یوپی پولیس کی شرمناک ظالمانہ حرکت ـ محمد امانت اللہ 

 

اتر پردیش کی سرکار اور اس کی پولیس کا متعصبانہ رویہ کسی سے مخفی نہیں ہے، یوگی کے مسندِ اقتدار پر آنے کے ابتدائی ایام سے ہی سیکڑوں ایسے واقعات و سانحات رونما ہوتے رہے ہیں جو انتہائی المناک اور کربناک ہیں،بطورِ خاص معصوم ومظلوم مسلمانوں کو اپنے مظالم کا نشانہ بنانا، ان کے خلاف اپنی جواں مردی، شجاعت و دلیری دکھانا اور ظلم و بربریت کی ساری حدیں پار کردینا ان کے رگ و ریشہ میں پیوست ہو چکا ہے، کبھی حکومت کی پشت پناہی حاصل کیےہوئے غنڈے، گئو رکھشک کا جھوٹا لبادہ اوڑھے ہو ئے درندے، گئو کشی کا بے بنیادالزام لگا کر مظلوم مسلمانوں کی ماب لنچنگ کر دیتے ہیں کبھی چوری کا جھوٹا الزام لگاکر معصوموں کی جان لے لیتے ہیں اور کبھی حکومت کے اشارے پر ناچنے والی خاکی وردی پہنے ہوئی خونخوار پولیس سارے قانونی نظم و نسق کو بالائے طاق رکھ کر غریب، مزدور اور بے کسوں کو موت کے گھاٹ اتار دیتی ہے-

ایسا ہی ایک تازہ ترین دلدوز واقعہ یوپی کے انّاؤ کا ہے جہاں ایک فیصل نامی سبزی فروش کی یوپی کی ظالم پولیس اس بے دردی اور بے رحمی سے پٹائی کرتی ہے کہ فیصل کی موت ہو جاتی ہے اور فیصل کی لاش کو اسپتال میں چھوڑ کر بہادری میں مہارت رکھنے والی یو پی پولیس راہ فرار اختیار کر لیتی ہے،

موجودہ مہلک وبا کے سبب جہاں ملک کا بیشتر حصہ لاک ڈاؤن جھیل رہا ہے وہیں معمولی روزگار سے جڑی عوام اور مزدور طبقے کے لوگوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج روزی روٹی کے حصول اور اپنا گھر بار چلانے کا ہے، ایسے میں اگر کوئی لاک ڈاؤن کے دوران سبزی بیچ کر اپنے اور اپنے پریوار کے لیے روزی روٹی کماتا ہے تو کیا ریاست اتر پردیش میں لاک ڈاؤن کے دوران سبزی بیچنے کی سزا موت ہے؟

آخر کون سے ایسے محرکات ہیں جو پولیس کو اتنا سفاکانہ رخ اختیار کرنے پر مجبور کرتے ہیں، کیا خود کو اور اپنے اہل خانہ کو زندہ رکھنے کے لیے تالا بندی کے دوران سبزی بیچنا یا کوئی دوسرا روزگار اختیار کرنا اتنا سنگین جرم ہے کہ اس کے سبب اپنی جان سے ہی ہاتھ دھونا پڑجائے یا پولیس کا اپنی سنگدلی کی تمام حدیں پار کرنے کی وجہ سبزی فروش کا مسلمان ہونا ہے؟

یہ صورتحال انتظامیہ کو سوالات کے کٹہرے میں کھڑا کر تی ہے، انتظامیہ ان تمام سوالات کے لیے جواب دہ ہے، فیصل کے بے بس، مجبور، لاچار والدین کو انصاف دلانا اتر پردیش سرکار کی اولین ذمہ داری ہونی چاہیے، ورنہ ظالموں کا وقتِ حساب آنا یقینی ہے-

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*