اوپر والا سب دیکھ رہا ہے، انہیں بھی اور ہمیں بھی ـ مسعود جاوید

پچھلے دنوں CCTV camera کا ایک اشتہار جس میں یہ دیکھایا گیا تھا کہ آفس کے باہر کیمرہ آویزاں ہے اور جلی حروف میں لکھا گیا تھا #اوپر والا سب دیکھ رہا ہے”۔ اس اشتہار کا پرکشش جملہ میری طرح ہزاروں لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہوگا۔ لیکن اسے پڑھنے کے بعد میرے ذہن میں کئی زاویوں سے اس کا مفہوم گھومنے لگا ۔ اس لئے کہ یہ ذو مفہوم جملہ تھا مادی مفہوم اور روحانی مفہوم ۔ مادی یہ کہ آپ کی نقل و حرکت اور چہرہ سب کچھ اوپر لگا ہوا سی سی ٹی وی کیمرہ دیکھ رہا ہے( نہ صرف دیکھ رہا ہے بلکہ ریکارڈ بھی کر رہا ہے) اور وقت ضرورت اس ریکارڈنگ کی مدد سے تفتیش و تحقیق میں مدد لی جاتی ہے اور ریکارڈنگ بطور ثبوت پیش کی جا سکتی ہے ۔ شارجہ یو اے ای میں دوران قیام جب میں اپنی گاڑی کی تجدید ملکیت کے لئے گیا تو تجدید کی فیس کے ساتھ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کا جرمانہ کی رقم بھی میرے نام پر درج تھا۔ میں نے متعلقہ افسر سے جاننا چاہا تو انہوں نے کمپیوٹر پر چیک کر کے بتایا کہ میں نے رفتار کی مقرر حد کو تجاوز کیا تھا۔ میں نے کہا مقرر حد ١٠٠ اور ١٢٠ ہے اور میں کبھی اس حد کو تجاوز نہیں کرتا ہوں ۔ انہوں نے کہا کیشیر کاؤنٹر پر ٥ درہم جمع کر کے فوٹو دن تاریخ وقت اور علاقہ کی تفصیل حاصل کر لیں۔ فوٹو میں اپنی گاڑی نمبر پلیٹ کے ساتھ تاریخ دن وقت اور لوکیشن کی جھلک دیکھی تو یاد آیا کہ پڑوس کے فلیٹ والے دوست اور ان کی اہلیہ کو ایمرجنسی میں ہسپتال لے جاتے ہوئے یہ خلاف ورزی ہوئی ہو گی۔
سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی روحانیت کو سمجھنے اور سمجھانے میں کس قدر مفید ہے اس کا علم اس موضوع پر مختلف مضامین کے پڑھنے سے ہوا تھا لیکن تجربہ اس دن ہوا۔
دینی اعتبار سے یہ مقولہ زبان زد عام و خاص ہے کہ اوپر والا (اللہ) سب دیکھ رہا ہے۔ نہ صرف یہ مقولہ ہے بلکہ ہمارا عقیدہ ہے کہ ہماری ہر نقل و حرکت خلوت میں ہو یا جلوت میں اللہ دیکھ رہا ہے اور یہ کہ ہر شخص پر مقرر فرشتے کراما کاتبین ہمارے ہر چھوٹے بڑے عمل کو ریکارڈ کر رہے ہیں‌ جو قیامت کے دن بوقت حساب ثبوت کے طور پر پیش کیا جائے گا۔
جمہوریت کا قبلہ سمجھے جانے والے ملک ، جس کی فارن پالیسی سے قطع نظر، دو سو تیس سالوں کی شاندار تاریخ ہے جس کی جمہوری قدروں کی جڑیں بہت گہری ہیں جس کی مثال دنیا کے باقی ملکوں میں دی جاتی ہے جس کے منظم صاف شفاف جمہوری نظام کو بطور حوالہ پیش کیا جاتا ہے اور بطور نمونہ اپنایا جاتا ہے جو جمہوری قدروں کی درجہ بندی میں پہلی دنیا میں ہے۔ پہلی دنیا (امریکہ اور مغربی یورپ) دوسری دنیا (روس مشرقی یورپ اور چین ) اور تیسری دنیا (ہندوستان پاکستان بنگلہ دیش اور دیگر تمام ممالک) ہاں وہی امریکہ جو اقوام متحدہ میں سب سے زیادہ دبدبہ رکھتا ہے جسے جمہوریت، مساوات اور فرد کی آزادی کا پختہ شعور ہونے کا خطاب حاصل ہے اس ملک میں دو روز قبل صدارتی انتخاب کے ووٹ پر تصدیق کی کارروائی میں رخنہ ڈالنے کے لئے شکست خوردہ خبط الحواس صدر کے نسل پرست وہائٹ سوپرمسٹ متشدد حامیوں نے جمہوریت کے عظیم مرکزی عمارت کانگریس میں زبردستی گھس کر جو شرمناک حرکت کی ہے جس میں پانچ افراد کی جانیں گئیں وہ اقوام عالم کی جمہوریت پسند عوام کے لئے نہ صرف ایک بڑا صدمہ ہے بلکہ باعث تشویش بھی ہے۔ ایشیائی اور افریقی ممالک اس طرح کی حرکتوں کےلئے جانے جاتے ہیں مگر جب امریکہ میں ایسا ہو سکتا ہے تو باقی ممالک کا اللہ ہی حافظ۔ باشعور اور ذمہ دار امریکہ کے شہریوں کا سیاسی اختلافات درج کرانے کے مسلمہ اصولوں کو بالاۓ طاق رکھ کر تشدد اور ‘بھیڑ تنتر انصاف’ کی راہ پر چلنا پورے عالم کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ پچھلے چند سالوں میں سیاسی اخلاقی انحطاط اور عدم برداشت ، بھکت گنی اور نقلی دیش بھکتی دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہندوستان میں ہی نہیں دنیا کی سب سے قدیم جمہوریت امریکہ میں بھی پنپ رہی ہے۔
جمہوریت کے تحفظ کے نام پر دوسرے ممالک کی خود مختاری کو ہیچ سمجھتے ہوئے مداخلت کرنے کے تناظر میں امریکہ کے وقار کو زبردست ٹھیس پہنچانے والے شرمناک واقعہ کی خبریں اور تصاویر بعض احباب نے شئیر کرتے ہوئے لکھا ” اوپر والا سب دیکھ رہا ہے”! بیشک اوپر والا سب دیکھ رہا ہے اور مکافات عمل کےدور سے ہر فرد ہر قوم اور ملت کو گزرنا ہے۔ ظلم آخر ظلم ہے خواہ اسے کسی بھی خوبصورت جامہ میں لپیٹ کر کیا جائے۔ اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بڑی طاقتوں نے اپنے مخصوص مفادات کی برآوری کے لئے سازش کے تحت دوسرے ممالک میں مداخلت کی ۔ جوڑ توڑ لالچ اور دھمکی کے ذریعے اقوام متحدہ سے منظوری حاصل کی۔ لیکن کچھ کمیاں ہمارے اندر بھی تھیں جس نے موقع دیا یا ” جواز ” فراہم کیا۔ کیا اس میں شک ہے کہ ملیشیا اور انڈونیشیا کو چھوڑ کر آج دنیا میں کوئی ایک بھی مسلم ملک ایسا نہیں ہے جو کسی بھی حد میں ریاست مدینہ کہلانے کا حقدار ہو جہاں حقیقی جمہوریت ہو ! ملک تو ملک دینی اداروں میں شورائی نظام اور داخلی جمہوریت نہیں ہے چند جیسے جماعت اسلامی اور ممکن ہے دو تین مستثنی ہیں۔
دلوں کا حال اللہ جانتا ہے مگر یہ روش ٹھیک نہیں کہ ہم پر مصیبت آۓ تو ہم کہیں کہ یہ اللہ کی طرف آزمائش ہے اور دوسروں پر مصیبت آۓ تو ہم کہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے گرفت ہے !
اوپر والا (اللہ) ظالم حکمرانوں کو بھی دیکھ رہا ہے اور اللہ کی نافرمانی کرنے والے مسلمان مظلوموں کو بھی‌۔ ہر ایک کا دور آئے گا۔ چھٹائ تو ہوگی ۔
وانتم الاعلون ان كنتم مؤمنين … خواہشات اور مسلم نام اور وضع قطع پر سر بلندی نہیں ہوگی صحیح معنوں میں مومن بننے سے ہو گی۔