اردو کتاب میلہ وانمباڑی میں جامعہ دارالسلام عمرآباد کی نمائندگی-عبداللہ نادر عمری

شہرِ وانمباڑی اپنی علمی، ادبی، تاریخی، ثقافتی، مذہبی اور روایتی اقدار کا محافظ شہر ہے، جسے جنوب کا علی گڑھ کہا جاتا ہے۔ قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان اور وانمباڑی مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی کے اشتراک سےاسلامیہ کالج وانمباڑی کے خوبصورت کیمپس میں منقعدہ نوروزہ پچیسواں اردو کتاب میلہ (3 جنوری تا 11 جنوری 2023) نہایت شاندار، کامیاب رہا اور جنوبی ہند میں فروغِ اردو کے باب میں تاریخ ساز ثابت ہوا، جہاں صرف 9 دنوں میں 45 لاکھ روپے کی کتابیں فروخت ہوئیں۔
یہ میلہ نہ صرف مقامی لوگوں کی نگاہوں کا مرکز بنارہا بلکہ چنئی، بنگلور اور حیدر آباد سے شائقینِ اردو کثیر تعداد میں شریک رہے، یہاں زائرین کے لیے کتابوں کی نمائش کے ساتھ روزانہ ادبی ، ثقافتی پروگرام ( کلچرل سیشن ) کا انعقاد ہوتارہا، جس سے میلے کی رونقیں بڑھ جاتیں۔ ہر دن دلچسپ پروگراموں میں شرکت کے لیے جم غفیر منتظر رہتا، وانمباڑی کے علاوہ اطراف و اکناف کے اسکولوں ، کالجوں اور عربی مدرسوں کے طلبہ اپنی علمی، ادبی اور سائنسی کاوشوں کا بہترین مظاہرہ کیا، اس میلے میں جامعہ دارالسلام عمرآباد کے قابل طلبہ کی عمدہ کارکردگی اور باکمال اساتذہ کی شراکت لائقِ تحسین ہے، کتاب میلے کی ادبی و ثقافتی پروگراموں میں طلبۂ جامعہ نے بہترین مظاہرہ کیا اور ہر کمپیٹیشن میں اچھی پوزیشن حاصل کی، ذیل میں مظاہروں کی چند جھلکیاں پیش کی جارہی ہیں۔

۱) تقریری مسابقہ: میلے کے تیسرے دن بروز جمعرات عربی مدارس کے طلباء کے درمیان تقریری مسابقہ بعنوان ’’ اردو زبان و ادب کے فروغ میں عربی مدارس کا کردار ‘‘ کا انعقاد ہوا، جس میں جامعہ کے طالب علم محمد دانش امام اندوری نے پہلا انعام حاصل کیا، انہیں بطورِانعام نقد پانچ ہزار اور سند ِ توصیفی دی گئی اور عزیراحمد بنگلور کو پہلا اعزازی انعام نقد ایک ہزار اورسند سے نوازا گیا۔

۲) بیت بازی: تیسرے دن شام میں بیت بازی کا مقابلہ ہوا، جس میں صرف جامعہ کےطلبہ نے حصہ لیا اور اپنی شعری وادبی دلچسپی کا ثبوت پیش کرتے ہوئے منتخب معیاری اور معنی خیز اشعار سناکر سامعین کو خوب محظوظ کیا، اس سیشن میں نظامت کے فرائض مولانا ابراہیم عمری صاحب حفظہ اللہ نے انجام دیے، پہلے اجتماعی بیت بازی ہوئی، جس میں گروپ (الف) سے دس اور گروپ (ب) سے دس طلبہ اسٹیج کی زینت بنے رہے، اس کے بعد انفرادی بیت بازی میں کل چھ(٦) طلبہ نے حصہ لیا، دو (٢) طلبہ نے علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کا کلام شکوہ، جواب شکوہ سنایا، دو (٢) طلبہ میں ایک نے صرف عامر عثمانی رحمۃ اللہ علیہ اور دوسرے نے صرف اکبر الہ آبادی رحمۃ اللہ علیہ کے اشعار کا انتخاب کیا تھا، باقی دو طلبہ کے درمیان شاعر کے نام کی قید کے ساتھ انفرادی بیت بازی ہوئی، جس میں حافظ ابوبکر صدیق (ورنگل) کو پہلا انعام نقد پانچ ہزار روپے اور سند سے نوازا گیا، بیت بازی کا یہ سیشن بھی پُر لطف اور قابل دید رہا۔

۳) تمثیلی مشاعرہ: آٹھویں دن شام میں تمثیلی مشاعرہ کا انعقادکیا گیا ،جس میں مہمان ِ خصوصی کی حیثیت سے نائب ناظم جامعہ مولانا عبدالعظیم عمری مدنی حفظہ اللہ نے شرکت کی ،جامعہ کے قابل اور ہونہار طلبہ نے اپنی علمی و فنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے برصغیر کے مشہور شعرائے کرام کی منتخب غزلیں ،نظمیں انہیں کی آواز و انداز اور لباس و روپ میں پیش کیا، اس نوعیت کا یہ پہلا تمثیلی مشاعرہ کامیاب اور یادگار رہا، اس کی یادیں سامعین کے ذہن و دل پر تادیر مرتسم رہیں گی ان شاء اللہ۔
ہندو پاک کے معروف شعراء میں جون ایلیا کو (محمد نوشاد عالم)، منظر بھوپالی کو (عزیر احمد)، غوث خواہ مخواہ کو (مسرور ایان)، اے ایم تراز کو (عبدالرحیم سندگی)، راہی بستوی کو(محمد مزمل)، وسیم جھنجھانوی کو (آفتاب عالم)، ابرار کاشف کو (عبد المحصی)، تہذیب حافی کو (فیضان شیخ)، الطاف ضیاء کو (سید عبد اللہ ارسن ہلی) چچا پالموری کو (مجتبیٰ حسین)، عزیز بلگامی کو (مسرور پاشا)، نورآفاق، وانمباڑی کو (عبد الرحیم ہرپن ہلی)، دل خیرآبادی کو (محمد سیف اللہ سراج)، نے نہایت عمدہ اور کامیاب طریقے سے پیش کیا، ہر ایک نے اپنے کردار کو خوبصورت ادائی کے ساتھ حقیقی رنگ میں رنگنے کی کوشش کی، عبد الرشید اور ناصر سعد نے مشاعرہ کی نظامت کی۔

٤) سائنسی نمائش: طلبۂ جامعہ نے کتاب میلے کی سائنسی نمائش گاہ میں ایسے بہترین پروجیکٹس پیش کیے کہ دیکھنے والے ششدر رہ گئے۔
طلبۂ جامعہ نے ایسے چار پروجیکٹس تیار کیے، جو سائنسی اور تکنیکی اعتبار سے بہت معیاری اور عمدہ کاوش ہے.
١) پہلا پروجیکٹ جس میں ماحولیاتی آلودگیGlobal warming کے اسباب و وسائل کو بتاتے ہوئے اس کے تحفظاتی ذرائع اور وسائل کو واضح کیا گیا۔
٢) دوسرا پروجیکٹ جس میں وقت کی ابتداء و انتہا Definition of time اور وقوعِ قیامت کے یقینی ہونے کو عملی طور پر قرآنی آیات سے ثابت کیا گیا۔
٣) تیسرے پروجیکٹ میں جامعہ کے کیمپس کا نقشہ تیار کرکے اس میں عملی حفاظتی نظام کو پیش کیا گیا، اگر کوئی اجنبی کیمپس میں داخل ہوتا ہے تو کس طرح الارم سسٹم کام کرتا ہے اور تکنیکی سیکورٹی حاصل ہوسکتی ہے۔
٤) چوتھے پروجیکٹ میں ہوا کے ذریعے بجلی تیار کرنے کا نظام اور مکمل زیرِ زمین بجلی کی فراہمی کے امکانات کو عمدہ طریقے سے پیش کیا۔
طلبۂ جامعہ کی عمدہ کارکردگیوں اور کامیاب مظاہروں کے پیچھے مخلص اساتذۂ جامعہ کی ذاتی محنت اور دن رات کی جہدِ مسلسل کارفرما ہے، ذمہ دارانِ جامعہ اور تمام اساتذہ کرام خصوصاً مولانا ابراہیم عمری صاحب، مولانا رفیع کلوری عمری صاحب (مدیر راہ اعتدال)، مولانا الیاس کدری عمری صاحب ، ڈاکٹر منیرالدین عمری صاحب اور مولانا حافظ سراج الدین عمری صاحب حفظھم اللہ کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی نے طلبۂ جامعہ کو مہمیز دیا۔

٥) ادارۂ تحقیقات اسلامی، عمرآباد کا اسٹال: جامعہ کی ساری مطبوعات، راہِ اعتدال کے خصوصی شمارے، سالنامہ دارالسلام، استاد الاساتذہ مولانا ابوالبیان حماد عمری صاحب کی علمی و ادبی تصانیف بشمول آر محمد عمری صاحب کی کتاب "مولانا ابوالبیان حماد عمری شخصیت اور کارنامے” اور مولانا ابراہیم عمری صاحب کی تیار کردہ اسکول کے بچوں کے لیے دینی نصابی کتابیں بھی اسٹال کی زینت بنی رہیں۔

٦) خصوصی خطاب: میلے کے ساتویں دن "اردو زبان و ادب کی آبیاری میں تعلیمی اداروں کا کردار” کے موضوع پر سیمینار ہوا، جس میں مدیرِ معہد تحفیظ القرآن مولانا حافظ سراج الدین عمری صاحب نے خصوصی خطاب فرماتے ہوئے خصوصاً تمل ناڈو کے مدارس اور جامعہ دارالسلام کی اردو زبان میں تعلیمی، تدریسی اور تصنیفی و تخلیقی خدمات پر گفتگو کی۔

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ذمہ دارانِ جامعہ دارالسلام نے طلبہ کی سہولت کے لیے عمرآباد تا وانمباڑی سواری کا انتظام کیا تھا، جس سے طلبہ کو بہت راحت ملی، کتاب میلے میں طلبۂ جامعہ کی چہل پہل، مختلف اسٹالز سے کتابوں کا انتخاب اور پسندیدہ کتابوں کی خریداری قابلِ رشک رہی. باوثوق ذرائع کے مطابق جامعہ دارالسلام عمرآباد کےذمہ داران، اساتذۂ کرام اور طلبۂ عزیز نے لاکھوں کی کتابیں خرید کر علم نوازی اور کتاب دوستی کا اعلیٰ ثبوت دیا ہے۔

کتاب میلے کے اختتامی اجلاس میں کنوینر کتاب میلہ پٹیل محمد یوسف صاحب نے اربابِ جامعہ کی خدمت میں گلدستۂ شکرو امتنان پیش کیا اور طلبۂ جامعہ کے کامیاب ادبی و ثقافتی مظاہروں کا اعتراف کیا، کونسل کے ڈائرکٹر پروفیسر شیخ عقیل احمد نے اساتذۂ کرام اور طلبہ کے ساتھ خصوصی ملاقات میں جامعہ دارالسلام عمرآباد کے اساتذہ اور طلباء کی شراکت اور کامیابی پر مبارکبادی پیش کرتے ہوئے مستقبل کے تئیں نیک خواہشات کا اظہار کیا۔