اردو ادب و شعر کا ایک عہد تمام،بزرگ شاعر پنڈت گلزار دہلوی کا انتقال

نئی دہلی:اردو کے معروف اور بزرگ شاعر پنڈت آنند موہن زتشی گلزار دہلوی کی آج وفات ہوگئی۔ان کی عمر تقریباً ۹۳سال تھی۔اس ماہ کے شروع میں ہی موصوف کورونا سے متاثر ہو گئے تھے،جس کے بعد انھیں نوئڈا کے شاردا ہسپتال میں داخل کیاگیا تھااور ریکوری ہونے کے بعد انھیں پچھلے اتوار کو ڈسچارج کردیا گیا تھا۔ان کے بیٹے انوپ زتشی نے نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا کہ انھوں نے آج ڈھائی بجے کے قریب دوپہر کا کھانا کھایا اور کچھ ہی دیر بعد ان کی طبیعت بگڑی اور ان کا انتقال ہوگیا۔واضح رہے کہ گلزار دہلوی دہلی میں اردو زبان و ادب اور اردو تہذیب کی قدیم یادگار تھے۔وہ پنڈت تربھون ناتھ زتشی زار دہلوی کے صاحبزادے تھے،ان کے والداور والدہ دونوں شاعر تھے،ان کی والدہ کانام رانی زتشی تھا اور ان کا تخلص بیزار تھا۔گلزار دہلوی کی تعلیم دہلی یونیورسٹی اور پنجاب یونیورسٹی ،لاہور سے ہوئی تھی۔انھوں نے شاعری میں پنڈت برج موہن دتاتریہ کیفی اور سائل دہلوی وغیرہ کی شاگردی اختیار کی اور ذاتی محنت و لگن کی بدولت خود ایک منفرد لب و لہجے کے شاعر کے طورپر اردو دنیا میں شناخت حاصل کی۔انھوں نے کانگریس کے پلیٹ فارم سے تحریک آزادی میں بھی حصہ لیا تھا۔ان کی شاعرانہ خوبیوں کی تعریف مولوی عبدالحق اور خواجہ حسن نظامی سے لے کر دیگر دسیوں بڑے بڑے ادیبوں،ناقدوں اور شاعروں نے کی۔انھوں نے آزادی کے بعدہندوستان میں اردو زبان و ادب کو زندہ رکھنے میں قابل قدر کردار ادا کیا اور قومی و بین الاقوامی سطح پر اردو کی مشترکہ تہذیب کی نمایندگی کرتے رہے۔گلزار دہلوی کے متعدد شعری مجموعے بھی شائع ہوئے اور انھیں بیسیوں قومی و بین الاقوامی اعزازات سے بھی نوازا گیا۔ان کے انتقال سے حقیقی معنوں میں اردو دنیا میں ایک عظیم خلا پیدا ہوگیا ہے اور اردو کی جس مخصوص کلاسیکل دہلوی تہذیب کی وہ نمایندگی کرتے تھے،ان کے بعد بظاہر اس خصوصیت کا کوئی فرد نظر نہیں آتا۔گلزار دہلوی کے انتقال پر ادبی دنیا میں شدید رنج و غم کی کی لہر پیدا ہو گئی ہے ۔