اردو نقد و ادب کاشمس رحمٰن کی گودمیں

دہلی:آج شعبۂ اردو دہلی یونی ورسٹی میں مشہور ناقد ، فکشن نگار اور دانشور مرحوم ’’شمس الرحمٰن فاروقی‘‘ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے تعزیتی نشست کا نعقاد کیا گیا۔ شعبۂ اردو کے صدر اور آرٹس فیکلٹی کے ڈین پروفیسر ارتضیٰ کریم صاحب نے اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے فاروقی صاحب کے علمی و ادبی کارناموں پر روشنی ڈالنے کے بعد کہا کہ فاروقی صاحب ایک بڑے عالم ہونے کے ساتھ ساتھ بے حد اچھے انسان اور مخلص مربی بھی تھے۔ وہ علمی و ادبی کاموں اور انتظامی معاملات میں بہترمشورے سے نوازتے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شمس الرحمٰن فاروقی کی وفات سے اردو ادب کو بہت بڑا نقصان ہوا ہے۔تنقید ،فکشن اور شاعری میں ان کے کارنامے بھلائے نہیں جاسکتے۔ان کے جانے سے اردو ادب کا آفتاب غروب ہوگیا۔ سابق صدر شعبہ پروفیسر ابن کنول نے ان کی وفات پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شمس الرحمٰن فاروقی اردو ادب کے مخلص خدمت گزار تھے۔ ان کے جانے سے اردو ادب میں جو خلا پیدا ہوا ہے اس کا پُر ہونا بہت مشکل ہے۔ ایسے ادیب صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر محمد کاظم نے خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شمس الرحمٰن فاروقی ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ وہ بیک وقت کئی اصنافِ ادب پر دسترس رکھتے تھے۔ ان کی وفات سے اردو داں طبقے کو گہرا صدمہ پہنچا ہے۔ ڈاکٹر نجمہ رحمانی نے کہا کہ ان کی وفات ہم سب کے لیے بہت بڑاصدمہ ہے۔ فاروقی صاحب عظیم ادیب کے ساتھ ساتھ عظیم انسان بھی تھے۔ ڈاکٹر مشتاق عالم قادری نے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے جانے سے اردو ادب کے علاوہ عالمی ادب کا بھی نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے جس طرح سے ادب کی خدمت کی ہے وہ قابل دید ہے۔ جن اصناف ادب پر قلم چلایا اس کا حق ادا کردیا۔ ڈاکٹرابوبکرعباد نے کہا کہ شمس الرحمٰن فاروقی ایسی شخصیت کا نام ہے جو اپنی تحریروں اور ادبی کارناموں کی وجہ سے ہر دور میں زندہ و جاوید رہیں گے۔ ان کی وفات سے اردو ادب کو بڑا نقصان ہوا ہے۔ ڈاکٹر ارشاد نیازی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فاروقی صاحب کی وفات سے ایک عہد کا خاتمہ ہوگیا ۔ خاص طور پر اردو تنقید کا بہت بڑا نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے جو بھی لکھا بہت ایمانداری اور بیباکی سے لکھا ڈاکٹر احمد امتیاز نے کہا کہ اردو ادب کے معیار کو بلند کرنے میں فاروقی صاحب کا بہت اہم کردار رہا ہے۔ جس طرح سے انہوں نے شاعری پر کام کیا ہے۔ وہ کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ ڈاکٹر متھن کمار نے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ادبی خدمات اور علم کا احاطہ کرنا بہت مشکل ہے۔ فاروقی صاحب اپنے آپ میں ایک دبستان تھے۔ ڈاکٹر ادریسی نے کہا کہ فاروقی صاحب کی وفات سے علم کا سایہ ہمارے سروں سے اٹھ گیا۔ڈاکٹر شاذیہ عمیر نے کہا کہ فاروقی صاحب اسم بامسمیٰ تھے۔ انہوں نے اصناف پر طبع آزمائی کی ۔ ڈاکٹر شمیم نے کہا کہ ان کے جانے سے ادب کو کافی نقصان ہوا ہے۔ ڈاکٹر ناصرہ سلطانہ نے کہا کہ فاروقی صاحب کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں وہ صدیوں تک اپنے ادبی کارناموں سے زندہ و جاوید رہیں گے۔ اس کے علاوہ تعزیتی نشست میں ڈاکٹر دانش حسین ، ڈاکٹرشاہنواز ہاشمی،ڈاکٹر مخمور صدری اورکثیر تعداد میں طلبہ و طالبات شریک تھے-