اردو کے ممتازشاعر اورکالم نویس ڈاکٹرحنیف ترین کاانتقال

 

نئی دہلی(پریس ریلیز) اردو کے ممتازشاعر ڈاکٹرحنیف ترین کامختصر علالت کے بعد آج 69سال کی عمر میںانتقال ہوگیا۔موصوف پچھلے کئی ماہ سے موذی مرض میں مبتلا تھے اور انھیں سرجری کے عمل سے بھی گزرناپڑاتھا۔ کورونا کی وجہ سے لاک ڈاون کے نفاذ تک موصوف دہلی میں ہی مقیم تھے،لیکن اس کے بعد آب وہوا کی تبدیلی کی غرض سے انہوں نے کشمیرجانے کا فیصلہ کیا، جہاں ان کی طبیعت بگڑی اورسری نگری کے مختلف اسپتالوںمیں زیرعلاج رہنے کے بعد آج علی الصباح تقریباً5بجے انہوں نے اس دارفانی کو خیربادکہہ دیا۔ ڈاکٹر حنیف ترین کی رحلت کی خبر دیتے ہوئے اہل خانہ نے بتایا کہ موصوف کی نماز جنازہ بعد نمازعصرسری نگرمیں کی گئی اورراول پورہ کے قبرستان میں انہیں سپرد خاک کردیاگیا۔پسماندگان میں اہلیہ ڈاکٹرشمیم اخترکے علاوہ دوبیٹے اور ایک بیٹی شامل ہیں۔ ڈاکٹر حنیف ترین کے بڑے فرزند خود بھی پیشے سے معالج ہیں ۔

شاعری حنیف ترین کی شرست میں داخل رہی اور انہوں نے غزل ونظم دونوںاصناف ادب میں نہ صرف یہ کہ طبع آزمائی کی بلکہ عالمی سطح پر جدید اردو شاعری کو رواج دینے کے حوالے سے بھی ان کی شعری کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ ڈاکٹرموصوف حال کے دنوں میں شاعری کے ساتھ ساتھ نثرنگاری کی جانب بھی مائل ہوئے اور حالات حاضرہ پر رائے زنی کے لیے انہوں نے صحافت کو منتخب کیا، جس کے نتیجے میں ان کی متواتر تحریریں اردو کے معتبر اخباروں کی زینت بنتی رہیں۔ ایک قادر الکلام شاعر کے ساتھ ساتھ ایک بہترین کالم نویس کے طور پر ادھر کچھ دنوں سے انہوں نے جو شہرت حاصل کی، وہ عہد حاضر کی اردو صحافت کی تاریخ کا حصہ ہے۔

حنیف ترین کی رحلت سے ادب وصحافت دونوں حلقوں میں رنج والم کاایک عمومی ماحول پایا جارہاہے۔ ڈاکٹر موصوف عرصہ دراز تک بحیثیت طبیب سعودی عرب میں خدمات انجام دینے کے بعد واپس ہندوستان آگئے تھے اور دہلی کو انہوں نے اپنا وطن بنا لیا تھا۔ شعری محفلوں کے انعقاد اور ادب نواز حلقوں کو جوڑنے کے حوالے سے ان کی خدمات قابل ذکرہیں۔ حال کے دنوں میں ڈاکٹر حنیف ترین نے ایک سہ ماہی ادبی رسالہ کی اشاعت کا خواب بھی دیکھا تھا اور اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کی ان کی کوششیں جاری ہی تھیں کہ اسی درمیان موذی مرض نے انھیں اپنے شکنجہ میں جکڑ لیا۔ ایک شاعر کے طور پر اردو کے عالمی افق میں نمایاں مقام حاصل کرنے والے حنیف ترین جذباتی شاعری کے حوالے سے ہمیشہ یاد کیے جاتے رہیں گے۔

فلسطین کی جدوجہد آزادی پرمشتمل ان کی نظم ’باغی سچے ہوتے ہیں‘نے توان کو امرکردیا۔ اس نظم میں جس بے باکانہ اندازمیںمظلوموں کے درد کو بیان کیاگیاتھا، وہ اپنے آپ میں مثالی تھا۔ انہوں نے ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کی فن کارانہ کوشش نہایت جرات کے ساتھ انجام دی، جس کی گواہی ان کے شعری مجموعوںمیں شامل درجنوں نظمیں اورغزلیں از خود دے رہی ہیں۔ان کی شاعری تقریباًچاردہائیوںپر محیط ہے۔’رباب صحرا‘ ،’کتاب صحرا‘،کشت غزل نما‘، ’زمین لاپتہ رہی‘، ’ابابیلیں نہیں آئیں‘،’زلزال‘،’روئے شمیم‘،’لالۂ صحرائی‘، ’پس منظر میں منظر بھیگاکرتے ہیں‘ اور ’دلت کویتا جاگ اٹھی‘ موصوف کے وہ شعری مجموعے ہیں، جن میں ان کی فکر وفن کاحسین امتزاج دیکھنے کو ملتا ہے۔ حال کے دنوں میں انہوں نے ہندی شاعری کی طرف بھی توجہ دی اور نتیجتاً ’ستیہ میوجیتے اور ’دلت آکروش ‘ کی شکل میں دو کتابیں منظر عام پر آئیں۔ علاوہ ازیں ظہیرغازی پوری کی شخصیت اور فن کو سمجھنے کے لیے ’ ظہیرغازی پوری:شخص، شخصیت اورشاعری‘کی شکل میںایک عمدہ نثرپارہ بھی منصہ شہود پر آیا۔

حنیف ترین کی شاعری عربی زبان میں متعارف ہوئی اور اس کے تحت ’بعیداًعن الوطن‘ اور ’لم تنزل ابابیل‘ نامی کتابیں منظرعام پر آئیں۔ زبان انگریزی میں بھی ان کی ایک کتاب ’دی ٹرتھ آف ٹیررزم‘کے نام شائع ہوئی۔

حنیف ترین کا آبائی کا وطن اتر پردیش کا مردم خیز خطہ سنبھل ہے، جہاں کے قصبہ’ سرائے ترین‘ میں یکم اکتوبر1951میں موصوف پیدا ہوئے۔ ابتدائی مذہبی تعلیم گھرپرہی ہوئی۔اس کے بعد آٹھویں جماعت تک کی تعلیم درگاہ اسلامی (رام پور) میں حاصل کی پھر علی گڑھ کا رخ کیا۔ حنیف ترین نے ایم بی بی ایس کی تعلیم کشمیر سے مکمل کی۔ بعد ازاں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے جواہر لال نہرو میڈیکل کالج سے وابستہ ہوگئے۔ مگر 1984 میںوہ یہ نوکری چھوڑ کر سعودی عرب چلے گئے جہاں وہ محکمہ صحت میں ترقی کرکے’طبیب خاص‘کے عہدہ تک پہنچ گئے۔ 2014میں ہندوستان واپس آگئے اور کچھ وقت کے لیے اپولوہاسپیٹل (دہلی) اورہیفکو میڈیکل اسکریننگ سینٹر، نیوفرینڈس کالونی(دہلی) میں بھی اپنی خدمات دیں۔

ڈاکٹرحنیف ترین نے سعودی عرب میں قیام کے دوران اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے ’ بزم احباب سخن‘ کے نام سے ایک ادارے کی تشکیل کی۔یہ ادارہ وہاںاردو کے فروغ کے لیے مسلسل پروگرام منعقدکراتا تھا۔

ڈاکٹرحنیف ترین پوری زندگی فعال رہے۔ وہ طالب علمی کے زمانے سے ہی آل انڈیا ریڈیو کے ادبی و غیرادبی پروگراموں کاحصہ رہے۔ملک وبیرون میں منعقدہونے والے مشاعروں ،خاص طور پر اردو اکادمیوں کے مشاعروں میںوہ برسوں سے شریک ہوتے رہے تھے۔ان کا سیاسی اورسماجی شعور خاصابلندتھا۔

ڈاکٹرحنیف ترین کی ادبی خدمات کے اعتراف میں دہلی ، یوپی اور بہار کی اردو اکیڈمیوں نے متعدد بار انہیں ایوارڈسے نوازا۔ اس کے علاوہ ملک وبیرون ملک کی ادبی کمیٹیوں ، سوسائٹیوں اور اکیڈمیوں نے بھی انھیںتقریباً دودرجن ایوارڈز اور انعامات سے سرفراز کیا۔ یوپی اردو اکیڈمی نے 2009-2010 میں اردو ادب کی خدمات کے لیے انھیںایک لاکھ روپے کے ایوارڈ سے بھی سرفرازکیا۔