اترپردیش میں یوگی کی نئی ہٹلرشاہی فورس ـ سمیع اللہ خان

کیا آپ جانتےہیں کہ اترپردیش میں ایک نئی قسم کی پولیس فورس بنائی جارہی ہے؟ جس وقت بھارت میں لاکڈاون، کرونا وائرس اور میڈیا کے ذریعے کنگنا راناوت، سشانت سنگھ راجپوت اور ریا چکرورتی کا ڈرامہ چل رہا ہے، جس وقت بھارت کا مسلمان آپس میں لڑ مر رہا ہے، ایکدوسرے کی قبریں کھود رہا ہے تبھی بھارت میں بہت کچھ فسطائی ہورہاہے، جو معمولی نہیں ہے بلکہ مستقبل کے استعماری بھارت کی بھرپور پلاننگ ہے ـ
ہند۔چین نازک سرحدی تنازعہ، بے روزگاری، عوامی املاک کی نجکاری، بھارتی خزانے پر سرکاری لوٹ، جہاں برپا ہے وہیں اپوزیشن لیڈروں کی حیثیت رکھنے والوں کے خلاف ظالمانہ کریک ڈاؤن ہورہا ہے، شرجیل امام اور خالد سیفی سے شروع ہونے والی گرفتاریاں پروفیسر آنند، گوتم نولکھا، اکھل گوگوئی سے ہوتے ہوئے عمر خالد تک جاپہنچی ہیں، یوگیندر یادو، راہل رائے، سیتارام یچوری اور پروفیسر اپوروانند جیسے قدآور لوگ ایجنسیوں کے نشانے پر آچکے ہیں دہلی پولیس کی چارج شیٹ میں انہیں دہلی فساد کا معاون سرغنہ تک قرار دیا جاچکاہے، بھاجپا مخالف اور آر۔ایس۔ایس کی مخالفت کرنے والے قدآور لوگ جب پولیس اور ایجنسیوں کے ذریعے ٹارگٹ کیے جارہےہیں تب آپ کو سمجھ لینا چاہیے کہ یہ ہندوتوا کے opposition less india کے اقدامات ہیں یعنی عوام میں ظالم سرکار کے خلاف ایک بھی مؤثر آواز آزاد نہ رہے ـ
اسی جانب تشویشناک قدم بڑھاتے ہوئے اب یوگی آدتیہ ناتھ کی خواہش پر اترپردیش میں ایک مخصوص نوعیت کی سرکاری پولیس فورس تشکیل دی جارہی ہے جو جلد ہی چارج اپنے ہاتھ میں سنبھالے گی، اس کا نام UPSSF ہوگا یعنی اترپردیش اسپیشل سیکوریٹی فورس ـ
اس کے ذمے سرکاری عمارتوں دفتروں اور اہم ترین مقامات کی حفاظت ہوگی، اس قسم کی فورس پہلے مرکزی حکومت کے پاس ہوتی تھی جسے CiSF کہا جاتا تھا، اترپردیش کی اسپیشل سیکوریٹی فورس، میٹرو، ائیرپورٹ، عدالتوں، مذہبی مقامات اور مالیاتی مراکز کی حفاظت کے نام پر بن رہی ہے، وہیں یہ بھی گنجائش دی جارہی ہے کہ پرائیویٹ ادارے بھی معاوضے کی بنیاد پر اسپیشل سیکورٹی فورس کی خدمات حاصل کرسکتے ہیں، اس فورس کا ہیڈکوارٹر لکھنؤ میں ہوگا اس فورس کا چیف ADG ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس رینک کا کوئی سینئر ہوگا، ابتدائی طورپر اس فورس کی ۵ بٹالین تشکیل دی جارہی ہیں، اس فورس کا آفیشل اعلان اترپردیش گورنمنٹ نے کردیاہے جس میں واضح کیا گیاہے کہ یہ فورس تشکیل دینا وزیراعلیٰ یوگی کا خواب ہےـ
اس فورس کا جو امر انتہائی تشویشناک اور اسے ہٹلر شاہی فورس بناتاہے وہ اس کے اختیارات ہیں: اس فورس کو یہ اختیار دیاگیاہے کہ وہ بغیر کسی پیشگی وارنٹ کے کسی کو بھی گرفتار کرسکتی ہے، کسی کے بھی یہاں تلاشی لے سکتی ہے، سرکاری اجازت کے بغیر کورٹ/عدلیہ بھی اسپیشل سیکوریٹی فورس کے آفیسروں کی کارروائی میں مداخلت نہیں کرسکتی ” سوال یہ ہے کہ یہ اسپیشل یوگی فورس کونسی کارروائیاں کرنے والی ہے جسے عدلیہ تک کے عمل دخل سے بھی آزاد کیا جارہاہے اور ایسے کونسے مقاصد اس کے پیشِ نظر ہیں کہ کورٹ کو بھی اس قابل نہیں سمجھا جارہاہے کہ اس کے پاس ان مقاصد کی نگرانی کا اختيار ہو؟
اس فورس کے قیام پر ساؤتھ ایشیا کے معروف فوٹو جرنلسٹ الطاف قادری نے لکھا ہے کہ: ” کشمیر ماڈل اترپردیش میں نافذ ہونے جارہاہے "ـ

ہماری نظر میں یہ اسپیشل سیکورٹی فورس آئینِ ہند کی سخت توہین ہے اور اس کے بالکلیہ خلاف ہے آئین ہند کا، آرٹیکل 22 کہتاہے:
Article 22(1) and 22(2) has the below provisions.
Well, a person cannot be arrested and also detained without being informed why he is being arrested. However, a person who is arrested cannot be denied to be defended by the legal practitioner of his choice. In fact, this means that the arrested persons has the right to hire the legal practitioner to defend himself/ herself. Well, every persons who has been arrested will be produced before the nearest magistrate within the 24 hours. The custody of the detained person cannot be beyond the said period except by the authority of magistrate.
آئین کی اس دفعہ کے مطابق کسی بھی شخص کو پولیس یہ بتائے بغیر گرفتار نہیں کرسکتی کہ اس کا جرم کیا ہے؟ گرفتار شدہ کا حق ہے کہ وہ اپنی پسند کا قانونی وکیل اپنے دفاع کے لیے ساتھ لے، جسے بھی گرفتار کیا جائے چوبیس گھنٹوں میں مجسٹریٹ کورٹ میں پیش کرنا ضروری ہے، مجسٹریٹ کورٹ کے بغیر اسے زائد تحویل میں نہیں لیا جاسکتا "ـ
یہ تو اس فورس کے غیرقانونی ہونے کی قانونی اور آئینی دلیل ہے، سوال یہ ہے کہ کیا یوگی راج والے اترپردیش میں آئینِ ہند کی دفعہ ۲۲ نافذ نہیں ہوتی؟ اس پر عدالتوں کو ازخود نوٹس لینا چاہیے ـ
اس قسم کی فورس کی تاریخ بھی جان لیجیے: ایسی فورس پہلے برطانوی عہد کے ہندوستان میں ہوا کرتی تھی جب فرنگی ظالموں کا ہندوستان پر قبضہ تھا تب ۱۹۱۹ میں ایک رولٹ ایکٹ مشہور ہوا تھا جس کے تحت فورسز کو اختیار تھا کہ وہ کسی بھی فرد کو بلا عدالتی کارروائی اور قانونی مراحل کے بغیر حراست میں لے سکتےہیں "ـ
سوال یہ ہے کہ کیا یوگی آدتیہ ناتھ برطانوی استعمار کی تقلید کررہے ہیں، جس نے ہندوستان پر غاصبانہ قبضہ کیا تھا، کیا ہندوستان میں وزارتی سطح سے کھلے عام برٹش استعمار کے طرز کو فالو کرنا ملک سے غداری نہیں ہے؟ جو ظالمانہ غنڈہ گردی پر مبنی قانون جنگی جرائم کے تحت انگریزوں نے ہندوستان کی عوام کے خلاف بنایا تھا وہی قانون یوگی سرکار نے کیوں بنایاہے؟
ماورائے عدالت سیکوریٹی فورسز کی تشکیل اور بے لگام اختیارات کے ساتھ کارروائیوں کا چلن ملک میں نازیوں اور برطانوی ایمپائر والے پولیس اسٹیٹ کے استبدادی نظام کو نافذ کرنے کی کوشش ہے، جوکہ ہٹلرشاہی طریقہ ہے، ملک میں فسطائیت کا رنگ سسٹم سے لیکر ملک کی املاک پر گہرا ہوتا جارہاہے، لیکن یہ کیسی شرمناک صورتحال ہے کہ آنے والی غلامی، جبر و استبداد سے لوگوں نے شترمرغ کی طرح آنکھیں بند کررکھی ہیں، چند لمحات کی شہرت اور پذیرائی کے لیے لوگ فیصلے کرتےہیں،ظلم کا شکار ہونے والوں کی تائید و حمایت یہ دیکھ کر کی جاتی ہے کہ اپنا والا بندہ ہے کیا؟ تنظیمی، مسلکی اور علاقائی عصبیتیں غالب آچکی ہیں، اسلامی نسبت ٹوٹ رہی ہے، جب ان سنگین حالات کی جانب متوجہ کرنے کی کوشش کی جائے تو کچھ لوگ ڈر جاتے ہیں اور شکوہ کرتے ہیں کہ کیوں ڈرا رہے ہو؟ کاش کہ آپ، صورتحال کی نزاکت کو سمجھیں اور حقیقی ڈراؤنے مستقبل سے اپنی نسلوں کو بچانے کے ليے متحد، منظم اور متحرک ہوجائیں ـ یوگی آدتیہ ناتھ نے برٹش ایمپائر کے طرز کو اختيار کرکے واضح کردیاہے کہ آنے والے وقت میں آر۔ایس۔ایس کا برہمنی بالادستی والا ہندوتوادی نظام کون سے عہد کی طرح ہوگاـ

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)