یوپی پولیس یوگی کے ہاتھ کی کٹھ پتلی،ہندوتو کے فروغ کے لیے کام کر رہی ہے:اویسی

نئی دہلی:آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسدالدین اویسی نے اتر پردیش حکومت کونشانہ بنایاہے۔یوپی پولیس کے انکائونٹر کی پالیسی پرسوال اٹھاتے ہوئے اویسی نے کہاہے کہ اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے انکائونٹر کے قواعد اور عمل میں تبدیلی کی ہے۔یوگی حکومت پرالزام لگاتے ہوئے اسدالدین اویسی نے کہاہے کہ یہ صرف ایک رسمی حیثیت نہیں ہے۔ہمیں ظالم حکومت سے بچانے کے لیے یہ بہت ہی بنیادی بات ہے۔ پولیس کوکسی کوسزادینے کااختیارنہیں ہے۔ یوپی میں بغیرکسی ثبوت کے انکاؤنٹر ہوتا ہے۔اسدالدین اویسی نے کہاہے کہ متعدد واقعات میں انکائونٹر سے متاثر افراد کے اہل خانہ پولیس کے خوف سے واقعے کو چیلینج کرنے سے بھی خوفزدہ ہیں۔ کچھ مثالوں میں یوپی پولیس نے مبینہ طور پر متاثر افراد کے گھرانوں کوبرباد کرنے سمیت متاثر افراد کے اہل خانہ کے خلاف کارروائی کی ہے۔ یوپی پولیس کو نشانہ بناتے ہوئے اسدالدین اویسی نے کہاہے کہ یوپی پولیس نے یہ ظاہر کیا ہے کہ یہ فرقہ وارانہ اورذات پات کا ادارہ کیسے بن گیاہے۔ یوپی پولیس ہندوتواکے اپنے نظریاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے یوگی حکومت کے ہاتھ میں کٹھ پتلی بن چکی ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق ، مارچ 2017 میں یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت میں بی جے پی کی حکومت کے قیام کے بعد مجرموں کے جرم کے خلاف یہ مہم چلائی گئی تھی۔ اس سلسلے میں ریاست میں مجرموں اورپولیس کے مابین متعددانکائونٹرزہوئے ہیں جن میں 14 ہزار سے زیادہ مجرموں کو گرفتار کیا گیا ہے۔اس انکاؤنٹر میں اب تک2300 سے زیادہ ملزم اور900 سے زائدپولیس اہلکارزخمی ہوئے ہیں۔ مجرموں سے محاذآرائی کرتے ہوئے 13 پولیس اہلکار شہید ہوچکے ہیں جب کہ پولیس انکائونٹر میں اب تک 124 مجرم ہلاک ہوچکے ہیں۔ اگر ان مجرموں کی ذات پات کی تفصیلات کو دیکھا جائے تو 47 اقلیتیں ، 11 برہمن ، 8 یادو اور بقیہ 58 مجرموں میں ٹھاکر ، پسماندہ اور نامعلوم ذات / قبیلے کے مجرم شامل ہیں۔