اردو رسم الخط کی نزاکت ـ مسعود جاوید

صحافت میں املا /تلفظ/ کی غلطیاں عام ہیں ، عموماً ایڈیٹر حضرات پروف ریڈر پر اعتماد کرتے ہوۓ نفس مضمون اور جملوں کی ساخت پر توجہ تو دیتے ہیں مگر تلفظ پر نہیں ۔ جس کے نتیجے میں کبھی کبھی فاش غلطیاں بھی چھپ جاتی ہیں۔
ادب کی کتابوں میں اگر ایسی غلطیاں ہوتی ہیں تو اس کتاب کی قدر و قیمت گھٹ جاتی ہے خواہ مضمون کتنا ہی عمدہ کیوں نہ ہو۔ لیکن صحافت میں بعض غلطیاں خواہ وہ املا کی ہو یا تذکیر و تانیث کی یہ کہہ کر نظر انداز کر دی جاتی ہیں کہ صحافت جلدی میں لکھا ہوا ادب ہے۔
صحافت کا دار و مدار کتابت پر ہوتا تھا اب اس کی جگہ کمپیوٹر پر کمپوزنگ نے لے لیا ہے۔ لیکن کاتب ہو یا کمپوزر غلطیوں سے نجات نہیں ملی۔ کتابت کی غلطیوں کی اصلاح مشکل کام تھا جبکہ کمپیوٹر پر کمپوز کیے ہوئے مواد کو عموماً save کر لیا جاتا ہے اور پروف ریڈر غلطیوں کو بآسانی اصلاح اور حذف اضافہ ایڈٹ کرسکتا ہے۔
آج بابری مسجد انہدام کے ملزمین پر فیصلہ کے تعلق سے ایک خبر پر نظر پڑی سبھی نامرد ملزمین کو عدالت نے بری کر دیا۔ پہلی نظر میں خبر پڑھ کر میں حیران بھی ہوا اور ایک طرح کا تجسس پیدا ہوا کہ صحافی کو کیسے پتہ چلا کہ وہ سبھی٣٤ ملزمین نامرد ہیں! پھر غور کیا تو واضح ہوا کہ دراصل کہ لکھنے والے کے ذہن میں نامزد لکھنا تھا مگر عجلت میں ز کی جگہ ر لکھ دیا یعنی کتابت میں نقطہ چھوٹ گیا اور کمپوزنگ میں ز key کی جگہ ر بٹن press ہو گیا۔
اخبارات سے واقف لوگ خاص طور پر اردو ادب اور صحافت کے طالب علم جانتے ہیں کہ زمیندار اخبار کا بریٹیش راج سے آزادی کی جنگ میں اور بالخصوص مسلم لیگ کو پروان چڑھانے میں بہت نمایاں کردار تھا اس کے ایڈیٹر تھے مولانا ظفر علی خان ۔ اس اخبار کے قارئین کو اس اخبار کا شدت سے انتظار رہتا تھا اور اس کے اداریہ کا تو ایک ایک حرف پڑھتے تھے۔ غالباً یہ اسی اخبار کا واقعہ ہے کہ کتابت کا زمانہ تھا اور کاتبوں کی اپنی رفتار بے ڈھنگی۔ تمام تر تاکید کے باوجود غلطیاں رہ جاتی تھیں۔ لوگوں نے شکایت کی خطوط بھیجتے رہے، غلطیوں کی طرف توجہ نہ دینے پر قارئین نے اپنی سخت برہمی کا اظہار کیا۔ اب کس کس کو جواب دیں اس لئے ظفر علی خان صاحب نے اسی پر اداریہ لکھ دیا جس کا عنوان تھا ” کاتبوں کی کانٹ چھانٹ”۔ دوسرے دن لوگ مولانا کے دفتر پہنچ گئے اور کہا کہ ہم تو املا کی غلطیوں کی اصلاح پر توجہ دینے کی توقع کر رہے تھے مگر آپ نے تو آج ساری حدیں پار کر دیں ! مولانا نے اخبار نکالا اور بغور پڑھا تو پایا کہ کاتب صاحب سے پھر غلطی ہو گئی اور وہ بھی عنوان میں کہ چھانٹ میں تین نقطوں کی جگہ جلدی میں ایک ہی نقطہ لگایا جو ظاہر ہے چھ کی جگہ جھ۔۔۔۔ ہوگیا جس سے عنوان ہوگیا: کاتبوں کی کانٹ جھ۔۔۔۔ٹ!

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*