اردو کی ترقی و تحفظ کے لیے سب مل کر محنت کریں:امیر شریعت

امارت شرعیہ کے زیر اہتمام نمائندہ شخصیات کے مشاورتی اجلاس میں کئی اہم تجاویز منظور

پٹنہ:مورخہ 14 فروری2021 کو اردو کی بقاو تحفظ اورترویج و اشاعت کے موضوع پر ا لمعہد العالی امار رت شرعیہ کے کانفرنس ہال میں امیر شریعت مولانا محمد ولی رحمانی کی صدارت میں اردو تحریک سے وابستہ اہم افراد،ملی ، سماجی و سیاسی کارکنان، اردو کے اساتذہ ، دانشوران ا ور نمائندہ شخصیات کاایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔ اپنے صدارتی خطاب میں امیر شریعت نے اردو کو پیش آئند مسائل اور اس کے حل پر تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی ، آپ نے قومی تعلیمی پالیسی کے حوالہ سے اردو کو پیش آنے والے اندیشوں اور خطرات کی طرف بھی نشان دہی کی ، آپ نے اجلاس میں شرکت کے لیے تشریف لائے مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج کی مجلس میں صر ف پٹنہ شہر کے حضرات نہیں ہیںصوبہ بہار کے مختلف حصوں سے اہل علم اور اردو سے محبت کرنے والے حضرات تشریف لائے ہیں، جونہ صر ف اردوداں ہیں، بلکہ اردوکے شیدائی ہیں ، اردوکے لیے کچھ کرتے ، کرتے رہنے اورکرگذرنے کاحوصلہ رکھتے ہیں، دلوں میں چھپا ہوا یہ حوصلہ عمل کے سانچہ میں ڈھل جائے ، جوش اورہوش کے ساتھ کاریگری ہوتوبڑی بات بنے گی اوربہت سی بگڑی بن جائیگی ۔ اردوہم سے آارزومندی دردمندی ،فکر مندی کی طلبگار ہے ، اردوچاہتی ہے کہ جوانکی زبان پر ہے اس کے لیے وہ زبان کھولیں ، جوان کے خیالات ، احساسات جذبات کوعام کرتی ہے ، اوردوسروں کے کانوں میں رس اورمٹھاس گھولتی ہے،اسے طاقت پہونچائی جائے اردوکودودھ پینے والے مجنوں سے واسطہ رہاہے ، اب اسے خون دینے والے مجنوں کی بھی ضرورت ہے۔تمہیدی گفتگو کرتے ہوئے امارت شرعیہ کے قائم مقام ناظم مولانا محمد شبلی القاسمی صاحب نے کہا کہ یہ میٹنگ ایسے وقت میں بلائی گئی ہے ،جو وقت اردو کے لیے کھڑے ہونے کا ہے ، اور اس کے لیے فکر کرنے کا ہے ، اس نشست پر پورے ملک کی نگا ہ ہے ، آپ کے فیصلوں کا لوگوں کو انتظار ہے ، ہمیں امید ہے کہ یہ اجلاس پورے ملک میں اردو کی ترقی کے تعلق سے سنگ میل ثابت ہو گا۔ انشا ء اللہ آپ کے فیصلوں سے اردو کا مستقبل روشن ہو گا۔جناب اعجاز علی ارشد سابق وائس چانسلر مولانا مظہر الحق عربی فارسی یونیورسٹی نے کہا کہ اردو تحریک کے اندر زندگی پیدا کرنے کے لیے ایک طویل مدتی منصوبہ بنانے اور صبر و ضبط کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر ریحان غنی نے کہا کہ ایک عرصے کے بعد امارت شرعیہ نے اردو تحریک کی اس خلا کو پر کرنے کی کوشش کی ہے جو درمیان میں ٹوٹ گئی تھی،انہوں نے اردو کے تعلق سے مضبوط تحریک چلانے کا مشورہ دیا اور کہا کہ پرائمری سے لے کر یونیورسٹی کی سطح تک اردو کو لازمی طور پر شامل کرنے کی کوشش کی جائے۔انہوں نے اردو اکیڈمی کی تشکیل نو اور اردو مشاورتی کمیٹی کو آئینی اختیارات دلانے کی بھی تجویز رکھی۔ جناب امتیاز احمد کریمی ممبر بی پی ایس سی و سابق ڈائریکٹر اردو ڈائریکٹوریٹ نے کہا کہ سرکاری دفاتر میں اردو کی درخواستیں بہت کم آتی ہیں ، اس لیے اردو کے نام پر بحال ملازمین دوسرے کاموں میں لگ جاتے ہیں ،اگر درخواستیں اردو میں دی جانے لگیں تو اردو مترجمین کو اپنے فرائض کو ادا کرنے کا موقع ملے گا، انہوں نے اپنے تجربات کی روشنی میں سرکاری سطح پر اردو کو درپیش مسائل پر روشنی ڈالی اور کئی مفید مشورے دیے۔ مولانا تقی الدین احمد ندوی فردوسی خانقاہ منیر شریف نے اردو قومی زبان ہے کسی خاص مذہب کی زبان نہیں ہے ، اس کو مذہب کے خول سے باہر نکال کر اجتماعی طور پر اس کے فروغ کے لیے کوشش کریں ، جناب عبد الباری صدیقی صاحب سابق وزیر حکومت بہار نے کہا کہ اردو کو روزگار کے ساتھ جوڑنے کی ضرورت ہے تبھی اس کو فروغ مل سکے گا۔ جناب انوار الہدیٰ صاحب سکریٹری اردو مشاورتی کمیٹی بہار نے کہاہے کہ آزادی کے بعد اردو زبان کے ساتھ سوتیلا پن کیا گیا ہے ، اردو میں نصابی کتابیں شائع نہیں ہوتیں ، اردو کتابوں کو شائع کرنے کا مطالبہ بڑھایاجاناضروری ہے۔معروف و معمر صحافی جناب خورشید انور عارفی صاحب نے کہا کہ امارت شرعیہ نے جو تحریک چلائی ہے یہ اس بات کی ضمانت ہے کہ یہ تحریک کامیاب ہو گی ، انہوں نے اردو کو اس کا حق دلانے کے لیے خاموش اورپْرامن احتجاج کا طریقہ اپنانے کا مشورہ دیا۔ معمر صحافی جنا ب ریاض عظیم آبادی نے کہا کہ آج اسکولوں میں اردو پڑھنے والوں کی حوصلہ شکنی کی جا رہی ہے ، اس کو روکنے کی ضرورت ہے ، انہوں نے ایک کمیٹی بنا کر ہر علاقہ میں اردو کے تعلق سے سروے کرا نے کی ضرورت پر زور دیا۔جناب مشتاق احمد نوری صاحب نے کہا کہ ہر شخص اپنے گھر میں اردو پڑھے اور اپنے بچوں کو پڑھائے، اردو کے ذریعہ ہی ہماری تہذیب و تشخص کی بقا ہو سکتی ہے۔ڈاکٹر احمد اشفاق کریم صاحب بانی کٹیہار میڈیکل کالج و الکریم یونیورسٹی نے کہا کہ ہم لوگوں نے اپنے بچپن میں ہر فن کی کتابیں اردو میں پرھیں ، آج ہمارے بچے اردو نہیں پڑھ رہے ہیں اس کے لیے ہم خود مجرم ہیں۔اجلاس میں اس تحریک کو تسلسل کے ساتھ قائم رکھنے کے لیے تمام شرکا کی اتفاق رائے سے اردو کارواں اور اردو دستہ کے نام سے دو کمیٹی تشکیل دی گئی، اردو کارواں کے صدر جناب اعجاز علی ارشد، نائب صدر پروفیسر صفدر امام قادری، جنرل سکریڑی جناب ڈاکٹر ریحان غنی اور سکریٹری جناب انوار الہدیٰ صاحب کو بنایا گیا۔ اور انہیں مجاز کیا گیا کہ وہ ضلعی سطح پر کمیٹیاں بنائیں اور اس کمیٹی میں مزید ممبران کا اضافہ کر لیں ، ساتھ ہی اردو دستہ کے لیے بھی ذمہ داروں اور ممبران کا انتخاب کر لیں۔اجلاس کا ا?غاز مولانا محمد حسان صاحب کی تلاوت کلام پاک سے ہوا، مولانا قاری مجیب الرحمن صاحب نے نعت اور مولانا شمیم اکرم رحمانی صاحب نے اردو پر نظم پیش کی۔ مولانا محمد عادل فریدی صاحب نے اردو کے تعلق سے ہورہی نا انصافیوں کا تذکرہ کیا اور ان کے حل کی تجویز پیش کی۔ اجلاس کی نظامت قائم مقام ناظم امارت شرعیہ مولانا محمد شبلی القاسمی صاحب نے کی، اور امیر شریعت کی دعا پر اس کا اختتام ہوا۔