کا آغاز 1904میں ہوا ۔محمدن ایجوکیشن کانفرنس ڈھاکہ میں آل انڈیا مسلم لیگ کی تشکیل کی تائید کرنے والوں میں ظفرعلی خاں پیش پیش تھے۔19 اکتوبر 1909کو عتاب سلطان کی پاداش میں لاہور چلے آئے۔عتاب سلطان کی وجہ یہ تھی کہ ایک محفل میں نیم برہنہ رقص کی تعریف اور شکریہ سے ظفر علی خاں جیسے حساس اور اسلام پسند شخص نے انکار کر دیا تھا ۔لاہور میں پروفیسرکے عہدے اور اخبارات کی طرف سے کئی پیش کشیں آئیں ، لیکن وہ انکار کرتے رہے۔
9 نومبر 1909ء کو ان کے والد مولوی سراج الدین اﷲتعالیٰ کو پیارے ہو گئے۔وہ ’’زمیندار‘‘ نکالتے تھے۔’’زمیندار‘‘ ہفت روزہ اخبار تھا، جو جون 1903 میں جاری ہوا تھا ، جس کا مقصد زمیندار، کاشت کار وں اور کسانوں کی بھلائی کے لیے کام کرنا تھا ۔انہوں نے اپنے والد کی وصیت کے مطابق ’’ زمیندار‘‘ کو سنبھال لیا۔’’زمیندار‘‘ کا دفتر جو مالی دشواریوں کے سبب لاہور سے کرم آباد منتقل ہو گیا تھا،پھر لاہور آگیا۔ اس کارنگ ڈھنگ اور طرز ادا بدل گئی ۔ اس نے خالص مذہبی رنگ اختیار کر لیا ۔مسلمان مسلم ممالک کی خبروںسے بے حد دلچسپی رکھتے تھے ۔ زمیندار واحداخبار تھا ۔جو مسلم دنیا کی خبریں خصوصی اہتمام سے چھاپتا تھا ، یہ اردو کا پہلا اخبار تھا، جس کو’’رائٹر‘‘ اور ایسوسی ایٹڈ پریس آف انڈیا سے نیوز سروس حاصل تھی۔زمیندار اب روزنامہ کی شکل میں شائع ہونے لگا تھا ۔
زمیندار کی غیر معمولی مقبولیت اور ہر دل عزیزی اس بات سے ظاہر ہے کہ سرحدی علاقوں میں پٹھان ایک آنہ میں اخبار خریدتے تھے اور ایک آنہ اس کو سننے کے لیے خرچ کرتے تھے۔کانپور میں جب مچھلی بازار کی ایک مسجد کے ایک حصہ انہدام کا واقعہ پیش آیا تو سارے یوپی میں مسلمان حکومت کے خلاف ہو گئے۔کانپور میں جب اخبار’’زمیندار‘‘ کا بنڈل پہنچتا تھا تو اخبار کا ایجنٹ دکان کا دروازہ بند کر لیتا تھا ۔ دس بجے تک اخبار ایک آنہ میں دستیاب ہوتا تھا ، لیکن شام کے وقت آٹھ آنہ میں بھی نہیں ملتا تھا ۔ زمیندار کی روزانہ اشاعت تیس ہزار تھی ۔یہ اشاعت 1947ء تک اردو کے کسی اخبار کو حاصل نہ ہو سکی تھی۔
سامراج اور مغربی طاقتوں پر بے پناہ یلغار نے جہاں عوام میں ’’زمیندار‘‘ کو مقبول عام بنا دیا تھا ، وہیں حکمراں طبقہ اس سے ناراض ہو گیا ۔انہوں نے اس کی گرفت کرنی شروع کردی۔ اخبار کی ضمانتیں ضبط کی گئیں، لیکن اخبار جاری رکھا گیا۔
مولانا ظفر علی خاںکی صحافت میں آمد سے اردو صحافت کا وقار بلند ہوا ۔انہیں زبان پر جو زبردست عبور حاصل تھا ، اس کی بدولت انہوں نے اردو کی صحافتی زبان کو بے شمار سیاسی اصطلاحات اور نئے الفاظ سے مالا مال کیا۔انہوں نے لوگوں کے دلوں سے اجنبی راج (برطانوی حکومت) کا خوف نکال دیا ۔لوگوں کو معلوم ہوا کہ حاکم کے منہ پر سچی بات کہی جا سکتی ہے۔ظفر علی خاں نے پریس ایکٹ پر اپنے تاثرات پیش کیے تھے ، لیکن وہ کتاب شائع نہ ہو سکی۔
’’زمیندار‘‘ کے زبردست مقالات ،خبروں کی فراہمی کے اعلیٰ انتظامات اور مولانا ظفر علی خاںکی روح پرور اور ولولہ انگیز نظموں نے ہندوستان اور بالخصوص پنجاب کے عوام میں نہ صرف اخبار بینی کا شوق پیدا کیا،بلکہ مسلمانوں کو اتحاد بین ا لمسلمین کا بھولا ہوا سبق بھی یاد دلایا۔ ظفر علی خاں نے اپنی شاعری میں اتحاد اسلامی کی تلقین کی۔ ان کی نثری تحریروں کے ساتھ ساتھ ان کی شاعری نے بھی ایک نیا رنگ اختیار کیا۔یہ رنگ مجموعی طور پر مسلمانوں کے جذبات و احساسات کی ترجمانی کرتا تھا۔
ظفر علی خاں کا اسلوب صحافت ادب اور سیاست سے جڑا رہا ۔ وہ نڈر اور بے خوف ہو کر لکھتے تھے ۔ کسی بھی جھوٹے پرو پیگنڈے سے دل برداشتہ نہیں ہوئے، جس مشن پر قلم اٹھایا ، اس کا حق ادا کر دیا اور ظلم و استبداد کی طاقتوں کے خلاف ہمیشہ نبرد آزما رہے ۔ بر طانوی سامراج کی غلامی اور ہندوستان کی محکومیت کے خلاف روزنامہ ’زمیندار‘ کا کردار تاریخی صحافت کاایک روشن باب ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ ظفر علی خاں اور روزنامہ ’زمیندار‘ کے خلاف جتنے مقدمات قائم ہوئے اور جتنی تعزیرات پاس ہوئیں ، وہ کسی دوسرے ایڈیٹر یا اخبار کے خلاف نہیں ہوئیں ۔ظفر علی خاں کے اخبار اور سامان کی ضبطی،قرقی اور جرمانے کی شکل میں اس وقت کی حکومت نے جو رقم وصول کی وہ تقریباً ڈیڑھ لاکھ ہوتی ہے۔ اس زمانے کے ڈیڑھ لاکھ روپے یقیناً آج کے زمانے کے کروڑوں ہوں گے۔
’زمیندار‘ ایک تحریک تھا ۔رولٹ ایکٹ کے خلاف ، جلیاں والا باغ سانحہ کے خلاف اور کشمیر میں ڈوگرہ راج کے خلاف آزادی کی آواز کو گھر گھر پہنچانے میں ’زمیندار‘ نے جو کردار ادا کیا ہے، وہ ناقابل فراموش ہے ۔ ڈاکٹر وزیر آغا کے مطابق صحافت مین ’زمیندار‘ کی اہمیت ایک تو ظفر علی خاں کی طنزیہ شاعری کی وجہ سے قائم رہی اور دوسری ’زمیندار‘ میں افکار و حوادث ، کالم کا اجرا ہے۔ جسے اردو صحافت میں طنزو مزاح کی شاہراہ کا دوسرا اہم سنگ میل سمجھنا چاہیے ۔
ظفر علی خاں نے بڑے پـر آشوب دور میں قلم کی حرمت کا پرچم بلند کیا ۔ برطانوی استعمار کے خلاف وہ امن کا پرچم لے کر آگے بڑھے۔ انہوں نے صحافتی اقدار کے فروغ کے لیے جی جان سے محنت و ریاضت کی۔وہ ساری زندگی قلمی جہاد کرتے رہے۔انہوں نے اپنی قیمتی زندگی کا کم و بیش ہر تیسرا دن جیل کی سلاخوںکے پیچھے گزارا۔1949 ء میں ان پر اعصابی حملہ ہوا اورآخری کار27 نومبر 1956 ء کو اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔