20 C
نئی دہلی
Image default
نقدوتبصرہ

اردو کے تحقیقی وتنقیدی رسائل اور ”جہانِ اردو“ کی انفرادیت

پروفیسر محمد آفتاب اشرف
صدر شعبۂ اردو(پی جی)
ایل این ایم یو، دربھنگہ(بہار)

اردو زبان وادب کے فروغ میں ادبی اور علمی رسائل وجرائد کا غیر معمولی کردار رہاہے اور آج بھی ادبی وعلمی سرمایے کوبین الاقوامی سطح پر ادبی حلقے تک پہنچانے میں یہی ایک واحد وسیلہ ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اب جب کہ ذرائع ابلاغ کی دنیا میں ایک انقلاب پیدا ہوگیا ہے اور پرنٹ میڈیا کے ساتھ ساتھ برقی میڈیا نے اپنی جگہ بنا لی ہے تو ای- رسائل کو بھی فروغ مل رہاہے اور اس کے ذریعہ بھی انسانی غوروفکر کے ذخیرے جغرافیائی حدود کو عبور کر رہے ہیں۔ لیکن سچائی یہ ہے کہ آج بھی پرنٹ میڈیا کی اہمیت اپنی جگہ مسلّم ہے اور اس کی دستاویزی حیثیت تغیرِ زمانہ کے ساتھ مسلّم رہے گی۔ جہاں تک اردو رسائل وجرائد کی زندگی کا سوال ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ حالیہ دہائی میں اس کے قارئین کا طبقہ محدود ہوا ہے لیکن جن رسائل کو جامعاتی تحقیق وتنقید کے لئے لازمی قرار دیا گیاہے اس کی زندگی کم متاثر ہوئی ہے۔ ان چند زندہ رسائل کی فہرست میں ”جہانِ اردو“ امتیازی حیثیت رکھتا ہے کہ گذشتہ دو دہائیوں سے مسلسل شائع ہو رہاہے اور اس کے معیار ووقار میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے بلکہ دنوں دن اس کا معیار بلند ہوتا گیا ہے۔نتیجہ ہے کہ آج جب یو جی سی نے ہندوستان کی یونیورسٹیوں میں تحقیق کے معیار ووقار کو بلند کرنے کے لئے ایسے رسائل کی لسٹ ”یوجی سی کیئر لسٹ“ جاری کی ہے تو ان میں اردو کے محض چھ سات رسائل شامل کئے گئے ہیں اس میں سہ ماہی ”جہانِ اردو“ دربھنگہ کو نمایاں جگہ بھی ملی ہے اور قبولیت بھی۔اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ اس رسالے نے اپنے دورِ آغاز سے لے کر آج تک تحقیق وتنقید کے متعینہ اصول وضابطے کو بر قرار رکھا ہے۔اس وقت میرے پیشِ نظر ”جہانِ اردو“ ریسرچ جرنل، دربھنگہ کا ۶۷ واں شمارہ اکتوبر تا دسمبر ۹۱۰۲ء ہے۔جس کے ایڈیٹر ڈاکٹر مشتاق احمد اور سب ایڈیٹر ڈاکٹر رابعہ مشتاق ہیں۔ یہ شمارہ دیگر شماروں سے مختلف اور انفرادی حیثیت کا حامل ہے۔ اس شمارہ کے سرِ ورق پر گاندھی جی کی جاذبِ نظر تصویر قاری کو متوجہ کرنے کے لئے کافی ہے پھر ورق پلٹتے ہی دوسرے صفحے پر جہانِ اردو کے ساتھ لکھے جملے ”اردو کے گمشدہ قاری کا متلاشی اور تعمیری ادب کا ترجمان“ کے اندر وہ کشش ہے کہ اردو کے قارئین اور شائقین کو صفحہ در صفحہ پڑھنے پر مجبور کردیتا ہے۔ڈاکٹر مشتاق احمد شاعر، ادیب، مفکر اور کامیاب استاذ ہیں۔ ان کی اس علمی کاوش نے نہ صرف انہیں ادبی دنیا میں ایک مقام ومرتبہ عطا کیا ہے بلکہ انہوں نے قارئینِ ادب کے لئے ایسی سرمایہ کاری کی ہے جو ہمیشہ اردو ادب کے تشنہ لب کے لئے سیرابی کا سبب بنے گا۔
یہ شمارہ چھ حصوں پر مشتمل ہے۔ لیکن اس کا پہلا حصہ گاندھی جی کے لئے مختص ہے جو ان کی ایک سو پچاسویں سالگرہ کی مناسبت سے شامل کیا گیاہے اور اس گوشے کا نام ”جہانِ گاندھی“ رکھا گیاہے۔ اس میں کل نو مضامین شامل ہیں۔ ان مضامین میں گاندھی جی کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر خاطر خواہ روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس گوشے میں اول اول ڈاکٹر مشتاق احمد نے خود اپنے اداریے کو ”جہانِ فکر“ کے نام سے جگہ دی ہے۔جس کے اندر گاندھی جی کی مقبولیت اور ان کے فکر وفلسفہ کے بارے میں تفصیلاً ذکر ہے۔ خاص کر تعلیم کے متعلق اور چھوا چھوت کی نسبت سے گاندھی جی کی رائے کو بڑے واضح انداز میں پیش کیا گیاہے کہ گاندھی جی ایسے عمل کو جس سے سماج کے اندر تفریق پیداہو اسے موت سے تعبیر کرتے تھے۔جیسا کہ لکھتے ہیں:
”میری نگاہ میں چھوا چھوت ہندو دھرم کے لئے زندگی اور موت کا سوال ہے۔ جیسا کہ میں نے بارہا کہا ہے کہ اگر چھوا چھوت کا ماحول ایسا ہی رہا تو نہ صرف ہندو مذہب بلکہ پورا ہندوستان ختم ہو جائے گا“۔
اس کے بعد پروفیسر شہزاد انجم کا مضمون ”مہاتما گاندھی کے خواب کی تعبیر جامعہ ملّیہ اسلامیہ“ شاملِ شمارہ ہے جو نہایت ہی پر مغز اور حالات کی مناسبت سے بہتر اور عمدہ انتخاب ہے۔ آج جب کہ سرکار اور اس کے پیروکار کی طرف سے جامعہ کو شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہاہے، اس کے طلباء پر ظلم ڈھائے جا رہے ہیں۔ ایسے میں جامعہ ملّیہ کی اہمیت اور جامعہ سے گاندھی جی کے تعلق کو عام کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ اس مضمون کے اندر گاندھی جی کے جامعہ سے قلبی لگاؤ اور جامعہ کی بنیاد کے تعلق سے گفتگو کے ساتھ ساتھ جامعہ کے عہدہ داروں کے بارے میں سیرحاصل بحث کی گئی ہے۔ چنانچہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ مضمون ایک دستاویزی حیثیت رکھتا ہے۔
گاندھی جی کی زندگی کا اہم پہلو عدم تشدد اور امن پسندی رہاہے۔ اس تعلق سے بھی اس گوشے میں ”امن کا پیامبر مہاتما گاندھی“ ڈاکٹر سید احمد قادری کا مضمون شامل ہے۔جس میں انہوں نے گاندھی جی کے اہنسا وادی ہونے اور امن کی خاطر قربانیوں کا تفصیلی تذکرہ کیا ہے، ساتھ ہی آج کی سرکار اور آر ایس ایس کے منصوبوں کے بارے میں بھی آگاہ کیاہے جسے وہ گاندھی کے نام پر کرتے ہیں۔
گاندھی جی کو اردو سے بڑی محبت تھی۔ وہ ہندی اردو کو دو نظروں سے نہیں دیکھتے تھے۔ اس حوالے سے پروفیسر آفتاب احمد آفاقی کا مضمون ”اردو ہندی اور مہاتما گاندھی“شامل ہے جس میں دونوں زبانوں کی بنیاد اور آپس میں اختلافات کو سرسید کے نظریے کے ساتھ پیش کیا گیاہے۔صفدر امام قادری / الفیہ نوری کا مضمون ”مہاتما گاندھی کی شہادت کا واقعہ اور اردو کی چند خود نوشتیں“کے اندر گاندھی جی کی شہادت کو ریاض الرحمن ریاضی کی خود نوشت ”دھوپ چھاؤں“ اور پروفیسر اقبال حسین کی خود نوشت ”داستاں میری“ کے حوالے سے بہترین سانچے میں ڈھالا ہے۔
مہاتما گاندھی کی صحافت کے حوالے سے اس حلقے میں خود ڈاکٹر مشتاق احمد کا مضمون شامل ہے جس میں مہاتما گاندھی کی صحافت نگاری کا سیاسی، سماجی، مذہبی، ثقافتی شناخت کو استحکام بخشنے اور خصوصی طورپر جنگِ آزادی کی چنگاری کو شعلہ بنانے میں جو کلیدی کردار رہاہے اس پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
اس گوشے میں ڈاکٹر عبدالرحمن ارشد کا مضمون ”رچرڈ اینٹ برا: ایک عظیم گاندھی شناس، ڈاکٹر محمد عابد کریم ندوی کا مضمون ”گاندھی جی کے افکار“ اور آصف ابرار کا ”مہاتما گاندھی اور ارد و شاعری“ بھی اخیر میں شامل ہے جس کا مطالعہ افادیت سے خالی نہیں ہے۔اس کے بعد اس شمارے کے دوسرے گوشے”گوشہئ تحقیق وتنقید“ میں بارہ مضامین تحقیق وتنقید کے تحت شامل ہیں۔تحریک آزادی میں اردو زبان کا جو کلیدی کردار رہاہے وہ جگ ظاہر ہے۔ انگریزی سے نا بلد لوگوں تک مجاہدینِ آزادی کی آواز پہنچانے کا ذریعہ یہی زبان رہی اور ”انقلاب زندہ باد“ کا نعرہ اسی زبان نے عطا کیا :
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے
جیسے انقلابی اشعار اسی زبان کی مرہونِ منّت ہے۔اقبالؔ نے سارے جہاں کے سامنے ہندوستان کی بلندی کا ذکر اسی زبان میں دیا۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ اتنا کچھ ہونے کے باوجود اردو کے ساتھ نا انصافی ہوتی چلی آرہی ہے اسی کی مناسبت سے ”جہانِ تنقید“ میں پروفیسر محمد علی جوہر (علی گڑھ) کی خامہ فرسائی موجود ہے۔ انہوں نے ہندوستانی تہذیب وتمدن کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی بے چارگی اور اردو کے تئیں متعصبانہ رویے کا تفصیلی ذکر ہے اور ساتھ ہی اردو سے محبت کرنے والوں کو اردو دشمن سے ہوشیار رہنے کی تلقین بھی ہے۔
سرسید احمد خاں ہندوستانی مسلمانوں کے وہ عظیم رہنما ہیں جن کی علمی اورسماجی وراثت سے نہ صرف ہندوستانی مسلمان بلکہ پورا ہندوستان فیضیاب ہو رہاہے۔ اس گوشے میں ڈاکٹر مشتاق احمد نے ”سرسید کا نظریہ بین العلوم مطالعہ“ کے حوالے سے سرسید کی علم وحکمت، شعور وآگہی، بصیرت اور دوراندیشی کو اپنے موضوع کا حصہ بنایا ہے۔ انہو ں نے خاص طورپر سرسید کے بین العلومی نظریے کے تحت سائنسی ایجادات کی افادیت اور سرسید کی سائنٹفک سوسائٹی کی داغ بیل پر روشنی ڈالی ہے جس سے سرسید کی تعلیمات اور ان کی فکر مکمل طورسے واضح ہو جاتی ہے۔
مجلہ کے اس حصے میں تمام مختلف النوع موضوعات نہایت ہی پر مغز اور معلوماتی ہیں۔ ہر ایک مضامین میں موضوع سے انصاف کیا گیا ہے جو اس جریدہ کی عظمت کا بیانیہ ہے۔
”جہانِ خاص“۔ میں صرف دو مضمون ”محمد علوی جدید اردو شاعری کی ایک نمائندہ آواز“ از:محسن جلگانوی کا اور ”نثری نظم کا مقدمہ“ از:ابرار احمد کا شامل ہے۔ دونوں مضمون طویل ہے۔ اول الذکر میں محسن جلگانوی نے محمد علوی کو جدید اردو شاعری کے نمائندہ کے طورپر ناقدین کے اقوال اور نظموں کے حوالے سے پیش کرنے کی کوشش کی ہے جب کہ نثری نظم کا مقدمہ ابراراحمد کا ہے جو اس میگزین کا بہت ہی اہم مضمون ہے جس میں نثری نظم کی شاعری ہونے اور نہ ہونے، اس کے ردو قبول کے مراحل کو اقوال کی روشنی اورتاریخی پسِ منظر کے ساتھ پیش کیاہے۔
”جہانِ دیگر“۔میں ایک مضمون اور ایک انگریزی افسانے کا ترجمہ ہے اور یہ دونوں کاوشیں ڈاکٹررابعہ مشتاق کی ہیں۔ ڈاکٹر رابعہ مشتاق نے غیر معمولی ادبی وعلمی اہمیت کے حامل نوبل انعام یافتہ ”اولگا توکار چسک“ کی زندگی اور ان کی تخلیقات پر روشنی ڈالی ہے پھر انہی کے انگریزی افسانہ ”پولش“ الماری کے نام سے ترجمہ کیاہے۔بابِ جہانِ شعر میں ڈاکٹر حنیف ترین کی ایک نظم ”دلت کویتا جاگ اٹھی ہے“ شامل ہے جو ہندوستان میں دلتوں کے احوال کی عکاسی کرتی ہے۔ اس نظم میں دلتوں کی بے بسی، اس کی مظلومیت اور اس پر استحصال کو بہترین انداز میں شعری جامہ پہنایا گیا ہے۔
”جہانِ احتساب“۔ آخری باب ہے جس کے اندر مختلف شخصیات کے افکار ونظریات پر مبنی دس کتابوں کا پر مغز تبصرہ از قلم مدیر ڈاکٹر مشتاق احمد شامل ہے۔ ان تبصروں کے مطالعہ سے تبصرہ نگار کی تنقیدی بصیرت وبصارت کا پتہ چلتا ہے کہ ان کا مطالعہ کتنا وسیع ہے۔ اور پھر آخری صفحہ پر ریاست بہار کے اقلیتی طلباء وطالبات کے لئے محکمہ اقلیتی فلاح وبہبود،بہار، پٹنہ کی جانب سے مقابلہ جاتی امتحانات کے مدنظر جو مفت کوچنگ کا اہتمام کیا گیا ہے اس کی تشہیر کی گئی ہے جس سے مجلّہ کے ایڈیٹر اور ان کے معاونین کی اردو پڑھنے والوں کے تئیں خلوص بدرجہ اولیٰ دیکھا جاسکتا ہے۔
غرض کہ یہ سہ ماہی مجلہ ”جہانِ اردو“ نہ صرف عام قاری شاعر وادیب اورطلباء کے لئے بہت مفید ہے کہ اس میں شامل تمام مختلف النوع مضامین بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment