ہندوستان کا جمہوری نظریہ اور اردوزبان- ڈاکٹر مجاہدالاسلام

 

Mob. 9628845713
ہندوستان ایک تکثیری سماج کا حامل ملک ہے ،جہاں مختلف نسل ، قوم ، مذہب اور زبان سے متعلق لوگ بستے ہیں۔ اسی لیے آزادی کے بعد ہندوستان کو کوئی خاص پہچان نہ دے کر اسے ایک سیکولر اور جمہوری ملک کے طور پر پروان چڑھانے اور شناخت دلانے کی کوشش کی گئی۔ جہاں ہر شخص کو اپنی نسل، قوم، مذہب اور زبان کی شناخت کے ساتھ ترقی کرنے کا دستوری حق عطا کیا گیا۔ اس آئینی حق کے حصول کے لیے سبھی زبانوں کے لوگوں نے اپنی اپنی کوششیں کیں اور وہ خاصے کامیاب بھی رہے۔ لیکن محسوس ہوتا ہے کہ اردو والے اس حق کے حصول میں اپنی سادہ لوحی اور دشمنوں کی عیاری کے سبب پچھڑ سے گئے ہیں۔ حالانکہ کسی بھی جمہوری ملک میںہر شخص ، علاقہ اور صوبہ اپنے حقوق کے مطالبے کو لے کر آزاد ہوتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح کسی بھی زبان کے بولنے والے بھی اپنی زبان کی بقاء اور اس کے فروغ کو لے کر آزاد ہوتے ہیں۔ زبان کے حوالے سے آزاد ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی زبان میں نہ صرف اپنے مافی الضمیر کی ادائیگی کے لیے آزاد ہیں بلکہ اس پر قدرت حاصل کرنے کے لیے پرائمری سے لے کر اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم بھی وہ اسی زبان میں حاصل کرنے کے اختیارات رکھتے ہیں۔۱۹۴۸ میں منظور شدہ اقوام متحدہ کے عالمی منشور برائے انسانی حقوق کے دفعہ ۱۹ اور ۲۶ کو شامل کرتے ہوئے ہندوستانی آئین ساز کونسل نے دفعہ ۲۹ اور ۳۰ میں ہر شہری کے لیے اس حق کوتسلیم کیا۔لیکن ہندوستان کے تنوع رنگ اور تکثیری ملک ہونے کی وجہ سے ایک مسئلہ پیچیدہ تر ہوتا گیا کہ آخر وہ کونسی زبان ہوگی جو ملک کے مختلف صوبوں اور کروڑوں شہریوں کے درمیان رابطے کی زبان ہوگی اور لوگوں کو آپس میں جوڑے رکھے گی۔ان سب کے مافی الضمیرکوسمجھنے ، یا پھر ان کے لین دین کے مسائل کو حل کر نے کے لیے تو ایک رابطے کی زبان ہونی ہی چاہیے۔ اس حوالے سے بعض دانشوران کا خیال تھا کہ انگریزی کو رابطے کی زبان بنادیا جانا چاہیے ۔لیکن انھیں میںکچھ لوگ ایسے بھی تھے جو انگریزی کو اس کام کے لیے پسند نہیں کررہے تھے اور حقیقت ہے کہ انگریزی ہندوستان جیسے تیسری دنیا کے ملک میں ادب عالیہ کی زبان تو ہو سکتی ہے،کام کاج کی ہو سکتی ہے ،تعلیم و تعلم کی ہو سکتی ہے لیکن عام رابطے کی زبان نہیں ہو سکتی۔ اس لیے کچھ لوگوں نے دیو ناگری رسم الخط میں اردو کو اس کے لیے مناسب سمجھا۔ان میں گاندھی جی سمیت کئی دانشور اورتنظیمیں شامل تھیں۔ ان کا خیال تھا کہ چونکہ اردو پورے ملک میں بولی اور سمجھی جاتی ہے، کورٹ کچہری، میلے ٹھیلے میں بھی استعمال کی جاتی ہے ۔ اس لئے اس کے مقابلے میںکسی علاقائی زبان جیسے مراٹھی ، گجراتی یا بنگالی کوقومی زبان کا درجہ دے کر رابطے کی زبان نہیں بنایا جاسکتا ۔لیکن اس خیال کے حق میں عام رائے نہیں بن پائی، خود اردو والے بھی اس کے لیے تیار نہیں ہوئے کیوںکہ ان کی زبان کا رسم الخط تبدیل کیا جا رہا تھا۔اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ان کی نظریں پھر اردو کی ایک طفیلی زبان ہندی کی طرف گئی ۔لیکن اس رائے کے خلاف جنوبی ہند سے پرزور مخالفت کی گئی اور اس طرح اس رائے کو لے کر بھی اتفاق نہیں بن پایا اور بالآخر قومی زبان کے شق کو حذف ہی کر دیا گیا۔ اس کے باجود حکومت نے بددیانتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہندی کو قومی زبان بنائے جانے کے حق میں رائے عامہ ہموار کرنے کے لئے ملک کے طول وعرض میں زور وشور سے پرچار و پرسار شروع کردیا۔ان کو لگ رہا تھا کہ اس پروپیگنڈے کی بدولت وہ ہندی کو رابطے کی زبان بنانے میں کامیاب ہوجائے گی۔ مگر ان کو سخت مایوسی ہوئی جب مقامی زبانیں اپنے رسم الخط پر ہی قائم رہیں۔اس تحریک کے پیچھے دراصل ان کا یہ جذبہ کار فرما تھا کہ اردو کے ساتھ ساتھ ان مقامی زبانوں کا بھی قلع قمع کردیا جائے گالیکن ایسا نہیں ہو سکا اور معاملہ ہنوز جوںکا تیوں قائم رہا ۔
آزادی کے پچھتر سال بعدآج بھی میرا خیال یہی ہے کہ ملک کی اصل رابطے کی زبان اردو ہی کو ہونا چاہیے ۔یہ خیال اس لیے بھی مناسب لگتاہے کہ ساری مخاصمت کے باوجود یہ زبان آج بھی زندہ ہے ۔ یہاں پر ایک بات یہ بھی عرض کردوں کہ اردو زبان ہی ایک ایسی زبان ہے جو جمہوری قدروں کی حامل ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی ماہیت کے لحاظ سے بھی جمہوریت کے قریب ترین زبان ہے۔ کیوں کہ نہ صرف سارے مذاہب کی مقدس اور عام کتب کوبھی اس نے اپنے دامن میں جگہ دی ہوئی ہے بلکہ اس کے قواعدمیں بھی ایک فطری لچک پائی جاتی ہے ۔ اس کے الفاظ کئی ملکی اور بین الاقوامی زبانوں سے مستعار ہیںتو اس کا لہجہ مختلف مقامی بولیوں سے اخذ کیا گیا ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ساری فضیلتوں کا نچوڑ اورعطرکا مجموعہ ہے تو وہ اردو زبان وادب ہی ہے۔ اس سے بڑی جمہوری اقدار کی حامل زبان دنیا کے کسی گوشے میں نہیں دیکھی گئی۔غالباََ ان ہی خصوصیات کے حامل ہونے کی وجہ سے میروؔ غالب ؔ کے عہدمیں اسے لشکری زبان کا خطاب عطا کیا گیا۔
دوسری طرف جمہوریت کا مطلب یہ بھی کہ ہر شخص اپنی تمنائوں آرزوئوں ،خواہشوں اور اپنی پسند و ناپسند میں اور اپنے ذوق جما ل کی تسکین میں آزاد ہے۔ حکومت کی طرف سے کوئی پابندی نہیں ہوتی اور ہونی بھی نہیں چاہیے ۔ اردو کی جو بہت ساری وصفی خصوصیات ہیں، اس میں سے ایک یہ بھی ہے کہ لوگوں کے ذوق جمال کوفرحت بخشنے کے سارے وسائل یہاں موجود ہیں یعنی لوگوں کے اندر حسن وجمال کی جو حس ہے اس کو یہ زبان بخوبی ایڈریس کرتی ہے ۔جسے اردو کی داخلی قوت سے موسوم کیا جا سکتا ہے ۔یہ دو خصوصیات ایسی ہیں جس کی وجہ سے یہ کسی ایک صوبے کی زبان نہ ہوکر پوری کمیونٹی اور پورے ملک کی زبان ہو جاتی ہے۔
زبان کی حد سے ذرا اوپر اٹھ کر ہم دیکھیں تو اردوایک تہذیب کی شکل اختیار کرتی ہوئی نظر آئے گی ۔ ہر وہ معاشرہ جواپنے دور متوسط سے تھوڑا اوپر اٹھتا ہے تو اردو تہذیب میںڈھلتا چلا جاتا ہے۔یہی زبان اس کے ذوق جمال کے تسکین کا ذریعہ بنتی ہے اور اردو اس کے بہت نزدیک تر آتی چلی جاتی ہے۔ اردو زبان کے ذریعے نشست و برخاست، گفت و شنید،نفاست و نزاکت اور اعلیٰ اقدار و شرافت کی ساری چیزیں اس کے سراپامیں رچ بس جاتی ہیں۔ جبکہ ہندی اور دیگر زبانوں کے اندر یہ کیفیت معدوم ہے۔ اسی کو فراق گورکھپور ی نے ایک خاص انداز میں بیان کیا ہے، جسے وہ اکثر دوہرایا کرتے تھے:
پوچھتے ہیں مجھ سے ناداں ہندی اور اردو کا فرق
بھانگ کے کلھڑ کہاں، صہبا کے پیمانے کہاں
اردو زبان و ادب کی بد قسمتی رہی کہ 1947 میںبھارت تقسیم ہوگیا اور پاکستان نے اردو کو اپنی قومی زبان کا درجہ دے دیا۔ تقسیم کے لیے جو بھی چیزیں وجہ بنیں، وہ ہندوستان میں منحوس سمجھی جانے لگیں۔اسی میں اردو کو بھی شامل کر دیا گیا۔۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ یہاںپراس کا حق مارا جاتارہا اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔ گویا یہ ایک نادیدہ دشمن بن گئی ہے۔ڈاکٹر خلیق انجم نے اپنے ایک مضمون ’’ہندوستان میںاردو کی صورت حال‘‘ میں لکھا ہے کہ:
’’15؍ اگست 1947کو ہندوستان آزاد ہوا اور16؍ اگست کو اتر پردیش حکومت نے ایک آرڈیننس جاری کیا کہ پرائمری سطح پر اردو کے ذریعے تعلیم نہیں دی جائے گی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بیس پچیس ہزار اسکول کو ہندی میڈیم میں بدل دیا گیا۔‘‘
یہ اردو کے ساتھ ایک بڑی ناانصافی تھی اور اردو کے ساتھ ایک بہت ہی بھونڈا مذاق تھا۔ یہ مذاق آج بھی روا رکھا گیا ہے کہ ہمارے لیڈران اردو کے نام پر آج بھی ووٹ مانگتے ہیں مگر جب جیت جاتے ہیں تو وہ وعدہ وفا نہیں کرتے۔اردو میڈیم اسکولوں کی بحالی اور اس کے رکھ رکھاؤ تک پر توجہ نہیں دیتے۔ کیوں کہ انتظامیہ کی سطح پر ابھی بھی اردو گلے کی پھانس بنی ہوئی ہے ۔ ہندوستان کی اعلیٰ انتظامیہ نہ کھل کر اس کی مخالفت ہی کر رہی ہے اور نہ ہی حمایت ہی کر رہی ہے۔ اس لیے سیاسی لیڈران کی ذات سے امیدیں وابستہ کرنے کے بجائے ان کے ذریعے انتظامی سطح پر تبدیلی کے لیے دباؤ بنائے جانے کی کوشش کرنی چاہیے۔یہ زیادہ سودمندثابت ہوگا۔
ہندوستان کا نظامِ حکومت جمہوری ہے اورجمہوریت میں کبھی بھی اور کچھ بھی نا ممکن نہیں ہوتا۔ کسی وقت بھی پانسہ پلٹ سکتا ہے بس آپ کوہر وقت چوکنا رہنے کی ضرورت ہے اور ایک بیدار مغز شہری کی طرح جینے کی عادت ڈالنے کی طرف متوجہ ہونے کی ضرورت ہے ۔ایسا بیدار مغز شہری جسے اپنے سارے شہری حقوق کی پہچان ہوتی ہے اور اس کے حصول کے لیے پریشر گروپ کی طاقت کو سمجھتے ہوئے اپنی اور اپنے ووٹ کی قدر و قیمت کی سمجھ ہوتی ہے۔ اگرہم اردو والے بھی ایسی پہچان بنالیں تو صحیح معنوں میںجمہوریت کی سوغات سے متمع اور اس کے ساتھ انصاف کر سکتے ہیں۔استاد محترم پروفیسر محمد حسن نے اپنے مضمون ’’اردو فرقہ واریت کا شکار‘‘ میں ایک جگہ لکھا ہے :
’’اتنی بات کم سے کم میری دانست میں طے ہے کہ اردو کا مستقبل ہندوستان میں جموریت کے مستقبل سے وابستہ ہے۔ ملک میں جموریت زندہ رہتی ہے تو عوام کے دلوں میں اردو کے لیے سمائی بھی ضرور پیدا ہوگی اور یوں نہ ہوا تو فرقہ پرستی اور آمریت کا طوفان نہ صرف اردو کی بلکہ ہندوستان کے مشترکہ کلچر کی جڑوں کو اکھاڑ پھینکے گا۔ اس لئے اردو کے لئے جدو جہد بہ یک وقت جمہوریت کی جدوجہد بھی ہے اور رائے عامہ کو ہموار کرکے مشترکہ ہندوستانی کلچر کو اپنانے کی جدو جہد بھی۔‘‘ (ص60)
جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ یہ جمہوریت ہے، اس لیے اردو کے حوالے سے عوام کو بیدار رہنے کی ضرورت ہے۔ تو ضروری ہے کہ امید وار، چاہے وہ کسی بھی پارٹی سے تعلق رکھتا ہو، اگر وہ اس بات کا اعلان کرتے ہوئے اپنے مینی فیسٹو میں اسے شامل کرتا ہے کہ’ وہ چاہے الیکشن جیتے یا ہارے، اردو کو اس کا حق دلانے کی جدوجہد جاری رکھے گا ‘۔اگر اس طرح کے وعدے کے ساتھ وہ اردو کی خدمت میں لگا رہے اور اطمینان بخش پرفارمنس ہو تو ہمارا ووٹ اسی سے وابستہ ہونا چاہیے۔ اگر اردو والے ایسا تہیہ کر لیں توجمہوری ملک میں اردو کی حالت بدلتے دیر نہیںلگے گی ۔ اس طرح کے قول و قرارکرانے میں کوئی حرج بھی نہیں ہے۔ ایسی ہی پالیسی کو اپنا نے کی وجہ سے جگن ناتھ مشر سرکار کو بہار میںاردو کو سیکنڈ لینگویج کا درجہ دیتے ہوئے کم و بیش چار ہزار اردو معلمین اور اسی تعداد میں اردو مترجمین کو بحال کرنے پر مجبور ہونا پڑا تھا اور ایسی ہی کچھ صورتحال 1995میں یوپی میں بھی پیش آئی تھی۔ مگر اس کے بعد اردو کے سکینڈ لینگویج ہونے کے باوجود ہماری اپنی تساہلی و نابکاری کی وجہ سے نہ بہار میں اور نہ ہی یوپی میں آگے کوئی خاطرخواہ کامیابی مل پائی ۔اردو کے حقوق کی بازیابی کے لئے سڑک سے سنسد تک ہر سطح پر بس جدو جہد کی ضرورت ہے جو ہم نہیں کر رہے ہیں اور جس کا خمیازہ اہل وطن جمہوری قدروں کی حامل ایک زبان سے محرومی کی شکل میں بھگت رہے ہیں۔حسن کمال اپنے ایک مضمون’’اردو کس کی زبان ہے‘‘میں لکھا ہے کہ:
’’اسرائیل کی ہندوستان سے نئی نئی دوستی ہوئی ہے اس لیے شاید بہت سے لوگوں کو یہ نہ معلوم ہو کہ یہودیوں کی اعلیٰ کونسل نے یہ فرمان جاری کیا تھا کہ دنیا کا ہر یہودی چاہے جہاں کا بھی شہری ہو،اسے اپنے ملک کی زبان کے علاہ عبرانی زبان سیکھنا لازمی ہے۔یہ ایک مذہبی فریضہ قرار دیا گیا ۔چنانچہ کیرل اور مہاراشٹرا میں بسے ہوئے یہودیوں نے ملیالم اور مراٹھی کے ساتھ ساتھ عبرانی سیکھنا بھی جاری رکھا۔یہ نہ ہوا ہوتا تو عبرانی زبان آج صفحہ ہستی سے مٹ چکی ہوتی۔‘‘
اس سے واضح ہوتا ہے کہ زندہ قومیں اپنی زبان کی بقاء اور فروغ کے لیے کسی بھی حد تک چلی جاتی ہیں۔ لیکن اردو جو مشترکہ تہذیب کی علامت ہے، اس کے فروغ کے لیے ہم عملاََ کوئی خاص پالیسی نہیں اپنا رہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ خوداردو زبان اوراس کے لٹریچر میںاتنا گڈس ہے کہ لگاتار نظر اندازکیے جانے کے باوجود یہ ابھی تک پورے دم خم کے ساتھ اپنے وجود کا ثبوت دے رہی ہے۔اگر اس کے اندر جمہوری قدروں کا بیج نہیں بویا گیا ہوتا تو آج یہ زبان زندہ نہیں رہتی۔ حالانکہ ہمیں ببانگ دہل یہ کہنا چاہیے کہ آپ اگر چاندنی رات کی مخالفت کرتے ہیں تو جائیے اندھیرے میں رہیے۔میں احمد فراز کے اس شعر پر اپنی بات کو ختم کر رہا ہوں :
زندہ رہنے کی تمنا ہو تو ہو جاتے ہیں
فاختائوں کے بھی کردار عقابو ں والے