اردو کے سینئر ناقد،ادیب و شاعر پروفیسر مظفر حنفی نہیں رہے

 

نئی دہلی:اردو کے سینئر ادیب ،شاعر و ناقد پروفیسر مظفر حنفی کا آج چوراسی برس کی عمر میں انتقال ہوگیا۔ انھوں نے پچھلی پانچ دہائیوں کے دوران جدید شاعری ، مختصر کہانی ، طنز ، تنقید ، تحقیق ، بچوں کے ادب اور ترجمے وغیرہ پر قابل قدر تخلیقات پیش کیں۔ پروفیسر حنفی نے خود کو اردو شاعری اور ادب کی خدمت کے لئے وقف کر رکھا تھا اوران کے قلم سے تقریباً 80 کتابیں منظر عام پر آئیں۔ مظفر حنفی 1 اپریل 1936 کو ہندوستان کے کھنڈوا (مدھیہ پردیش) میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام محمد ابوالمظفر تھا۔ انہوں نے برکت اللہ یونیورسٹی بھوپال اور علیگڑھ مسلم یونیورسٹی سے B.A M.A L.L.B اور P.H.D کی ڈگریاں حاصل کیں۔ پروفیسر حنفی نے 14 سال کی عمر میں ہی شاعری شروع کردی تھی۔ تب سے وہ مسلسل لکھتے رہے ۔ پچھلے پچاس سالوں میں ان کی شاعری اردو کے مختلف رسائل وجرائد میں بڑے پیمانے پر شائع ہوئی۔ وہ پورے ہندوستان کے ساتھ ساتھ بیرون ملک میں بھی باقاعدگی سے شعری تقاریب میں شریک ہوتے رہے۔ بہت سارے طلباء نے ان کی رہنمائی اور نگرانی میں P.H.D مکمل کیا ۔1959 میں انہوں نے ماہانہ رسالہ شائع کیا جس کا نام ’نئے چراغ‘ تھا ، جس کے کل اٹھارہ شمارے شائع ہوئے اور انہیں سینئر ادیبوں نے سراہا تھا ۔قابل ذکر ہے کہ پروفیسر حنفی نے اپنے کیریئر کا آغاز مدھیہ پردیش میں محکمۂ جنگلات سے کیا تھا۔ وہ 1974 میں دہلی آئے اور این سی ای آر ٹی میں بطور اسسٹنٹ پروڈکشن آفیسران کی تقرری ہوئی۔ وہ 1976 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی میں لیکچرار بن گئے۔ 1989 میں کلکتہ یونیورسٹی نے انھیں مدعو کیا اور اقبال چیئر پروفیسر کے نام سے ایک باوقار پوسٹ کی پیش کش کی۔ کلکتہ یونیورسٹی میں اقبال چیئر کا قیام 1977 میں کیا گیا تھا اور پہلی بار اس کی پیش کش فیض احمد فیض کو کی گئی تھی، وہ اس پوسٹ کو قبول کرنے میں دلچسپی رکھتے تھے لیکن تقرری میں کچھ تاخیر کے باعث وہ ’لوٹس‘ کے چیف ایڈیٹر بن گئے اور بیروت چلے گئے۔ اقبال چیئر کم از کم 12 سال سے خالی تھی اور پروفیسر مظفر حنفی کی 1989 میں پہلی بار اس عہدے پر تقرری کی گئی تھی۔ وہ 2001 میں اقبال چیئر سے ریٹائر ہوئے اور دہلی واپس آ گئے تھے۔ جہاں انہوں نےاپنے آپ کو پوری طرح شعرو ادب کی خدمت کے لیے وقف کر رکھا تھا۔