یوپی جیتنے کے لیے یوگی راج میں کی جارہی ہیں مسجدیں شہید؟ ـ شکیل رشید

(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز)
یوگی اور نیرو میں کیافرق ہے ؟
شاید دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ جس طرح روم کے جلنے پر نیرو بانسری بجارہا تھا اسی طرح اترپردیش (یوپی) میں کووڈ 19کے پھیلاؤ پر یوگی خیر بانسری تو نہیں بجارہے ہیں ، لیکن یہ کہتے پھررہے ہیں کہ ’یوپی میں سب ٹھیک ہے ‘ ۔ اور اس ’سب ٹھیک ہے‘ کو وہ ’مزید ٹھیک‘ کرنے کے لیے کبھی مسجدیں شہید کروارہے ، تو کبھی نوٹس دے رہے ہیں ۔ اور کبھی ان کی طرف سے ، جو پھر ’ ماب لنچنگ‘ میں جٹ گئے ہیں ،آنکھیں موند کر ، ’لگے رہو‘ کا پیغام دیتے ہیں ـ حالیہ دنوں میں یوپی میں جو دو مسجدیں شہید کی گئی ہیں اور جس طرح ایک ہفتہ کے اندر ماب لنچنگ کے تین واقعات ہوئے ہیں ، انہیں ’معمول‘ کے واقعات کہہ کر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ واقعات ، یوپی کے آنے والے اسمبلی الیکشن میں ،بی جے پی کی جیت کو یقینی بنانے کی منصوبہ بندی کا حصہ ہیں ۔ اور آنے والے دنوں میں اِن واقعات میں مزید تیزی یا شدت آسکتی ہے ۔ یعنی مزید عبادت گاہیں ، اور مدارس بھی ’غیر قانونی ‘ قرار دے کر منہدم کیے جاسکتے ہیں ، اور ماب لنچنگ کے واقعات میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے ۔ یوگی سرکار ، بی جے پی اور سارے سنگھ پریوار کے سامنے یوپی کو ’ جیتنے‘ یا اس پر’ قابض‘ رہنے کا اب ایک ہی راستہ ہے کہ وہاں اس قدر فرقہ پرستی پھیلادی جائے کہ کووڈ 19 نے یوپی میں جو قہر ڈھایا ہے ، اور جس طرح یوگی سرکار کی ناکامی اور لاپروائی عیاں ہوکر سامنےآئی ہے اور عام لوگوں میں یوگی سرکار کے تئیں ، مذکورہ وجوہ سے ، جو ناراضگی پھیلی ہے ، اس کو فرو کیا جاسکے ۔ اور ان کے ووٹوں کو دوبارہ بی جے پی کی جھولی میں گرنے کو یقینی بنایا جاسکے ۔ اگر اہم جائزہ لیں کہ کووڈ19 کے تناظر میں یوپی 2022 کے اسمبلی الیکشن میں کیا ہوسکتا ہے ، اور کورونا نے جو قہر ڈھایا ہے یوپی کے عوام پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں، اورآنے والے اسمبلی الیکشن میں بی جے پی پر اس کے کیا اثرات پڑسکتے ہیں ، تو پتہ چلتا ہے کہ یوپی میں مارچ اور اپریل کے مہینے میں کورونا نے جو تباہی مچائی اس کے اثرات مغربی بنگال کے اسمبلی الیکشن پر بھی پڑے اور یوپی کے پنچائت انتخابات پر بھی۔ یوپی میں ضلع پنچائت کی 3051 سیٹیں ہیں جن میں سے سماج وادی پارٹی ایک ہزار سیٹوں پر کامیاب ہوئی ، بی جے پی کو صرف 800 سیٹوں پر اکتفاء کرنا پڑا ۔جہاں مذکورہ نتائج بی جے پی اور وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے لیے ایک جھٹکہ تھے ، وہیں چاراہم اضلاع میں بی جے پی کی ہار دونوں ہی کے لیے انتہائی شرمناک بھی تھی اور عبرت ناک بھی ۔ یہ اضلاع ایودھیا، متھرا ، وارانسی ا ور گورکھپور ہیں ۔ ایودھیا وہ شہر ہے جو شہید بابری مسجد اور مجوزہ رام مندر کے لئے جانا جاتا تھا۔ ایودھیا کو ’ ہندوتوا‘ کی سیاست میں اہم ترین مقام حاصل ہے کیونکہ رام مندر کے لئے جو تحریک شروع کی گئی تھی ،جس کا انجام تھا بابری مسجد کی شہادت اور سابق چیف جسٹس گگوئی کے ذریعے مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کے لیے دینا ، اسی کے سہارے بی جے پی کو سیاسی طاقت حاصل ہوئی اور آج مرکز میں اس کی حکومت ہے ۔ اب اگر ’ ہندوتوا‘ کی سیاست کے گڑھ ایودھیا کو ہی بی جے پی ہار جائے تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ لوگ بی جے پی اور یوگی سے کس قدر ناراض ہیں ۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں حالیہ دنوں میں متھرا کی شاہی عیدگاہ اور وارانسی کی گیان واپی مسجد کے خلاف بھی ہندوتوا دیوں نے زور دار آواز اٹھائی ہے لیکن بی جے پی ان دنوں جگہ بھی ہاری ہے ۔ وارانسی کی ہار تو بی جے پی کے لیے ’مرے پرسودرّے‘ کے مصداق ہے کیونکہ یہ وزیراعظم نریندر مودی کا لوک سبھا حلقہ ہے ۔ گورکھپور کی ہار بھی بی جے پی کے لیے، اور بی جے پی سے زیادہ یوگی کے لیے شرمناک اور عبرت ناک ہے کیونکہ گورکھپور یوگی کی سیاست کا مرکز ہے ۔۔۔ وہ یہیں سے ایم پی بنتے رہے ہیں ، انہیں گورکھپور کا بغیر تاج کا بادشاہ مانا جاتا ہے ۔ اور یہ گورکھپور کی سیاست ہی ہے جس نے انہیں یوپی کا وزیراعلیٰ بننے میں مدد دی ہے ۔ یہ مشرقی یوپی کا حال ہے اور ادھر مغربی یوپی میں راشٹریہ لوک دل کے احیاء نے بی جے پی کے لیے مشکلات کھڑی کردی ہیں ۔ بتاتے چلیں کہ کسانوں کی جاری تحریک نے بی جے پی کے پہیے سے بڑی حد تک ہوا نکال دی ہے اور راشٹریہ لوک دل کو ، جو بی جے پی کے سامنے چت ہوگئی تھی پھر سے ایک نئی سیاسی زندگی دی ہے۔ کسانوں نے یہ واضح اعلان کیا ہے کہ یوپی کے اسمبلی الیکشن کے دوران وہ ’بی جے پی ہراؤ مہم ‘ چلائیں گے ۔ کسان لیڈر راکیش ٹکیت ، یوپی کے وزیراعلیٰ یوگی کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج بن گئے ہیں۔ ٹکیت نے بی جے پی مودی اور امیت شاہ کے خلاف مغربی بنگال میں بھی مہم چلائی تھی اور اس کے اثرات وہاں کے اسمبلی الیکشن پر مرتب بھی ہوئے۔ تو کورونا اور کسان تحریک یہ آنے والے دنوں میں ، بالخصوص فروری 2022 میں جب یوپی میں اسمبلی الیکشن کی مہم زوروں پر ہوگی ، یوگی سرکار اور بی جے پی کے گلے کی ہڈی بن سکتے ہیں۔ یوپی میں کورونا نے جو قہر ڈھایا ہے اس کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہیکہ شمشانوں میں لاشیں جلانے کے لیے نہ جگہ بچی تھی اور نہ لکڑیاں موجود تھیں ۔ بے شمار لاشیں انتم سنسکار کے بغیر ندیوں میں، خاص طور سے گنگا ندی میں پھینک دی گئیں یا ندی کے تٹ پر دبادی گئیں۔ لاشیں بے شمار تھیں اور ہنوز اموات کا سلسلہ رکا نہیں ہے۔ قبرستانوں میں بھی لاشوں کی تدفین کے لئے زمینیں تنگ پڑگئیں ۔ اسپتالوں کے جوحالات تھے وہ جگ ظاہر ہیں، نہ دوا ، نہ بستر اور نہ ہی آکسیجن اور وینٹی لیٹر ! سرکاری افسران اور سرکاری ملازمین عام لوگوں کی شکایتیں سننے تک کے لیے تیار نہیں تھے ۔اور اس ساری لاپروائی ، لاشوں کی بڑھتی تعداد ، غمزدوں اور سوگواروں کی آہ وبکا کے بیچ وزیراعلیٰ یوگی لوگوں کی زبان بندی کرتے رہے کہ کوئی آکسیجن کی کمی کی شکایت نہ کرے ، کسی کی زبان سے دواؤں کی قلت ، بستروں کی کمی اور مرنے والوں کی حقیقی تعداد کے تعلق سے ایک لفظ بھی نہ نکلے ۔ یوپی میں کورونا سے مرنے والوں کی صحیح تعداد ہنوز سامنے نہیں آسکی ہے ۔ سرکار جو تعداد بتارہی ہے اس پر اس لیے یقین نہیں کیا جاسکتا کہ اس تعداد سے کہیں زیادہ لاشیں جلائی اور دفنائی گئی ہیں ۔ جولاشیں گنگا اور دوسری ندیوں میں پھینکی گئیں یا دفنائی گئیں ان کی تعداد کا کوئی اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ ہاں، یہ تعدا د سرکاری اعدادوشمار سے کہیں زیادہ ہے ۔ جنہوں نے بی جے پی کو ووٹ دیے تھے وہ بی جے پی کے لیڈروں کو مدد کے لیے پکارتے رہے مگر ان کی آواز پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ لوگ ناراض ہیں اور آنے والے اسمبلی الیکشن میں یوگی اور بی جے پی پر لوگوں کی ناراضگی کے اثرات پڑسکتے ہیں۔ یوگی ہنوز کسی کی سُننے کو تیار نہیں ہیں ، حالانکہ ایک خبر کے مطابق راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور بی جے پی کے ذمے داران کو یوپی میں یوگی کی کارکردگی سے اور عوامی غم وغصے سے تشویش ہے۔ سنگھ کو پتہ ہے کہ دہلی کی کرسی کی راہ لکھنؤ سے ہوکر گزرتی ہے ، یوپی سے 80 ممبران پارلیمنٹ منتخب ہوتے ہیں ، ظاہر ہیکہ یہ اتنی بڑی تعداد ہے کہ کوئی بھی سیاسی پارٹی یوپی کو نظر انداز نہیں کرسکتی ہے ، بی جے پی تو بالکل نہیں۔ بی جے پی اور سنگھ کے ذمے داران کو یہ لگ رہا ہیکہ یوگی انتظامیہ نے جس طرح سے کووڈ 19 کے دوران لاپروائی برتی ہے اسمبلی الیکشن میں بی جے پی پر اس کے مضر اثرات پڑسکتے ہیں ۔ گذشتہ اتوار 23 ؍ مئی کو بی جے پی صدر جے پی نڈا، مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ ، سنیل بنسل جو یوپی میں بی جے پی کے انتظامی سکریٹری ہیں اور آر ایس ایس کے جنرل سکریٹری دتاتریہ ہوسبلے کے درمیان میٹنگ میں یوپی کے حالات پر بحث ہوئی اور ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ لیا گیا کہ عوام میں بی جے پی کی گرتی ساکھ کو بہتر بنانے کے لیے یوگی انتظامیہ میں تبدیلیاں ناگزیر ہیں ۔
یہ تبدیلیاں جو بھی ہوں لیکن یہ ممکن نہیں لگتا کہ فی الحال یوگی کو زیراعلیٰ کی کرسی سے ہٹایا جائے گا ۔ حالانکہ ایک خبر ہے کہ یوگی کو مرکز میں وزارت دی جاسکتی ہے ، لیکن شاید مودی یہ نہ چاہیں گے کہ یوگی ان کے سرپر آکر سوار ہوجائیں ۔۔۔ اور پھر یوگی نے جو ’ مسلم مخالف مہم‘ شروع کی ہے وہ آر ایس ایس کے ایجنڈے سے ہٹ کر نہیں ہے ، بلکہ اسے کورونا سے نمٹنے میں ناکامی سے پیدا ہونے الی عوامی ناراضگی اور کسانوں کی تحریک سے نمٹنے کا بہتر توڑ مانا جارہا ہے ۔۔۔ لہٰذا یوگی انتظامیہ نے پہلے بارہ بنکی کی مسجد غریب نواز شہید کروائی ، پھر کھتولی کی مسجد الجمیل کو منہدم کروایا، اور لکھنؤ کی ایک مسجد کو نوٹس دی ، اناؤ کے سبزی فروش فیصل کی یوگی کی پولس نے ماب لنچنگ کی ، مراد آباد میں ایک گوشت فروش محمد شاکر کی ماب لنچنگ کی کوشش ہوئی اور آصف خان کو پیٹ پیٹ کر مارڈالا گیا ۔ حالانکہ آصف خان کا واقعہ ہریانہ کا ہے لیکن اس کے اثرات یوپی تک پہنچے ہیں ۔۔۔ آنے والے دنوں میں یوپی میں فرقہ پرستی کا بھوت مزید بے لگام ہوگا ۔ یوگی سرکار کی اور بی جے پی کی یہ کوشش ہوگی کہ ’ ہندوتوا‘ کی سیاست کے ساتھ ساتھ ذات پات کی سیاست کو بھی گرم کیا جائے۔ ان کے پاس الیکشن جیتنے کے لیے نہ ہی وکاس کے کام ہیں اور نہ ہی لوگوں کی بھلائی کے کام ، بس فرقہ پرستی پی ان کا واحد ہتھیار ہے ۔