اردو مرثیے کی جمالیات-عارفہ مسعود عنبر

 

فلسفے کی ایک صنف فن کے حسن اور فن تنقید کی قدروں اور معیاروں سے بحث کرتی ہے ۔ جس کا بنیادی مقصد حسن کی تلاش قرار دیا گیا ہے۔مگر جدید فلسفے کے مطابق جمالیات وہ سائنس ہے جو تخلیقی تجربہ،تجزیہ حسن ،اور نقود و نظر کی قدروں اور معیاروں سے بحث کرتی ہے ۔اور نوعیت اور عمل کے اعتبار سے منطق اور نفسیات سے بالکل مختلف ہے ۔جمالیات اور ادب کے رشتے کی تفہیم کا تعلق دانشوری سے بھی ہے اور تنقیدی شعور سے بھی اس کا ربط مستحکم ہے ۔ جما لیات فلسفے کا ایک شعبہ ہے۔ اہل علم و نظر نے اسے مستقل حیثیت سے پیش کرکے اس کے لیے امتیازات کا تشخص قائم کرنے کی کوشش کی ہے ۔حسن فطرت کائنات کا ایک جوہر ہے اور جب یہ اپنا اظہار محسوسات کی سطح پر کرتا ہے، تو ان میں رعنائی اور نظر قریبی و جاذبیت پیدا ہو جاتی ہے اور نشاط و انساط کی کیفیت اس سے وابستہ ہو جاتی ہے۔ادب ہمیشہ جمالیاتی مطالعے کا موضوع رہا ہے۔اس کے لیے زبان و اظہار و اسلوب کی ساری اثر انگیزی جمالیات پر منحصر ہے ۔

شاعری کی جمالیات نئی صدی کا وہ موضوع ہے جس پر بہت کچھ لکھا جا رہا ہے۔حسن اور حسن کی فسوں کاری ہر زمانے اور عہد کا پسندیدہ موضوع رہا ہے۔ اور بیشتر لوگوں نے ہوس کاری اور عریانیت کو جمالیات کا حصہ بنا دیا ہے۔ مرثیہ بھی اردو شاعری کی ایک مخصوص اور خاص صنف سخن ہے۔لیکن اردو مرثیے کو زمانہ قدیم سے صرف اور صرف میدان کربلا کے غمناک مناظر اور درد و الم کی داستان تصور کیا جاتا رہا ہے ۔ جس میں نواسہ رسول جگر گوشہ بتول حضرت امام حسین اور ان کے جانثار رفقاء کی عظیم قربانیوں کا بیان نہایت گریہ و زاری، اشک باری اور غم ناک انداز میں کیا جاتا ہے۔ہم سب جانتے ہیں کہ جب لکھنؤ میں اردو زبان اپنے مخصوص اسلوب کے لیے ادب کا دبستان بن گئ تھی اسی زمانے میں انیس و دبیر نے مرثیے کو فن کی معراج تک پہنچایا۔ انیس کے یہاں انتخاب الفاظ اور ان کے محل استعمال کی بڑی اہمیت ہے۔ یہ محض مرثیہ کی بات نہیں ہے بلکہ اردو شاعری میں جس خوبصورت زبان کی بنیاد پڑی تھی اس کو انیس و دبیر مکمل کرتے ہیں۔ حقیقتاً انیس و دبیر نے اردو مرثیے کی جمالیات سے روشناس کرایا ۔مرثیے کی جمالیات تزکیہ نفس اور کردار سازی کے اس میزان سے چھن کر آتی ہے جو ہمیں عبود و معبود کے رشتے کی مضبوط رسی سے جوڑ دیتی ہے۔

ادب کی دیگر اصناف میں جولانی طبع کے جوہر دکھانے کے بے شمار مواقع ہیں۔ جبکہ مرثیے کا میدان واقعہ کے لحاظ سے محدود ہے جس میں شاعر نہ کوئ تبدیلی کر سکتا ہے نہ اضافہ ۔اس میں اپنے محدود دائرے میں ہی شاعر کو جمالیاتی جوہر بکھیرنے ہوتے ہیں۔پیش نظر کتاب ڈاکٹر عابد حسین حیدری کی مرتب کردہ "اردو مرثیے کی جمالیات” اردو مرثیے کی تحقیق و تنقید پر پر مشتمل ہے۔کتاب کے زیادہ تر مضامین جمالیات پر مرکوز ہیں ۔کتاب کا مطالعہ کرکے محسوس ہوا کہ مرثیہ کی جمالیات کیا چیز ہے ۔

ڈاکٹر عابد حسین حیدری ایم جی ایم پوسٹ گریجویٹ سنبھل میں پرنسپل کے عہدے پر فائز ہیں ۔نیز اردو ادب کے باغ میں اپنی علمی اور ادبی کاوشوں سے اب پاشی میں لگے ہوئے ہیں ۔اپ کی اب تک 15 کتابیں شائع ہوکر منظر عام پرآ چکی ہیں جنہوں نے اردو ادب کے سرمایہ میں بیش بہا اضافہ کیا ہے ۔صحافت سے بھی آپکا گہرا رشتہ رہا ہے ڈاکٹر صاحب نے اپنے اعلی کردار و عمل سے ادبی میدان میں ایک ممتاز مقام حاصل کیا ہے ۔اردو کے فروغ اور اس چمن کی آبیاری کے لیے مسلسل جدوجہد جاری رکھتے ہیں ۔جس کے لئے آپ نے مختلف موضوعات پر سیمینار منعقد کرائے ۔ ان سیمیناروں سے آپ کو نہ صرف نئی شناخت ملی۔ بلکہ نئے قلم کاروں کے لیے بھی تحقیق کے مواقع فراہم ہوئے۔ "آزادی کے بعد اردو مرثیہ کی جمالیات” کے عنوان پر سیمینار بھی اسی کاوش کا نتیجہ ہے جو اہل ادب کے حلقوں میں کافی بحث کا حامل رہا مگر ہزار اعتراض کے بعد اس کی انفرادیت کا اعتراف کرنا اس کی کامیابی کا ثبوت” اردو مرثیہ کی جمالیات” کی شکل میں ہمارے ہاتھوں میں موجود ہے کتاب میں تقریباً 32 قلم کاروں نے مرثیہ کی جمالیات کو اپنے انداز میں پیش کیا ہے کسی نے مرثیہ کے فن پر گفتگو کی ہے تو کسی نے نعتیہ بازگشت پر ،کتاب کو تین ابواب میں منقسم کیا گیا ہے پہلا حصہ مرثیہ کی فنی قدروں پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے جس میں مختلف قلم کاروں کے 23 مضامین شامل کیے گئے ۔ دوسرے حصے میں نعتیہ بازگشت میں تین ، اور تیسرے حصے میں رسائی بستیوں میں اردو مرثیے کی جمالیات پر 5,مضامین پیش کئے گئے ہیں ۔ پہلے حصہ میں پروفیسر شارب ردولوی” مراثی انیس میں جمالیاتی عناصر” کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوے لکھتے ہیں.

"ایک عام شاعر زبان کو صرف ذریعہ اظہار کے طور پر استعمال کرتا ہے اور اسے اپنی فکر اور تجربے میں دوسروں کو شریک کرنے کا وسیلہ بناتا ہے ۔لیکن میر انیس زبان کو صرف ذریعہ اظہار کے طور پر نہیں استعمال کرتے۔ ان کے یہاں زبان ایک جمالیاتی قدر ہے اس کا اپنا ایک حسن ہے طریقہ اظہار اس کی دلکشی کو اور بڑھا دیتا ہے”

( اردو مرثیے کی جمالیات صفحہ 53)

پروفیسر علی احمد فاطمی سابق صدر شعبہ اردو یونیورسٹی آف الہ آباد مرثیہ کی جمالیات پر بڑی دلچسپ اور سیر حاصل گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں۔

"مرثیہ کی جمالیات پر گفتگو ذرا عجیب سی لگے گی کہ ہم آج بھی حسن و جمال کے روایتی تصور سے باہر نہیں نکل پائے ہیں ، لیکن اگر جمالیات کا مقصد روایتی حسن و جمال نہیں ہے بہ الفاظ دیگر صرف جسمانی حسن تک محدود نہیں ہے وہ انسانی ذہن کی بالیدگی اور روح کی روئیدگی سے رشتہ جوڑتی ہے تو مرثیہ وہ صنف شاعری ہے جس میں صرف انسان نہیں بلکہ انسانی معاشرہ کی جمالیات دکھائ دیگی ”

( اردو مرثیہ کی جمالیات صفحہ 116)

"نعتیہ مرثیہ کی جمالیات ” کے عنوان سے شفیق الرحمن برکاتی تحریر فرماتے ہیں:

آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ایسے نور ہیں جس نور کی آمد سے ایوان کفر و باطل میں زلزلہ سا آ گیا بت خانوں میں طوفان برپا ہو گیا۔

حق کو اس نور کا اظہار جو منظور ہوا

طبق ارض ہر ایک غیرت صد طور ہوا

مشکل صلب میں آدم کے یہیں نور ہوا

دامنِ آمنہ اس نور سے معمور ہوا

فلک شوکت و اقبال کا تارا چمکا

دہر میں برج رسالت کا ستارا چمکا

۔( اردو مرثیہ کی جمالیات صفحہ 352 )

 

تیسرے حصے میں رثائی بستیوں میں جمالیات کو پیش کیا گیاہے ۔مرثیے کی بستیوں میں مضامین ملنا عموماً مشکل عمل ہے اس لیے لیے یہ کتاب کا سب سے اہم حصہ کہا جا سکتا ہے جس میں ” امروہہ کے جدید مراثی میں جمالیاتی عناصر ” "جائس کے مرثیوں کی جمالیات ” "جلالپور کے مراثی میں جمالیاتی شعور” "نوگاواں سادات کے مرثیوں کی جمالیات ” "عصر حاضر میں لکھنؤ کے مرثیوں کی جمالیات ” پر بھرپور مضامین پیش کیے گئے ہیں ۔اس کتاب کی اہمیت مرثیہ، جمالیات اور تنقید کے مثلث پر قائم ہے۔ اردو کے رثائی ادب کے تعلق سے بہت سے علمی وتحقیقی کام ہو چکے تھے؛ لیکن جمالیات جو گزشتہ کئی دہائیوں سے شعرو سخن کو ایک نئے زاویے سے روشناس کر رہی ہے، اس پر اب تک خاطر خواہ بحث نہیں کی گئی تھی۔پیش نظر کتاب اردو مرتبے کی جمالیات کے موضوع پر ایک اہم اور قابل ستائش کارنامہ ہے۔ یقیناً ڈاکٹر عابد حسین حیدری کی یہ کاوش اردو حلقے میں پذیرائی کی مستحق اور قابل تحسین ہے۔