اردو افسانوں میں ہندواساطیر-پروفیسرابوبکرعباد

شعبۂ اردو،دہلی یونیورسٹی،دہلی

bakarabbad@yahoo.co.in

اساطیر کی دنیا، فکشن کی دنیا کی طرح ہی بے حد وسیع ، حیرت ناک،سحرانگیز، دلکش ،پیچیدہ اور متنوع ہے۔ یہ ایک ایسی دنیا ہے جس میںبوالعجبی بھی ہے، بوقلمونی بھی۔کہ اس دنیا میں علم سے زیادہ عقیدے کی کارفرمائی ہوتی ہے، یقین پر گمان کو فوقیت حاصل ہوتی ہے ، عقل پر عشق کو ترجیح دی جاتی ہے اور منطق کے مقابلے میںممکنات کا سکہ چلتا ہے۔ اساطیری واقعات اور کردار ابتدائی انسانی زندگی کی طرز،ضرورت، اس کے تخیل،تصور، عقیدت ، نفسیات اور جغرافیائی حالات کی پیداوار ہیں۔ہر ملک، مذہب اورقوموں کی اپنی اساطیری حکایات و روایات ہیں، جن میںان کے فن ، عقیدے اور فلسفے نے اولین شکلوں میں اپنا اظہار کیا۔اساطیری کردار بالعموم دیوی، دیوتا، فوق الفطرت ہستی،مذہبی ،تاریخی ، نیم تاریخی ،تخیلی، یا روایتی ہیرو(بشمول ہر نوع کے جاندار) ہیںجو بہر طور عام انسانوں یا جانداروں سے مختلف اور عظیم تر ہوتے ہیں ۔تمام اساطیری کرداروں کی کوئی نہ کوئی کہانی ہوتی ہے ، یاکہانیوں میںیہ مخصوص کردارکی حیثیت رکھتے ہیں۔یہ اساطیر، یا دیومالائیںاپنے علاقے، مذاہب اور تہذیب و تمدن کے لوگوںکے علم،عقیدے ، فکر اور رجحان کی غماز ہوتی ہیں۔ان کے قصوںمیں تحیر ، تجسس،رزم، بزم اور عیاری کی دلکشی کے علاوہ علم وفضل اور شجاعت و سخاوت کی بھی داد دی جاتی ہے۔ اس کے بیانیے میں غلوکا غلبہ،ناقابل یقین صداقت اور پر اسراراور غیر منطقی واقعات کی بھرمار ہوتی ہے ۔ ساتھ ہی حیرت انگیز مہمات اور فنی جمالیات کا فشار رنگ ہمارے مختلف جذبات و احساسات کو بیدار، مہمیز،گدازاور آسودہ کرتا ہے ، ان کے تزکیے اورتطہیر کا سامان بہم پہنچاتا ہے۔

اساطیری کرداروں، داستانوںاور کارناموںکا سب سے بڑا، اہم اور قابل ذکر ذخیرہ یونان کی سرزمین کو کہنا چاہیے۔ روم، مصر،چین اور جاپان وغیرہ کی بھی اپنی حیثیت مسلم ہے۔لیکن ہمارے ہندوستانی دیو مالائی(اساطیری) کرداروںاور کہانیوں کے عجائب خانے بھی ان تہذیبوںسے دل کشی،تجسس ،تحیر اور ثروت مندی میں کسی طور کم نہیںہیں۔ اروند اڈیگا کے مشہور ناول ’دی وھائٹ ٹائیگر‘ کا کردارناول کے ابتدائی صفحات میں کہتا ہے کہ :

’’ ہمارے قدیم اورمہذب معاشرے میںیہ طریقہ ہے کہ کسی عظیم قوت کے نام سے کہانی شروع کی جاتی ہے۔سو مجھے بھی اپنی کہانی کے آغاز سے پہلے کسی بھگوان کی ارچنا کرنی چاہئے ۔ لیکن میرے پاس متعدد متبادل ہیں۔یہ کہ ایک خدا مسلمانوں کا ہے، تین خدا عیسائیوں کے اورتین کروڑ ساٹھ لاکھ بھگوان ہندوؤں کے ہیں ۔‘‘

سو یقین کیجیے کہ ہم ہندوستانیوں کے پاس عالمی پیمانے کی کہانیاں بھلے ہی بہت زیادہ نہ ہوں،لیکن محض ان اساطیری کردار وں کی تعداد؛جنھیں بھگوان یا دیوی،دیوتاؤں کی حیثیت حاصل ہے، زائد از تین کروڑ ساٹھ لاکھ ہے۔ظاہر ہے ان میں سے ہم نے بہتوں کو فراموش کر دیا ہے،بہت سے ہمارے مقدس صحیفوں مثلاً گیتا، رامائن،وید اور جاتک کتھاؤں کے اتھاہ سمندر میں بند ہیںاور متعدد کرداروں اور قصوں سے ہم’ رامائن‘ اور’ مہابھارت‘ جیسے ٹی۔وی سیریلز اوردیو مالائی فلموں کے ذریعے واقف ہوچکے ہیں۔ عالمی اور علاقائی شعروادب نے بھی ان کرداروں کو بڑی فراخدلی سے اپنے صفحۂ قرطاس میں جگہ دی ہے۔سو، دوسری زبانوںکے ادبیات کی طرح اردو شاعری، اردوفکشن بالخصوص افسانوں میںانھیں کثرت سے مرکزی حوالہ بنایا گیا، انھیں فن کے قالب میں ڈھالا گیا،علامت ، استعارے اور تمثیل کے بطور پیش کیا گیا ، ان کی تشکیل جدید کی گئی اور ان سب کی اپنے عہد سے مطابقتیں پیداکرنے کی کوششیں کی گئیں۔اس عمل سے جہاں ایک طرف اردو افسانے کا فنی کینوس وسیع ہوا، موضوع میں تنوع ،فکرمیںگہرائی اور پیچیدگی آئی اور بیانیے میںرمز، کشش اور تہہ داری پیدا ہوئی تو دوسری طرف اساطیری کردار تخلیقی ذہنوں میں ازسرنو دریافت ہوئے اور عقیدے سے الگ ہوکر ان کی ادبی جہتیں تلاش کی گئیں۔ اس طرح یہ کردارقدیم زمانے اور عقیدے سے ہم آہنگ ہوتے ہوئے افسانے کے توسط سے جدیدذہن اور حال کی زندگی کا حصہ بنتے گئے۔

شاعری کے مقابلے اردو فکشن کی دنیا میں اساطیر، یااساطیری کرداروں کی آمد ذرا بعد میںہوئی۔گوکہ داستانوں میں یہ کردار علامتی، تمثیلی یا بدلے ہوئے ناموں کے ساتھ پہلے سے موجود تھے۔ اردو ناولوں میں بھی ان کا استعمال سلیقے سے ہوتا آیا ہے ، لیکن فی الوقت گفتگو محض افسانوں کے حوالے سے ہے ۔ سو،مختصر افسانوں میں ہندو اساطیر کو جن افسانہ نگاروں نے حاوی رجحان کے طور پر یا زندگی کی مخصوص صورت حال کی نمائندگی کے طور پربرتا ہے ان میں راجندر سنگھ بیدی، ممتاز شیریں ، انتظار حسین، سلام بن رزاق اور جوگندرپال وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔یوں بیشتر افسانہ نگاروں نے اسطورہ کو کسی نہ کسی حوالے سے اپنے افسانوں کا حصہ بنایاہے۔بعض افسانہ نگاروں نے اساطیر ی کرداروں کو اپنے عہد سے ہم آہنگ کرکے افسانے میں پیش کیا ہے ، بعض نے واقعات کو نئے پس منظر میںرکھ کر اور کرداروں کو معاصر صورت حال میں ڈھال کرانھیں نئے اوتار کا روپ دیا ہے ۔تو کچھ نے علامت اور استعارے کی صورت استعمال کیاہے۔اساطیری ناموںکو کرداری صفات،کنایے اورتلازمے کے طور پرافسانوں میں لانے کی مثالیں کثرت سے اور کافی پہلے سے موجود ہیں ،مثلاً اعظم کریوی کے افسانے’مایا‘ میں پاروتی اور رادھا وغیرہ کے صفاتی کردارموجود ہیں۔

یہ درست ہے کہ مختصر افسانوں کی حد تک اسطور کواسماء یا صفات کی منزل سے آگے بڑھ کر پہلے پہل راجندر سنگھ بیدی نے اپنے افسانے ’گرہن‘ میںبنیادی ساخت کے طور پر استعمال کیا۔لیکن یہ بات قطعاًدرست نہیں ہے کہ بیدی کے افسانوں میں اسطورکی دریافت سب سے پہلے پروفیسر گوپی چند نارنگ نے کی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ جس زمانے میں ہمارے بعض ناقدین بیدی سے بے اعتنائی برت رہے تھے ، ان کی زبان پر اعتراض کر رہے تھے،غیر ملکی افسانوں کے چربے کا الزام عائد کر رہے تھے اور ان کے نقائص گِنواکرا فسانے کی خامیوں میں شمار کر رہے تھے،اس زمانے میں سرور صاحب پہلے شخص تھے جنھوں نے معترضین کوافسانے اور شاعری کی زبان کے فرق سے نا بلد بتاتے ہوئے بیدی کی زبان کا دفاع کیا تھا،انھیں اہم افسانہ نگار کی حیثیت سے باضابطہ متعارف کرایاتھا۔ اور یہ بھی کہ آل احمد سرور نے ہی سب سے پہلے بیدی کے یہاں دیومالا اور اساطیر کومرکزی حوالے کی حیثیت سے دریافت کیا تھا۔ سرور صاحب کے مضمون ’’بیدی کی افسانہ نگاری:صرف ایک سگریٹ کی روشنی میں‘‘ سے یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیے:

’’ان (بیدی)کے یہاں شروع سے جذبات کی تیزی و تندی کے بجائے خیالات اور واقعات وتجربات کی ایک دھیمی لہر ملتی ہے جس کے پیچھے ایک گہرا فلسفیانہ احساس ہے مگر بیدی فلسفہ یا سیاست نہیں بگھارتے۔ ــــــــ۔۔۔۔۔پریم چند کی آدرشی حقیقت نگاری جو کرشن چندر کے یہاں ایک رومانی حقیقت نگاری نظر آتی ہے، بیدی کے یہاں ایک ایسی حقیقت نگاری بن جاتی ہے جو اسطور اور دیو مالا کے سیالوں کی وجہ سے حقیقت سے کچھ بڑی اور پھیلی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ ‘‘ (مشمولہ، فکر روشن،ایجوکیشنل بک ہائوس، علی گڑھ، 1995 ص191)

شاید یہاں اس حقیقت کے اعادے کی ضرورت نہیں ہے کہ بیدی کے افسانوں کا قرار واقعی اور سنجیدگی کے ساتھ جائزہ سب سے پہلے سرور صاحب نے ہی لیا تھا۔بعد میں ناقدوں نے بیدی کے دوسرے افسانوں مثلاً ’اپنے دکھ مجھے دے دو‘،’ببل‘، ’بھولا‘ اور ناولٹ ’ایک چادر میلی سی میںہندوستانی اساطیرکے تعلق سے بوجھل مضامین لکھے ۔گوکہ اہم ڈرامہ نگار اور ناقد ریوتی سرن شرما کا خیال تھا کہ بیدی ہندو دیومالا کو صحیح طریقے سے سمجھ نہیںسکے تھے ۔ مزید یہ کہ بیدی کے افسانوں میں ناقدین بطور خاص گوپی چند نارنگ کے ذریعے اساطیر کی استھاپنا اور ان پر تنقیدی مضمون، زبردستی کی کوشش ہے ۔فکشن کے اہم ناقد مظفر علی سید بھی انھی خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔اقتباس دیکھیے:

’’ڈاکٹر گوپی چند نارنگ جنھوں نے اپنے تنقیدی مقالات کے ذریعہ بیدی کے مطالعے کی اہمیت بتانے کا ’پنّیہ کاج‘سنبھال رکھا ہے۔دوسروں سے زیادہ ’’بیدی کے فن کی استعاراتی اور اساطیری جڑیں‘‘ ڈھونڈنے میں لگے رہتے ہیںاورجہاں نہیں ملتیں،وہاں بھی اپنی کھدائی سے نراش ہونا ان کو نہیں آتا۔‘‘ (عصری آگہی، دہلی، اگست ،1982 ، بحوالہ راجندر سنگھ بیدی کے افسانے ،ص، 234)

اب گوپی چند نارنگ کی تحریر سے ماخوذ،ذرا یہ اقتباس ملاحظہ کیجیے جسے مظفر علی سید نے اپنے مضمون میں اس التزام کے ساتھ نقل کیا ہے کہ،نارنگ صاحب کی ہر غیر ضروری کوشش کے بعد متن کے درمیان ہی قوسین میںانتہائی مختصر جملوں میں اپنی باتیں بھی کہتے جاتے ہیں:

’’ ہولی ایک نادار، بے بس اور مجبور عورت ہے۔اس کی ساس راہو ہے اور اس کا شوہر کیتو(یہ مثال ہے نقاد کے فنکار سے آگے نکل جانے کی!)جو ہر وقت اس کا خون چوسنے اور اپنا قرض وصول کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ ہولی کی سسرال سے مائیکے بھاگ نکلنے کی کوشش بھی گرہن سے چھوٹنے کی مثال ہے، لیکن چاند گرہن سے سماجی جبر کا گرہن زیادہ اٹل ہے۔ہولی گھر کے کیتو سے بچ نکلنے کی کوشش کرتی ہے تواسٹیمر لانچ کے کیتو(گویا دو کیتو ہوئے!)کتھو رام کی گرفت میں آجاتی ہے، جو اسے رات بھر کے لیے سرائے میں لے جاتا ہے اور اس طرح یہ خوبصورت چاند ایک گرہن سے دوسرے گرہن تک مسلسل عذاب کا شکار ہوتا ہے۔اس کہانی کی معنویت کا راز یہی ہے کہ اس میں چاند گرہن اور اس سے متعلق اساطیری روایات کا استعمال اس خوبی سے کیا گیا ہے(خوبی تو بجا مگر کس سمت میں کیا گیا ہے یہ بھی تو فرمائیے!) کہ کہانی کی واقعیت میں ایک طرح کی مابعد الطبیعیاتی فضا پیدا ہوگئی ہے۔‘‘(ایضاً، ص،234-235)

لیکن مظفر علی سید ’گرہن‘ میں مابعد الطبیعیاتی فضاکے ہونے کو تسلیم نہیں کرتے ۔لکھتے ہیں :

’’ایک طرح کی مابعدالطبیعیاتی فضا ‘‘سے مراد اگر وہ ڈانٹ ڈپٹ ہے جو بیچاری کو سرمہ لگانے اور آرام کرنے پر ملتی ہے۔۔۔ یا وہ پتی پتنی کی جدائی کی رسم ہے ۔۔۔۔۔ یا وہ مائیکے کی رسمیں ہیںجو اس سے دور ہو چکی ہیںاور اب وہ ان میں حصہ نہیں لے سکتی ۔اس کو مابعدالطبیعات سمجھنا بیدی کے اعلان کی پیروی سہی، مگر افسانہ اعلان سے الگ ایک دوسری چیز ہے۔‘‘(ایضاً، ص، 235)

گویا مظفر علی سید کے مطابق ’گرہن‘ کی تنقید میںگوپی چند نارنگ وہ باتیں کہہ رہے ہیں جو افسانے میں نہیں ہیں۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جب ’کیتو‘ ایک ہی ہے تو پھر ساس بھی کیتو اور ’کتھو رام‘ بھی کیتو کیسے ہو سکتا ہے۔اور آخری بات یہ کہ نارنگ صاحب جن باتوں کو ’مابعد الطبیعیاتی ‘ کہہ رہے ہیں وہ مابعد الطبیعیات نہیںبلکہ ساس کی ڈانٹ ،پھٹکار اور مائیکے سے قطع تعلق ہے۔ مظفر علی سید یہ سوال بھی کرتے ہیں کہ ’’ہولی کی مشابہت آپ کو کس دیوی یا دیو مالائی ناری میں نظر آتی ہے؟ پاروتی میں، دروپدی میں، سیتا میں، ستی ساوتری میں، یا رادھا میں؟‘‘ یہ ہوئی ’گرہن‘ کی بات ۔ نارنگ صاحب نے تو’ ایک چادر میلی سی ‘میں ’تلوکا‘ کو بھی بھیروں بتایا ہے، ’مہربان داس‘ کو بھی بھیروں کہا ہے،’گھنشیام داس کو بھی بھیروں کہا ہے اور’باواہری‘ کوبھی انھوں نے بھیروں کہا ہے۔ اسی طرح نوعمر جاترن کو بھی دیوی کااستعارہ بتایاہے۔ (آپ چاہیں تو اس تنقیدی طریقۂ کار کو ہر خوبصورت چہرے میںاپنے محبو ب کو دیکھنے کی خوش گمانی سے تعبیر کرسکتے ہیں)

حیرت نہ کیجیے کہ اسماء، صفات،علامت ، استعارے اور حوالے سے قطع نظرہندوستانی اسطور کو اردو افسانے میں باضابطہ اور مکمل طور پرسب سے پہلے ممتاز شیریں نے پیش کیا ہے۔اور غالباً ممتاز شیریںاردو کی پہلی افسانہ نگار ہیںجن کے یہاں تقریباً پچاس یونانی، ایرانی،عربی اور ہندوستانی اساطیری کرداروں کے نام آئے ہیں۔ان کے سہ ابعادی طویل مختصر افسانے ’’میگھ ملہار‘‘ کے دو حصے جو بذات خود الگ افسانوں کی حیثیت رکھتے ہیں؛ایک ’نیل کمل‘ اور دوسرا ’سرسوتی ‘ خالص ہندواسطور پر مبنی ہیں۔ دونوں افسانوں میں حسن اورموسیقی کی دیوی سرسوتی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔افسانہ ’’نیل کمل‘‘ میں سنگیت کی روح کو چھو لینے والا ایک فنکار جب پر سکون چاندنی رات میں اپنے ستار کی مدھر تان چھیڑتا ہے تو اس کی لے پر روپ اور سنگیت کی دیوی سرسوتی ناچ اٹھتی ہے اور فنکارکو فن کی دیوی کا حسین ترین انسانی روپ نظرآتاہے۔

’’پائوںاتنے پیارے، اتنے سندر، اتنے پاکیزہ اور شفاف جیسے تازہ کھلے ہوئے، جھیل میں نہاتے ہوئے کنول، نیل کنول… بہت ہی سندر لانبے بال جو گھٹنوں تک لہرا رہے تھے۔ منور چہرہ، گول اور بیضوی کا امتزاج، گول ٹھوڑی میں ننھا سا گڑھا، بھرے بھرے رخسار، گہری نشیلی آنکھیں، چاند سی پیشانی پر دمکتا ہوا ٹیکہ اور سرکے گرد ایک عجیب سی پر اسرار روشنی کا ہالہ، نیلی ساری میں لپٹا ہوا متناسب جسم۔ نازک کلائیوں پر موتیا کے گجرے، موتیا کی لڑیوں میں لپٹی ہوئی بانہیں۔ موتیا کی لڑیوں میں لپٹی ہوئی بانہوں کا لہرائو، بدن کے ہر ہر عضو میں بلا کی لچک۔۔۔۔۔۔۔۔(میگھ ملہار۔ مشمولہ سویر،ا لاہور، شمارہ ۹۱ تا ۱۲، ص۔۵۶)

’’نیل کنول‘‘ کا موضوع موسیقار کا داخلی کرب ہے جو اس کے جذبۂ عقیدت، پرستش اور تخلیقی عمل سے متعلق ہے۔ پورا افسانہ حسن اور موسیقی کی دیوی سرسوتی کی ہندو دیو مالا پر مرکوز ہے۔ یہاں ممتاز شیریں نے پلاٹ اور کردار نگاری کے روایتی طریقے سے انحراف کرتے ہوئے شاعرانہ حسن بیان کے ساتھ فنکار کے سوز و گداز کی اس کیفیت اور دیوی سرسوتی کے حسن کو بیان کیا ہے جس میں فنکار اپنی ذات سے نکل کر ابدیت کی حدود میں داخل ہوتا ہے۔

اسی طرح افسانہ ’’سرسوتی‘‘ کا مرکزی کردار اپنے گائوں کی ایک لڑکی رادھا کا عاشق شیام نام کا ایک نوعمر فنکار ہے جو نام نہاد سنیاسی سورداس کے دھوکے میں آکر حسن اور کلا کی دیوی سرسوتی کو انسانی روپ میںلاکر قید کروانے میں نا دانستہ طور پر اس سنیاسی سورداس کا آلۂ کار بن جاتا ہے۔ لیکن شیام کو جب اپنی غلطی اور گناہ کا احساس ہوتا ہے تو وہ ہوس پرست جادوگر سورداس کے چنگل سے مقدس دیوی کو آزاد کرانے کا عزم کر کے اس کی تلاش میں نگری نگری مارا پھرتا ہے۔ کافی عرصے بعد شیام کی ملاقات گھنے جنگلوں میں ایک خوبصورت دوشیزہ سے ہوتی ہے جو اسے مہمان کی حیثیت سے اپنی کٹیا میں ٹھہراتی ہے۔ شیام کے پوچھنے پر وہ اپنے بارے میں بتاتی ہے:

’’تم باور نہیں کروگے پردیسی، میں اپنے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتی اپنی پچھلی زندگی کے بارے میں کچھ بھی نہیں۔ مجھے صرف یہ بتایا گیا ہے کہ میں بدیسہ میں سرسوتی کے مندر کے کھنڈروں کے پاس بیہوش پائی گئی۔ اور یہ سنیاسی مجھے اٹھا کر یہاں لے آیا۔ تب سے میں یہیں رہتی ہوں۔‘‘

جنگل میں تنہا رہنے والی یہ خوبصورت دوشیزہ دراصل حسن اور موسیقی کی دیوی سرسوتی ہے جو ایک رات شیام کی بانسری کی دھن پر آکاش سے انسانی روپ میں اس کے سامنے آگئی تھی اور تب بہروپیا سنیاسی سورداس دیوی کو اپنے منتروں کے ذریعے قید کر کے یہاں اٹھا لایا تھا۔ بہروپیے نے اپنے منتروں کے زور سے دیوی کو قید تو کر لیا تھا لیکن بعد میں اسے بہت پچھتاوا ہوتا ہے اور وہ اپنے کیے کا توڑ معلوم کرنے کے لیے نگر نگر کی خاک چھانتا ہے اور بالآخر اسے وہ مقدس پانی مل جاتا ہے جس کے چھڑکنے سے دیوی اپنی اصلی حالت میں آسکتی ہے لیکن اس میں اتنی ہمت نہیں کہ دیوی کو آزاد کرنے کے لیے وہ اپنی جان قربان کر دے ۔کیوںکہ جو کوئی اس مقدس پانی کو دیوی کے انسانی روپ یعنی دوشیزہ پر چھڑکے گا وہ پتھر بن جائے گا۔چنانچے شیام اپنی جان کی قربانی دے کر دیوی سرسوتی پر مقدس پانی چھڑک کر اسے عیار سنیاسی کے جنگل سے آزاد کراتا اور خود پتھر میں تبدیل ہوجاتاہے۔ ’’سرسوتی‘‘ کے پلاٹ کی بنیاد ہندو دیومالا پر ہے۔ اس میں شیام اور رادھے کی معصوم اور پوتر محبت کی داستان کے علاوہ بہروپیے سورداس کے ہوس اور فریب کی بھی کہانی ہے جو اچاریہ پورنا بردھن کی زبانی سنائی گئی ہے۔پوری کہانی میں رمزیت ،رومان اور عقیدت کی فضا چھائی ہوئی ہے، اور فن اور فنکار پر فوکس کے باوجود محبت اور عقیدت کا موضوع غالب ہے ،جو اپنے دھیمے پن اور لطافت کی وجہ سے انتہائی اثر انگیز ہے۔

اپنے ایک اور افسانے ’کفارہ‘ میںبھی ممتاز شیریں نے کئی ایک اساطیری کردار کو شامل کیا ہے ۔اس افسانے میں ممتاز شیریں نے قدیم دیو مالائوں کو اپنے عصر سے ملانے یا کہیے انھیں موجودہ صورت حال سے تطبیق دینے کی جو کوشش کی ہے اس میں وہ بہت حد تک کامیاب ہیں۔ اس افسانے میں نیم بے ہوشی کی حالت میں مرکزی کردار کاتخیل یا اس کی روح مختلف مذاہب اور تہذیبوں کے سفر پر نکلی ہوئی ہے ۔ اس دورانیے میں وہ شیو جی،ناقص الخلقت بونے جسے شیو جی نے انگوٹھی بخش دی تھی،راجہ سوریہ ورمن،راج ہنسوں کی شہزادی اور مہاتما بدھ کی زیارت کرتی ہے۔ ایک چھوٹا سا اقتباس ملاحظہ کیجیے:

’’ نٹ راجہ دیوانہ واراپنا وحشیانہ موت کا ناچ ناچتا رہا۔اور پھر اپنی ایک ٹانگ رقص کے انداز میں فضا میں معلق کیے ہوئے دوسری ٹانگ پر کھڑا ہوگیا۔اس کا پیر انسان کی گردن پر تھا اور انسانی زندگی اس کے پیروں کے نیچے دم توڑ رہی تھی۔ہندوستانی نٹ راجہ شیوا کے زیادہ شفیق کمبوڈین پیکر میں ڈھل گیا ۔اس کے موٹے ہونٹوں پر ایک مہربان بلکہ ہوسناک تبسم تھا۔اس کے سر پر بالوں کی جٹائیںبل کھاتے ہوئے سانپوں کی طرح لپٹی ہوئی تھیں،جن پر نصف چاند کا ہالہ سجا ہوا تھا۔شیوا تخریب کا دیوتا تھا اس لیے تعمیرکا بھی دیوتا تھا کیونکہ موت ہی کی کوکھ سے زندگی نکلتی ہے۔‘‘(کفارہ۔ مشمولہ سوغات، بنگلور، ستمبر 1992، ص۔431-32)

’’کفارہ‘‘ کی تعمیر، خیال کا ارتقاء اور اس کی تکمیل بڑے فنکارانہ طریقے سے ہوئی ہے۔ یوں تو افسانے میں بظاہر تین دن کا وقت ہے جسے ایک رات بلکہ چند گھنٹوں میں سمیٹا گیا ہے لیکن افسانہ نگار کی خوبی یہ ہے کہ اس نے حال کو معلق کر کے تلمیحات و اساطیر کے ذریعے ماضی کی بازآفرینی کے عمل میں صدیوں کے وقت کو پھلانگنے کا ایسا کامیاب تجربہ کیا ہے جس کی مثال اردو افسانے کی تکنیک میں بہت کم ملتی ہے۔ شیریںکے تقسیم ملک کے موضوع پر لکھے افسانے ’بھارت ناٹیہ‘ میں بھی شیو، پاروتی اور گنیش جی کی تمثیل ہے۔

ہمارے عہد کے افسانہ نگارسلام بن رزاق نے بھی اپنے افسانوں میں ہندی اساطیر کا بڑا ہی عمدہ استعمال کیا ہے ۔اس حوالے سے ان کی تین کہانیاں بہت ہی اہم ، خوبصورت اور جدید عہد سے مطابقت رکھتی ہیں۔ ایک’ آج کا شرون کمار‘دوسری ’یک لویہ ‘ اور تیسری کہانی ’یک لویہ کا انگوٹھا‘۔ ’یک لویہ‘ کا آغاز اس طرح ہوتا ہے:

’’ہرنیہ دھنش بھیل اپنے اکلوتے لڑکے یک لویہ کو ساتھ لیے جنگل،بیابان،ندی،نالے،پہاڑ ، وادیاں طے کرتا ، ہفتے ، مہینوں کی صعوبتیں جھیلتااندر پرستھ پہنچ گیا۔‘‘در اصل ہریہ دھنش بھیل اپنے بیٹے کی اس ضد سے مجبور ہوکر شہر آیا تھاکہ وہ اسے گرودرونا چاریہ سے ملوادیںتاکہ وہ ان سے تیراندازی کی شکچھا لے سکے۔ جب یہ لوگ رنانگن کے دوار پر پہنچنے کے بعد پہرے دار کے پوچھے جانے پرآنے کی وجہ بتاتے ہیں تو ان سے دوار پال کہتا ہے:

’’چپ کر دشٹ!ایک پشاچ ہوکر مہاگرو دروناچاریہ کے درسن کرنا چاہتا ہے۔جانتا ہے تونے اپنی اپوتر زبان سے مہاگرو کا نام لے کرایک گھور پاپ کیا ہے۔اس پاپ کے بدلے تیرے منھ میں دس انگل لوہے کی سلاخ گرم کر کے گھسیڑی جا سکتی ہے۔‘‘

بہر حال حقارت اور ذلت سہتے دونوںباپ بیٹوں کی ملاقات گرو جی سے ہوجاتی ہے۔ گرو جی اسے بتاتے ہیںکہ دھنر ودّیا کیول کشتری کماروں کو سکھائی جاتی ہے ۔ بھیل کو اس ودیا کے سیکھنے کے جرم میں پران دنڈ دیا جاسکتا ہے۔ لیکن وہ یہ کہہ کر انھیں واپس بھیج دیتے ہیں کہ’’ یہ ہمارے نی یموں کے ورودّھ ہے۔ پرنتو تمھیں آشیرواد دیتے ہیں۔‘‘افسانے کے دوسرے حصے کا آغاز یوں ہوتا ہے :’’پھر یہ ہوا کہ ساڑھے تین ہزار برس کے بعدیک لویہ نے ایک غریب مزدور کے گھر میں جنم لیا۔اس مزدور کا نام بھی ہرنیہ دھنش تھا۔ یک لویہ جب پانچ برس کا ہوا توہرنیہ دھنش نے اسے ایک میونسپل اسکول میں داخل کیا ۔‘‘ وہ محنت سے پڑھتا رہا ۔ اس کی خواہش تھی کہ بڑا ہوکر ڈاکٹر بنے سو، ہائر سکنڈری میں اس نے ٹاپ کیا ۔اب اس کا باپ اسے لے کر ایک میڈیکل کالج میں جاتا ہے۔اتفاق سے گرو درونا چاریہ ہی کا لج کے پرنسپل تھے۔گروجی اس سے کہتے ہیں۔’’ہرنیہ آج بھی ہم مجبور ہیں۔‘‘ہرنیہ اسے بتاتا ہے کہ : ’’سرکار چھوٹا منھ بڑی بات۔اُس بکھت ہمارا جنم شدروں میں ہوا تھا۔مگر آج تو ہم شدر نہیں ہیں۔‘‘گروجی کہتے ہیں: ’’یہی تو گڑ بڑ ہے ہرنیہ،!زمانہ بدل چکاہے۔ تم آج بھی شدر یا ہریجن ہوتے تومیں آنکھیں بند کرکے یک لویہ کوبی ۔سی کوٹے میں سیٹ دے دیتا۔مگر اب اڑچن یہی ہے کہ تم شدر نہیں ہو۔‘‘

’’یک لویہ کا انگوٹھا ‘‘میں یک لویہ ۔دلت گھرانے میں جنم لیتا ہے ۔ شہر میںرہ کر پڑھتا ہے ۔اوربالآخر سناتن میڈیکل کالج کے ٹیسٹ اگزام میں کامیاب ہوجاتا ہے۔اس بار بھی کالج کے پرنسپل گرو درونا چاریہ ہیں۔ لیکن وہ یک لویہ کوبی،سی (Backward Class)کوٹے میں ایڈمیشن لینے سے روک نہیں پاتے۔ کورس پورا ہونے کے بعد گرو درونا چاریہ یک لویہ کواپنے آفس میں بلاکر کہتے ہیں:

’’یہ ایک وڈمبنا ہے کہ اتہاس نے ہمیں پھر اسی استھان پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ہم ہزاروں ورش پہلے کھڑے تھے۔ اس سناتن پرمپرا کے انوسار جس نے ہمیں گرو ششیہ کے رشتے میں باندھ دیا ہے۔ ہم تم سے وہی گرو دکشنا طلب کرتے ہیں جو تم نے پچھلے جنم میں ہمیں بھینٹ کی تھی۔‘‘

در اصل درونا چاریہ نے گرو دکشنا کا پانسہ اس لیے پھینکا تھا کہ یک لویہ دیا کی بھیک مانگے اورگروجی ترس کھاکراسے بخشش دیں۔ اس طرح یک لویہ عمر بھرخجالت اور احسان مندی کے دکھ میں مبتلا رہے اور گروجی کی پُرغرور انا آسودہ ہوتی رہے۔ درونا چاریہ یک لوّیہ کے فن کو نہیں اس کی خود اعتمادی، خودداری اور عزم و حوصلے کو ناکارہ بنانا چاہتے تھے۔لیکن پانسہ الٹا پڑا۔یک لویہ نے اپنے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ کر گروجی کو بھینٹ کر دیا۔اس واقعے کے بعد یک لویہ غائب ہوجاتا ہے۔گروجی کو ہمہ وقت یہ بات پریشان کرتی ہے کہ آخر یک لویہ چلا کہاں گیا۔پھرمطمئن ہوجاتے ہیں کہ یک لویہ اب کوئی آپریشن ، یا کسی طرح کی سرجری کرنے کے لائق نہیں رہ گیا ،سو خود کشی کرلی ہوگی یا کوئی اور کام کرتا ہوگا۔لیکن دس برس بعدایک صبح درونا چاریہ ہکا بکا رہ جاتے ہیں جب ان کا ملازم ایک وزیٹنگ کارڈ انھیں دیتے ہوئے کہتا کہ یہ صاحب آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔کارڈ پر لکھا تھا :ڈاکٹر یک لویہ ہرنیہ دھنش،فزیشین اینڈسرجن۔ پتہ لندن کاتھااور اس پر کئی ایک ڈگریاں لکھی ہوئی تھیں۔یک لویہ بتاتا ہے کہ کل ہونے والی کانفرنس میں اسے ایک اوپن ہارٹ سرجری ڈمانسٹریشن کے لیے بلایا گیا ہے، جسے تمام چینلز لائیو کاسٹ کریں گے۔درونا چاریہ حیرت سے پوچھتے ہیں’’بٹ ہاؤ اٹ از پاسبل؟‘‘یک لویہ جواب دیتا ہے:’’سر!آپ نے سناتن پرمپرا کے انوسار گرودکشنا میں مجھ سے سیدھے ہاتھ کا انگوٹھا مانگا تھا۔سو میں نے دے دیا۔مگر آپ کو معلوم نہیں کہ میں یساری(لیفٹسٹ)ہوں۔میں اپنے سارے کام بائیں ہاتھ سے کرتا ہوں۔حتیٰ کہ سرجری بھی۔‘‘

سلام بن رزاق کے افسانے ’ایک اور شرون کمار ‘ میں بھی یک لویہ کی طرح ہی ایک محنتی، جوان اور فرمانبردار ہندو دیومالائی کردارشرون کی زندگی کا نیا اوتار ہے۔اس افسانے میں بھی اس قدیم کردار کو جدیدعہد کی صورت حال سے بڑی خوبصورتی کے ساتھ نبرد آزما دکھایاگیا ہے۔افسانے کا آغاز اس طرح ہوتا ہے:

’’راجہ دشرتھ کے ہاتھوں شرون کمار کی موت کی خبرجنگل کی آگ کی طرح دیش بھر میں پھیل گئی۔لوگ شرون کمار کی سعادت مندی، خدمت گزاری اورفرمانبرداری پر عش عش کر اٹھے۔اور اس کی جواں مرگی کو یاد کرکرکے افسوس کرنے لگے۔۔۔۔۔۔۔۔اتفاق سے انھی دنوں پاس کی ایک بستی میں ایک اور شرون کما ررہتا تھا۔ اس کے ماتا پتا بھی ضعیف اور اندھے تھے۔۔۔۔۔البتہ اس کے ماتا پتا نے بہت پہلے اس کی شادی کردی تھی اور اب وہ ایک عدد بیوی کا شوہر اور چار عدد بچوں کاباپ تھا۔اس کی ایک بیوہ بہن بھی تھی۔جو اپنے شوہر کے ناوقت انتقال کے بعد سسرال والوں کے ظلم سے تنگ آکر بچوں کے ساتھ اس کے گھر آ ٹکی تھی۔وہ ایک ذمہ دار فرد کی طرح سب کی کفالت کررہاتھا۔‘‘

شرون کمار گھر والوں کی ضرورتیں پوری کرنے میں اپنا خون پسینہ ایک کرتا ہے،انھیں آرام پہنچانے کی خاطر جان توڑ محنت کرتا ہے،لوگوں کی گھڑکیا سہتا ہے، گالیاں سنتا ہے، ذلتیں اٹھاتا ہے اور اتنا سب کچھ کرنے کے بعد بھی ماں ، باپ، بہن، بیوی اور بچوںکی طنز میں ڈوبی باتیں سنتا ہے۔اس کے ماں باپ اسے مجبور کرتے ہیں کہ وہ ا نھیں بھی کاشی دھام لے جاکر گنگا اشنان کروائے۔ اس ضد میں اس کی بیوی، بہن اور بچے بھی ساتھ ہوجاتے ہیں۔وہ ایک گاڑی بنا کرسب کو اس میں بٹھاتا ہے اور بیل کی جگہ خود اس میں جت کر سفر پر روانہ ہوجاتا ہے۔اور پھر ندی، نالے، جنگل ، بیابان پار کرتا، آندھی، طوفان سے جوجھتا، موسموں کے تیور سہتا، رات ،دن سفر کرتا کاشی کی طرف بڑھتا جاتا ہے۔آخر وہ سریوندی کے جنگل میں اس برگد تک کے نیچے سب کو بٹھا تا ہے جہاں سورگیہ شرون نے اپنے ماتا پتا کو بٹھایا تھا۔ اور پھر وہ گھڑا لے ندی سے پانی لینے جاتاہے۔ جاتے ہوئے وہ سوچتاہے:’’کتنا اچھا ہو اگر آج کی رات بھی راجہ دشرتھ شکار کے لیے آئے ہوں۔اور آج بھی وہ غلطی سے تیر چلادیںاور تیر سیدھا میرے سینے میں پیوست ہوجائے ۔اور میں اس بوجھل، شکستہ اور اس ناقابل برداشت زندگی کے بوجھ سے نجات پاجاؤں۔‘‘لیکن نہ راجہ دشرتھ آتے ہیں ، نہ ان کا تیر آتا ہے۔

تسلیم کرنا چاہیے کہ اردو میں سب سے زیادہ اساطیری کہانیاں لکھنے والے فکشن نگار کانام انتظارحسین ہے ۔انتظار حسین نے اسلامی اساطیر کے ساتھ بودھ جاتک اور ہندو دیومالا کرداروںسے بھی اردو افسانہ کو ثروت مندبنایا ہے۔اسے دلکشی، وسعت اور فکر انگیزی بخشی ہے۔ کچھوے، پتے، واپس، رات،دیوار، آخری آدمی،کشتی اور نرناری جیسے افسانے اس کی عمدہ مثالیں ہیں۔ ہندو دیومالائی کرداروں میں انھوں نے سیتا، رام، وشنو، منو،اور مہابھار رت کے کئی اور کرداروں کو اپنے افسانوں میں سمویا ہے۔جوگندر پال کے بعض افسانوں میںبھی اساطیری واقعے خمیر کی صورت موجود ہیں۔انھوں نے اپنے افسانے ’عفریت‘ میں رام لیلا کے پس منظر میں راون کے کردار کودہشت گردی کا خوبصورت استعارہ بنایا ہے۔اسی طرح اردو کے دوسرے افسانہ نگاروں نے سیتا، رام، درگا، گنیش، راجہ کنس، رادھا، یشودھا،شری کرشن جی،ارجن، لکشمی اور متعدد ہندو اساطیر کو اپنے افسانوی کرافٹ میں ڈھالاہے۔یہی اردو زبان و ادب کی وسیع المشربی ہے،گنگا جمنی تہذیب کی علمبرداری ہے اوریہاں کے مذاہب و عقائد اور یہاں کی روایات سے محبت کی علامت ہے،ان سب کا زندہ ثبوت اور واضح دلیل ہے۔