ڈاکٹر کفیل کی رہائی یوگی حکومت کو منظور نہیں،ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا

 

لکھنؤ: اتر پردیش کی یوگی حکومت نے ڈاکٹر کفیل خان کی ضمانت کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے این ایس اے کے تحت ڈاکٹر کفیل کی نظربندی کو خارج کردیا تھا۔ اشتعال انگیز بیان پر ڈاکٹر کفیل خان کو این ایس اے کے تحت قید رکھا گیا تھا۔ ڈاکٹر کفیل کو اس معاملے میں ہائی کورٹ سے ریلیف ملنے کے بعد رہا کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر کفیل گورکھپور میڈیکل کالج میں ڈاکٹر تھے۔ یوگی سرکارنے سپریم کورٹ میں کہا ہے کہ ڈاکٹر کفیل کے خلاف الزامات بہت سنگین ہیں۔ ہائی کورٹ نے ان پر عائد الزامات کا پوری طرح جائزہ نہیں لیا۔ حکومت نے ہائی کورٹ کے حکم کا جائزہ لیتے ہوئے ڈاکٹر کفیل کی ضمانت منسوخ کرنے کی اپیل کی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ستمبر میں الہ آباد ہائی کورٹ نے ڈاکٹر کفیل خان کے راسوکا میں اصلاح اور اس کی مدت میں توسیع کو غیر قانونی قرار دینے کے حکم کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔ عدالت نے راسوکا نافذ کرنے کے لئے ریاستی حکومت کے دلائل کو قبول نہیں کیا اور ڈاکٹر کفیل خان کوبلا تاخیر کے رہا کرنے کی ہدایت دی۔ اس کے بعد ڈاکٹر کفیل خان کو رہا کیا گیا۔
این ایس اے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے عدالت نے کہاتھا کہ ڈاکٹر کفیل کی راسوکا کے تحت گرفتاری غیر قانونی ہے۔ عدالت نے اس حکومتی دلیل کو بھی قبول نہیں کیاتھا کہ ڈاکٹر کفیل خان جیل سے بھی علی گڑھ یونیورسٹی کے طلبا کو بھڑکا رہے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ ڈاکٹر کفیل خان ، جو جیل میں بند تھے ، ان کے پاس کچھ بھی نہیں تھا جو وہ جیل کے اندر سے طلبا کو مشتعل کرنے کے لئے استعمال کریں گے۔ عدالت نے اس حکومتی استدعا کو بھی قبول نہیں کیاتھا کہ ڈاکٹر کفیل خان نے ملک دشمن اور اشتعال انگیز تقریر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ راسوکا لگانے سے پہلے ڈاکٹر کفیل کو سی ڈی نہیں دی گئی تھی ، جس کو دیکھنے یا سننے پر وہ اس سلسلے میں اپنی وضاحت دے سکتے ۔
13 فروری 2020 کو علی گڑھ کے ڈی ایم نے علی گڑھ میں شہریت ترمیمی ایکٹ کے بارے میں اشتعال انگیز تقاریر کرنے کے الزام میں راسوکا کے تحت ڈاکٹر کفیل خان کوقید کرنے کا حکم دیا۔ بعد میں قید کی مدت بھی دو بار بڑھا دی گئی۔ تاہم ڈاکٹر کفیل خان کو گورکھپور کے گلہریا پولیس اسٹیشن میں درج ایک کیس میں 29 جنوری 2020 کو گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں جیل بھیج دیا گیا تھا۔
ڈاکٹر کفیل خان کی والدہ نزہت پروین نے بیٹے کی رہائی کے لئے درخواست دائر کرکے راسوکا حکم کو چیلنج کیاتھا۔ کہا گیا تھا کہ ڈاکٹر کفیل خان کو غلط طریقے سے پھنسایا گیا ہے۔ اس نے ایسا کوئی کام نہیں کیا ، جو ان پر راسوکا لگایا جائے۔ درخواست میں الزام لگایا گیاتھا کہ ڈاکٹر کفیل خان کو غیر قانونی طور پر حراست میں لیا گیا ہے اور اس لئے انہیں بغیر کسی تاخیر کے رہا کیا جائے۔ اس سے قبل ڈاکٹر کفیل خان کے راسوکا کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے اصل خط ہائی کورٹ کو ارسال کرکے اس کیس کو نمٹانے کی ہدایت کی تھی۔