یوپی پولیس بے قصور مسلمانوں کو ہراساں کررہی ہے،لو جہاد کے مبینہ معاملوں میں گرفتاریوں کےخلاف جمعیت علما ہائی کورٹ پہنچی

ممبئی:یوپی کے سیتا پور شہر سے لوجہادکے نام پر گرفتا دس ملزمین جس میں دو خاتون بھی شامل ہیں کومقدمہ سے ڈسچارج یعنی کہ ان کے خلاف قائم مقدمہ ختم کرکے انہیں جیل سے فوراً رہا کیئے جانے کی عرضداشت الہ آبادہائی کورٹ کی لکھنؤ بینچ میں داخل کردی گئی ہے، پٹیشن میں تحریر کیا گیا ہیکہ یو پی حکومت لو جہاد کے نام پر مسلمانوں کو حراساں کررہی ہے اور آئین ہند کے ذریعہ حاصل بنیاد ی حقوق کو اقتدار کے بل بوتے پر پامال کررہی ہے۔
حکومت کی دہشت گردی و زیادتیوں کے شکارملزمین کی پیروی کرنے کا بیڑا جمعیۃ علماء ہند نے اٹھایا ہے اور جمعیۃ علما ء کے توسط سے لکھنؤ ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کردی گئی ہے جس پر اگلے چند ایام میں سماعت متوقع ہے۔یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی۔
گلزار اعظمی نے اس ضمن کہا کہ ملزمین کے اہل خانہ نے مولانا وکیل احمد قاسمی(ضلع جنرل سیکریٹری جمعیۃ علماء سیتا پور، یوپی) کے توسط سے صدرجمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا سید ارشد مدنی سے قانونی امداد طلب کی تھی جسے منظور کرتے ہوئے ملزمین کی رہائی کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا ہے اور ملزمین کی رہائی کے لیے پٹیشن داخل کردیا ہے۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ ایڈوکیٹ عارف علی، ایڈوکیٹ مجاہد احمد، ایڈوکیٹ فرقان خان کے ذریعہ داخل کردہ پٹیشن میں تحریر کیا گیا ہیکہ یو پی حکومت اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھاکر مسلمانوں کو لو جہاد کے نام پر حراساں کررہی ہے اور انہیں آئین ہند کے ذریعہ دیے گئے بنیاد ی حقوق سے محروم کررہی ہے۔
عرضداشت میں مزید تحریر کیا گیا ہیکہ لو جہاد کو غیرقانونی قرار دینے والے قانون کا سہارا لیکر اتر پردیش پولس مسلمانوں کو پریشان کررہی ہے اور انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیلا جارہا ہے جس کی ایک مثال یہ مقدمہ ہے جس میں مسلم لڑکے کے والدین، قریبی رشتہ داروں کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ ان کا اس معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، مسلم لڑکا اور ہندو لڑکی نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے اور دونوں فی الحال کہاں ہیں کسی کو نہیں معلوم لیکن لڑکی کے والد کی فریاد پر مقامی پولس نے دو خواتین سمیت دس لوگوں کو گرفتار کرلیا جس کے بعد سے پورے علاقے میں سراسمیگی کا ماحول ہے۔
عرضداشت میں مزید لکھا گیا ہیکہ عورتوں کی گرفتاری سے چھوٹے چھوٹے معصوم بچے بے یارو و مددد گارکسم پرسی کے عالم میں زندگی گذارنے پرمجبور ہیں اس کے باوجود پولس والے انہیں چھوڑ نہیں رہے ہیں حالانکہ ابھی تک پولس نے اس معاملے میں چارشیٹ بھی داخل نہیں کی ہے۔
عرضداشت میں مزیدلکھا گیا ہیکہ ملزمین پر ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والی 19 سالہ لڑکی کو اغواء کرنے کا الزام ہے جبکہ پولس نے بعد میں ملزمین پر لو جہاد قانون بھی نافذ کردیا۔اس معاملے میں 29 نومبر کو پہلی گرفتاری عمل میں آئی تھی جس کے بعد پولس نے مزید دس ملزمین کو گرفتار کیا ہے جبکہ کئی ایک کو مفرور قرار دیا ہے۔ گرفتار شدگان میں شمشاد احمد، رفیق اسماعیل، جنید شاکر علی،محمد عقیل منصوری، اسرائیل ابراہیم، معین الدین ابراہیم، میکائیل ابراہیم، جنت الا براہیم، افسری بانو اسرائیل عثمان بقرعیدی شامل ہیں۔
عرضداشت میں مزید لکھا گیا ہیکہ ملزمین کو بغیر کسی ثبوت وشواہد کے گرفتار کرلیا گیا جبکہ یہ معاملہ صرف لڑکا اور لڑکی کے درمیا ن کا ہے لہذا تمام ملزمین کے خلاف قائم مقدمہ کو فوراً ختم کیا جائے اور انہیں جیل سے فوراً رہا کیا جائے۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ یو پی پولس نے معاشی طور پر کمزور مسلمانوں کو جھوٹے مقدمہ میں پھنسایا ہے اور مزید لوگوں کو پولس حراساں کررہی ہے جس کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا ہے نیز لکھنؤ ہائی کورٹ میں سماعت کے موقع پر سینئر وکلاء کی خدمات حاصل کی جائے گی کیونکہ حال ہی میں الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلہ میں کہا ہےکہ بالغ لڑکے لڑکی کو اپنی پسند کی شادی اور مذہب اختیار کرنے کا آئینی حق ہے اس کے باوجود لو جہادکے نام پر یوپی سرکار مسلمانوں کو مسلسل نشانہ بنا کر حراساں کررہی ہے۔