اردو اکادمی،دہلی کے کارکن ماہرحسین کی وفات پر تعزیتی نشست

نئی دہلی:اردو اکادمی، دہلی کے کارکن ماہرحسین کا کل۲۳؍جون کو ان کے آبائی وطن سرسی، ضلع مرادآباد میں ۵۴ سال کی عمر میں انتقال ہوگیا۔ مرحوم گزشتہ تقریباً چھ ماہ سے کینسر کے عارضہ میں مبتلا تھے۔ ان کا علاج دہلی کے بی۔ ایل۔ کپور اسپتال میں چل رہا تھا۔ ڈاکٹر کے جواب دینے پر ان کے لواحقین انھیں ۲۲؍جون کو سرسی لے کر گئے تھے جہاں وہ مالکِ حقیقی سے جا ملے۔ مرحوم اکادمی میں اپنی ذمہ داریوں کے تئیں کافی سرگرم اور فعال تھے۔ وہ اپنے مفوضہ کاموں کے علاوہ اکادمی کی دیگر سرگرمیوں میں بھی خندہ پیشانی سے بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے اور اپنے حسنِ اخلاق سے ہرایک کو اپنا گرویدہ بنا لیتے تھے۔ مرحوم کے پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ چھ بیٹیاںہیں جن میں سے تین کی شادیاں ہوچکی ہیں۔
آج اکادمی کے دفتر میں ان کی یاد میں ایک تعزیتی میٹنگ کا انعقاد عمل میں جس میں اکادمی کے بیشتر اسٹاف نے شرکت کی۔ اس موقع پراکادمی کے اسسٹنٹ سکریٹری جناب مستحسن احمد نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے مرحوم کی نیک سیرت، حسنِ اخلاق کو اجاگر کیا اور ان کی دیگر بہت سی خصوصیات کا ذکر کیا جو ا ن کے لیے ہی خاص تھیں۔ جملہ اسٹاف نے مرحوم کی مغفرت کی دعا کرتے ہوئے لواحقین کے لیے صبرکی دعا کی۔ماہرحسین کے انتقال کی اطلاع پراکادمی کے سابق کارکنان اور دیگر معروف ادبی شخصیات نے بھی بذریعہ فون اظہارِ تعزیت کیا۔ اردواکادمی، دہلی کے وائس چیئرمین پروفیسر شہپر رسول نے تعزیتی پیغام میں کہا کہ ماہر حسین جس مرض میں مبتلا تھے وہ مرض الموت ثابت ہوا۔ گزشتہ کل وہ ہم سے ہمیشہ کے لیے جدا ہوگئے۔ آدمی چلا جاتا ہے، اس کی یادیں رہ جاتی ہیں۔ دنیا والے بطور خاص جانے والے کے اعمال و اخلاق اور اس کی بعض دوسری خصوصیات کے حوالے سے اس کا ذکر کرتے ہیں۔ اردو اکادمی کے اراکین اور اکادمی کی تقاریب میں شریک ہونے والے ہزاروں خواتین و حضرات مرحوم کو ان کی خوش اخلاقی اور جفاکشی کی وجہ سے یاد رکھیں گے۔ وہ بہت فعال اور خوش مزاج شخص تھے۔ ان کی دلچسپ باتیں اور ان کا ترنم بھی مجھے یاد آتا ہے۔ میں نے ان کو ہمیشہ بہت مسرور انداز میں کاموں میں مصروف پایا۔ اپنی ذمہ داری کو خلوص کے ساتھ انجام دینا اور اکادمی میں تشریف لانے والوں کو خندہ پیشانی کے ساتھ خوش آمدید کہنا ان کا شیوہ تھا۔ان کے انتقال سے ہم لوگوں نے ایک اچھے ساتھی کو کھودیا ہے۔ میں دعا کرتا ہوں کہ خدا ان کے درجات بلند کرے اور ان کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔اکادمی کے سابق وائس چیئرمین پروفیسر اخترالواسع نے بھی مرحوم ماہر حسین کے ساتھ گزارے ہوئے وقت کو یاد کرتے ہوئے فون پر کہا کہ اردو اکادمی ان کے انتقال سے ایک مخلص کارکن، محبت رکھنے والے انسان اور دلچسپ شخصیت سے محروم ہوگئی۔ وہ سب کو خوش رکھنے کی ہمہ وقت کوششیں کرتے تھے۔ پروفیسر واسع نے کہا کہ ہم اللہ رب العزت سے ان کی مغفرت کی دعا کرتے ہیںکہ ان کے پسماندگان اور رفقا کو صبراور اس صدمہ جانکاہ کو برداشت کرنے کی ہمت عطا کرے ۔ آمین۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*