یوپی پولیس کی کارکردگی افسوسناک،بی جے پی ایم پی نے سوال اٹھائے

لکھنو:اتر پردیش میں مجرموں کے حوصلے اتنے بلند ہوگئے کہ ریاستی حکومت اور انتظامیہ دونوں ان آگے بے بس نظر آرہے ہیں۔اپوزیشن پارٹی کے رہنماؤں کے ساتھ ساتھ حکمراں پارٹی کے ایم پی اور رکن اسمبلی بھی ریاست کے قانون نظام پر سوال اٹھانے لگے ہیں۔دریں اثنابھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایم پی کوشل کشور نے بھی اتر پردیش کے لاآف آرڈر پر سوال کھڑا کر دیا ہے۔بھاجپا ایم پی نے کہا کہ پولیس کے منفی رویہ کی وجہ سے لکھنؤ میں جرائم بہت ہورہے ہیں۔موہن لال گنج لوک سبھا سیٹ سے بی جے پی کے ایم پی کوشل کشور نے اتوار (29 دسمبر) کو پولیس کے رویہ پر سوال اٹھاتے ہوئے ٹویٹ کر کے کہاکہ پولیس کے منفی رویہ کی وجہ سے لکھنؤ میں مجرمین بے لگام ہو چکے ہیں،قتل اور لوٹ کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔کوشل کشور کی طرف سے ٹویٹس میں ریاست کے ڈی جی پی، یوپی پولیس اور لکھنؤ پولیس کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھنؤ میں جرائم کی بات اٹھائی ہے۔بھاجپا ایم پی کوشل کشور پولیس کے طریقہ کار پر اکثر سوال اٹھاتے رہے ہیں۔اس سے پہلے 17 دسمبر کو ایک اور ٹویٹ میں ممبر پارلیمنٹ نے لکھا تھاکہ سیتاپور ضلع میں زیادہ تر تھانیداروں کی من مانی کی وجہ سے عام لوگوں کو پریشان ہونا پڑ رہا ہے،ان لوگوں نے حکومت کو بدنام کرنے کا ٹھیکہ اٹھا رکھا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ریاست میں مجرم بے خوف اور بے لگام ہیں اور بڑھتے ہوئے جرائم کی وجہ سے ہماری پارٹی کو نقصان ہو رہا ہے۔بتا دیں کہ یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے جب حکمراں پارٹی کے لیڈران اور نمائندوں نے پولیس انتظامیہ کے رویہ پر سوال اٹھائے ہوں۔