Home تجزیہ اردو زبان کے سرکاری استعمال کی راہ میں خطر ناک فرقہ پرستانہ فیصلوں کا ایک نیا سلسلہ – صفدر امام قادری

اردو زبان کے سرکاری استعمال کی راہ میں خطر ناک فرقہ پرستانہ فیصلوں کا ایک نیا سلسلہ – صفدر امام قادری

by قندیل

 

شعبۂ اردو، کالج آف کامرس، آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ

زبانوں کی تاریخ قوموں کی تاریخ کی طرح سے نشیب و فراز سے گزرتی رہی۔ یہ فطری امر ہے کیوں کہ جن لوگوں کے بیچ زبان پھلتی، پھولتی اور ترقی کرتی ہے، اُن لوگوں کی تہذیب و ثقافت اور زندگی کی تبدیلوں کے آثار بھی اُس پر ثبت ہوتے رہتے ہیں۔ اِنھی وجوہات سے زبان پر غور کرتے ہوئے اقوام کے مزاج اور افکار کے بارے میں غور و فکر شروع ہو جاتی ہے اور اُسی طرح دونوں ایک دوسرے کا عکس اور ایک دوسرے کے اثرات سے اپنے وجود کو قائم رکھتے ہیں۔ اِسی لیے اِس ہفتے انتخابات کی گہما گہمی کے دَوران مدھیہ پردیش کے پولیس محکمے کی طرف سے یہ اعلان ہوا کہ ۶۷۵؍ اردو الفاظ کو سرکاری استعمال کے لیے ممنوع قرار دیا جاتا ہے اور اُن کی جگہ پر نئے ہندی اور سنسکرت مشتقات متبادل کے طور پر فراہم کیے گئے ہیں، اُنھی کا استعمال کیا جائے گا۔ اِس سے پہلے دہلی پولیس نے ایک طویل فہرست تقریباً بارہ سو لفظوں کی تیاّر کی تھی جس کے استعمال کی ممانعت کا باضابطہ طور پر چند مہینوں پہلے اعلان کیا گیا تھا۔
عجب اتّفاق ہے کہ اردو اور ہندی دونوں زبان کے ماہرین اِس موضوع پر بحث و مباحثے کے مرحلے میں نہیں آئے اور خاموشی کے ساتھ انتخاب کی ہنگامہ آرائیوں کے بیچ یہ سرکاری اعلان نامے نافذ ہوئے۔ یہ الگ بات ہے کہ اُن محکموں میں کس طرح اِس حکم نامے کا نفاذ ہونا شروع ہوا ہے، اِس کے بارے میں ابھی کوئی مکمّل اطّلاع نہیں آئی ہے۔ جن الفاظ کے بارے میں یہ حکم نامے جاری کیے گئے ہیں، وہ بنیادی طور پر انتظامی اصطلاحات ہیں اور جن کا سیکڑوں برس سے عوام و خواص میں استعمال ہوتا رہاہے۔ کچھ مشکل الفاظ بھی مستعمل ہیں اور کچھ سامنے کے الفاظ بھی اِس مرحلے میں استعمال میں لائے جاتے رہے ہیں۔ اکثر لوگوں کو اِس بات کا غالباً احساس بھی نہیں ہوتا ہے کہ وہ الفاظ کس زبان کے ہیں اور کیا اُن کے استعمال سے اُن کی اپنی مذہبی شناخت پہ کہیں حرف تو نہیں آ جائے گا؟

 

ڈاکٹر ذاکر حسین نے آزادی سے قبل کے ہندستان کا نقشہ کھنچتے ہوئے کاشی وِدیا پیٹھ کی تقسیمِ اسناد کے اجلاس میں طلبہ کو یہ بتایا تھا کہ یہ ایسا ملک ہے جہاں ریل وے اسٹیشنوں پر ہندو پانی اور مسلمان پانی کہہ کر مسافروں کی خاطر تواضع کی جاتی تھی۔ ذاکر حسین نے اِس مثال سے جہالت سے بھری ہوئی اپنی دنیا پر طنز بھی کیا تھا اور نوجوانوں کو ملک کی سچّی صورتِ حال سے واقف کراتے ہوئے متنبہ بھی کیا تھا۔ پانی جب ہندو مسلمان ہو سکتا ہے تو سیکڑوں برس سے مستعمل اصطلاحات کا شجرۂ نسب کیوں کر نہ ڈھونڈ لیا جائے اور فریقِ اوّل و فریقِ ثانی کی تقسیم کے ساتھ سرکاری اعلان نامے جاری کیے جا رہے ہیں۔
ہندستان کی تاریخ اور بالخصوص حکومت سازی کے مدارج پر غور کریں تو گذشتہ ڈھائی تین ہزار برسوں میں سنسکرت، پراکرت، عربی، فارسی، اردو (ہندی) اور انگریزی زبانوں کی بہ راہِ راست شراکت رہی ہے۔ اِن زبانوں کے علاوہ درجنوں علاقائی زبانوں کے الفاظ اور اُن کی اصطلاحات بھی چپکے سے ہمارے کام کاج کا حصّہ ہو گئے اور اب اُن میں سے کوئی اجنبی نہیں ہے۔ جو الفاظ عوام اور انتظام کاروں کی زبان پہ چڑھ گئے، بڑی تعداد میں استعمال ہونے لگے؛ وہ ہماری عوامی لغت کا حصّہ ہوگئے مگر بہت سارے الفاظ یہ درجہ نہیں پا سکے۔ رفتہ رفتہ اُن کے رواج سے لوگوں نے علاحدگی اختیار کی اور نئی اصطلاحات گَڑھی گئیں۔ زبان اور لسانیات کے طالب علم اِن مراحل کو خوب خوب سمجھتے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ یہ تبدیلیاں بڑے سُست رفتاری کے ساتھ ہماری زندگی کا حصّہ بنتی ہیں اور اِن مراحل میں عجلت پسندی یا اتاولا پَن کے لیے کچھ زیادہ جگہ نہیں ہوتی ہے۔
سنسکرت کی اصطلاحیں بودھوں کے زبانیں میں یکسر خارج نہیں ہوئیں۔ پراکرت کے بہت سارے الفاظ اُن انتظامی اصطلاحات میں لازمی طور پر جڑے۔ عہدِ سلطنت اور مغل بادشاہوں کے زمانے میں فارسی اور عربی کے الفاظ اُس انتظامی سرمایے میں بڑے پیمانے میں شامل ہوئے۔ انگریزوں کی آمد نے اُن میں ہزاروں کی تعداد میں اضافہ کیا۔ اِن تمام مرحلوں میں عوامی ضرورت اور لفظوں کی قبولیت یا موزونیت کو ہی اصول تسلیم کیا گیا۔ فورٹ ولیم کالج کی تاریخ میں حالاں کہ لسانی فرقہ پرستی کے بہت سارے احوال اور اعمال پوشیدہ رہے مگر انتظامی اصطلاحات کے لیے قبولِ عام کا سکّہ ہی تسلیم کیا گیا اور غیر ضروری طور پر زندگی اور لفظوں کی رفتار پر قدغن ڈالنے کی کوشش نہیں کی گئی۔
مدھیہ پردیش کی پولیس نے جو الفاظ اور اُن کے متبادلات پیش کیے ہیں، اُن کے بارے میں غور کرنے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ملک کے تبدیل شدہ سیاسی نظام اور عام ہوتی ہوئی مذہبی منافرت کی پرچھائیں اِن پر صاف صاف پڑ رہی ہے۔ جن لوگوں نے اِس طرح کی فہرست سازی کی، وہ زبان اور اصطلاحات سازی کے کتنے ماہرین ہیں، یہ ہمیں پتا نہیںکیوں کہ بہت ساری اصطلاحات کے جو متبادل دیے گئے ہیں، وہ کھلے طور پر نادرست معلوم ہوتے ہیں۔گرفتاری اور حراست کے لیے اُن کے ساتھ ’ابھی رَکشا‘ جیسا لفظ پیش کیا گیا ہے۔ قبضہ لفظ اُنھیں مشکل معلوم ہوا اور اِس کی جگہ اُنھوں نے ’آدھی پتیہ‘تیاّر کیا ہے۔قتل کے لیے ’حتّیا‘ کا لفظ تو مانا جا سکتا ہے مگر تجویز ’وَدھ‘ کی پیش کی گئی ہے۔ حاضر، غیر حاضر اور بیان جیسے الفاظ کے لیے ’اُپس تھت، انو اُپس تھت اور کتھن‘ کی تجویز کے معنی ضرور ہوئے کہ سوال آسان اور مشکل کا نہیں ہے بل کہ زور زبردستی سے رائج الفاظ کو اِس طرح سے دَر بدری کے راستے پر لگا دینا ہے کہ پھر وہاں سے واپسی ممکن نہ ہو سکے۔ قید خانہ، فوج، عدالت اور قیدی جیسی اصطلاحات بھی اب دَم توڑتی نظر آئیں گی۔ عدالت ، جرم، حاکم، حکم، تاریخ، ضمانت، مچلکہ، ضبط، دستاویز، فریادی، سزا، بَری، شناخت، ثبوت، حلف نامہ وغیرہ الفاظ کو مدھیہ پردیش کی حکومت نے ممنوعہ قرار دیا ہے۔

 

دہلی حکومت نے اقرار کے لیے ’وَچن‘ کے ساتھ وعدہ لفظ بھی شامل کیا ہے۔ شاید وہ سمجھ نہ سکے کہ وعدے کا خاندان بھی وہی ہے جس کے خلاف محاذ کھولا گیا ہے۔ استغاثہ کے لیے شکایت اور انتظام کے لیے بند و بست جیسے الفاظ کو ہندی لفظ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ یہ نہیں جانتے ہوئے کہ یہ الفاظ عربی فارسی روایت کا حصّہ ہیں۔گروہ سے تکلیف ہے، اِس لیے ’گینگ‘ کو تسلیم کر لیا گیا۔ فضول کے لیے دو الفاظ سجھائے گئے ہیں۔بے کار اور واہیات۔ یہ دونوں لفظ فارسی اور عربی خاندان سے تعلّق رکھتے ہیں۔ تلاشی اور نیّت جیسے الفاظ بھی ابھی اِس لیے بچ گئے ہیں کیوں کہ اُن کے لیے کوئی نئی اصطلاح نہیں بنائی گئی ہے۔ مرتَّب کے لیے بھی ابھی اصطلاح باقی ہے، اِس لیے وہاں ’ترتیب سے لگایا گیا‘ متبادل پیش کیاگیا ہے۔ مشتبیہ کے معنیٰ میں خود شک لفظ شمال کیا گیا ہے جیسے یہ لفظ سنسکرت اور ہندی کا ہی ہو۔ مجروح کو باہر کا راستہ دکھایا گیا ہے مگر اُس کے ساتھ زخمی کو غیر دانستگی میں ابھی تک جائز تسلیم کیا گیا ہے۔ حالات، ہدایت، نقل، شروعات، لاش، صلاح جیسے الفاظ ابھی ماہرین کی دسترس میں نہیں ہیں۔ اِس لیے اِنھیں چھوڑ دیا گیا ہے۔ اندازہ یہی ہے کہ آنے والے دنوں میں اِن لفظوں کے بدلنے کی مہم بھی جاری ہوگی۔
ہندستان کی قانون ساز اسمبلی میں زبانوں کے معاملات پر بڑی نرم گرم بحث ہوئی تھی۔ جنوبی ہندستان کے افراد اور علاقائی زبان بولنے والے لوگوں نے دفتری زبان اور قومی زبان کے بارے میں بڑی کھلی بحث کی تھی۔ ڈاکٹر راجندر پرساد، جواہر لعل نہرو، مولانا ابوالکلام آزاد۔ پروشتم داس ٹنڈن، کے شامل سیکڑوں ماہرین اِس موضوع کے اِرد گِرد اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہے۔ آج اُن دستاویزات کو پڑھتے ہوئے اِس بات کا احساس ہو جاتا ہے کہ اُن مباحث میں آنے والے دَور کی لسانی عدم رواداری اور فرقہ پرستانہ جہت سے اِن معاملات کو سمجھنے کی کَج ادائیاں اُسی دَور سے شروع ہو گئی تھیں۔ قوم پرستی کے نام پر اوّلاً ہندی کا انگریزی سے مقابلہ تھا جس کے لیے قانون ساز اسمبلی سے لے کر آج تک خوش گوار ماحول تیّار نہیں ہو سکا۔ عدالتِ عالیہ سے لے کر مرکزی سکرٹیریٹ تک انگریز ی کو ایک انچ تک ہم ہٹا نہیں سکے۔غیر ہندی صوبوں میں پہلے سے ہی اِس لسانی منافرت کے ردِّ عمل میں پہلے سے ہی ہندی کی مخالفت دیکھی جاتی ہے۔ اب نئی فرقہ پرستی میں اپنے گھر کے اندر کی لڑائی شروع کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ اردو اور ہندی کی ترقی ایک علاقے میں اور ایک ہی قواعدی بنیاد سے ہوئی ہے۔ اَسّی فی صد سرمایۂ الفاظ ملا جلا ہے۔ خود ہندی لفظ فارسی سے مستعار ہے اور اردو ترکی سے ہمارے درمیان لفظ کے طور پر موجود ہے۔ ایسے ماحول میں کیا یہ آسان ہے کہ زبانوں کی تاریخ اور قومیت میں زبردستی دیوار کھڑی کی جائے۔ فرانسسی، انگریزی اور جرمن زبانوں میں بھی کم لڑائی نہیں ہوئی مگر لسانی تکثیریت نے اُن تمام زبانوں کو عالمی درجہ عطا کیا۔ اردو اور ہندی زبانوں کو مقبول بننا ہے تو اُنھیں اِن نام نہاد تنگ نظریوں اور لسانی فرقہ پرستی سے اوپر اُٹھنا ہوگا ورنہ تاریخ میں ہم مجرم قرار دیے جائیں گے۔

You may also like