اردو ادب کی تاریخ

 

مؤلف: پروفیسر ضیا ء الرحمٰن صدیقی (علی گڑھ مسلم یونیو رسٹی، علی گڑھ)

صفحات: ۲۹۱ قیمت: ۰۰۳

مطبع: لاہوتی پریس دہلی۔۸۱۰۲  

تقسیم کار: مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، اردو بازار، جامع مسجد، دہلی

مکتبہ جامعہ لمیٹڈ،شمشاد مارکیٹ علی گڑھ

کتب خانہ انجمن ترقی اردو، اردو بازار، جامع مسجد دہلی

تبصرہ: ثنا کو ثر (شعبہ اردو،علی گڑھ مسلم یونیو رسٹی، علی گڑھ)

 

قدیم زمانے سے اردو ادب کی تاریخ کو سمجھنے اور غور و فکر کا سلسلہ جاری ہے۔اس سے متعلق متعدد اہم کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔مختلف تاریخ نویس اور محققین کی معروف کتابیں موجود ہیں۔چند کتابیں کئی کئی جلدوں میں ہیں،جن کا مطالعہ ایک طالب علم کے لیے دشوار ہوتا ہے۔لیکن ادب کی تفہیم کے لیے اس کی تاریخ سے واقفیت اشد ضروری ہے۔اسی کے مدّ نظر پروفیسر ضیا ء الرحمٰن صدیقی نے اردو ادب کی تاریخ کے عنوان سے کتاب لکھی ہے، جو بی۔اے اور ایم۔ اے کے طلبا کے لیے مفید ثابت ہوگی۔

آٹھ ابواب اور ۲۹۱ صفحات پر مشتمل یہ کتاب سادہ اور عام فہم زبان میں لکھی گئی ہے۔ذیلی عنوانات کی درجہ بندی کرکے پروفیسر ضیا ء الرحمٰن صدیقی نے مطالعہ کو آسانی عطا کی ہے۔اس کے علاوہ خوش آئند بات یہ ہے کہ بہترین کتابت اور Clean Typing کی وجہ سے کتاب پڑھنے میں دشواری کا احساس نہیں ہوگا۔علاوہ ازیں Competition کی تیاری میں بھی یہ کتاب معاون ہوگی۔

باب اول میں اردو زبان کی ابتدا پر روشنی ڈالتے ہوئے اس کا رشتہ ہند آریائی زبانوں سے جوڑا گیا ہے۔اس میں قدیم ہند آریائی عہد،عہدِ وسطیٰ کی علاقائی زبانیں جیسے مہاراشٹری پراکرت، شورسینی پراکرت، ماگدھی پراکرت،اودھ ماگدھی، پشاچی پراکرت، جدید ہند آریائی دور اور اس کی علاقائی زبانیں جیسے اردو، ہندی، گجراتی، پنجابی، اودھی، راجستھانی، بنگالی، آسامی، اڑیا، مراٹھی اور سندھی سے متعلق اظہار خیال کیا گیاہے۔اس کے علاوہ اس باب میں اردو کی ابتدا سے متعلق ماہر لسانیات کے نظریات شامل ہیں۔مثلاً محمود شیرانی کا خیال ہے کہ اردو پنجابی سے نکلی ہے۔خسرو کے شعری کلام کا حوالہ دیتے ہوئے اردواور کھڑی بولی کے رشتے کو دکھایا گیا ہے۔ڈاکٹر محی الدین قادری زور کا نظریہ ہے کہ اردو ہریانوی کی دین ہے اور محمد حسین آزاد کے مطابق اردو نے برج بھاشا سے لسانی اثرات قبول کیے وغیرہ پرروشنی ڈالی گئی ہے۔ اسی باب کا آخری ذیلی عنوان اردو زبان پر عربی اور فارسی کے اثرات کے عنوان سے ہے۔جس میں اردو پر ہندآریائی زبانوں کے علاوہ لسانی اعتبار سے عربی اور فارسی کے اثرات نمایاں کیے گئے ہیں جس سے عربی اور فارسی سے آنے والی اردو اصناف کا مطالعہ باآسانی کیا جا سکتا ہے۔

باب دوم ’دکن میں اردو‘ کے عنوان سے ہے۔ اس باب میں مؤلف نے دکن کی بہمنی سلطنت،عادل شاہی اور قطب شاہی عہد کے شعرا اور نثر نگار کا تذکرہ کیا ہے۔اس کے علاوہ اس دور کے صوفیا اکرام کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے دکن میں بیجاپور اور گولکنڈہ کی ریاستوں کے زوال پر روشنی ڈالی ہے۔بعد ازاں دکنی اردو کی خصوصیات بتاتے ہوئے اس کی لفظیات کو بھی پیش کیا گیا ہے۔ ’شمالی ہند میں اردو‘ کے عنوان سے تیسرا باب قائم کیا گیا ہے۔جس کے ذیلی عنوانات دبستان دہلی، دبستان لکھنؤ، فورٹ ولیم کالج، دلّی کالج اور دارالترجمہ عثمانیہ حیدر آباد ہیں۔ کس طرح دکن سے اردو نکھرتی ہوئی شمالی ہند پہنچتی ہے اور دہلی و لکھنؤ میں شعرا و ادبا کے ذریعہ ہوئی اس کی نشو نما کا تذکرہ سلیس اور تاریخی انداز میں کیا گیا ہے۔فورٹ ولیم کالج میں ادبی خدمات انجام دینے والے عالم اور ادیبوں کی تصانیف کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔جس سے اس زمانے کی تصانیف سے متعلق ضروری معلومات فراہم ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ دلّی کالج کے اساتذہ، طالب علم اور علمی سرگرمیوں میں حصہ لیے والے حضرات کا تذکرہ کرتے ہوئے، اردو ادب کی تاریخ میں اس کی اہمیت بتائی گئی ہے۔بعد ازاں دارالترجمہ عثمانیہ حیدرآباد کی خدمات پرروشنی ڈالی گئی ہے۔

باب چہارم اردو کے سماجی و ثقافتی اداروں کی خدمات پر مشتمل ہے۔یہ باب اردو ادب کی تاریخ کو مکمل زاویہ عطا کرتا ہے۔مؤلف نے اس باب میں یہ خاص توجہ مرکوز کروائی ہے کہ سماجی و تہذیبی اصناف میں مشاعرہ، قوالی، چار بیت، مرثیہ خوانی، مجرے، غزل گائکی اور نثر میں داستان گوئی، قصے کہانیاں اردو اد ب کی ترقی و ترویج میں اہم مقام رکھتے ہیں۔باب پنجم ادبی رجحانات اور تحریکات پر مشتمل ہے۔اس حصہ میں مؤلف نے اردو شعر و ادب کی تحریکات اور ان سے متعلق ادبا و دانشور وں کے افکار کو عمدگی سے پیش کیا ہے۔مثلاً سر سید تحریک، رومانوی تحریک، ترقی پسند تحریک، ترقی پسند ادبی تحریک اور جدیدرجحان کو واضح کرنے کی کامیاب کوشش کی گئی ہے۔جس سے اس زمانے کی ادبی تصانیف اور بدلتے وقت، مزاج اور ضرورت کے تحت ہونے والے تغیرات کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔

باب ششم اور باب ہفتم ادبی اصناف کا احاطہ کیے ہوئے ہیں۔جن میں شعری اور نثری اصناف کا فرداً فرداً تذکرہ کرکے ان کے اجزائے ترکیبی اور خد و خال واضح کیے گئے ہیں۔مثلاً شاعری کی اصناف میں غزل، نظم، قصیدہ، مثنوی، مرثیہ، رباعی، قطعہ وغیرہ کی اساس، شعری ہیئتیں اور ان اصناف کے مشہور شعرا کے کلام کی مثالوں کے ساتھ شعرا کے حالات اور شعری خدمات کا تذکرہ بھی کیا ہے۔مؤلف نے اشعار کا انتخاب طلبا کے شعور اور مزاج کے مطابق کیا ہے۔جو مؤلف کی سہل پسندی اور بہترین استاد کی عمدہ مثال ہے۔ نثری ادب کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔افسانوی اد ب اور غیرافسانوی ادب۔افسانوی ادب میں داستان، ناول، افسانہ،ڈرامہ وغیرہ کی وجودیات اور روایات کو تاریخ کے اعتبار سے پیش کیا ہے۔مؤلف نے ان اصناف کی قدیم سرمائے سے لے کر موجودہ دور کی تصانیف کا بھی تذکرہ کیا ہے۔ اسی طرح غیر افسانوی نثر میں سوانح، مضمون، خطوط،انشائیہ اور خاکہ کی تاریخ اور روایت کو پیش کرتے ہوئے ان اصناف کے مشہور مصنفین کی خدمات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔اس باب کے ذیلی عنوان ادبی تنقید، میں تنقید کی تعریف کے علاوہ تمام تنقیدی دبستان کا تذکرہ بھی کیا ہے جس میں تنقید کے آغاز و ارتقا کے ساتھ تمام دبستانوں کے مشہور ناقدین کو بھی شامل کیا ہے۔ان میں رومانوی، تاثراتی، جمالیاتی، نفسیاتی،مارکسی، تاریخی اور سائنسی تنقید کے دبستان ہیں۔ علاوہ ازیں اس حصے میں مؤلف نے ضمنی طور پر تحقیق کی تعریف،آغاز و ارتقا اور اہم ترین محققین کی خدمات کاذکر کیا ہے۔اس تاریخی کتاب کی اہمیت طلباکے لیے اس لیے بھی اہم ہے کیوں کہ اس کی مدد سے مذکورہ بالا تمام اصناف کے اجزائے ترکیبی کے ساتھ ساتھ مصنفین کی ادبی خدمات بھی آسانی سے فراہم ہو جائے گی۔یوں تو اس سے قبل بھی یہ طریق کار اختیار کیا جاتا رہا ہے لیکن انداز بیان کے اعتبار سے اس کتاب کو مختلف کہنے میں کوئی گریز نہیں ہے۔

باب ہشتم عوامی ذرائع ترسیل یعنی ماس میڈیا کے عنوان سے ہے۔جس میں پرنٹ میڈیا،الیکٹرونک میڈیا، ترجمہ نگاری اور ترجمے کی روایت کو شامل کیا گیا ہے۔ مؤلف نے اردو ادب میں میڈیا اور صحافت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے اس کی ابتدا اور ترسیل و ابلاغ کے ذرائع یعنی خط، اخبارات،فلم،ٹیلی گرام، ٹیلی فون، ریڈیو، ٹیلی پرنٹر، فیکس مشین، انٹرنیٹ، ٹیلی وژن، وی سی آر، موبائل فون، سیٹ لائٹ اور کورئیرسروس وغیرہ نئی نئی ٹیکنولوجی کی معلومات یکجا کی ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے ترجمہ کی تعریف،اہمیت اور روایت کو استدلال سے بیان کیا ہے۔ترجمہ نگاری کے لیے قائم دانشگاہیں جیسے فورٹ ولیم کالج، دارالترجمہ شمس الامر حیدر آباد، ورنیکلر ٹرانسلیشن سوسائٹی دہلی، سائنٹفک سوسائٹی علی گڑھ، مہاراجہ رنبیر سنگھ کا دارالترجمہ جموں کشمیر، دارالترجمہ عثمانیہ حیدر آباد، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی اور دارالمصنفین کی ادبی خدمات کو اختصار سے مدلل انداز میں پیش کیا ہے۔

اس کتاب کا مطالعہ کرنے کے بعد مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے مؤلف کی یہ کوشش اس سلسلہ کی اہم اور مضبوط کڑی ثابت ہوگی۔جو طلبا کی دلچسپی کا سبب ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی علمی مدد کرنے میں معاون رہے گی۔آخر میں یہ کہنا بھی مناسب ہے کہ اس تاریخی کتاب کی اہمیت اور ضرورت کا اندازہ لگاتے ہوئے مکتبہ جامعہ نے اسے شائع کرنے کا ارادہ کیا ہے۔جو مؤلف کی محنت اور کوشش کو لازوال بنانے کے لیے کافی ہے۔

 

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*