اتر پردیش کے باشعور اور حساس ووٹروں کے نام -مولانا ابوالکلام قاسمی شمسی

 

دنیا کی قوموں میں عروج و زوال کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہا ھے ،اللہ تعالی کا طریقہ بھی یہی رہا ہے ،اگر ایسا نہ ہوتا تو مضبوط ہی ہمیشہ اقتدار کی کرسی پر قابض رہتا ،کبھی کسی دوسرے کو موقع نہیں ملتا ،مگر اللہ کا ایک نظام ہے کہ وہ لوگوں کے درمیاں اس کو گردش میں رکھتا ہے
عروج و زوال میں قوموں کے لئے عبرت کا سامان ہوتا ہے ،جس سے لوگ عبرت بھی حاصل کرتے ہیں اور فائدہ بھی ۔اسی سے لوگ اپنے لئے آگے کے منصوبے بھی بناتے ہیں ۔
حساس قوموں کا طریقہ رہا ہے اور آج بھی ہے کہ وہ لوگ وقت سے پہلے منصوبہ بناتے ہیں
مسلم سماج کے لوگ دنیا میں ایک نہایت ہی مضبوط ،متحرک ،حساس اور انقلابی بن کر ابھرے ، انہوں نے ماضی میں بڑے بڑے منصوبے بنائے اور اپنی حکمت عملی سے دنیا پر چھاگئے ،اور آج بھی اس میں وہ جذبہ موجود ہے ،مگر میرے خیال سے یہ قوم دو کمی کی وجہ سے پیچھے ہوگئی ،ایک وقت سے پہلے منصوبہ بنانے میں کوتاہی اور دوسرے آپسی اتحاد کی کمی۔
ہمارا ملک جمہوری ملک ہے ،اس میں قانون کو بالا دستی حاصل ہے ، دستور کے مطابق ہر شہری کو ووٹ دینے کا حق ہے ،اور اچھی سیکولر حکومت بنانے میں حصہ لینے کا اختیار ہے ،کچھ مضبوط طاقتیں ملک کے دستور کے لئے خطرناک سازشیں کررہی ہیں ،ان سے بچاؤ کے لئے الیکشن میں اچھی حکومت بنانے کے لئے منصوبہ بنانا ہمارا دستوری فریضہ ہے۔
افسوس کی بات ہے کہ ہم اس طرح کے اہم مسئلے پر بھی وقت سے پہلے کوئی منصوبہ نہیں بناتے ہیں ۔
یوپی ملک کا بڑا صوبہ ہے ،اس میں بڑے بڑے علما ،فضلا ،قائدین ،دانشوران موجود ہیں ،ملک کی بڑی بڑی تنظیمیں اس میں کام کرتی ہیں ، ماضی میں ملک کی حکومت سازی میں اس صوبہ کا اہم رول رہا ہے ،مگر افسوس کی بات ہے کہ موجودہ وقت میں یہ صوبہ اپنی اہمیت کھو چکا ہے ،اس کی وجہ دو ہیں ،ایک منصوبہ کی کمی اور دوسرے آپسی اتحاد کی کمی ، اسی کا نتیجہ ہے کہ ووٹ کا بکھراؤ اس صوبے میں سب سے زیادہ ہے ، اس طرح یہ صوبہ ملک کی سیاست میں کوئی اہم رول ادا نہیں کر پاتا ہے۔
یو پی کا الیکشن قریب ہے ،اس لئے اس کے لئے لائحہ عمل طے کرنے کی ضرورت ہے ،فرقہ پرست طاقتوں نے ووٹ کی سیاست شروع کردی ہے ، وہ لوگ ملک میں نفرت کا ماحول بنانے کی کوشش کر رہے ہیں ، نفرت کے ماحول کو روکنے کی سخت ضرورت ہے ، علما،ملی تنظیموں اور دانشوروں میں بھی بہت زیادہ اختلاف کھل کر سامنے آگیا ہے ،جس کی وجہ سے فرقہ پرست پارٹی کے خیمہ میں ابھی سے خوشی کا ماحول بن رہا ہے ،اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو اقتدار کی کرسی پر پھر سے براجمان ہوتے ہوئے دیکھ رہے ،ابھی بھی وقت نہیں گیا ہے ، ابھی بھی اگر مسلم اور سیکولر ووٹروں کے اتحاد کو مضبوط کیا جائے تو کچھ امید بن سکتی ہے ،اس کی صورت یہ ہے کہ اس تحریک پر زور دیا جائے کہ جہاں مسلم امیدوار جیت کی پوزیشن میں ہوں ،وہاں ان کو ووٹ دے کر کامیاب کیا جائے اور جہاں مسلم امیدوار جیتنے کی پوزیشن میں نہ ہو ،وہاں فرقہ پرست پارٹی کو چھوڑ کر جو امیدوار جیتنے کی پوزیشن میں ہو ،اس کو ووٹ دے کر کامیاب کرایا جائے ،خواہ وہ کسی پارٹی کا امیدوار ہو ،جو امیدوار جیتنے کی پوزیشن میں نہ ہو ،اس کو ووٹ دے کر اپنے قیمتی ووٹ کو برباد نہ کریں ،بہر حال ووٹ کو تقسیم ہونے سے بچایا جائے اور آپس میں اتحاد مضبوط کر کے اچھی حکومت بنانے پر زور دیا جائے ، اس کے لئے یوپی کے ووٹروں کو چاہئے کہ وہ مغربی بنگال کے ووٹروں سے سبق حاصل کریں ،اللہ تعالی اچھا ماحول پیدا کرے اور ہر طرح حفاظت فرمائے۔