بہار میں اردو تحریک: چند باتیں -کامران غنی صبا

 

منفی سوچ قوت فکر و عمل کو فنا کر دیتی ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی مشن یا تحریک کو مضبوط اور مؤثر بنانے کے لیے اس کا تجزیہ ضروری ہے. بدقسمتی سے ہمارے یہاں معروضیت کے ساتھ اگر کوئی بات کی جائے تو اسے بھی منفی تنقید کے زمرے میں ڈال دیا جاتا ہے. اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہمارے یہاں تجزیہ کے نام پر منفی تنقید اور دل کی بھڑاس نکالنے کا کام زیادہ ہوتا ہے. یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی شخص خلوص کے ساتھ تجزیاتی انداز میں کوئی گفتگو کرے یا کسی معاملہ میں معروضیت کے ساتھ اپنی بےلاگ رائے پیش کرے تو اس کا خیر مقدم کرنے کی بجائے اس بدخواہ سمجھ لیا جاتا ہے۔
یہ تمہیدی گفتگو دراصل بہار کی حالیہ اردو تحریک سے متعلق ہے. اس وقت بہار میں اردو تحریک زور و شور سے (بظاہر) چل رہی ہے. دراصل امیر شریعت حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب نے ریاست گیر سطح پر امارت شرعیہ کے پلیٹ فارم سے اردو کارواں کے بینر تلے ایک بڑی تحریک کا آغاز کیا تھا. اس تحریک کا اثر گاؤں گاؤں میں محسوس کیا جا رہا تھا. بنیادی سطح پر اردو کے مسائل پر سنجیدگی سے گفتگو ہو رہی تھی. مکاتب کے قیام اور پہلے سے چل رہے مکاتب کو مضبوط بنا کر بنیادی سطح پر اردو تدریس کے لیے جو پیش رفت کی گئی تھی اس کے دوررس نتائج برآمد ہونے کی توقع تھی لیکن ولی رحمانی صاحب کے انتقال کے بعد اس تحریک نے بھی دم توڑ دیا ہر چند کہ اردو کارواں ابھی زندہ ہے. ولی رحمانی صاحب کے انتقال کے بعد ایک دو نشستیں بھی ہوئی ہیں لیکن امیر شریعت کے مجوزہ انتخاب کے لیے امارت میں جو اندرونی خلفشار بپا ہے اس کے اثرات اردو کارواں پر بھی پڑے ہیں۔
اردو کارواں کے علاوہ چھوٹی بڑی کئی جماعتیں اس وقت تحریک کا علم لے کر "اخبارات” میں کود پڑی ہیں. میدان میں کودنا اس لیے نہیں کہوں گا کہ عملی اعتبار سے کسی بھی تنظیم کی کوئی خاص کارگزاری نہیں ہے سوائے اس کے کہ اردو کارواں کے ایک وفد نے وزیر تعلیم سے ملاقات کر کے انہیں اردو کے مسائل سے آگاہ کیا ہے. اس کے سوا اخبارات میں جو کچھ نظر آ رہا ہے وہ اس شعر سے زیادہ کچھ بھی نہیں
ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا

یہ تو تصویر کا ایک رخ ہے. جو بظاہر خوش نما لیکن بس دل کے بہلانے اور چند لوگوں کے تسکین ذوق نفس تک ٹھیک ہے. تصویر کا دوسرا رخ قدرے اطمینان بخش ہے. بہار میں اردو کے سچے بہی خواہوں کی جماعت اپنی اپنی استطاعت بھر اردو کی لڑائی پورے جوش و جذبے کے ساتھ نام و نمود اور صلے کی تمنا سے بے نیاز ہو کر لڑ رہی ہے. بات چاہے این آئی او ایس میں اردو کی شمولیت کی ہو یا اسکولوں سے اردو کو بطور لازمی مضمون ختم کیے جانے کے خلاف عدالت تک جانے کی. اردو کی لڑائی لڑنے والے لوگ خاموشی کے ساتھ اپنا کام کر رہے ہیں. قارئین کو یاد ہوگا کہ چند سال قبل حکومت بہار نے تمام سرکاری محکموں کے افسران کو سرکاری امارت کے باہر ہندی اور انگریزی کے ساتھ اردو میں بھی نیم پلیٹ لازمی طور پر لگانے کی ہدایت جاری کی تھی. حکومت بہار کے اس مکتوب کو بنیاد بنا کر نوجوانوں کی ایک ٹیم نے بہار کے مختلف اضلاع کے درجنوں تھانے، بلاک اور سرکاری دفاتر میں اردو میں ناموں کی تختیاں آویزاں کروائیں. قارئین کو یہ بھی یاد ہوگا کہ پٹنہ جنکش سے اردو میں اسٹیشن کا نام ہٹا دیا گیا تو نوجوانوں نے سوشل میڈیا پر اس کے خلاف جم کر آواز بلند کی یہاں تک کہ راتوں رات پٹنہ جنکشن پر دوبارا جگمگاتی ہوئی اردو نظر آنے لگی. نوجوانوں کی یہی جماعت اساتذہ بحالی میں پیدا کی جانے والی رکاوٹ کے خلاف آواز اٹھانے کے جرم میں لاٹھیاں بھی کھاتی ہے.
یہ کوئی معمولی کارگزاریاں نہیں ہیں. وہ بھی اس صورت میں جب نوجوانوں کو کوئی مضبوط سپورٹ بھی حاصل نہیں ہے. اردو کے سرکاری اداروں کے افسران ان معاملات میں اس لیے نہیں پڑنا چاہتے کہ انہیں ڈر لگا رہتا ہے کہ اگر انہوں نے ان معاملات میں سیدھے سیدھے حکومت پر دباؤ بنانے کی کوشش کی تو ان اداروں کی کرسیوں تک رسائی آئندہ کے لیے مشکل ہو جائے گی. اردو اخبارات کھل کر لکھنے سے کتراتے ہیں کیونکہ ان کے اپنے تحفظات ہیں. آخر کو انہیں حکومت سے اشتہارات بھی تو لینے ہیں۔
ایسے میں جو لوگ اردو کے لیے واقعی مخلص ہیں انہیں سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ کام کرنے والوں کے درمیان کس طرح اشتراک ہو اور جو لوگ اپنا تن من دھن لگا کر اردو کے حق کے لیے قانونی لڑائی لڑ رہے ہیں، انہیں کس طرح مضبوط کیا جا سکتا ہے۔