یوپی میں یوگی کا قہر(اداریہ انڈین ایکسپریس)

 

ترجمہ:نایاب حسن

ملک بھر کے شہروں میں متنازع شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاجات زیادہ تر پرامن رہے ہیں،سوائے بی جے پی کی حکمرانی والی ریاستوں بالخصوص اترپردیش کے۔ان احتجاجات کے دوران یوپی میں سب سے زیادہ تشددکے واقعات رونما ہوئے ہیں،اِس اخبار کی رپورٹس کے مطابق چوبیس میں سے سترہ اموات اس ریاست میں ہوئی ہیں،چودہ مرنے والے مسلمان تھے اوران کی موت گولی لگنے سے ہوئی ہے۔بعد میں پولیس نے کم ازکم ایک واقعے میں باضابطہ اقرارکیاہے کہ بجنورمیں ایک شخص کی موت پولیس فائرنگ سےہوئی ہے۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے احاطہ و ہاسٹل میں پولیس کی زیادتی کی خبریں بھی مسلسل گردش کررہی ہیں،جس کے بعد کم ازکم چھ طالب علم شدیدزخمی ہونے کی حالت میں ہسپتالوں میں بھرتی کیے گئے ہیں۔احتجاجات کے دوران تشددبھڑکانے میں یوپی پولیس اورریاستی حکومت کے کردارپرنہایت سنجیدہ سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔

اس ملک کے شہریوں کوپرامن طریقے سے جمع ہونے اور احتجاج درج کروانے کا حق ہندوستانی آئین نے دیاہے۔سیاسی پارٹیوں کے ناقابل اطمینان رسپانس کے باوجود سی اے اے کے خلاف مختلف مذاہب،تہذیبوں،نسل اور زبان کے لوگوں کا مجتمع ہونااس ملک کی جمہوریت کی معقولیت کی علامت ہے،مگریوپی حکومت واضح طورپر جمہوری محاسن کی انکاری ہے۔شہریوں کے تئیں اس حکومت کا رویہ حملہ آورانہ ہے،اس نے لوگوں کواس متنازع قانون کے خلاف آواز اٹھانے سے روک دیاہے، ہزاروں لوگوں کوگرفتار کرلیاگیاہے،جن میں سماجی حقوق کے کارکن مثلاً ریٹائرڈآئی پی ایس افسر ایس آرداراپوری اور وکیل محمد شعیب بھی شامل ہیں،حکومت نے لوگوں کے اجتماع پربھی پابندی لگادی ہے اور انٹرنیٹ بھی بند کردیاگیاہے۔لکھنؤکے احتجاج میں تشددبھڑکنے کےبعدیوپی کےوزیر اعلیٰ نے جوزبان استعمال کی(کہ بدلہ لیاجائے گا)وہ ایسے اعلیٰ منصب کے حامل شخص کے لیے قطعی زیب نہیں دیتی،عین ممکن ہے کہ ان کی اسی زبان کی وجہ سے یوپی پولیس کو مظاہرین پر ظلم کرنے کی شہ ملی ہو۔یہ ایک حقیقت ہے کہ یوگی کی حکومت میں یوپی پولیس لااینڈآرڈربحال کرنے کے دوران قانونی پروسیس اور اصول و ضوابط کوبھول جانے کے حوالے سے بدنام ہوگئی ہے۔سرکاری اعتراف وبیان کے مطابق یوگی کی محض دوسالہ حکومت کے دوران یوپی میں 3500پولیس انکاؤنٹرز ہوئے ہیں اور اَسّی مبینہ بدمعاشوں کوماراگیاہے،حتی کہ اس مسئلے میں سپریم کورٹ کومداخلت کرنا پڑی ہے۔

یوپی حکومت کوشہریوں ،ان کی اظہارِرائے کی آزادی اور اختلاف کے اظہار کے حق کے تئیں اپنے دشمنانہ رویے پر غور کرنا چاہیے۔یوپی حکومت اس سلسلے میں دوسری بی جے پی حکومت والی ریاست سے سبق لے سکتی ہے۔ کرناٹک کے منگلور میں بھی احتجاجات کے دوران تشددبھڑک گیاتھا، جس کے دوران پولیس کی فائرنگ سے دولوگوں کی موت ہوگئی،توکرناٹک کے وزیر اعلیٰ یدیورپانے اس معاملے میں مجسٹریٹ انکوائری کا حکم دیاہے۔آدتیہ ناتھ کوبھی یوپی میں مظاہرین پر پولیس کی زیادتی کےالزامات کی جانچ کا حکم دینا چاہیے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*