یوپی: ’لوجہاد ‘معاملہ پر ہائی کورٹ کاتاریخی فیصلہ،کسی کو بھی بالغ افراد کی شادی شدہ زندگی میں مداخلت کا حق نہیں

پریاگراج: الہ آباد ہائی کورٹ نے لو جہاد سے متعلق معاملے پر ایک اہم فیصلہ دیا ہے۔ عدالت نے مسلمان نوجوان سے شادی کرنے والی لڑکی کے نام تین لاکھ کی ایف ڈی( مالی گارنٹی) کرانے کی ہدایت دی ہے۔ عدالت نے خاتون کے شوہر کو 3 لاکھ روپے کی ایف ڈی لینے کا حکم دیا۔ اس حکم کے بعد شوہر کو لڑکی کے نام پر ایک ماہ میں تین لاکھ کی فکسڈ ڈپازٹ جمع کروانی ہوگی۔عدالت نے لڑکی کو مالی تحفظ دینے کے لئے یہ اہم فیصلہ دیا۔ عدالت نے یہ فیصلہ نکاح نامہ میں مہر کی رقم کی مقدارکافی کم ہونے کی وجہ سے دیا۔ عدالت نے اپنے بیان میں کہا کہ مذہب تبدیل کرانے اور کنبہ کی ناراضگی دورکرنے کیلئے خاتون کو مالی گارنٹی دینے کاحکم دیا۔ہائی کورٹ نے شوہر سے کہا ہے کہ وہ 8 فروری سے پہلے ایف ڈی کی اصل کاپی عدالت میں بھی پیش کریں۔ اس کیس کی اگلی سماعت 8 فروری کو ہوگی۔بجنورکی سنگیتا کے معاملہ میں عدالت نے یہ فیصلہ سنا دیا۔آپ کو بتادیں کہ سنگیتا نے ایک مسلمان نوجوان سے شادی کرلی، اتناہی نہیں مذہب تبدیل کرنے کے بعد سنگیتا نے اپنا نام شائستہ پروین رکھ لیا۔ شائستہ عرف سنگیتا کی شادی سے کنبہ پریشان تھا۔سنگیتا نے گھر والوں کے ذریعہ مار پیٹ کرنے کے بعد تحفظ کیلئے ہائی کورٹ میں سیکیورٹی دینے کی درخواست دائر کی تھی۔ عدالت نے بجنور کے ایس پی کو سیکیورٹی دینے کی بھی ہدایت دی ہے۔ سیکیورٹی اور ایف ڈی کے علاوہ عدالت نے بھی اس معاملے میں اہم تبصرے کئے ہیں۔عدالت نے سماعت کرتے ہوئے کہا کہ کنبے سمیت کسی کو بھی بالغ افراد کی شادی شدہ زندگی میں غیرضروری مداخلت کا حق نہیں ہے، اگر چاہیں تو کنبہ کے افراد معاشرتی تعلقات ختم کرسکتے ہیں۔ بیٹے یا بیٹی کی زندگی میں مداخلت کرنے یا ان کو مار پیٹ اور دھمکیاں دینے کا کوئی حق نہیں ہے، محض دکھاوے کے لئے ہراساں کرنے کا رواج ملک اور معاشرے پر ایک داغ کی طرح ہے۔ اسی دوران عدالت نے کہا کہ ہرایک کو اپنی پسند کے نوجوان اور خاتون کے ساتھ رہنے کا حق ہے۔