اردو کا کلاسیکی ادب ـ عبد المتین منیری

ہر وہ علمی مواد جس کے مطالعہ میں آپ کی ذاتی دلچسپی نہ ہو، بلکہ کسی مجبوری اور ضرورت کے ماتحت کیا جارہا ہو،خشک مواد ہے،یہ مجبوری امتحان کی ہوسکتی ہے، سند کے حصول کی یا ملازمت کی ذمہ داریوں کی بھی ہوسکتی ہے ۔ یہ ہماری ذاتی رائے ہے، ہرکسی کو اس رائے سے اختلاف کا حق ہے،لیکن اپنے تجربہ اور مشاہدے کو دوسرے پر تھوپنے کا نہیں، ہماری یہ رائے چالیس سال سے زیادہ کے تجربہ اور مشاہدے پر قائم ہوئی ہے، جس کتاب کو آپ نہ پڑھنا چاہتے ہوں لیکن اسے پڑھنے پر مجبور ہوں، تو اس مجبوری کی تلخی کو وہی جان سکتا ہے، جسے اس مرحلہ سے گذرنا پڑتا ہے۔
ضروری نہیں کہ ہر کتاب یا مضمون ہر ایک کے لئے یکساں طور پر دلچسپ یا خشک ہو، ہر ایک کا اپنا ایک پس منظر ہوتا ہے، جس کا وہ اسیر ہوتا ہے، اب ہمارے مفتی صاحب ہیں، افغانستان کی پہاڑیوں میں میلوں پیدل پیدل بھوکے پیاسے چھان مار کر، نحو، بلاغہ، منظق اور فلسفہ پڑھا ہے،ان کے لئے یہ چیزیں دلچسپی کا باعث ہیں، اب یہ مواد زیادہ تر لوگوں کے لیے خشک رہے گا، جب دماغ تھک جائے، اور کچھ فارغ لمحات گزارنا چاہے تو یہ ان علوم کی بحثیں جیسوں کو جتنا بور کریں گی،انہیں بیان کرنے کی ضرورت نہیں، لہذا ہمیں اپنی بات پیش کرنے سے پہلے یہ دیکھنا چاہئے کہ سامنے والا اسے قبول کرنے کے لیے کتنا تیار ہے، یہ دعوت دین کا ایک بنیادی پہلو ہے۔
موثر اسلوب میں دینی علوم اور دعوت کو پیش کرنے کے لیے موثر اور سلیس اور عام فہم زبان کے استعمال پر قدرت کے لئے ادب پرعبور اورایک عالم دین کے اس سے تعلق کی ضرورت کو ہمیشہ محسوس کیا گیا ہے۔ اور شعور کے ساتھ اس مقصد کے حصول کے لیے جس ادیب کی کتابیں زیر مطالعہ ہوں ان کے صحیح العقیدہ ہونے کی شرط عموما ضروری نہیں سمجھی گئی ہے، یہی وجہ ہے کہ ابو الفرج الاصبھانی کی الاغانی اور جاحظ کی کتابیں آج تک اہل علم میں مقبول ہیں،قریبی دور میں عربی ادب کی ترویج کا سہرا دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کو جاتا ہے، اور اس کا باعث یہاں پر ڈاکٹر تقی الدین ہلالی مراکشی کی آمد اور ایک عرصہ تک تدریس سے وابستگی ہے، ان کے بعض ہندوستان شاگردوں نے ان کے ادیب ہونے کی شبیہ کو زیادہ اجاگر کیا ہے، اور ان کی زندگی میں عقیدے کے پہلو پر روشنی ڈالنے سے احتراز کیا ہے، ہماری معلومات کی حد تک عالم عرب میں ان کی پہچان ایک ادیب کی نہیں بلکہ کٹر بدعت مخالف، غیر مقلد اور وہابی العقیدہ عالم دین کی ہے، ان کے شاگرد رشید مولانا مسعود عالم ندویؒ نے اپنی کتاب دیار عرب میں چند ماہ میں جگہ جگہ عقیدہ اور فروع میں ان کی شدت کا ذکر کیا ہے۔
ڈاکٹر ہلالیؒ مرحوم نے اپنے شاگردان مولانا مسعود عالم ، مولانا سید ابو الحسن، مولانا ابواللیث، مولانا عبد الرحمن کاشغری، مولانا محمد ناظم ندوی وغیرہ کو عربی نثر پڑھانے کے لیے جو کتابیں منتخب کی تھیں ان میں اہم ترین، نہج البلاغہ اور رنات المثالث و المثانی ہے، پہلی کتاب ایک غالی شیعہ عالم شریف رضی کی ہے،اور طعن صحابہ کے جراثیم اس میں پائے جاتے ہیں، اور دوسری کریلا نیم چڑھے کی مثال ایک رافضی اور عیسائی پادری کی ہے۔
یہ بات چھپی ہوئی نہیں ہے کہ جب مولانا علی میاں رحمۃ اللہ علیہ نے ماذا خسر لکھی تھی تو آپ کے سامنے بطور نمونہ احمد امین کی فجر الاسلام تھی، جن کا فکری میلان اعتزال اور مستشرقین کی طرف تھا، اور جب اذا ہبت ریح الایمان لکھی تو سامنے الاغانی بطور نمونہ رہی۔
اس لیے ایک عالم دین کو جسے تصنیف و تالیف اور دعوت دین سے تعلق رہتا ہے، اسے موثر اور عام فہم اسلوب کے لئے گذرے ہوئے مقبول ادیبوں اور ان کے اسالیب سے استفادہ کرنا چاہیے۔ اگر کسی دینی جامعہ کا فارغ التحصیل اور افتاء سے سند یافتہ کو اتنا عرصہ حصول علم کے بعد بھی خود پر اعتماد نہ ہو، اور وہ بھلے اور برے کی پہچان نہ کرسکے، اسے باربار رہنمائی کی ضرورت پیش آئے تو یہ سوال اٹھنا فطری بات ہے کہ اس نے ایک دارالعلوم میں بہترین اساتذہ کے زیر سایہ اتنی مدت میں کیا حاصل کیا؟ کھلے دل کے ساتھ ان گذرے سالوں کا محاسبہ ہونا چاہیے۔
جہاں تک اردو ادب کی کلاسیکل کتابوں کی بات ہے تو ان میں دو مکاتب فکر کا غلبہ رہا ہے، ایک لکھنو کا اور دوسرا دہلی کا، جب ادب کی بات ہوگی تو پھر اس سے مراد قصے، کہانیاں، داستانیں، ناول، افسانے،خود نوشت، خاکے ، انشائیے، اور شعر وشاعری ہی شمار ہونگے، جن کی تخلیق انسانی دماغ سے ہوتی ہے، تفسیر، حدیث، فقہ اور تاریخ کا شمار ادب میں اس لئے شمار نہیں ہوگا، کہ ان میں نقل کا پہلو غالب ہے، تخلیقی پہلو مغلوب۔
بد قسمتی سے لکھنؤ کی نوابی دور حکومت میں جو ادب تخلیق پایا ہے ان میں ایرانیت اور شیعیت کا اثر زیادہ ہے، اور اس میں آورد اور تکلف کا پہلو غالب ہے، اس کے بالمقابل دہلی کا اسلوب ہے، جو لال قلعہ سے پروان چڑھا ہے،اور پھر اس کو فورٹ ولیم کالج کلکتہ سے تسلسل ملا ہے۔
دینی علوم ہوں یا تاریخ و تحقیق، جب تک اس میں ادبی اسلوب کا تڑکا نہ لگے انہیں پڑھنے میں دلچسپی نہیں ہوتی، اردو لٹریچر میں موجودہ ادبی اسلوب کا رائج کرنے کا سہرا سرسید احمد خان، حالی، شبلی، ڈپٹی نذیر احمد کو جاتا ہے، یہ دلی اسکول سے متاثر ہیں، اور آئندہ انہی کا اسلوب معیار سمجھا گیا ہے۔ دلی اسکول کی مقبولیت کا ایک بڑا سبب اس میں بے تکلفی اور آمد ہے، اس کے مقابلے میں لکھنو کے اسلوب میں تکلف اور آورد غالب ہے، اور مترادفات اور بھاری بھرکم الفاظ کی کثرت کی وجہ سے خاصی بوجھل ہوگیا ہے۔
ہماری محدود معلومات کی حد تک مکتبہ جامعہ نے حکومت کشمیر کے تعاون سے معیاری ادب سیریز کے عنوان سے آج سے چالیس سال قبل جو سلسلہ شروع کیا تھا، اردو کے ایک قاری کو ان کتابوں کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے، اب یہ کتابیں، اردو کونسل سے بھی چھپنی شروع ہوگئی ہیں،
ان کے علاوہ دہلی اکیڈمی سے چھپنے والی کلاسیکل ادب کی کتابیں بھی مطالعہ میں رہنی چاہئے۔ان کتابوں کے سلسلے میں یہ ہماری ایک عمومی رائے ہے۔
مسلمانوں کے عقیدے کی اسکریننگ اب چند سالوں سے جس شدت سے ہورہی پہلے ایسا نہیں تھا، لکھنو کی معاشرت میں ممکن ہے شیعی افکار کا غلبہ زیادہ رہا ہو، لیکن عموما اہل سنت کہلانے والوں کے عقیدے مہدی اور بارہ اماموں اور ان کی معصومیت کے استثنا کے ساتھ شیعیت سے متاثر رہے ہیں، محرم کے تعزئے، مجالس اور آگ کے الاو میں چلنے کے ناٹکوں کا رواج اہل سنت میں عام تھا۔ لہذا اردو کے کلاسکی ادب میں خالص اسلام تلاش کرنا بہت مشکل کام ہے، اور انہیں کلی طور پر ترک کرکے دعوت دین کا حق پورا کیا جائے یہ بھی ناممکنات میں سے ہے۔