اردو اکادمی، دہلی میں ترقی پسند ادیب و ناقدپروفیسر علی جاوید کے انتقال پر تعزیتی نشست کا انعقاد

 

نئی دہلی:اردو اکادمی، دہلی کے دفتر میں مشہورترقی پسند ادیب و ناقد اور اردو اکادمی، دہلی کی گورننگ کونسل کے سابق ممبرپروفیسر علی جاوید کے انتقال پر ایک تعزیتی نشست کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر سکریٹری اردو اکادمی، دہلی محمد احسن عابد نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اردو زبان و ادب کے ممتاز ادیبوں و ناقدوں کی اس دنیائے فانی سے رخصتی کا سلسلہ جاری ہے۔ کل پروفیسر علی جاوید جن کو ان کے چاہنے والے کامریڈ کہا کرتے تھے، ہم سے رخصت ہوگئے۔ ان کے انتقال سے پوری اردو دنیا سوگوار ہے۔ چند روز قبل برین ہیمبریج کے بعد انھیں نازک حالت میںمیکس اسپتال میں داخل کرایا گیاتھا، بعد میں پنت اسپتال میں داخل کیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے اور اپنے مالکِ حقیقی سے جا ملے۔ سکریٹری اکادمی نے اظہارِ افسوس کرتے ہوئے اسے اردو ادب کے ایک بڑے خسارے سے تعبیر کیا اور ان کے پسماندگان جن میں اہلیہ کے علاوہ دو بیٹے اور دو بیٹیوںسے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے ان کی مغفرت کی دعا کی۔

پروفیسر علی جاوید یکم جنوری 1954 کو قصبہ کراری ضلع الہٰ آباد میںپیدا ہوئے۔ وہ اپنی طالب علمی کے زمانے میں ہی آل انڈیا اسٹوڈنٹ فیڈریشن سے وابستہ ہوگئے تھے اور تاعمر بائیں بازو کی تحریک سے وابستہ رہے۔ مرحوم نے انجمن ترقی پسند مصنفین کے صدر کی حیثیت سے بہت اہم خدمات انجام دیں اور اساتذہ کی تنظیموں اور دہلی کے ادبی اور سیاسی حلقوں میں اس سوچ کی نمائندگی کرتے رہے۔ انھوں نے جے این یو سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ ان کا تحقیقی مقالہ ’’برطانوی مستشرقین اور تاریخ ادب اردو‘‘ تحقیق و تنقید کا بہترین امتزاج ہے۔ یہ کتاب اپنی نوعیت کے لحاظ سے روایتی تحقیقی مقالات سے منفرد ہے۔ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی نے انھیں مذکورہ موضوع پر 1983 میں پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض کی تھی۔ پروفیسر علی جاوید قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان کے ڈائرکٹر بھی رہے۔ ان کی سربراہی میں قومی کونسل نے خوب ترقی کی۔ مرحوم پہلے ذاکر حسین دہلی کالج سے بحیثیت لیکچرار وابستہ ہوئے پھر دہلی یونیورسٹی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر کی حیثیت سے وابستہ ہوئے۔وہاں انھوں نے طویل عرصہ تک تدریسی خدمات انجام دیں اور آخر میں پروفیسر ہوکر ریٹائر ہوئے۔ وہ بے انتہا ملنسار اور محبت والے شخص تھے۔ کھری اور صاف بات کرنا انھیں پسند تھا۔ ان کی ہردلعزیزی کا یہ بھی ایک اہم سبب ہے۔

ان کی تصنیفات و تالیفات میں ’’افہام و تفہیم‘‘، ’’جعفرزٹلی کی احتجاجی شاعری‘‘، ’’کلاسیکیت اور رومانیت‘‘، ’’داستانوی ادب‘‘، ’’برطانوی مستشرقین اور تاریخ ادب اردو‘‘ خصوصیت سے قابلِ ذکر ہیں۔اس غم و اندوہ کے موقع پر اردو اکادمی، دہلی کے وائس چیئرمین حاجی تاج محمد نے ان کے پسماندگان سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے اسے اردو ادب کا بہت بڑا نقصان قرار دیا۔ اکادمی کے اسٹاف نے بھی اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے ان کی مغفرت کے لیے دعا کی۔