مدھیہ پردیش کے بعد یوپی میں بھی نام نہاد لو َجہاد کیخلاف سخت قانون سازی کا اعلان ، 5سال سزاکی تجویز

لکھنؤ :’لکھ دیا اپنے در پہ کسی نے اس جگہ پیار کرنا منع ہے ‘ ، معروف فنکارمرحوم نصرت فتح علی خان کی گائی ہوئی عاشقانہ قوالی کا یہ مصرعہ یوپی میں اعلان شدہ نام نہاد لوَجہاد کی صورتحال کی غمازی کرتا ہے ۔ خیال رہے کہ مدھیہ پردیش کی طرز پر یوپی بھی مفروضہ لو جہاد پرقدغن لگانے کیلئے ایک سخت قانون سازی کی تیاری کی جارہی ہے ۔اس ضمن میں محکمہ داخلہ نے محکمہ انصاف اور قانون کو ایک تجویز بھیجی ہے۔ غیر ضمانتی دفعات میں مقدمہ درج کیا جائے گا اور جرم ثابت ہونے پر 5 سال کی سخت سزا مقرر کی جائے گی۔ واضح ہو کہ کانپور ، باغپت ، میرٹھ سمیت یوپی کے متعدد شہروں میں لگاتار لو َجہاد کے واقعات کے بعد وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے محکمہ داخلہ سے رپورٹ طلب کی ہے۔ قانون کے مسودہ کو نظرثانی کے بعد کابینہ میں پیش کیاجائے گا۔یوپی کے لاء کمیشن کے چیف آدتیہ ناتھ متل نے کہا کہ ہندوستانی آئین نے مذہبی آزادی دی ، لیکن کچھ ایجنسیاں اس کا غلط استعمال کر رہی ہیں۔ وہ لوگوں کو شادی ، ملازمت اور طرزِ زندگی کیلئے لوگوں کوتبدیلی ٔ مذہب کی طرف راغب کرتی ہیں۔ ہم نے 2019 میں ہی اس مسئلے پر ایک مسودہ پیش کیا تھا۔ اس میں اب تک تین تبدیلیاں کی جا چکی ہیں۔ آخری تبدیلی میں ہم نے سزا کی تجویز کو شامل کیا ہے۔اس مسودے کے مطابق شادی کے غلط ارادوں کی وجہ سے تبدیلی ٔ مذہب یا پھرتبدیلی ٔ مذہب کے لئے کی جانے والی شادیاں اس قانون کے تحت آئیں گی۔اگر کوئی کسی کو تبدیلی ٔ مذہب کے لئے ذہنی اور جسمانی اذیت دیتا ہے تو وہ بھی اس نئے قانون کے دائرے میں آئے گا۔تبدیلی ٔ مذہب کی صورت میں خونی رشتہ دار جسے والدین ، بہن ،بھائی وغیرہ رشتے دار شکایت کرتے ہیں تو ان کی شکایت پر کارروائی کی جاسکتی ہے ۔اگر تبدیلی ٔ مذہب کے ملزم کو قصوروار پایا گیا تو سزا ایک سال سے لے کر پانچ سال تک ہوسکتی ہے۔ تبدیلی ٔ مذہب کے بعد شادی کیلئے درخواست سے ایک ماہ قبل ڈی ایم کو دینی ہوگی ۔ مسودہ کے مطابق جو لوگ لوَ جہاد جیسے معاملات میں معاون ہوں گے ، انھیں بھی کلیدی ملزم بنایا جائے گا اور اگر وہ جرم ثابت ہوا تو سزا بھی دی جاسکتی ہے ۔ اگر کوئی اپنی پسند کی شادی کے لئے تبدیلی ٔ مذہب چاہتا ہے ، تو اسے ایک مہینہ قبل ہی کلکٹر کے پاس درخواست دینی ہوگی۔غورطلب ہے کہ یہ درخواست لازمی ہوگی۔ایس پی کے ترجمان انوراگ بھدوریا نے کہا کہ اگر ہندوستان میں کوئی شخص اپنی شناخت چھپا کر شادی کر کے کسی ’خاتون‘ کا استحصال کرتا ہے تو یہ جرم ہے، اسے اس کی سزا ملنی چاہئے،قانون میں اس سزا کی تجویز ہونی لازمی ہے ، لیکن بی جے پی کی حکومت متأثرہ خاتون کو انصاف دلانے میں کم ، اور سیاست کرنے میں زیادہ یقین رکھتی ہے ۔ غور طلب ہے کہ اس وقت ملک کی 8 ریاستوں میں تبدیلی ٔ مذہب پر ’’قدغن‘‘لگانے کے لئے قوانین موجود ہیں۔ اس میں اروناچل پردیش ، اڈیشہ ، مدھیہ پردیش ، چھتیس گڑھ ، گجرات ، ہماچل پردیش ، جھارکھنڈ اور اتراکھنڈ شامل ہیں۔ سب سے پہلے اڈیشہ نے یہ قانون 1967 میں نافذ کیا تھا۔