اردو معاشرے کے لیے ایک سنہری موقع-ڈاکٹر مشتاق احمد


(پرنسپل،سی ایم کالج، دربھنگہ)
کورونا وبا نے پورے انسانی معاشرے کی زندگی کو مفلوج کرکے رکھ دیاہے کہ شعبہ حیات کی تمام تر نقل وحرکت بند ہیں۔گذشتہ تین ماہ سے لاک ڈاؤن کی مدت میں رفتہ رفتہ اضافہ ہو رہاہے۔ اب معمولی سی راحت کے ساتھ پانچویں لاک ڈاؤن کا بھی اعلان ہو چکا ہے کہ30/ جون تک اس لاک ڈاؤن پر عمل پیرا رہناہے۔ ظاہر ہے کہ اب تک کورونا لا علاج بیماری ہے اور اجتماعی زندگی سے دور رہنے کی ضرورت ہے کہ اس احتیاط کے ذریعہ ہی کورونا سے بچ سکتے ہیں۔ لیکن اب پانچویں لاک ڈاؤن میں جس طرح کی ڈھیل دی گئی ہے اس سے ممکن ہے کہ خطرہ بڑھ بھی سکتا ہے اس لئے انفرادی طورپر چاق وچوبند بھی رہنے کی ضرورت ہے اور مرکزی حکومت کی جانب سے جو گائیڈ لائن جاری کی گئی ہے اس پر بھی عمل کرنا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس لاک ڈاؤن نے ہماری معاشرتی زندگی کو درہم برہم کردیا ہے اور تمام شعبہ حیات اس سے اثر انداز ہوئے ہیں۔ مگر تعلیمی شعبہ قدرے زیادہ سے متاثر ہوا ہے۔بنیادی تعلیم سے لے کر یونیورسٹی سطح تک کے ادارے بند پڑے ہوئے ہیں۔اب مختلف تعلیمی اداروں کی طرف سے جدید تکنیکی آلات مثلاً انٹرنیٹ، واٹس ایپ، فیس بک، انسٹا گرام، گوگل ایپ، زوم ایپ، آن لائن کانفرنسنگ کے ذریعہ بچوں کو اسباق سکھائے جا رہے ہیں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں بھی سمینار کی جگہ ویب نار کا چلن عام ہوگیا ہے۔ واضح ہو کہ لاک ڈاؤن مارچ سے شروع ہوا اور ہنوز جاری ہے اوریہی موسم امتحانات اور نئے سیشن کے آغاز کا ہوتا ہے۔اب تک آدھے ادھورے امتحان کی وجہ سے نتائج بھی سامنے نہیں آئے ہیں اور نئے سیشن کے آغاز میں وقت لگے گا۔ کیوں کہ مرکزی حکومت کی جانب سے جو اشارہ دیا گیا ہے اس سے ایسا لگتا ہے کہ جولائی کے وسط یا آخر سے ہی تعلیمی اداروں کو کھولا جا سکتا ہے۔مرکزی حکومت کا زور ہے کہ ڈیجٹلائزیشن کے ذریعہ آن لائن تعلیم کو فروغ دیا جائے۔ حکومت نے سو یونیورسٹیوں کو منتخب کیا ہے جو آن لائن نصاب تیار کرے گی اور تعلیمی سیشن کا آغاز کرے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اسے کب تک عملی جامہ پہنایا جاتاہے۔یہاں اس حقیقت کا اعتراف بھی ضروری ہے کہ بھارت جیسے ملک میں کلّی آن لائن ایجوکیشن ممکن نہیں ہے۔ کیو ں کہ سرکاری رپورٹ کے مطابق تقریباً ۸۲/ فی صد افراد ہی ڈیجٹل سہولیات سے لیس ہیں اور ۲۴/ فی صد لوگ انٹر نیٹ کے استعمال سے معمولی واقفیت رکھتے ہیں جب کہ ۷۵/ فی صد آبادی موبائل کا استعمال کر رہی ہے۔ جہاں تک دیہی علاقوں کا سوال ہے تو محض ۴۱ سے ۵۱فی صد لوگ انٹر نیٹ سے استفادہ کرنے کے قابل ہیں۔ایسی صورت میں آن لائن ایجوکیشن کا تصور تو بہتر معلوم ہوتا ہے لیکن زمین پر اس کی اصل حقیقت کیا ہوگی اس پر بھی غوروفکر کرنے کی ضرورت ہے کیو ں کہ تعلیم ایک ایسا شعبہ ہے جس میں عملی صورت ہی کامیابی کا راز ہے۔ محض اشتہار اور پروپیگنڈہ یا پھر کسی مجبوری کے تحت خانہ پُری کرنا نہ صرف حالاتِ حاضرہ کے لئے بلکہ مستقبل کے لئے بھی مفید نہیں ہے۔ان دنوں ایک رسم سی چل پڑی ہے کہ فیس بک یا انٹر نیٹ کے سہارے بچوں کو مختلف ایپ کی بدولت اسباق سکھائے جا رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کے لئے تو یہ فخریہ عمل ہے کہ وہ انجام دے رہے ہیں لیکن اس سے ہمارے بچے کتنے مستفیض ہو رہے ہیں وہ ایک اہم سوال ہے۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں بھی جس طرح آن لائن لکچر کی ہوڑ سی لگ گئی ہے اور روز ویب نار بھی ہو رہے ہیں اس سے کتنے طلباء مستفیض ہو رہے ہیں اس کا بھی احتساب ضروری ہے۔میں ایک یونیورسٹی کے آن لائن لکچر سیریز میں شامل طلباء کے اعداد وشمار کو دیکھ رہا تھا۔جس کورس میں دو سو طلباء کا اندراج ہے وہاں پندرہ سے بیس طلباء اس آن لائن لکچر میں شامل ہو رہے ہیں اور جہاں سو طلباء کا اندراج ہے وہاں بھی دس بارہ طلباء شامل ہو رہے ہیں۔ اس سے یہ سمت ورفتار سمجھ میں آجاتی ہے کہ اس وقت آن لائن تعلیم کا نتیجہ کیا ہے۔ہاں اب جب کہ اس طرح کے مشکل حالات سے سامنا ہوا ہے اور مستقبل میں بھی شاید ایسے حالات پیدا ہوں اس کے مدنظر تعلیمی اداروں میں بنیادی ڈھانچوں کو مستحکم کرنا ضروری ہوگیا ہے۔بالخصوص دیہی علاقے کے بچوں کے لئے خصوصی پروگرام کے تحت اس کام کو کرنے کی ضرورت ہے۔
بہر کیف! اس وقت لاک ڈاؤن چل رہاہے اور ہمارے بچے گھروں میں ہیں۔یہ مثل مشہور ہے کہ ہر مشکل اپنے ساتھ کچھ آسانیاں بھی لے کر آتی ہیں۔ اردو معاشرے کے لئے یہ لاک ڈاؤن ایک سنہری موقع ہے کہ ہم اپنے بچوں کو گھروں میں مادری زبان اردو کی تعلیم دیں اور واجبی دینی تعلیم سے بھی آشنا کریں۔ کیوں کہ میرا ذاتی مشاہدہ اور تجربہ ہے کہ نوے کی دہائی کے بعد پیدا ہونے والے بچے اسکول اور کالجوں میں اردو مو ضوع کا انتخاب نہیں کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ بچوں کی مرضی پر ہے کہ وہ کون سا سبجکٹ پڑھیں گے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ان میں بیشتر بچے اردو سے نابلد ہیں۔ انہو ں نے اردو پڑھی ہی نہیں ہے اور اب وہ طرح طرح کے عذر بھی پیش کر رہے ہیں کہ جہاں بنیادی تعلیم ہوئی وہاں اردو اساتذہ نہیں تھے، یا پھر اس اسکول میں اردو کی پڑھائی ہی نہیں تھی۔ یہ حقیقت بھی ہے کہ اردو معاشرے اردو کو خود ہی اہمیت نہیں دے رہے ہیں۔ اسی طرح مذہبی تعلیم کا بھی حال ہے۔ اکثر مسلم بچے دین کی معمولی واقفیت بھی نہیں رکھتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ انہیں دین کی تعلیم نہیں دی گئی اور اب وہ کالجوں میں آکر دین کی بنیادی تعلیم حاصل کرنے سے دور ہو چکے ہیں۔واضح ہو کہ انسان کی صحت مند فکر ونظر کے لئے مذہبی اور اخلاقی تعلیم غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے۔ اس لئے یہ لاک ڈاؤن کا عرصہ ہمارے معاشرے کے لئے بیش قیمتی تحفہ ہے کہ اس وقت جب اسکول اور کالج بند ہیں، بچے ہمارے گھروں میں ہیں توہم ان کے لئے اردو اور مذہبی تعلیم کا نظم کریں او راس وقت ایک اور سہولت ہے کہ بیشتر مدارس ومساجد بھی بند ہیں تو ہم وہاں کے امام اور اساتذہ سے مدد لے سکتے ہیں۔ اس مشکل وقت میں ان اساتذہ کے لئے بھی تھوڑی راحت ہو سکتی ہے کہ ہم جس طرح دوسرے موضوعات کے لئے ہوم ٹیوٹر رکھتے ہیں اسی طرح کچھ دنوں کے لئے اردو اور دینی تعلیم کے لئے بھی نجی ٹیوٹر رکھیں تاکہ ہمارے بچوں کی ذہن سازی ہو سکے اور ہمارے بچے اردو اور دین کی تعلیم سے آشنا ہوسکیں۔ کیو ں کہ ہندوستان کے اردو معاشرے کے لئے ایک بڑا علمی اور مذہبی خزانہ اردو زبان میں دستیاب ہے۔ ہم عربی سے کتنے آشنا ہیں اس کا خود کبھی احتساب کیجئے تو پتہ چلے گا کہ ہم قرآن کو رٹ تو رہے ہیں، سمجھ نہیں رہے ہیں۔ عام لوگوں کی بات تو جانے دیجئے ہمارے حفاظِ کرام الحمد للہ لحن کے ساتھ قرآن کی قرأت تو کرتے ہیں کہ اللہ نے ان کے سینے میں قرآن کو محفوظ کردیا ہے اور یہ ایک معجزہ ہے لیکن وہ قرآن کے مفہوم سے واقف نہیں ہیں۔ اگر ہمارا معاشرہ قرآن کے افہام وتفہیم سے لیس ہو گیا ہوتا تو آج جو صورتحال ہے شاید نہیں ہوتی۔
مختصر یہ کہ اب بھی وقت ہے اور یہ مثل مشہور ہے کہ ہم جب جاگ جائیں تب سے ہی صبح شرو ع ہوتی ہے۔ تو اس لاک ڈاؤن کا فائدہ اٹھا کر ہم اپنے بچوں کو اپنی تہذیبی، ثقافتی زبان اردو سے لیس کر سکتے ہیں اور دین کی واجبی تعلیم بھی دے سکتے ہیں تاکہ ہندوستان جو مشترکہ تہذیب اور مختلف مذاہب کا ملک ہے وہاں مسلم بچوں کو کسی سے یہ نہ پوچھنا پڑے کہ حضرت عبدالمطلب کون تھے؟ یہ میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ ایک جلسہ میں ایک بچہ نے مقرر سے یہ سوال کیا کہ حضرت عبدالمطلب کہاں کے ہیں اور کون ہیں۔یہ ایک المیہ نہیں تو اور کیا ہے کہ ہمارے معاشرے کی یہ تصویر سامنے آرہی ہے اور سچائی تو یہ کہ یہ تصویر اور بھی بھیانک ہونے والی ہے۔ اس لئے اس پر غوروفکر کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ وقت بند کمروں میں بیٹھ کر اپنے احتساب کا بھی وقت ہے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)