Home نقدوتبصرہ ’ اردو ادب ‘ کا شاندار ’ اردو املا نمبر ‘ – شکیل رشید

’ اردو ادب ‘ کا شاندار ’ اردو املا نمبر ‘ – شکیل رشید

by قندیل

اگر مجھ سے کہا جائے کہ انجمن ترقی اردو ( ہند) کے سہ ماہی ترجمان ’ اردو ادب ‘ کے ’ اردو املا نمبر ‘ کی تعریف ایک لفظ میں کریں ، تو میں کہوں گا ’ لاجواب !‘ لاجواب اس لیے کہ اردو املا ایک ایسا موضوع ہے جس پر ایک ادبی رسالہ کوئی نمبر نکالنے کی سوچ بھی نہیں سکتا ، بالخصوص ایسا رسالہ جو افسانوں ، غزلوں ، نظموں اور تعریفی مضامین اور مقالات سے بھرا ہوتا ہے ، تحقیق جس کا مقصد نہیں ہوتا ۔ سوچ اس لیے نہیں سکتا کہ یہ ایک مشکل کام ہے ۔ اس کام کے لیے مواد کا جمع کرنا اور املا و زبان کے مسائل کے ماہرین سے لکھوانا اپنے آپ میں ایک پیشن Passion کا متقاضی ہے ۔ انجمن ترقی اردو ( ہند) کے جنرل سیکرٹری ، ’ اردو ادب ‘ کے مدیر اطہر فاروقی یہ کام اس لیے کر سکے ہیں کہ اردو زبان اور املے کے مسائل اور زبان کی سیاست ان کے خاص موضوع ہیں ، اور وہ ان مسائل کے حل کے تئیں ایک خاص جذبہ رکھتے ہیں اور مختلف پلیٹ فارموں سے انہیں حل کرنے یا حل کرانے کی کوششیں کرتے رہے ہیں ۔

’ اردو ادب ‘ کا ’ اردو املا نمبر ‘ اردو املے میں سدھار یا درستگی یا ساری اردو دنیا میں املے میں یکسانیت اور معیار بندی کی اب تک کی تمام کوششوں کی ایک تاریخ ہے ، اور یہ تاریخ ایک دو دن کی نہیں ہے ، یہ تقریباً سو برسوں کی کوششوں پر محیط ہے ۔ اس کے ذریعے ہم اردو املے میں سدھار کے سارے پس منظر سے واقف ہوجاتے ہیں ۔ اردو املا میں درستگی کا مطلب کیا ہے اور یہ کام کس طرح سے کیا جا سکتا ہے نیز املے کے مسائل کیا ہیں اور حروف کی صورتیں کیسے تبدیل کی جا سکتی یا ان سے چھیڑ چھاڑ کیوں نہیں کی جا سکتی ہے ، یہ وہ سوالات ہیں جو زبان کے ماہرین کے سامنے رہے ہیں ، اور انہوں نے غور و فکر کرکے بڑے خلوص کے ساتھ ان سوالوں کے جواب دینے کی کوششیں کی ہیں ۔ ماہرین کی کئی اہم تحریریں اس خاص شمارے میں شامل ہیں ۔ یہ شمارہ دو حصوں پر مشتمل ہے ۔ پہلے حصے میں ’ پہلا ورق ‘ کے مستقل عنوان سے مدیر اطہر فاروقی کا اداریہ ہے ، جسے ہر ایک اردو والے کو پڑھنا چاہیے ، اس اداریے پر آگے بات کریں گے ۔ ’ اردو املا ‘ کے عنوان سے رشید حسن خاں اور عبدالستار صدیقی کے دو اہم مضامین ہیں ۔ ان مضامین کی حیثیت ’ سفارشات ‘ کی ہے ۔ دونوں بزرگوں نے اردو املے کی یکسانیت کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے ، اس سوال پر بات کی ہے ۔ اسی حصے میں انجمن کی ’ اردو املا کمیٹی ‘ ( جنوری 1944) کی رپورٹ شامل ہے ، جسے مولوی سیّد ہاشمی صاحب فریدآبادی نے مرتّب کیا تھا ۔ اردو املے کی درستگی سے متعلق یہ رپورٹ اہم مانی جاتی ہے ۔ اس حصے میں اردو املے میں سدھار کے لیے انجمن ترقی اردو ( ہند ) کی سفارشات ’ سفارشاتِ اردو املا ‘ کے عنوان سے ، اور اسی عنوان سے ’ ادارۂ فروغِ قومی زبان ( اسلام آباد ) کی منظور کردہ سفارشات بھی شامل ہیں ، آخرالذکر کے مرتبّین رؤف پاریکھ ، انجم حمید ، عظمت زہرا ، منظور احمد ہیں ۔ انجمن اور اسلام آباد کے ادارے کی سفارشات پڑھ کر دونوں اداروں کی سفارشات میں یکسانیت بھی سامنے آجاتی ہے ، اور یہ بھی پتا چل جاتا ہے کہ املے کے سلسلے میں دونوں کے درمیان کن باتوں پر اتفاق نہیں ہے ۔

پہلا حصہ سفارشات کا تھا ، تو دوسرا حصہ ’ مباحث ‘ کا ہے ۔ اس حصے میں سفارشات سے پیدا ہونے والے اختلافات اور اتفاقات پر مباحث شامل ہیں ، یہ تمام ہی مباحث ، سوائے رؤف پاریکھ کے ، اُن اکابرین کے ہیں جو زبان کے عالم کہلاتے تھے ، مثلاً غلام مصطفیٰ خاں ( اردو املا کی تاریخ ) ، رفیع الدین ہاشمی ( صحتِ املا کے اصول ) ، فرمان فتح پوری ( اردو املا اور رسمِ خط ) ، خلیق نقوی ( اردو املا کے مسائل ) اور غلام رسول ( اردو املا کے مسائل کا حل ) ۔ محترم رؤف پاریکھ آج کے یعنی جدید دور کے عالم ہیں ، ان کا مقالہ ’ انگریزی الفاظ کا اردو املا : صوتیات کی روشنی میں ‘ انتہائی وقیع ہے ۔ ’ سفارشات ‘ کے حصے میں بھی رؤف پاریکھ کا ایک شاندار مضمون ’ انجمن کی املا کمیٹی ، اس کے ارکان اور اس کے افکار ‘ کے عنوان سے شامل ہے ، اس مضمون میں اردو املا کمیٹی (1943) کے پانچ صاحبان مولوی سیّد ہاشمی صاحب فریدآبادی ، پنڈت برج موہن دتاتریہ صاحب کیفی دہلوی ، مولوی وہاج الدین صاحب کنتوری ، ڈاکٹر عبدالستار صدیقی اور املا کمیٹی کی میٹنگ کے داعی ، مولوی عبدالحق کے مختصر سوانحی حالات ، ان کے علمی و ادبی کاموں کی مختصر تفصیلات اور املا و زبان کے ضمن میں ان کے افکار پیش کیے گیے ہیں ، ساتھ ہی مضمون نگار نے اپنے معروضات پیش کیے ہیں ۔ ایک مثال ملاحظہ کریں : کیفی صاحب کی تجویز ہے ، ’’ اعلام ( عیسیٰ ، موسیٰ وغیرہ ) کے سوا الف مقصورہ کا استعمال ترک کر دیا جائے ، جیسے مولانا ، جسے بعض عربی کے دلدادہ مولیٰنا لکھتے ہیں ۔‘‘ رؤف پاریکھ نے ’ معروضات ‘ کے تحت جو لکھا ہے وہ ملاحظہ کریں : ’’ الف مقصورہ ( ی ) کے ضمن میں انجمن ترقی اردو ہند اور رشید حسن خاں صاحب کا نظریہ اور عمل وہی ہے جو کیفی صاحب کا تھا لیکن پاکستان میں ادنیٰ ، اعلیٰ وغیرہ کو ادنا ، اعلا لکھنے پر عموماً لوگوں کو بہت تحفظات ہیں بلکہ پاکستان میں بعض لوگ عربی املا میں اس تبدیلی کے مضمرات مثلا انبیاء کے ناموں (مصطفیٰ ، موسیٰ ، عیسیٰ ) اور بعض مذہبی اصطلاحات ( مثلاً سدرۃ المنتہٰی ، من و سلویٰ ، بدرالدجیٰ ، شمس الہدیٰ ، عید الاضحیٰ وغیرہ ) میں تحریف کے خیال سے برافروختہ بھی ہو جاتے ہیں ۔ اس امر کا ہندستان کے بعض اہلِ علم کو بالکل اندازہ نہیں ہے کہ پاکستان میں بعض لوگ اس معاملے پر کتنے جذباتی ہیں ۔‘‘

اس شمارے کا اداریہ شاندار ہے ۔ اطہر فاروقی نے جہاں اداریے میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ’’ اردو کی معیار بندی کا مطلب یہ ہے کہ اردو کے علما الفاظ کی جن شکلوں پر بھی زبان و قواعد نیز دیگر زبانوں کے اردو زبان پر اثرات کو نظر میں رکھتے ہوئے متفق ہوں ، ان الفاظ کی ایک فہرست مرتب کرلی جائے تاکہ سب لوگ اردو الفاظ کو اسی یعنی ایک ہی طریقے سے لکھیں ۔ ایک لفظ کی دو شکلیں نہیں ہونی چاہییں جو اردو املا میں عام بات ہے ۔ دنیا کی شاید کسی زبان میں بھی ایک لفظ کو بغیر کسی وجہ کے دو طرح سے نہیں لکھا جاتا ۔‘‘

انہوں نے اعراب یعنی زیر ، زبَر ، جزم اور تشدید نیز اٖضافت پر بھی بات کی ہے ، اُن کا کہنا ہے کہ اعراب اور اضافت کے بغیر اردو زبان کے الفاظ کی ادائیگی میں مشکلات پیش آتی ہیں ، اس لیے ان کا استعمال ضروری ہے ، اس طرح الفاظ کی ادائیگی درست انداز میں ہو جاتی ہے ۔ انہوں نے انگریزی کے الفاظ کا اردو میں کیسے استعمال کیا جائے اس پر بھی بات کی ہے ۔ اطہر فاروقی رائے دیتے ہیں کہ انگریزی الفاظ کی جمع کا طریقہ انگیریزی قاعدے کے لحاظ سے ہی رکھا جائے ، مثلاً اگر پروفیسر کی جمع بنانی ہے تو پروفیسرز بنا سکتے ہیں ۔ یہ طریقہ پاکستان میں رائج ہے ۔ مجھے خوب یاد ہے کہ ایک بار مرحوم شمس الرحمٰن فاروقی دفتر آئے تھے اور کسی آپریٹر کو کسی انگیریزی لفظ کی جمع انگریزی قاعدے کے لحاظ سے بناتے دیکھا تو کہاتھا کہ ’ یہ لفظ اردو میں آیا ہے اس لیے اس کی جمع اردو قاعدے سے بنائیں ، مثلا اسکول ہے تو اسکولوں ۔‘ یہ بات مجھے یاد آ گئی اس لیے لکھ دی ، یہ کوئی مشورہ نہیں ہے ، فیصلہ ماہرین ہی کریں گے ۔ اداریے میں مزید بہت کچھ ہے ، مثلاً خواجہ احمد فاروقی اور رشید حسن خاں کی بات اور رشید حسن خاں کی مشہور کتاب ’ اردو املا ‘ اور آنجہانی گوپی چند نارنگ کی کتاب ’ املا نامہ ‘ کا ذکر ۔ ان باتوں کو پڑھ کر حیرت بھی ہوتی ہے اور افسوس بھی ۔ یہ ایک شاندار نمبر ہے ، لوگ اسے ضرور حاصل کریں ۔ اس کے صفحات 328 ہیں اور قیمت 150 روپے ۔ اسے فون نمبر 01123237722 پر حاصل کیا جا سکتا ہے ۔

You may also like