اردو کا موسمِ بہار-معصوم مرادآبادی

پچھلے ہفتے اپنے فیس بک دوستوں سے میں نے پوچھا تھا کہ مارچ کے مہینے میں اردو کی جتنی ترقی ہوتی ہے، اتنی سال کے دوسرے مہینوں میں کیوں نہیں ہوتی؟ مجھے خوشی ہے کہ اس سوال کا جواب سبھی دوستوں نے صحیح دیا اور انھوں نے وہی بات کہی جو میرے دل و دماغ میں تھی۔اس سے ایک تو یہ ثابت ہوا کہ میرے تمام دوست راہ راست پر ہیں اور وہ بھی میرے ہی انداز میں سوچ بچار کرتے ہیں۔اس کے علاوہ مجھے یہ بھی معلوم ہوا کہ انھیں بھی اردو زبان کے فروغ سے اتنی ہی دلچسپی ہے جتنی کہ مجھے۔کیوں نہ ہو، آخر اردو ہی ہمارا اوڑھنا بچھونا ہے۔ دنیاوی طور پرہم نے جو بھی ترقی کی ہے، وہ اسی اردو زبان کی رہین منت ہے۔ ہماری مادری زبان ہے اور ہمیں عزت واحترام عطا کرتی ہے۔ سبھی جانتے ہیں کہ اردو محض ایک زبان ہی نہیں بلکہ ایک تہذیب اور طرز معاشرت بھی ہے۔آج ہم جو کچھ بھی ہیں، وہ اسی پیاری زبان کی بدولت ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ جب اردو زبان ہمیں سب کچھ دیتی ہے تو ہم اس کے بدلے میں اردو کو کیا دیتے ہیں؟
اردو کے ممتاز مزاح نگار اور میرے کرم فرما مجتبیٰ حسین نے،جنھیں مرحوم لکھتے ہوئے کلیجہ منہ کو آتا ہے، سب سے پہلے یہ سوال اٹھایا تھا کہ”مارچ کے مہینے میں اردو کی جتنی ترقی ہوتی ہے، اتنی کسی دوسرے مہینے میں نہیں ہوتی۔ انھوں نے یہ بھی لکھا تھا کہ میں پورے سال سانسیں روک کر مارچ کے مہینے کا انتظار کرتا ہوں کیونکہ اس مہینے میں میرا بینک بیلنس اتنا بڑھ جاتا ہے کہ پھر پورے سال مجھے کچھ کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔انھوں نے اس بات پر بھی افسوس ظاہر کیا تھا کہ سال کے بارہ مہینوں میں مارچ ایک بار ہی کیوں آتا ہے، بار بار کیوں نہیں آتا؟“
بہرحال حقیقت یہ ہے کہ مارچ کے مہینے میں اردو کی ترقی اور فروغ کے تمام سرکاری ادارے اپنے خزانے کا منہ کھول دیتے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ مارچ کا مہینہ چونکہ مالی سال کا آخری مہینہ ہوتا ہے اور اس مہینے میں دیگر سرکاری اداروں کی طرح اردو اداروں کو بھی اپنا بجٹ ختم کرنا ہوتا ہے، اس لیے وہ بہت تیزی کے ساتھ اردو کے فروغ کا کام شروع کردیتے ہیں۔
ہاں آپ یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اس آپا دھاپی میں اردو کا فروغ ہوتا بھی یا نہیں؟ مارچ کے مہینے میں مختلف سرکاری اداروں اور اکیڈمیز کے ’مالی تعاون‘سے منعقد ہونے والے سیمیناروں کی اخباری رپورٹیں پڑھ کر آپ بخوبی اندازہ لگاسکتے ہیں کہ ان میں شرکت کرنے والے اور انھیں منعقد کرنے والے بیشتر لوگ وہ ہوتے ہیں جن کا اردو زبان سے بس واجبی رشتہ ہوتا ہے۔ان کے نام اور کام کا تذکرہ بھی صرف مارچ کے مہینے میں ہی سنائی دیتا ہے۔ باقی کے گیارہ مہینے یہ تنظیمیں کہاں روپوش ہوجاتی ہیں، کسی کو نہیں معلوم۔نہ تو ان این جی اوز کے نام اردو میں ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کی کوئی اردو خدمات ہوتی ہیں۔یہاں تک کہ بعض پروگراموں کے بینر تک اردو میں نہیں ہوتے۔ سب سے زیادہ حیرت ان سرکاری اور نیم سرکاری اداروں پر ہے جو ان کی طرف سے بھیجے گئے سیمیناروں کے ’پرپوزل‘ کو بسروچشم قبول کرلیتے ہیں اور ان کے ناتواں کاندھوں پر ایک عدد سیمینار کی ذمہ داری ڈال دیتے ہیں۔سننے میں تو یہاں تک آیا ہے کہ یہ تنظیمیں اس حد تک خانہ پری کرتی ہیں کہ اپنے ہی عزیز واقارب کو بطور مقالہ نگار مدعو کرکے اور اپنے خاندان والوں کو صف سامعین میں بٹھاکر تصویریں کھینچ کر متعلقہ اداروں کو ایک عدد کارروائی رپورٹ کے ساتھ بھیج دیتی ہیں تاکہ انھیں بجٹ ریلیز کیا جاسکے۔
یہاں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اس قسم کے سیمیناروں سے اردو کا فروغ کس حد تک ہورہا ہے۔ جب سبھی لوگ یہ جانتے ہیں کہ یہ سیمینار محض خانہ پری کے طورپر منعقد ہوتے ہیں اور ان کے شرکاء بھی غیر متعلق ہوتے ہیں تو پھر انھیں اردو کی ترقی کا بجٹ جاری کرنے سے فائدہ کیا ہے؟بلاشبہ ریاستی اردو اکادمیاں اور فروغ اردو کے مرکزی ادارے اردو زبان و ادب کو فروغ دینے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ لیکن یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ ادارے مٹھی بھر اردو والوں کی ترقی اور فروغ کا ذریعہ بن کر رہ گئے ہیں۔اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ آج اردو زبان ملک کی کئی ریاستوں میں ناگفتہ بہ حالت میں ہے اور وہاں اس کی تعلیم وتدریس کا نظام درہم برہم ہوکر رہ گیا ہے۔ ان صوبوں میں پہلا نام ملک کے سب سے بڑے صوبے اترپردیش کا ہے، جہاں سرکاری سطح پر اردو تعلیم کا کوئی بندوبست نہیں ہے۔ اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ اترپردیش میں جہاں پرائمری سطح کے لاکھوں اسکول ہیں وہاں، اردو میڈیم کا ایک بھی سرکاری اسکول نہیں ہے۔یہاں دہلی میں بھی اردو میڈیم اسکولوں کی حالت زار کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جن صوبوں میں اردو تعلیم کا نظام بہتر حالت میں ہے، وہاں اردو زبان خوب پھل پھول رہی ہے۔ اس سلسلے میں مہاراشٹر کی مثال دی جاسکتی ہے، جہاں سرکاری سطح پرہائر سیکنڈری سطح کے ہزاروں اردو میڈیم اسکول کامیابی سے چل رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اردو یہاں خوب ترقی کررہی ہے۔
ہماری تشویش کا پہلو یہ ہے کہ شمالی ہندوستان میں اردو والے تو ترقی کررہے ہیں، لیکن اردو زبان مسلسل روبہ زوال ہے۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اردو کے مسلسل زوال کے باوجودشمالی ہند میں اس وقت اردو زبان کے بقاء کی کوئی تحریک موجود نہیں ہے۔ ۰۹ کی دہائی میں پروفیسر ملک زادہ منظور احمداور رام لعل جیسے اردو کے مخلص شیدایوں نے ایک تحریک ضرور چلائی تھی جو ان کی موت کے بعد دم توڑ گئی۔کیا اس بات کی ضرورت نہیں ہے کہ ایک بار پھر یوپی میں اردو والے اپنی قوت کو مجتمع کرکے اردو کے بقاء اور ترقی کی ایک تحریک دوبارہ شروع کریں اور اردو کو اس کا کھویا ہوا وقار واپس دلائیں۔تازہ صورتحال یہ ہے کہ اترپردیش میں اردو کادمی کی تشکیل کا کام مہینوں سے ٹھنڈے بستے میں پڑا ہوا ہے۔کمیٹی کی عدم موجودگی کی وجہ سے اکادمی کے سارے کام ٹھپ پڑے ہیں۔ملک کا جو صوبہ اردو کا گہوارہ رہا ہے اور جہاں اس زبان اور تہذیب کی آبیاری ہوئی ہے، وہاں اردو سب سے زیادہ عدم توجہی کا شکار ہے۔اس میں قصور صرف حکومت کا نہیں ہے بلکہ ان لوگوں کا بھی ہے جو خود کو اس زبان اور تہذیب کا علمبردار کہتے ہیں اور ٹھنڈے پیٹوں اس صورتحال کو برداشت کررہے ہیں۔
اترپردیش اردو اکادمی ملک کی سب سے پرانی اردو کادمی ہے اور اس کے ساتھ کئی ایسی فتوحات وابستہ ہیں جو کسی اور اکادمی کے ساتھ نہیں ہیں۔ جن لوگوں نے اس کی صورت گری کی تھی وہ بڑے بیدارمغزلوگ تھے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اب اس اکادمی کی افادیت بھی ماند پڑنے لگی ہے۔ یہی حال دوسری اردو اکادمیوں کا بھی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کی ۶۱ ریاستوں میں سرگرم اردو اکادمیاں اپنے اپنے منشور پر نظر ثانی کریں، کیونکہ جس زمانے میں یہ اکادمیاں قائم ہوئی تھیں، اس وقت اردو کی حالت قدرے بہتر تھی، لیکن اب صورتحال قطعی مختلف ہے۔آج اردو کو سیمیناروں اور کانفرنسوں سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کی بنیادی تعلیم کا نظام بحال کیا جائے، جو کسی بھی زبان کی ترقی اور بقاء کی بنیاد ہے۔جب تک اردو کے نئے قاری نہیں پیدا ہوں گے، اس وقت تک اردو زبان کی ترقی اور تسلسل کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔اردو کو روزی روٹی سے جوڑنے کی بات بھی بہت اہم ہے، لیکن اس کو کس طرح عملی جامہ پہنایا جائے، اس پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔فروغ اردو کے سرکاری، نیم سرکاری اور نجی اداروں میں کچھ افراد کا تو بھلا ہورہا ہے، لیکن وہاں اردو کی مجموعی ترقی کے لیے کوئی ٹھوس کام انجام نہیں دیا جارہا ہے۔ سب سے بڑی ضرورت اردو کی جڑوں کو سیراب کرنے کی ہے نہ کہ پتوں کو پانی دینے کی۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*