اردو کا "سمندر” بھی رخصت ہوا۔ ایم ودود ساجد

فلمی شخصیات سے ملنے کا مجھے کبھی شوق نہیں رہا۔ اس کے باوجود فلمی دنیا کے بہت سے لوگوں سے ملنے کا موقع ملا۔ لیکن دلیپ کمار جیسی شخصیت کے علاوہ کسی نے متاثر نہیں کیا۔

یہ 1998 کے اواخر کی بات ہے۔ ایک صاحب کا فون آیا کہ دلیپ کمار انٹرویو دینا چاہتے ہیں ۔ نئی دنیا کے ایڈیٹر شاہد صدیقی نے مجھے مامور کردیا۔ دہلی کے ہوٹل تاج میں دلیپ کمار ٹھہرے ہوئے تھے ۔

میرے علاوہ اردو کا کوئی اور صحافی وہاں نہیں تھا۔ لیکن ہندی اور انگریزی کے کئی صحافی بیٹھے ہوئے تھے۔ کسی کے ہاتھ میں چھوٹا ٹیپ ریکارڈر (Dicta Phone) تھا اور کسی کے ہاتھ میں کیمرہ’ کچھ کاپی قلم بھی تھامے ہوئے تھے۔ قطار میں میرا نمبر تیسرا تھا ۔

جب دلیپ کمار اپنے کمرہ سے نکل کر ویٹنگ روم کی طرف بڑھے تو صحافی ہڑبڑاکر کھڑے ہوئےـ کسی کے ہاتھ سے کیمرہ چھوٹا اور کسی کے ہاتھ سے ٹیپ ریکارڈر گرگیا۔ دلیپ صاحب بڑھتے چلے آئے اور میرے ہاتھ پاؤں میں کوئی "لرزش” نہ دیکھ کر میرے پاس رُکے’ نام پوچھا اور پھر خود ہی بول اٹھے: "اچھا آپ اردو سے ہیں! ” اردو ڈگمگاتی نہیں ہے۔

1998 میں انہیں حکومت پاکستان نے اپنے سب سے بڑے شہری اعزاز ‘نشانِ امتیاز ایوارڈ’ سے نوازا تھا۔ اس پر ہندوستان میں خوب لے دے ہو رہی تھی۔ شوسینا کے سربراہ بالا صاحب ٹھاکرے نے ہنگامہ مچا رکھا تھا۔ دلیپ کمار اس پر دلبرداشتہ تھے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ آج خود انٹرویو دینا چاہتے تھے۔ ورنہ بہت سے بڑے صحافی درخواست بھیج کر انتظار ہی کرتے رہے کہ کب بلاوا آئے گا۔

مجھ سے پہلے دو صحافی انگریزی کے تھے۔ سب لائن سے بیٹھے تھے۔ دلیپ کمار درمیان میں ‘ہیڈ ماسٹر’ کی طرح بیٹھے تھے۔ انگریزی میگزین Ivory کے صحافی کا پہلا نمبر تھا۔ دلیپ کمار نے پوچھا: How many questions
صحافی گڑبڑا گیا۔ بولا چار پانچ ۔۔ دلیپ کمار نے وضاحت طلب انداز میں سوال کیا: چار یا پانچ؟ صحافی نے کہا: پانچ۔

انٹرویو شروع ہوا۔ پانچویں سوال پر دلیپ صاحب نے یاد دلا دیا: Your fifth question ۔یعنی یہ پانچواں سوال ہے۔ اب صحافی نے بڑی کوشش کی’ چھٹا سوال کرنے کی اجازت ہی نہیں ملی۔

میرا نمبر آیا ۔مجھ سے بھی وہی سوال ہوا۔میں جواب میں مسکرا اٹھا۔ دوبارہ سوال ہوا: کتنے سوالات فرمائیں گے آپ؟ اس بار میری مسکراہٹ کچھ بڑھ گئی ۔ دلیپ صاحب سے ضبط نہ ہوا۔ بولے: میاں ہم آپ سے پوچھتے ہیں کہ کتنے سوال کریں گے آپ’ اور آپ مسکرا رہے ہیں ؟ میں نے کہا کہ سمندر پیاسے سے نہیں پوچھتا کہ کتنا پانی پیوگے۔

دلیپ صاحب حیرت زدہ ہوکر مجھے دیکھنے لگے ۔ پھر گویا ہوئے : آپ اردو سے ہیں؟ نئی دنیا سے؟ میں نے کہا کہ جی۔میں نئی دنیا سے ہوں ۔ اچانک پنجابی زبان میں اپنی اہلیہ کو بلانے لگے: سائرہ اتھے ویکھو جی ۔اردو دا بندہ کیڈی گلاں کر رہا ہن۔( مجھے پنجابی نہیں آتی’ معلوم نہیں بعینہ یہی الفاظ تھے یا نہیں ۔ لیکن مفہوم یہی تھا کہ اردو کا آدمی کیسی باتیں کر رہا ہے۔)

سائرہ بانو نے پاکستانی خواتین کے انداز میں زور دار سلام کیا۔ دلیپ کمار نے ان سے میرا تعارف کرایا ۔ انٹرویو شروع ہوا۔ میں نے پوچھا کہ یہاں شرپسند آپ کے خلاف ہنگامہ مچا رہے ہیں ‘ آپ نے پڑوسی ملک سے نشانِ امتیاز کیوں قبول کیا؟ انہوں نے جواب دیا: ہنگامہ مچانے والے بے وقوف اور نامعقول لوگ ہیں۔ ایک مفروضہ "دشمن” نے ہندوستان کو امتیازی درجہ دے دیا اور یہ احمق لوگ اس پر چیں بہ جبیں ہیں؟

مجھے یاد ہے کہ یہ انٹرویو بہت دیر تک چلا۔میں نے 12 سوالات کئے۔ دلیپ کمار نے ہر سوال کا تفصیلی جواب دیا۔ نئی دنیا میں یہ انٹرویو درمیان کے دو صفحات پر شائع ہوا۔ انٹرویو کے دوران کئی بار وہ بہکے بھی۔بھول گئے کہ انٹرویو دے رہے ہیں ۔سائرہ کو یاد دلانا پڑا کہ آپ انٹرویو دے رہے ہیں ۔ انٹرویو سے خوش ہوئے تو چائے پیش کی۔ اپنے ہاتھوں سے کپ میں نکال کر دونوں ہاتھوں سے "پکڑائی”۔ جب رخصت ہونے لگا تو کھڑے ہوگئے اور دونوں ہاتھوں سے میرے شانے پکڑ کر گویا ہوئے : میرا یہ پیغام پہنچا دیجئے اپنے قارئین تک کہ جب تک اردو زندہ ہے ہندوستانی مسلمانوں کی غیرت بھی زندہ ہے،ان کی ثقافت بھی زندہ ہے اور ان کا تاریخی کردار بھی زندہ ہے۔

آج اردو کی تابانی اور جلوہ سامانی کا یہ امین اس دنیا سے رخصت ہوگیا ۔انا للہ واناالیہ راجعون ۔دنیا میں انہیں وہ سب کچھ ملا جس کا کوئی فلمی اداکار تصور بھی نہیں کرسکتا تھا، لیکن وہ نہیں ملا جس کی خواہش یوسف اور سائرہ عمر بھر کرتے رہے ۔ ان کے ہمالیائی آنگن میں کوئی معصوم کلی نہ کھِل سکی۔ الله کی قدرت اپنے مظاہر مختلف انداز سے دکھاتی ہے۔

قرآن کہتا ہے:

للهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-یَخْلُقُ مَا یَشَآءُؕ-یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ الذُّكُوْرَۙ (۴۹) اَوْ یُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّ اِنَاثًاۚ-وَ یَجْعَلُ مَنْ یَّشَآءُ عَقِیْمًاؕ-اِنَّهٗ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ (۵۰)

الله ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی سلطنت’ پیدا کرتا ہے جو چاہے’ جسے چاہے بیٹیاں عطا فرمائے اور جسے چاہے بیٹے دے’ یا دونوں ملا دے بیٹے اور بیٹیاں’ اور جسے چاہے بانجھ کردے’ بےشک وہی علم و قدرت والا ہے۔