اردو کی ایک اہم خود نوشت: افسانہ در افسانہ-حقانی القاسمی

’افسانہ در افسانہ‘ اردو کے ممتاز محقق، ماہر لسانیات، مترجم، نقاد، شاعر اور مدیر شان الحق حقی (15ستمبر1917۔11اکتوبر 2005)کی خود نوشت ہے جن کے بارے میں مشفق خواجہ جیسے محقق،شاعر،ناقد اور ادیب نے لکھا تھا کہ ’میں حقی صاحب کو اردو کے علمی و ادبی نگار خانے کا ایک ایسا نقش سمجھتا ہوں جس کی تابناکی سے پورا نگار خانہ روشن ہے۔ شاعری، تنقید، افسانہ،ادبی تحقیق،لغت،لسانیات،یاد نگاری،تاریخ گوئی، بچوں کا ادب غرض کوئی شعبۂ ادب ایسا نہیں جس میں انھوں نے اپنے عالمِ ذہانت اور طباعی کے نقوش ثبت نہ کیے ہوں۔‘ ؔؔلسانیات،لغت، ترجمہ اور اصطلاحات کے باب میں ایک نہایت ہی مستند اور معتبر نام شان الحق حقی کو لفظوں کا مسیحا قرار دیتے ہوئے وہ مزید لکھتے ہیں کہ ”ایک زبان دان اور زبان کے نبض شناس کی حیثیت سے ان کے کاموں پر نظر ڈالی جائے تو حیرت ہوتی ہے کہ انھیں اردو کی تاریخ،عہد بہ عہد ارتقا اور ذخیرہ الفاظ سے کتنی واقفیت ہے۔الفاظ کے اصل اور اشتقاق سے لے کر معنی کے نازک سے نازک فرق تک ان کا علم اتنا وسیع اور تازہ ہے کہ اگر انھیں لفظو ں کا مزاج داں کہاجائے تو غلط نہ ہوگا۔“
”افسانہ در افسانہ“ ایسے ہی نا بغہ ذہن اور نادرِ روزگار شخص شان الحق حقی کی علمی، ادبی شخصیت کے علاوہ تخلیقی شعری روایت، معاشرت، سیاست، تاریخ و تہذیب کی تفہیم کا ایک معتبر حوالہ ہے۔ اس خود نوشت سے ہماری ملاقاتیں مختلف شعبہ ہاے حیات سے تعلق رکھنے والے ان افراد اور اشخاص سے ہو تی ہیں جن کی زندگی میں ہمارے لیے ترغیب و تحریک کے بہت سے عناصر ہیں۔ اس میں ایسے مثالی کردار بھی ہیں جن کے تجربات اور مشاہدات سے ہمیں روشنی اور راہ ملتی ہے۔
مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے فیض یافتہ شان الحق حقی نے اس خود نوشت کا عنوان ”افسانہ در افسانہ“ ضرور رکھا ہے مگر اس میں ان کی زندگی کے حقیقی واقعات،تجربات اور مشاہدات ہی ہیں، انہوں نے کہیں بھی زیب داستان کے لیے کوئی خیالی واقعہ تحریر نہیں کیا اور نہ ہی زور بیان کے لیے جذباتیت کا سہارا لیا۔ ان پر جو گزری، وہ بلا کم و کاست درج کر دیا ہے۔ ربط زمانی کا بھی خیال نہیں رکھا کہ دراصل انہیں اپنی یادوں کا ایک کولاژ تیار کرنا تھا۔ ان کے ذہن میں جو خیال آتا گیا، وہ اسے جوڑتے چلے گئے۔ اس طرح خیال کی یہ کڑیاں ”افسانہ در افسانہ“ کی شکل اختیار کرتی گئیں:
پھر وہی دنیا دلِ دیوانہ یاد آنے لگی
زندگی افسانہ در افسانہ یاد آنے لگی
انہوں نے اپنی یادوں کو سمیٹنے کا یہ سلسلہ ماہنامہ افکار میں صہبا لکھنوی کے اصرار پر شروع کیا تھا اور تاریخی ترتیب کاقطعی خیال نہیں رکھا اور نہ ہی اسے کرانیکل بنانے کی کوشش بقول حقی”میں کوئی تاریخی شخصیت بھی نہیں، جس کے مدارج حیات، تجربات و واقعات بہت اہم ہوں۔“
حقی نے ہر جگہ دیانت و درایت اورکسرتفسی سے کام لیا ہے جب کہ ان کی علمی اور ادبی خدمات کا دائرہ متنوع اور وسیع ہے۔ انہوں نے مختلف شعبوں میں جو خدمات انجام دی ہیں، وہ آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔ خاص طور پر آکسفورڈ انگلش اردو ڈکشنری (جس میں تلفظ، قواعد، معانی، امثلہ مع تراجم، سائنسی الفاظ اور اشتقاق کا التزام رکھا ہے)لغات ِ تلفظ، بھگوت گیتا اور ارتھ شاستر کے ترجمے علمی دنیا میں انہیں زندہ رکھنے کے لیے کافی ہیں۔
شان الحق حقی کا تعلق ممتاز علمی خانوادہ سے رہا ہے۔ان کی مرز بوم دہلی ہے اور یہیں کے اینگلو عربک اسکول دہلی سے ان کی تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا جو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ہوتے ہوئے سینٹ اسٹیفن کالج سے ایم۔ اے انگریزی پر ختم ہوا۔ ان کا سلسلہ نسب بارہویں پشت میں حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی سے ملتا ہے تو والدہ ماجدہ سعیدہ بیگم بنت ڈاکٹر مشرف الحق پی ایچ ڈی کی طرف سے ان کا تعلق ڈپٹی نذیر احمد سے جڑتا ہے۔اپنے جد اعلا شیخ عبد الحق محدث دہلوی کے حوالے سے لکھتے ہیں ”سچین گجرات کی ایک چھوٹی سی ساحلی ریاست تھی اب سے پانچ سو برس پہلے ہمارے خاندان کے مورثِ اعلا محمد بخاری گجرات میں علاوالدین خلجی کا لشکر لے کر آئے تھے اوراس جنگ کے بعد جس میں ان کے ایک کو چھوڑ کر سارے بیٹے کام آئے گوشہ نشینی اختیار کر لی تھی، ان کے پر پوتے اور بارہویں پشت میں میرے جد اعلا حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی جو حقی تخلص کرتے تھے فرماتے ہیں:
حقی از گوشہ دہلی نہ نہم پائے بروں
گو گرفتیم کہ ملک گجراتم دادند
گو گرفتیم بڑا با محاورہ طرز کلام ہے اور یہ سچ بھی ہے کہ انھیں بہت کچھ انعام و اکرام کی ترغیب دی گئی تھی،فیضی سے ان کی مراسلت شائع ہو چکی ہے جس سے ظاہر ہے کہ اس نے حضرت کو اکبر کے دربار میں آنے کی ترغیب دی مگر انھیں اپنا تصنیف وتالیف کا مشغلہ عزیز تھا اور دربار کی بدعت اور اکبر کی بے دینی سے بہت بد دل تھے، ان کی کتب و رسائل کی تعداد سو کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔ ڈاکٹر خلیق احمد نظامی نے (حیاتِ شیخ عبد الحق)66مخطوطات کا پتا چلایا ہے ان میں سے چودہ چھپ چکے ہیں بیس عربی میں ہیں باقی فارسی یا فارسی عربی میں۔ چند فارسی کتب مثلاً زبدۃ الآثار کا عربی ترجمہ بھی شائع ہوا ہے جہانگیر نے اپنی تزک میں ان سے ملاقات کا ذکر کیا ہے ”مردِ گرامی است صحبت ِ او بے مزا نیست (صفحہ 118)“۔ حقی کے دادا خاں بہادر انوار الحق تھے اور نانا ڈاکٹر مشرف الحق جنہوں نے یورپین یونی ورسٹی سے پی ایچ ڈی کی تھی۔ عربی فارسی مخطوطات پر ان کا تحقیقی کام برلن سے شائع ہوا۔ ان تمام امتیازات کے باوجود ان کی خود نوشت میں کہیں بھی نسبی تفاخر کا شائبہ نہیں ہے۔ اپنے نانا کے بارے میں لکھاہے کہ ڈپٹی نذیر احمد کے نواسے تھے اوراس صغریٰ بیگم کے بڑے بیٹے جن کے لیے ڈپٹی نذیر احمد نے مرأ ۃ العروس لکھی تھی۔ وہ مزید لکھتے ہیں:
”میرے نانا مشرف الحق پہلے علی گڑھ میں پڑھتے رہے، پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے ولایت بھیجے گئے۔وہ انتقال کے وقت ڈھاکے میں پروفیسر اور شعبۂ عربی،فارسی کے صدر تھے۔ بعض لوگوں کو شبہ تھا کہ ملازم نے رقم کے لیے زہر دے دیا جو بعض مخطوطات اور قلمی تصاویر کے بکنے پر کہیں سے آئی تھی۔میم صاحب ولایت گئی ہوئی تھیں محمد طیفور صاحب نے اپنی کتاب Glipmses of old Daccaمیں ڈاکٹر مشرف کا ذکر جو ان کے استاد تھے بڑی ارادت مندی اور توصیف کے ساتھ کیا ہے انھی نے مجھے ان کی قبر لے جا کر دکھائی اور کہا کہ میں آخری آدمی تھا جو ان سے بسترِ مرگ پر ملا تھاتقریباً ادھی رات تک ان کے پاس رہا صبح اطلاع ملی کہ کسی وقت انتقال ہو گیا۔ڈھاکے میں ان کی قبر خاصی بڑی اور پختہ میڈیکل کالج کے پیچھے ایک مسجد کے عقبی احاطے میں ہے جہاں کوئی دس قبریں اور ہیں۔طیفور صاحب نے یہ بھی بتایا کہ یہ قبر ان کی بندوق کی قیمت سے بنوائی گئی تھی انتقال سے پہلے انھوں نے اپنی ایک بندوق کسی کے ہاتھ بیچی تھی جس کے دام اصول طلب تھے بعد میں قبر کے کام آئے“۔
شان الحق حقی نے اپنی حقیقی نانی فردوسی بیگم(جنھوں نے اپنے شوہر سے دوسری شادی کی وجہ سے خلع لے لیا تھا)کے ساتھ سوتیلی نانی مسز جین حق کا بہت دلچسپ تذکرہ کیا ہے وہ لکھتے ہیں:
”میری سوتیلی نانی مسز جین حق (Jane Hukk) بڑی عاقلہ اور فاضلہ خاتون تھیں اور انگریزی کی مصنفہ جن کے کوئی نصف درجن ناول برٹش میوزیم کی لائبریری میں محفوظ ہیں۔میں نے یہ نکلوا کر دیکھے۔بعض میں ہندوستانی معاشرت کے جو نقشے کھینچے گئے تھے اور جو کردار نظر آتے تھے اپنے ہی خاندان کے جانے بوجھے کردار لگتے تھے۔ ایک ناول ہے ’Abdula and His two String‘ جس میں ایک لڑکی ڈور تھی ایک ہندوستانی لڑکے سے محبت کرتی ہے مجھے یہ خاصہ سوانحی لگا اور گویا میں نے اپنے نانا کو ولایت میں چلتا پھرتا دیکھ لیا۔“
انھوں نے ایک جگہ اور لکھا ہے:
موصوفہ نے غالباً تین ہی ناول لکھے ہیں۔ برٹش میوزیم میں یہی تین ناول تھے۔
(1) Abdullah and his two Strings (2) The Bridal Creeper
(3) The End of Marriage
شان الحق حقی کے والدمولوی احتشام الدین حقی بڑے مصنف تھے جو لٹن لائبریری علی گڑھ میں لائبریرین بھی رہے اور نواب محسن الملک اور وقار الملک کے سکریٹری بھی مولانا محمد علی جوہر کے اخبار ہمدرد سے بھی ان کی وابستگی رہی۔ ان کی کتابوں میں ترجمان الغیب(منظوم ترجمہ دیوانِ حافظ)،افسانہ پدمنی، مطالعہ حافظ، قابل ذکر ہیں۔ لغاتِ کبیر کی ترتیب میں انھوں نے بابائے اردو مولوی عبد الحق کی معاونت بھی کی تھی۔
اپنی خود نوشت میں اپنے والد کا کئی جگہوں پر بہت دل چسپ ذکر کیا ہے۔ایک جگہ لکھتے ہیں:
”میرے والد مولوی احتشام الدین کہلاتے تھے۔ بچپن میں دینی تعلیم بھی پائی تھی اور سات سیپارے حفظ بھی کئے تھے پھر علی گڑھ بھیج دئیے گئے اور ایم۔اے تک وہیں تعلیم پائی مگر وہ مولوی ہونے کے باوجود پردے کے سخت خلاف تھے۔“
ایک دوسری جگہ لکھتے ہیں کہ”والد صاحب تعلیم نسواں اور آزادی نسواں کے بڑے حامی تھے۔ علی گڑھ گرلس کالج کے بانی شیخ عبد اللہ ”پاپا میاں“ کے دوست اور سر گرم حمایتی، کئی زوردار نظمیں رسالہ خاتون میں چھپیں جن میں تحریک نسواں کو سراہا ہے۔“ ان کے والد نے رسالہ خاتون علی گڑھ میں بہت سے عمدہ مضامین بھی تحریر کیے ہیں ،ان کے والد کا تخلص ناداں تھا انھوں نے بہت عمدہ غزلیں بھی لکھی ہیں۔ان ہی کا ایک پراناشعر ہے جو آج زیادہ با معنی محسوس ہوتا ہے:
میاں جی کو داڑھی منڈانی پڑے گی
میاں جی کو چوٹی رکھانی پڑے گی
شان الحق حقی نے اپنی ایک رشتہ دار مولوی نذیر احمد کی نواسی قیصری بیگم صاحبہ کا بھی ذکر کیا ہے جن کی خود نوشت کتاب زندگی اردو نامہ میں قسط وار چھپتی رہی ہے۔وہ لکھتے ہیں ”قیصری بیگم صاحبہ میرے نانا مشرف الحق کی بہن تھیں مولوی نذیر احمد کی نواسی ان کی خود نوشت سوانح عمری’کتابِ زندگی‘ قسط وار اردو نامہ میں چھتی رہی تھی جسے میں نے پندرہ برس اردو بورڈ میں مرتب کیا اور میرے وہاں سے آنے کے بعد بند ہو گیا۔ کوئی ستائیس قسطیں چھپی تھیں اور ان کی تعریف میں بہت سے خطوط ہندوستان اور پاکستان سے موصول ہوئے تھے۔ مثلاً مجھے یاد ہے کہ پروفیسر حمید احمد خاں مرحوم (سابق وائس چانسلر ،پنجاب یونی ورسٹی،جو مولانا ظفر علی کے بھائی تھے)اس کے بڑے مداح تھے اور لکھا تھا کہ ہر اگلی قسط کا شدت سے انتظار کرتا ہوں افسوس کہ اب تک کتابی صورت میں نہیں آنے پائی،بے شمار دل چسپ واقعات، حکایات کے علاوہ مرحومہ کے دل نشین انداز نے اسے خاصے کی چیز بنا دیا ہے جب تک کتاب ِ زندگی کی اقساط چھپتی رہیں، وہ زندہ رہی، گویا اسی کے لیے جی رہی تھیں۔رسالہ کے بند ہونے کے بعد جلد ہی رخصت ہو گئیں، 86سال کی عمر پائی۔“
حقی کی خود نوشت سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ایں خانہ ہمہ آفتاب است۔ ان کے بڑے بھائی مشرف الحق تھے جن کا لندن میں انتقال ہوا ان کے ایک چچا رکن الدین جادو تھے جن کا ذکر لالہ سر رام کے’خم خانۂ جاوید‘ میں بھی ہے۔ ان کے علاوہ ان کی پھوپھیاں بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ تھیں۔ جنھوں نے سب سے پہلے پردے کو خیر باد کہاکہ پردے کی وجہ سے شاید خواتین گھٹن اور تپ دق کی مریض ہو جاتی تھیں۔حقی نے اپنی سوتیلی ماں کا بھی ذکر کیاہے جن کے پہلے شوہر ہز ہائنس نواب امیر الدین علی خاں سابق والیِ لوہارو تھے مگر ان کی سوتیلی ماں نے کبھی سوتیلا پن نہیں برتا؛بلکہ ہر طرح خیال داری کی۔ ان کے سوتیلے بھائی نواب افضل الدین احمد تھے۔حقی نے اپنی شریک حیات سلمیٰ حقی کا تذکرہ بھی اپنی خود نوشت میں جا بجا کیا ہے، سلمیٰ علی گڑھ کی تعلیم یافتہ تھیں اور گرلس کالج کی پہلی اردو لیکچرر جن کا صفیہ جاں نثار اختر سے بہت ہی گہرا رشتہ تھا اور ان کے درد وکرب اور راز دروں سے اتنی اچھی طرح واقف تھیں کہ انھوں نے ’’شہیدان وفا کا خوں بہا کیا‘‘ کے عنوان سے ایک طویل مضمون لکھا جو رسالہ غالب پاکستان میں شائع ہوا۔اس میں انھوں نے جاں نثار اختر کی بے رخی اور صفیہ اختر کی بے قراری کا ذکر کیا ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ صفیہ کے بجائے فاطمہ بیگم سے زیادہ ان کا جذباتی رشتہ تھااور یہ جاں نثار اخترشان الحق حقی کے پھوپھی زاد بھائی تھے۔ بقول حقی”جاں نثار اختر(جنو میاں، جنّو بھائی)میرے پھوپھی زاد بھائی ہوتے تھے۔ ان کی والدہ میرے والد کی خالہ زاد بہن تھیں۔ حضرت مضطر خیرآبادی کی تیسری اور اپنے وقت میں واحد بیوی،جن سے سابقہ دو بیویوں کی وفات کے بعد شادی ہوئی تھی۔ جاں نثار اپنے والدکے چوتھے اور اپنی والدہ کے ایک ہی بیٹے تھے، جن کی ایک سگی بہن اور تین بڑے بھائی تھے، اغیار حسین برتر، نامدار حسین خنجر، یاد گار حسین نشتر۔
شان الحق حقی نے اپنی خود نوشت میں اپنی تعلیم، اپنے اساتذہ، اپنی ملازمتوں کا حال لکھا ہے، مشاہیر سے اپنے مراسم کی داستان تحریر کی ہے۔ تعلیم کے ضمن میں بہت سے اساتذہ کا ذکر کیا ہے خاص طور سے پروفیسر سی وی ینگ کا جو سینٹ اسٹیفن کالج میں انگریزی کے پروفیسر تھے اور ان کا رویہ نہایت مشفقانہ اور ہمدردانہ تھا۔ اپنے انگریز استادوں کے بارے میں بہت قیمتی بات لکھی ہے ”ہمارے انگریز استاد بہت دل بڑھاتے تھے ٹیوٹوریل کلاس میں مضمون پڑھتے پڑھتے داد دینے کے لیے رک جاتے کہ کیا اچھا جملہ لکھا ہے ہم سے کوئی غلطی ہوتی تو معذرت کرتے کہ انگریزی بڑی بے قاعدہ زبان ہے یوں نہیں یوں بولتے ہیں“۔ انھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ انگریز اساتذہ پڑھاتے بھی محنت سے تھے اور یہی کوشش ہوتی تھی کہ دل جیت لیں اپنا ہم عقیدہ نہیں تو عقیدت مند ضرور بنا لیں۔ یہیں انھوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ انگریزوں نے ہم پر اتنی انگریزی مسلط نہیں کی تھی اور ابتدائی تعلیم بدیسی زبان میں دینے کی اصولی غلطی نہیں کی تھی میں نے میٹرک تک سارے مضامین مع سائنس اردو میں پڑھے۔اسی طرح انھوں نے اردو کے استاد ماسٹر کنہیا لال کا ذکر کیا ہے ”جن کی مرتب کردہ کتاب ارمغان اردو مجموعہ نظم و نثر نصاب میں شامل تھی“ اس کے علاوہ علی گڑھ کے بہت سے اساتذہ کا ذکر کیا ہے جن سے انھوں نے کسبِ فیض کیا۔ اس خود نوشت میں عزیز احمد جیسے دانشور فکشن نگارکا تفصیلی ذکر ہے کہ انھیں پاکستان میں وہ قدر و منزلت نہیں ملی اور بہت سے ادیب ان کی دانشوری کا مذاق بھی اُڑاتے تھے۔علی گڑھ کے فیض یافتہ سنسکرت سے آنرس اور اردو کے بڑے نقاد اختر حسین کی جاسوسی ناول نگار اور پولس انسپکٹر ظفر عمر کی بیٹی سے شادی کا حال لکھا ہے کہ کس طرح پردے کے ماحول میں حمیدہ بیگم سے قربت ہوئی اور بابائے اردو مولوی عبد الحق کا ان کی شادی میں کیا کردار رہا اس شادی کی خاص بات یہ تھی کہ اختر حسین رائے پوری کے ولی مولوی عبد الحق تھے اور اختر کے براتیوں میں سبط حسن، کامریڈ اشرف، کنور محمد اشرف، بشیر الدین جیسی شخصیتیں تھیں اور بیگم ظفر عمر اس رشتے سے اس لیے راضی نہیں تھیں کہ بقول حقی ”بیگم ظفر شاعروں، آرٹسٹوں، صحافیوں جیسے فضول لوگوں کے رشتے کی سخت مخالف تھیں۔حقی کی خود نوشت میں بہت سی ایسی شخصیات کا ذکر ملتا ہے جن سے شاید ہی ہمارے عہد کے لوگ آشنا ہوں۔ انھوں نے داغ دہلوی کی منہ بولی بیٹی سکندر جہاں بیگم کا خاص طور سے ذکر کیا ہے جو حقی کی کرایہ دار تھیں اور ان کے داماد مرزا احمد شاہ بہادر شاہ ظفر کے پر پوتے تھے۔ یہ بہت ہی خوش گفتار تھیں اسی طرح انھوں نے مولانا حسین آزاد کے پوتے آغا طاہر کا بھی ذکر کیا ہے جنھیں مغلظات میں اچھی دست گاہ تھی اور ان کے بھائی آغا محمد اشرف کے بارے میں بھی لکھا ہے، جن کا بی بی سی سے پروگرام لندن سے آداب عرض بہت مقبول تھا۔عترت حسین زبیری جنھوں نے آکسفورڈ سے ڈی لٹ کی ڈگری حاصل کی میٹا فزیکل شعرا پر کام کیا، عبدالرحمن صدیقی علیگ کلکتے کے میئر مارننگ نیوز کے بانی، محمد حسین نگینے والے، جانکی بائی الہ آباد کا ذکر کیا ہے، ڈاکٹر علیم، عبدالعزیز میمن، معین احسن جذبی، ڈاکٹر ہادی حسن، صفیہ اختر، مصطفی زیدی تیغ الہ آبادی، امین زبیری، احسن مارہروی، ڈاکٹر ظفرالحسن،ڈاکٹر ضیاء الدین، آغا محمد یعقوب دواشی مدیر آجکل، رفیق خاور مدیر ماہ نو، حمیدہ بیگم، وغیرہ کے علاوہ نہ جانے کتنی شخصیات کا ذکر ہے۔ علمی اور ادبی شخصیات کی ایک کہکشاں ہے جو اس خود نوشت میں جگمگا رہی ہے اور بہت سی ایسی معلومات ہیں جو دوسری کتابوں میں نہیں مل سکتیں۔ انہوں نے علامہ راشد الخیری کا بھی ذکر کیاہے کہ وہ ادب کے تھامس ہارڈی تھے۔ بلکہ رقت انگیزی میں اس سے دو ہاتھ آگے۔ میں نے لڑکپن میں انھیں دیکھا ہے۔ان کا مکان ہم سے زیادہ دور نہ تھا۔ہم تراہا بیرم خان میں تھے وہ قریبی محلہ کوچہ چیلان میں جہاں ’عصمت‘ اور ’بنات‘ ان کے جاری کردہ رسائل کا دفتر بھی تھا اور قریب کے مکان میں لڑکیوں کو دست کاری وغیرہ سکھانے کا مدرسۃ البنات بھی۔ انھوں نے انگریز افسران پیٹر جانسن، ڈینس اسکارٹ، مسٹر بروس،، کرنل بیرڈ اور اس طرح کے دیگر انگریز افسران کے بارے میں لکھا ہے۔خاص طور پر شملہ میں اپنے افسر شعبہ کپتان جڈ کے بارے میں جو لکھا ہے، وہ بہت دلچسپ ہے:
”کپتان جڈ صاحب نے تیس برس بڑی محنت اور لگن سے اردو سیکھی تھی۔ ان کا معمول تھا کہ روزانہ ایک گھنٹہ فیس دے کر اردو کے کسی ایسے استاد کے ساتھ گزارتے جسے انگریزی بالکل نہ آتی ہو۔ دلی میں استاد بیخود سے صحبت گرم رہتی تھی۔ مولوی عبدالحق صاحب سے بھی اچھی ملاقات تھی اور انہوں نے ان کو انجمن کی مجلس اعلیٰ میں بھی شریک کر لیا تھا۔ ہم اہل عملہ کو بھی ان کی ہدایت تھی کہ میرے سامنے ”اردوئے مبروص“ نہ بولا کرو۔ خالص اردو ہو یا خالص انگریزی۔ محاورات اور امثال کی بیاضیں بنا رکھی تھیں۔ جو نیا لفظ یا محاورہ سننے میں آتا، بیاض میں ٹانک لیتے۔ ’مغلظات“ سے بھی دلچسپی رکھتے تھے۔ کہتے تھے کہ اس کے بغیر زباں دانی کا حق ادا نہیں ہو سکتا، ناقص ٹھہرے گی۔ چنانچہ مغلظات کی بیاض الگ تھی۔ کوئی نئی گالی سنتے تو پھڑک جاتے۔ کوئی نیا محاورہ سن لیتے تو اسے برتنے کے لئے موقع کی تلاش میں رہتے۔“
ایک جگہ اور ان کے تعلق سے بڑی اہم بات لکھی ہے کہ کپتان جڈ صاحب کہتے تھے کہ یہ انگریز تم ہندوستانیوں کو کیا حقیر سمجھے گا جیسا خود ہمیں سمجھتا ہے۔ کیوں کہ ہم اعلیٰ طبقے سے تعلق نہیں رکھتے۔ دیہات سے اٹھے ہوئے معمولی کسان ہیں۔ میں نے تیس برس فوجی خدمت کی اور اردو زبان میں خصوصیت حاصل کی۔ لیکن میں آسمان سے تارے بھی توڑ لاؤں تو ان کی نظر میں حقیر ہی رہوں گا۔“
شان الحق حقی نے بہادر شاہ ظفر، قاضی نذر الاسلام، زخ ش اور حفیظ ہوشیارپوری جو پر مضامین لکھے، اس کا ذکر بھی الگ عنوان سے کیا ہے۔ زخ ش کے تعلق سے انھوں نے بہت اہم معلومات فراہم کی ہیں اور انھیں پہلی ترقی پسند خاتون قرار دیا ہے۔انھوں نے زاہدہ خاتون شیروانیہ کے تعلق سے لکھا ہے کہ ان کا زیادہ تر کلام سیاسی موضوعات سے متعلق ہوتا تھا، مولانا ظفر علی خاں کے اخبار زمیندار اور تہذیب نسواں میں ان کی تخلیقات شائع ہوا کرتی تھی۔ وہ نواب سر مزمل اللہ خان رئیس بھیکم پور کی صاحب زادی تھیں اور بقول سجاد حیدر یلدرم ’عندلیبِ خوش الحان تھی جس کے عرفاں پاش نغمے قفس کی تیلیوں سے نکل نکل کر ایک عالم کو مسحور کرتے رہے تھے۔“ شان الحق حقی لکھتے ہیں کہ ز خ ش ایک بیدار مغز شاعرہ تھیں فردوسِ تخیل کی نظموں سے ظاہر ہے کہ اردو،فارسی، عربی پر شعر گوئی کی حد تک دسترس کے علاوہ وہ بڑی با خبر تھیں (مجموعے میں چند عربی اشعار اور ایک خوبصورت فارسی قصیدہ نعتیہ بھی ہے)ان کا ذہن حالاتِ زمانہ سے لڑتا رہتا تھا،ترقی پسند تحریک تو بہت بعد میں شروع ہوئی، روس کے اشتراکی انقلاب کے زمانے میں مزدور اور کسان پر اردو میں سب سے پہلی نظمیں بڑی خلوص مندی سے ز خ ش نے لکھیں۔ وہ پہلی ترقی پسند تھیں:
علم و تحقیق و ترقی و سکون و تفریح
ہیں ظہورِ عملِ سحر نمائے مزدور
ثبت جس پرزے پہ ہے ملکیتِ سرمایہ
کس کا مرہونِ کرم ہے وہ سوائے مزدور
(صفحہ: 221)
حقی نے مولوی محمد حسین آزاد کے اس الزام کو دلائل سے مسترد کیا ہے کہ بہادر شاہ ظفر کا سارا کلام استاد ذوق کا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے قاضی نذرالاسلام کی نظموں کا منظوم اردو ترجمہ کیا جو صور اسرافیل کے نام سے شائع ہوا۔انھوں نے یہ اعتراف کیا ہے کہ اس بنگالی شاعر نے اردو شاعری کو بہت متاثر کیا ہے اسی لیے اثر لکھنوی، غلام سرور فگار، سلیم اللہ فہلی، اختر حسین رائے پوری نے نذر الاسلام کی شاعری کے ترجمے کیے اور انقلاب کا آہنگ نذر الاسلام کی وجہ سے زور پکڑتا گیا۔
شان الحق حقی نے شاعری کے تعلق سے بہت سے اہم نکات بھی پیش کئے ہیں۔ ان کا یہ خیال بہت اہم ہے کہ ”شعر کا کوئی جواز ضرور ہونا چاہیے۔ صرف اتنا ہی نہیں کہ وہ کلام موزوں ہے کوئی ندرت یا کمال کا عنصر ضرور شامل ہونا چاہیے“ انھوں نے اردو شاعری کے تعلق سے اس الزام کا بھی دفاع کیا ہے کہ اس میں سماجی اور سیاسی شعور کی کمی ہے یہ صرف شراب و شباب کی شاعری ہے انھوں نے دلائل سے یہ ثابت کیا ہے کہ اردو کی پوری شاعری میں قوم کا درد اور سیاسی مسائل کی عکاسی ہے اور یہ بھی کہا ہے ”انگریزی شاعری میں قومی نظم ڈھونڈیے تو مشکل سے ملے گی انگریز قوم پرست ضرور ہوتے ہیں مگر ان کی شاعری میں قوم پرستی بہت کم ملتی ہے۔“ انہو ں نے غالب کے تعلق سے دو اہم انکشافات بھی کیے ہیں۔ اول یہ کہ غالب رعایت لفظی کے خاصے شوقین تھے اور دوسرے یہ کہ غالب نے سب سے زیادہ لفظ ”آئینہ“ کا استعمال کیا ہے۔وہ لکھتے ہیں ”کہ غالب نے آئینہ کو طرح طرح سے باندھا ہے مجرد بھی اور تراکیب میں بھی جیسے رُخِ آئینہ، پشتِ آئینہ، آبِ آئینہ، چشتہ آئینہ، حیرتِ آئینہ، درِ آئینہ، جلوہ آئینہ، دامنِ آئینہ، گرمیِ آئینہ، گداز آئینہ، خاکستر آئینہ، دلِ آئینہ، نوازِ آئینہ، بزمِ آئینہ تصویر، مومِ آئینہ ایجاد، وحدتِ خانہئ آئینہ دل،کشورِ آئینہ، نقش بندِ آئینہ، فردِ آئینہ، شمع آئینہ، قبلہ آئینہ،اسی طرح آئینۂ دل، آئینۂ چشم، آئینۂ دیوار، آئینۂ نواز، آئینۂ دستِ طبیب، آئینۂ امتحان، آئینۂ خیال، آئینۂ بے رنگ، آئینۂ دریا، آئینۂ سنگ، آئینۂ بادِ بہاری، آئینۂ تصویر نما، آئینہ تمثال، آئینۂ گل،(یعنی گل کی تشبیہ آرسی کے ساتھ) آئینہئ انتظار، (چشمِ ادا سے استعارہ) گو ناگوں تراکیب میں آئینہ آیا ہے“۔
شان الحق حقی نے اپنی اس خود نوشت میں حضرت جوش ملیح آبادی اور مولوی عبدالحق کا بھی تفصیلی ذکر کیا ہے کہ ان کے ساتھ انھیں کام کرنے کا بہت موقع ملا بہت سی تلخ اور شیریں یادیں بھی ہیں جوش ملیح آبادی کی ترقی اردو بورڈ میں تجدید معاہدہ کا معاملہ بھی بیان کیا ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ جوش صاحب کے خلاف ایک محاذ کھڑا کر دیا گیا اور ان کے تعلق سے یہ غلط فہمیاں پھیلائی گئیں کہ جوش پاکستان بننے سے خوش نہیں ہیں اور یہاں گھٹن محسوس کرتے ہیں اور صدر ایوب کو جابر و جاہل کہتے ہیں شاعر انقلاب کے ان ہی انقلابی بیانات کی وجہ سے انھیں بہت سی ذہنی اذیتوں سے گزرنا پڑا اور ایک دل چسپ بات یہ ہوئی کہ جوش ملیح آبادی نے ڈپٹی نذیر احمد کی مراۃ العروس کو سرخ روشنائی سے رنگ دیا اور ڈپٹی نذیر احمد کو سود خوارمُلّا تک لکھ دیا جس کی وجہ سے شاہد احمد دہلوی بہت ناراض ہوئے اور انھوں نے جوش غضب میں ساقی کا جوش نمبر نکال دیا۔
شان الحق حقی کی ایک بڑی خوبی ان کی بے تعصبی ہے۔ انہو ں نے کہیں بھی تعصب سے کام نہیں لیا۔ اور نہ ہی اپنے دل کی بھڑاس نکالی۔ جب کہ بہت سے خود نوشت لکھنے والے اپنے مخالفین کو نشانہ بناتے ہیں۔ ان کی تضحیک کرتے ہیں۔ شان الحق حقی کا علمی کارنامہ قابل داد اور قابل رشک ہے۔ ان کا قابل ذکر اور وسیع کام ارتھ شاستر اور بھگود گیتا کا ترجمہ ہے۔ اپنی خود نوشت میں اس حوالے سے انہوں نے بالتفصیل لکھا ہے۔ شان الحق حقی نے آچاریہ چانکیہ کے ارتھ شاستر کا ترجمہ رموز ملک گیری و ملک داری کے عنوان سے کیا جو پاکستان سے شائع ہوا۔ اس کتاب کے تعلق سے شان الحق حقی لکھتے ہیں:
”ارتھ شاستر عالمی ادب میں ایک مقام رکھتی ہے۔ عالمی کلاسکس(امہات الکتب) میں شمار ہوتی ہے اور تاریخ ہند کا ایک اہم مآخذ ہے۔ چانکیہ کی سیاسی بصیرت حیرت انگیز ہے۔ اس نے میکاولی سے سینکڑوں برس بیشتر حکمراں کے لیے اقتدار میں رہنے کے جو گر منضبط کئے تھے آج بھی عملی طور پر رائج ہیں۔“ انہو ں نے یہ بھی لکھا ہے کہ”چانکیہ پوٹھو ہار خطے کا رہنے والا تھا جو اب پاکستان کا حصہ ہے۔“
ارتھ شاستر کے اردو ترجمے کے حوالے سے انھوں نے سلطانہ مہر کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ”یہ بہت ہی عجیب و غریب کتاب ہے تقریباً تین سو سال قبل مسیح لکھی گئی ہے اس زمانے میں ایسے موضوع پر اتنی بالغ نظری سے کتاب لکھنا ایک کارنامہ تھا اس میں حکومت کرنے کے گر بتائے گئے ہیں اور یہ بھی کہ حکومت کو اپنے قبضہ میں رکھنے کے لیے کیا کیا تدابیر اختیار کرنے پڑتی ہیں۔ کار جہاں بانی کوئی آسان کام نہیں اس کے لیے بادشاہ کو ایک خاص اعتدال حاصل کرنا پڑے گااور ایک خاص قسم کی تربیت حاصل کرنا پڑے گی تبھی وہ کامیاب ہو سکتا ہے۔ (گفتنی اول، ص187-188)
اس طرح حقی نے بھگود گیتا کا ترجمہ کیا ہے۔جس کا فارسی میں پہلی بار ترجمہ ابو الفیض فیضی نے کیا تھا اور دوسرا ترجمہ کنور بدری کرشن فروغ نے کیا۔اردو میں پہلا ترجمہ سید مبین نے کشن گیتا ارجن گیتا کے نام سے کیا تھا اور الم مظفر نگری نے اس کا ترجمہ عرفانِ مختوم کے نام سے کیا ہے۔ گیتا کے تقریباً چالیس پچاس ترجمے ہو چکے ہیں اس میں گیان یوگ، بھکتی ہوگ،کرن یوگ کی تعلیم دی گئی ہے یہ علم دانش کا ایک عظیم ترین صحیفہ ہے جس کا منظوم اردوترجمہ حقی صاحب نے بھی کیا۔ان کے خیال میں ”یہ دنیا کا ایک اہم صحیفہ ہے جو نسل در نسل دلوں کو گرماتا رہا ہے اور کروڑوں انسانوں کے لیے روحانی تسکین کا ذریعہ بھی ہے۔“ان کے بقول یہ وہ صحیفہ ہے جو انسان کو پر ماتما اور روح اعلیٰ کا ایک جزو، ہم نفس یا نفسِ ناطق قرار دے کر انسان کا مان بڑھاتا ہے اور خوش اعمالی کے ذریعہ کرم چکر سے نکل کر ابدی مسرت پانے کی ترغیب دیتا ہے۔“ حقی کا یہ ترجمہ انجمن ترقی اردو ہند نئی دہلی سے 1994میں شائع ہوا۔ انھوں نے یہ ترجمہ پانچ انگریزی ترجموں اور سنسکرت متن کو سامنے رکھ کر کیا ہے۔ اس کتاب کے حرفِ آغاز میں انھوں نے خوب اللہ شاہ قادری کا یہ قول نقل کیا ہے کہ”خق تو یہ ہے کہ ایک ہی حقیقت کی آواز ساری دنیا میں گونج رہی ہے۔ گیتا ہندوستان کا قرآن ہے اور قرآن عرب کی گیتا۔“ انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ”بھگود گیتا اور ہمارے صوفیانہ عقائد میں بڑی مماثلتیں ہیں۔ جس طرح تصوف میں ترک اور تیاگ کا ذکر ملتا ہے اسی طرح بھگوت گیتا میں بھی ہے۔ گیتا میں کرم،یوگ،سانکھیہ اور بدھ یوگ کا ذکر ہے اور اسی قسم کی چیزیں ہمارے تصوف میں بھی ہیں۔“
حقی نے بہت سے اور ترجمے کیے ہیں جو ان کی کتاب درپن درپن اور تیسری دنیا میں شامل ہیں خاص طور پر انھوں نے وندے ماترم کا ترجمہ کیا ہے بنکم چند چٹرجی کی یہ وہ نظم ہے جو ان کے ناول آنند مٹھ کا ایک حصہ ہے۔ وندے ماترم پر بیشتر مسلمانوں کو اعتراض ہے مگر حقّی نے اس کا بہت ہی عمدہ ترجمہ کیا ہے۔ میرے خیال میں اردو میں وندے ماترم کا اتنا بہتر ترجمہ شاید ہی کسی نے کیا ہو۔ درپن درپن میں شامل یہ نظم ملاحظہ ہو:
ستھرا جل اور میٹھے پھلاور پروا نرم خرام
کھیت ترے ہریالے اے ماں، اے ماں تجھے سلام

تیری دودھیا چاندنی راتیں من کو کریں سرشار
پھول پھینکتے، کنج گھنے اور پیڑ تری چھتنار

تیری مدھر میٹھی بھاشا ہے روح پر نغمہ بار
راحت بخشے دل و جاں اے ماں، اے ماں تجھے سلام

تیس کروڑ گرجتے کلے بولیں تری جے کار
اور بتیس کروڑ کفوں میں مردوں کے تلوار

کون بتائے نرمل تجھ کوبل پے تجھ پر نثار
آتشی پر ور، دشمن پر ’در‘، اے ماں تجھے سلام

اے بھولی من موہنی پیاری، اے جاں باز دلیر
جنم بھی دے اور پالے پوسے، اے ماں تجھے سلام
حقی نے یہ بھی لکھا ہے کہ میرے بچپن میں ہندو مسلمان بچے ساتھ مل کر انقلاب زندہ باد کے ساتھ قومی نعرہ وندے ماترم پکارتے ہوئے نکلتے تھے۔
شان الحق حقی نے تقسیم ہند اور فسادات کا خوف ناک منظر نامہ بھی تحریر کیا ہے جب ہندو مسلمان دونوں کی آنکھوں میں خوف اور تشویش کے ساتھ ساتھ قتل و خون کا جنون سوار تھا بستیاں اجاڑ دی گئیں، گھر جلا دئے گئے اور ریلوے اسٹیشنوں پر مسافروں کو تہہ تیغ کر دیا گیا خاص طور پر انھوں نے 16اگست 1946کا قتل عام کا ذکر کیا ہے۔ جہاں کلکتہ کے علی پور میں مسلمانوں کا ایک بھی گھر نہ بچا دھوبی گھاٹ کی ہندو دھوبیوں کی نشان دہی پر ایک ایک گھر کو جلا دیا گیا۔ اس وقت کے انسانیت سوز واقعات کا انھوں نے اتنا درد ناک منظر کھینچا ہے کہ روح کانپ اٹھتی ہے۔
شان الحق حقی کی ا س خود نوشت میں بہت سے اماکن/ مقامات،افراد/ اشخاص اور علمی ادبی اداروں کا ذکربھی ملتا ہے جن مقامات سے حقی کے قلب و نظر کا رشتہ رہا ہے ان میں لندن، پیرس،کناڈا، کلکتہ،علی گڑھ، حیدر آباد، دلی،پشاور، اٹلی، استنبول، چٹا گانگ، ڈھاکہ، گوالیار خورجہ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ دلی کے ضمن میں انھوں نے جامع مسجد،سینٹ اسٹیفن کالج عرب سرائے وغیرہ کا ذکر کیا ہے۔ علی گڑھ ان کی مادر علمی ہے جہاں سے انھوں نے انٹر اور بی اے کی تعلیم حاصل کی۔ حقی علی گڑھ میں سر سید کورٹ کے ایس ایس ویسٹ ہاسٹل میں تھے۔ بعد میں یہ گرلس کالج کے قریب ضیا منزل جو منجھلی بیگم کی کوٹھی کہلاتی تھی وہاں رہتے تھے۔ انھوں نے اپنے علی گڑھ کے اساتذہ اور احباب کا ذکر بھی کیا ہے۔ علی گڑھ کے جن اساتذہ کا اس کتاب میں ذکر ہے ان میں پروفیسر ایم ایم شریف، پروفیسر خواجہ منظور حسین،ڈاکٹر ظفرالحسن اور احباب میں رشید مودودی،علام بنگلوری وغیرہ کا ذکر کیاہے۔علام کے تعلق سے لکھتے ہوئے انھوں نے بڑی اہم باتیں لکھی ہیں کہ علام کی اصل زبان تامل تھی جو مدراس یا تمل ناڈو کے حلقے کی سربرآوردہ دراوڑ زبان ہے وہ اس کی شستگی اور قدیم ادب کی تعریف میں رطب اللسان تھے خود سنسکرت نے دراوڑی بولیوں سے اکتساب کیا ہے حملہ آور آریوں کی نسبت مقامی دراوڑی آبادی زیادہ تہذیب یافتہ تھی۔ اردو میں بھی دراوڑی اصل کے بہت سے لفظ موجود ہیں۔ روٹی، پانی، کالا، نیلا، تانت، کڑا،بالا، مالی، موچی، ڈوم،جھاڑ پونچھ، مامو(براہوی ماما)،کٹم(براہوی کٹمبا =کمبا) دراوڑی اصل کے الفاظ ہیں۔ انھوں نے ڈاکٹر علیم اور مولانا عبد العزیز میمن کا بھی ذکر بہت اچھے انداز میں کیا ہے لکھتے ہیں ”ڈاکٹر علیم جو بعد میں وائس چانسلر ہوئے،بڑے لائق،وجیہ، نستعلیق اور شریف انسان تھے اور اس وقت شعبہئ عربی میں لیکچرار تھے، جہاں ہمارے جید عالم عبد العزیز میمن ریڈر تھے اور جرمن پروفیسر ڈاکٹر آٹو اسپیس(Otto Spies) صدرِ شعبہ۔ مولانا کے ساتھ اس زیادتی کو اہلِ علم بہت محسوس کرتے تھے جو ان کے مرتبے سے واقف تھے۔ مگر یوپی گورنمنٹ نے یہ شرط لگا رکھی تھی عربی کا صدر شعبہ کوئی مستشرق ہوگا تو وہ اس کی تنخواہ ادا کرے گی ورنہ نہیں۔ یونیورسٹی والوں نے بھی یہ سمجھ کر اپنے دل کو تسلی دے رکھی تھی کہ اس طرح مستشرق کی ہمت افزائی ہوگی۔ ڈاکٹر علیم جیسا خاموش طبع آدمی بھی کم ہوگا۔ کلاس میں حاضری لینے کے بعد چپ بیٹھے رہتے۔ سال بھر میں شاید چند لفظ ان کے منہ سے نکلے ہوں تو نکلے ہوں۔ ہماری کلاس میں بعض لڑکے دینی مدارس سے عمدہ عربی پڑھ کر آئے تھے۔ وہ ٹیکسٹ پڑھتے رہتے اور ترجمہ کرتے جاتے، ڈاکٹر صاحب صرف سنتے رہتے تھے۔ ڈاکٹر اسپیس اگرچہ صدر شعبہ تھے مگر ہماری جونیر کلاس کی بھی ہفتے میں ایک دو گھنٹے برابر پڑھاتے تھے، اور ہمہ وقت ہاتھ میں چاک لیے بلیک بورڈ کے سامنے کھڑے رہتے۔ ڈاکٹر عابد احمدعلی صاحب بھی وہیں تھے جو بعد میں پنجاب یونیورسٹی سے وابستہ رہے۔ مولانا میمن صدر شعبہ نہ تھے مگر ان کا احترام بہت تھا۔ سب استاد ان کو مانتے اور اکثر ان سے ہدایت کے طالب رہتے تھے۔ ایک دن ایک استاد مولانا کے پاس آئے کہ حضرت اس جملے کا مطلب سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔کدّرَۃ المشارب سے کیا مراد ہوئی۔ مولانا نے ایک اچٹتی سی نظر صفحے پر ڈالی اور کہا کدّرَۃ المشارب یعنی تلچھٹ۔
قدیم عربی ادب اور لغات مولانا کے مخصوص میدان تھے اور تمام عرب دنیا میں ان کی فضیلت اور تخصص کو مانا جاتا تھا۔ عربی کی کلاسیکل منظومات کے مجموعے سمط الآلی کی بازیافت، ترتیب وتحشیہ ان کا ایک معروف کارنامہ ہے۔“(صفحہ 72)
شان الحق حقی کی اس خود نوشت میں نئی لفظیات اور محاورات کا خوب صورت ذخیرہ ہے۔خاص طور پر دہلوی زبان کا لطف ملتا ہے۔اجل پوش، ہڑکا، آر جار، اراقت بول، فضیحتے خدنگے، لزوزت، کھکیڑ، لتراپا،چھڑے، چھٹانگ، تیزم تارا، فرود گاہ، لقات، لش لش جیسے بہت سے الفاظ ملتے ہیں۔ بھٹیارنوں کے مغلظات اور معرکہ آرائی کے دل چسپ فقرے اور جملے اتنی خوب صورتی سے بیان کیے ہیں کہ لطف دو بالا ہو جاتا ہے۔
اس خود نوشت میں بہت سے اہم لسانی اور ادبی مباحث بھی ہیں خاص طور پر مشرقی زبانوں اور انگریزی کے بنیادی فرق رومن اور اردو کے تعلق سے بڑی عمدہ بحثیں ہیں۔ انھوں نے اصوات پر بھی بہت عمدہ بحث کی ہے اور تلفظ کے مسائل پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ”شاعری کے ذریعہ زبان کا پورا سرمایہ محفوظ ہو گیا ہے خاص طور پر مرکبات، محاورات، امثال، اقوال اور اسالیب و اظہار و انشا۔“انھوں نے یہ بھی اہم بات لکھی ہے کہ”اردو کی سب سے پہلی اور معیاری لغتیں انگریز اسکالروں کے ہاتھوں مرتب ہوئیں اور حیرت ہوتی ہے کہ بعد کے لغت نگاروں نے ان سے بھی خاطر خواہ استفادہ نہ کیا ان با اصول لغتوں کے ہوتے ہوئے بھی اصولِ لغت نگاری نہ سیکھے خصوصاًالفاظ کی اصل اور اشتقاق پر جتنا کام کیا انگریز لغت نگاروں نے ہی کیا۔“
شان الحق حقی اردو میں نستعلیق کے بجائے نسخ کو رائج کرنے کے قائل تھے اور اردو کو عام کرنے کے لئے رومن میں استعمال کے خلاف نہیں تھے۔ انھوں نے پاکستان میں اردو کے حوالے سے لکھا ہے کہ وہاں کے سندھی بزرگ اردو کو وسیلہئ اظہار بنانے کو پسند نہیں کرتے تھے۔اور یہ بھی خیال تھا کہ اردو سے مہاجروں کو فائدہ نہیں نقصان ہوگا۔
شان الحق حقی کی سیاسی، سماجی اور معاشی معاملات پر بھی گہری نظر تھی۔ وہ پاکستان میں مارشل لا کے حامی تھے اور تمام مسائل کا حل اسی میں سمجھتے تھے۔ وہ متحدہ عالمی قومیت اور ایک دنیا کے تصور کے قائل تھے اور ان کا یہ بھی خیال تھا ”دنیا کے وسائل ہرگز اس کی آبادی کے لیے نا قابل نہیں بلکہ اس سے بھی کئی گنا بڑی آبادی کی کفالت کر سکتے ہیں مثلاً یہ کہ کتنی ہی زمین بے کاشت پڑی ہے جسے زیر کاشت لایا جا سکتا ہے اور جدید وسائل سے کام لے کر پیداوار کو اور زیادہ بڑھایا جاسکتا ہے۔ سمندر میں موجود نباتی اور دیگر اغذیہ کا بہت تھوڑا حصہ کام میں آتا ہے بعض کو چھوا ہی نہیں گیااور یہ بھی لکھا ہے کہ جتنی غذا اس وقت ضائع کی جا رہی ہے دنیا کی ساری بھوکی آبادی کا پیٹ بھر سکتی ہے۔“
شان الحق حقی غنائیہ کے موجد تھے۔ انہوں نے بہت سے قطعات تاریخ بھی لکھے ہیں اور بہت سے افسانے بھی اور بچوں کا ادب بھی تحریر کیا ہے۔ وہ ایک جامع الکمالات شخص تھے۔ انھوں نے زندگی کی آخری سانس تک قرطاس و قلم سے اپنا رشتہ قائم رکھا۔
شان الحق حقی کی یہ خود نوشت، علم و ادب، تہذیب و سیاست، کا ایک خوب صورت مرقع ہے۔ اس میں تہذیبی وراثت کی گمشدگی کا نوحہ بھی ہے اور نئی تہذیب کے تسلط کا ذکر بھی۔اس خود نوشت میں دلی کی تہذیب، رسم و رواج، آداب و اطوار، زبان و بیان، تفریحات طرز معاشرت کا بہت خوبصورت بیان ہے کہ مصنف کا تعلق نہ صرف دہلی سے ہے بلکہ زندگی کا سفر اسی شہر سے شروع ہوا تھا جو ہجرت کے بعد دوسرے ملک کینیڈامیں اختتام کو پہنچا۔