’اردو میں سکھ نثر نگاروں کی ادبی خدمات‘پر سمینار منعقد

مالیر کوٹلہ:سوکر کوچنگ سینٹر اینڈ ویلفیئر سوسائٹی،مالیرکوٹلہ(پنجاب) کی جانب سے یک روزہ قومی سیمینار بعنوان ’’اردو میں سکھ نثر نگاروں کی ادبی خدمات‘‘ قومی کونسل برائے فروغ اُردو زبان،نئی دہلی کے مالی تعاون سے بمقام آبان پبلک اسکول ،آبان روڈ، بیرون مانا پھاٹک، مالیرکوٹلہ میں منعقد کیا گیا۔ اس یک روزہ قومی سیمینار کی صدارت معروف شاعر جناب انوار آذرؔ اور پنجابی زبان کے مشہور و معروف قلم کار جناب پون ہرچن پوری نے فرمائی۔مہمان خصوصی کے طور پر پنجابی کے مشہور شاعر و تاریخ دان جناب نور محمد نوراورپنجاب کے نامور نقادشرومنی ساہت کار جناب ڈاکٹر ندیم احمد ندیم ؔ تشریف فرما تھے۔اس سیمینارکے مہمان اعزازی جناب ڈاکٹر انوار احمد انصاری اور جناب ڈاکٹر محمد اسلم تھے۔جبکہ نوجوان افسانہ نگار، شاعر اور نقاد جناب سالک جمیل براڑ نے نظامت کے فرائض انجام دئیے۔بیجز کی رسم کے بعد اسسٹنٹ پروفیسر دیش بھگت یونیورسٹی، گوبند گڑھ جناب سالک جمیل براڑ نے مہمانانِ گرامی کا استقبال کرتے ہوئے ان کا تفصیلی تعارف پیش کیا۔تلاوتِ قران پاک کے بعد محمد اقبال ، اختر شاد،ڈاکٹر محمد اسلم، ڈاکٹر سالک جمیل براڑاور ڈاکٹر ندیم احمد ندیمؔ نے اپنے مقالات پیش کئے ۔جن کو حاضرین نے خواب سراہا۔اس موقع پرجناب نور محمد نور نے اپنے خیالات کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ اردو زبان و ادب کے فروغ میں پنجابیوں نے گراں قدر حصّہ ڈالا ہے جس کو کبھی بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔جناب ڈاکٹر ندیم احمد ندیمؔ نے کہا کہ ضرورت ہے کہ پنجاب کے سکھ قلم کاروں کا ادبی سرمایہ محفوظ کیا جائے۔ استاد شاعر انوار آذرؔ نے کہا کہ نئی نسل کو دیکھ کر مجھے اس بات کی تسلی ہے کہ ابھی پنجاب میں اُردو کا مستقبل روشن ہے۔جناب پون ہرچن پوری نے اپنے صدارتی کلمات میں کہا کہ اس سیمینار کا عنوان واقعی قابل تعریف ہے۔ جس سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ اردوکسی ایک دھرم کی زبان نہیں بلکہ ہندوستانیوں کی زبان ہے۔اختتام پر ناظم سیمینارڈاکٹرسالک جمیل براڑنے مہمانوں اورحاضرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مالیرکوٹلہ کی عوام نے ہمیشہ کی طرح آج بھی یہاں تشریف لاکر اپنی ادب نوازی کا ثبوت دیا ہے۔