اردو کی وقیع علمی و ادبی کتابوں کی اشاعت کونسل کی ترجیحات میں شامل:پروفیسر شیخ عقیل احمد

قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے لٹریچر پینل کی میٹنگ

نئی دہلی: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے صدر دفتر میں لٹریچر پینل کی میٹنگ منعقد ہوئی جس کی صدارت پروفیسر مظفر علی شہ میری نے کی۔ پروفیسر شیخ عقیل احمد نے میٹنگ کے شرکا کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ طویل وقفے کے بعد قومی اردو کونسل میں آپ جیسے اہل و علم و فضل کے اجتماع سے دلی مسرت ہورہی ہے۔ کورونا کی پابندیوں کے خاتمے کے بعد کونسل کی تمام سرگرمیاں حسبِ سابق آف لائن شروع ہوچکی ہیں،یہ میٹنگ بھی اسی سلسلے کا حصہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ لٹریچر پینل کونسل کاایک اہم پینل ہے جس کے تحت وقیع علمی،ادبی و تنقیدی کتابیں شائع کی جاتی ہیں اور اس کی منظوری سے اب تک گراں قدر کتابیں شائع کی جاچکی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کونسل کے پیش نظر اردو زبان کی ہمہ جہت ترقی ہے اور اس کے لیے ہم آپ حضرات کی تجاویز اور مشوروں کا دل سے استقبال کرتے ہیں اور انھیں عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی جائے گی۔ اس میٹنگ میں پینل کی سابقہ میٹنگ میں پیش کردہ تجاویز کی تصدیق اور اس کے تحت چلنے والے مختلف پروجیکٹس پر غور و خوض کیا گیا،ساتھ ہی متعدد نئے اشاعتی منصوبے بھی زیر بحث آئے۔ اس دوران میٹنگ کے شرکا نے اپنی تجاویز پیش کیں،جن پر گفتگو کے ساتھ انھیں روبعمل لانے پر زور دیا گیا۔ اس میٹنگ میں پینل کے تحت جاری اشاعتی منصوبوں پر گفتگو کے علاوہ شرکا نے کہا کہ اردو زبان میں ہندوستان کی دوسری علاقائی زبانوں کے شاہکار ادب کے ترجمے،اسی طرح اردو کے نمایندہ ادبی شہ پاروں کو دوسری علاقائی زبانوں میں منتقل کرنے کے سلسلے میں ایک منظم منصوبہ بندی کی جائے اور مختلف زبانوں اور ان کے قارئین کو باہم مربوط کرنے کے لیے کونسل کے زیر اہتمام اس منصوبے پر عمل کیا جائے۔ڈائریکٹر پروفیسر شیخ عقیل احمد اور میٹنگ کے چیئر مین پروفیسر مظفر علی شہ میری نے اس تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک مفید تجویز ہے اور اس سلسلے میں ضروری اقدام کیا جائے گا۔ اسی طرح اس میٹنگ میں اردو کے کلاسیکی و نصابی ناولوں کی کونسل کے زیر اہتمام اشاعت کی تجویز بھی منظور کی گئی،اس کے تحت طلبہ کی ضرورت کو ملحوظ رکھتے ہوئے کلاسیکی و نصابی ناولوں کو از سر نو شائع کیا جائے گا،تاکہ یہ کتابیں ان تک بہ آسانی پہنچائی جاسکیں۔ اس میٹنگ کے دیگر شرکا میں پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی،پروفیسر قاضی جمال حسین،ڈاکٹر نریش، پروفیسر قاضی حبیب احمد،پروفیسر شبنم حمید، ڈاکٹر قدسیہ قریشی، ڈاکٹر مسعود جامی اور ڈاکٹر نکولن کنڈوتھ ولپل کے علاوہ کونسل سے ڈاکٹر کلیم اللہ(ریسرچ آفیسر) اور محمد انصر(ریسرچ اسسٹنٹ) وغیرہ موجود رہے۔