اردو اکادمی،دہلی میں شمس الرحمن فاروقی کی رحلت پر تعزیتی نشست

دہلی:اردو زبان و ادب اور دبستانِ تنقید کا دورِ حاضر کا سب سے بڑا ستون بھی گرگیا۔ پروفیسر شمس الرحمن فاروقی 25؍دسمبر کو بہ عمر 85 سال داغِ مفارقت دے گئے۔ ان کے انتقال پر ملال پر اردو اکادمی، دہلی میں ایک تعزیتی نشست کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر اکادمی کے سکریٹری محمد احسن عابد نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ شمس الرحمن فاروقی کا دنیا سے اٹھ جانا نہ صرف ادبی دنیا کا بہت بڑا خسارہ ہے بلکہ پوری اردو برادری کے لیے ایسا صدمۂ جانکاہ ہے، جس سے ابھرنے میں بہت وقت لگے گا۔ اردو اکادمی، دہلی کی جانب سے انھیں اپنے سب سے بڑے اعزاز ’’کل ہند بہادر شاہ ظفر ایوارڈ‘‘ سے 2002 میں نوازا گیا، اس کے علاوہ انھیں ملک کے ایک بڑے ادبی ایوارڈ ’’سرسوتی سمان‘‘ سے بھی سرفراز کیا جاچکا ہے اور حکومتِ ہند کی جانب سے پدم شری بھی دیا گیا ہے۔
ان کی درجنوں کتابیں اس بات کی شاہد ہیں کہ انھوں نے اردو ادب کے اکثر اصناف کا نہ صرف نہایت گہرائی سے مطالعہ کیا، بلکہ ان کی بعض جگہوں پر گرفت بھی کی اور اردو تنقید کے کئی نئے در وا کیے۔ تنقید کے میدان میں ان کا سب سے بڑا کارنامہ ’’شعرشور انگیز‘‘کو شمار کیا گیا ہے۔ چار جلدوں پر مشتمل اس کتاب میں میرتقی میرؔ کو جس انداز سے سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے، اس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔
وہ اردو دنیا کے بڑے اسکالرز میںسے تھے۔ غالب ؔاور میرؔ کی شاعری کی تفہیم و تعبیر کے علاوہ انھوں نے بحیثیت ناول نگار اور معتبر شاعر کے طور پر غیرمعمولی تخلیقی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ ان کاتاریخی ناول’’کئی چاند تھے سرِ آسماں‘‘ ہندوستانی زبانوں کے فکشن میں ایک خاص حیثیت کا متحمل ہے۔ فنِ داستان گوئی کو انھوں نے شعری اسلوب عطا کرکے زندہ رکھا۔وہ اردو کے ساتھ انگریزی میں بھی برابر لکھتے تھے۔ انھوں نے اردو کی لسانی تاریخ میں قابلِ قدر شراکت کی۔
اکادمی کے وائس چیئرمین پروفیسر شہپر رسول نے کہا کہ شمس الرحمٰن فاروقی اردو زبان و ادب کے نہایت اہم نقاد،شاعر،فکشن نگار اور اردو کے رجحان ساز رسالے ماہنامہ ’’شب خون‘‘ کے بانی مدیر تھے۔ ان کی ہمہ جہت اور منفرد علمی و ادبی خدمات کے پیشِ نظر اگر ان کو نابغہ روزگار کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ ایسی شخصیات مدتوں بعد پیدا ہوتی ہیں۔ فاروقی صاحب کو جدید نقاد کہا جاتا ہے لیکن واقعہ یہ ہے کہ ان کا تعلق نہ صرف جدید ادب و تنقید سے تھا بلکہ کلاسیکی ادب و شعر پر بھی ان کی گہری نظر تھی۔ کلاسیکل موضوعات پر بھی انھوں نے کئی اہم کتب تصنیف کی ہیں۔ علم و ادب سے تمام عمر انھیں گہراانہماک و شغف رہا۔اپنی تحریر و تقریر اور نظریات و خیالات سے انھوں نے کئی نسلوں کی ادبی رہنمائی کی۔ ان کا اس دنیا سے اٹھ جانا اردو زبان و ادب کا غیر معمولی نقصان ہے۔اردو کی ادبی اور تہذیبی تاریخ ان کو کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔
اس موقع پر اردو اکادمی کے تمام کارکنان نے ان کے لیے ایصالِ ثواب کیا اور ا ن کے اہلِ خانہ اور تمام متعلقین کے لیے صبر کی دعا کی۔