اردو اشرافیہ اور کلکتہ کے مسلم ادارے- ناہید اختر

ہرسماج میں ایک ایسا طبقہ ضرور ہوتا ہے جو معاشرے کا نمائندہ کہلاتا ہے اورخود کوقیادت وسیادت کیلئے سب سے اہل سمجھتا ہے ۔اسی طبقے کو ’’اشرافیہ ‘‘ کہتے ہیں ۔ عمومی طور پریہ  ’’اشرافیہ ‘‘ طبقہ اپنے معاشرے کے تمام وسائل واسباب پر قابض ہوتا ہے ۔ایسا بھی نہیں ہے کہ ’’طبقہ اشرافیہ‘‘ میں شامل ہونے والے صرف دولت مند ہی ہوتے ہیں ۔ بلکہ کم آمدنی والے بھی اس طبقے میں شامل ہوتے ہیں، جیسے بیوروکریٹ اور مذہبی لیڈران ۔اقتدارپر گرفت مضبو ط ، سیاسی گلیاروں میں اپنی پہنچ بنانے اور حکومتی دسترخوان پر بوٹیاں نوچنے کیلئے ’’اشرافیہ‘‘ مذہبی طبقے کی حمایت بھی حاصل کرتا ہے ۔یہ ’’نام نہاد مذہبی طبقہ ‘‘حقیقی مذہب اور اسلام کی نمائندگی کرنے والا نہیں ہے، بلکہ جبہ و دستار میں ملبوس مسندامامت پر متمکن یہ طبقہ مذہب سے زیادہ اپنے مفادات کی حفاظت کرنے والا ہوتا ہے ۔اسی طبقے کو شاعرنے ’’صوفی و ملا ہیں ملوکیت کے  غلام‘‘ سے تعبیر کیا ہے ۔
آزادی کے بعد اردو بولنے والوں میں بھی ’’اشرافیہ طبقہ‘‘پیدا ہوا،مگر اردو کایہ’’ اشرافیہ طبقہ‘‘ دیگر سماج و معاشرہ کے ’’اشرافیہ طبقہ ‘‘کے لئے بالکل الگ ہے،کیوں کہ دیگر سماج کا ’’اشرافیہ طبقہ‘‘اپنی ملت کےبنیادی مسائل سے بالکل بے خبر نہیں ہوتا بلکہ اپنی جڑاور مقصدسے وابستہ رہتا ہے،مگر اردو کا’’اشرافیہ طبقہ ‘‘ ملت کے نام پر تمام تر وسائل پر قابض ہے، لیکن اس کے باوجود اپنی جڑاور بنیادی مسائل سے بالکل بے خبر ہے۔مقصد حیات سے نہ صرف دور ہے بلکہ منافقت اور خودغرضی کا شکار ہے ۔اگر مسلمانوں کے دیگر طبقوں بنگالی، جنوبی ہندوستان کے مسلمانوں سے اردو داں طبقہ کا موازنہ کیا جائے تویہ حقائق اور کھل کرسامنے آجاتے ہیں ۔گزشتہ 70 سالوں میں اس طبقے نے خود غرضی اور منافقت کے علاوہ ملت کو کچھ نہیں دیا ہے بلکہ خود احتسابی کے جذبے سے بھی عاری ہے:
فطرت افراد سے اغماض بھی کرلیتی ہے
کبھی کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو معاف
جہاں تک کلکتہ کے اردو اشرافیہ کی بات ہے تو اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ 1986-87میں مڈل اسکول کے ایک ہیڈ ماسٹر نورالاسلام نے محض 11طلبا سے ’’الامین مشن ‘‘ کا آغاز کیا اور آج اس مشن کے تحت 60سے زاید تعلیمی انسٹی ٹیوشن ہیں اور 20ہزار سے زائد طلبا تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔یہاں سے کوچنک کرچکےسیکڑوں طلبا ڈاکٹر و انجینئر بن چکے ہیں ۔اس مشن کے تحت تین درجن سے زاید پرائمری اسکول قائم ہیں ۔الامین مشن سے کوچنگ کرنے والے درجنوں طلبا کاہر سال میڈیکل میں داخلہ ہوتا ہے۔دوسری طرف انہی سالوں میں’’ کلکتہ کے اردو اشرافیہ‘‘ نے لڑکیوں کے لئے کالج قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔اس کےلئے چندے ہوئے ۔اللہ اللہ کرکے شہر کے قلب میں ایک عظیم الشان عمارت بن گئی مگر 20سال سے زاید کا عرصہ گزر چکا ہے مگرصورت حال یہ ہے کہ اب کالج بند ہونے کے قریب ہے ،تین درجن سے زاید طالبات تعلیم حاصل نہیں کررہی ہیں ۔مگر سوال یہ ہے کہ جب دونوں الامین مشن نے ایک ساتھ سفر شروع کیا مگر بنگالیوں کا ’’الامین مشن ‘‘ ترقی کرکے کہاں سے کہاں پہنچ گیا مگر ’’اردو اشرافیہ ‘‘کا الامین ناکامی کا شکار ہوگیا۔آخر کیوں؟وجہ صاف ظاہر ہے کہ ایک الامین مشن کی قیادت ایک عام بنگالی تعلیم یافتہ شخص کررہا ہے اور کلکتہ کے ملی الامین کالج کو شروع سے ہی سیاست دانوں کی سرپرستی حاصل تھی۔ماضی کے سیاست دانوں میں قوم و ملت کے تئیں کچھ کرگزرنے کا جذبہ بھی تھا ۔ناکام سہی مگر ان لوگوں نے ادارے کھڑے کئے ہیں۔مگر آج کا ’’اشرافیہ طبقہ‘‘قوم وملت کی خدمت سے بالکل عاری ہے۔آج صورت حال یہ ہے کہ:
دیکھی گئی نہ میری بلندی کسی سے بھی
ہر شخص ہی انا کا خریدار ہے
ملی الامین کالج ’’اردو اشرافیہ کی بدعملی اور بدنیتی کا پورا مظہر ہے۔قوم و ملت کے درد اور غم میں ڈوبنے کا دعویٰ کرنے والے ’’اردو اشرافیہ‘‘ کیلئے ملی الامین کالج صرف سیاسی و سماجی مرتبہ اور حیثیت حاصل کرنے کا ذریعہ بن گیاہے۔یہ ظاہر کرتا ہے کہ اشرافیہ طبقہ اجتماعی مسائل سے بالکل لاتعلق ہے ۔بے حسی ، ہوا و ہوس ،گروہ بندی اور خود غرضیوں کا مرقع بن چکا ہے۔اسی وجہ سے آج ملی الامین کالج بربادی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔
کم وبیش یہی صورت حال اردو اسکولوں کا ہے ۔وقت گزرنے کے ساتھ اردو میڈیم اسکولوں کی صورت حال بد ترین ہوتی جارہی ہے ،اساتذہ کی قلت کی وجہ سے اسکولوں کا معیار سب سے نچلی سطح پر پہنچ چکا ہے اور کوئی اپنے بچے کو اردو میڈیم اسکولوں میں تعلیم دلانے کو تیار نہیں ہے ۔مگر ’’اردو اشرافیہ ‘‘کو اس صورت حال سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔دوسری طرف اردو اکیڈمی کی ممبر ی اور چیرمینی کےلئے سیاست دانوں کے تلوے چاٹے جارہے ہیں ۔کچھ لوگ اردو اکیڈمی کے خلاف آواز بھی بلند کررہےہیں اور بزعم خویش وہ اردو کے سپاہی ہیں مگر حقیقی صورت حال یہ ہے کہ انہیں اردو کی زبوں حالی سے زیادہ ممبری شپ نہیں ملنے کا غم ہے اس لئے حقیقی مسائل کو صحیح پلیٹ فارم پر اٹھانے کے بجائے پوری جدو جہد کو ’’ذاتی تنازع‘‘ میں تبدیل کردیا ہے اس لئے ان کی مہم چند افراد تک محدود ہوکر رہ گئی ہے ۔
رہی بات اردو ادیبوں اور شعرا حضرات کی تو ان بے چاروں کیلئے ایک عدد مشاعرہ اور ایک سیمینار میں مقالہ پڑھنے کی دعوت ہی کافی ہے ۔اگر مدعو کرلئے گئے تو تعریف کے پل باندھے جائیں گے اور اگر مدعو نہیں کئے گئے تو پھر اللہ کی پنا ہ۔مختصر یہ کہ اردو اکیڈمی اور اردو کے دیگر ادارے خیمہ بندی،ادبی انعامات کی بندر بانٹ،نمائش پسندی اور خوشامد پسندی کا مرکز بن گیا ہے اور پورا ماحول زہر آلود ہے ۔
ہندوستان کی آزادی سے قبل اسی’’ اردو اشرافیہ‘‘ نے انجمن مفیدالاسلام، اردو گرلز اسکول،اسلامیہ ہائی اسکول، اسلامیہ اسپتال، یتیم خانہ اسلامیہ ، سی ایم او ہائی اسکول اور محمد جان جیسے اسکول قائم کئے مگر آج ان تمام اداروں کے حصے بخرے کئے جارہے ہیں ۔سیاسی چبقلش کے مراکز ہیں ۔آزادی سے قبل مسلمان حکومت کی مدد کے بغیر اسلامیہ اسپتال قائم کرسکتےہیں ، شہر کے مختلف علاقوں میں اسپتال کیلئے زمین خریدی اور وقف کی جاسکتی ہے، مگر آزادی کے بعد اسی اسپتال کی تعمیر نو کےلئے حکومت سے بھیگ مانگنا پڑے تو اس سے بڑھ مسلمانوں کی محرومی کی با ت کیا ہوسکتی ہے۔یہ صرف اسلامیہ اسپتال کا رونا نہیں ہے تمام ملی اداروں کی صورت حال یہی ہے۔ایک طرف بنگلہ بولنے والے ہیں جو اپنے پیروں پر کھڑے ہورہے ہیں ۔گزشتہ 20سالوں میں درجنوں تعلیمی ادارے قائم کئے ہیں ۔الامین مشن، الفلا ح مشن ،انٹر نیشنل اسلامک اکیڈمی ،رحمانی اکیڈمی ،الازہر مشن ،الرحمان اکیڈمی ،العالم مشن ،المصطفی مشن اور فرنٹ پیج جیسے ادارے اس وقت کام کررہے ہیں ۔مگر کلکتہ کے اردو اشرافیہ نے نہ خود کچھ کام کیا اور نہ کسی کو کرنے دیا ہے۔اشرافیہ کی منافقت کا عالم یہ ہے کہ چند افراد کے ہاتھوں یہ تمام ادارے کھلواڑ بن چکے ہیں ۔ ایک ممبر پارلیمنٹ کی صاحب زادی نے اپنی دادی ماں کے انتقال پر اپنے اردو اخبار میں ’’انگریزی میں مضمون لکھا‘‘ ۔کیوں کہ اردو اشرافیہ کے گھر میں اردو پڑھنا اور پڑھانا عیب ہے، مگر اردو کے اداروں پر قبضہ جماکر اپنی سماجی حیثیت کو بڑھانے میں کوئی دقت نہیں ہے۔
افسو س اس بات کا بھی ہے کہ نوجوانوں کی جونئی اشرافیہ پیدا ہورہی ہے وہ بھی نمود ونمائش اورشور وغل اور ہنگامہ آرائی کے ذریعہ ہی ترقی کرنا چاہتی ہے ۔ساری تگ و دو کا ماحصل اخبارات میں فوٹو شایع ہوجانا اور یوٹبیا جرنلز م نے تو کام اور آسان کردیا ہے۔اب وقت آگیا ہے کہ اردو اشرافیہ کی اس منافقت کے خلاف آواز بلند کی جائے اور اس کا محاسبہ کیا جائے، اس سے سخت سوالات پوچھے جائیں کہ کیا آپ اپنی بچیوں کو ملی الامین کالج میں پڑھانا پسند کریں گے؟ اگر نہیں ہے تو پھر کس بنیاد پر ان اداروں میں بیٹھے ہوئے ہیں ۔تمام محرومیوں اور ناکامیوں کا ان سے حساب مانگا جائے ۔اگر اردو کا عام طبقہ یہ کرنے میں ناکام رہا تو پھر اردو زبان کی بدحالی و بربادی سے کوئی بھی روک نہیں سکتا ہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*