یونی ورسٹیوں میں داخلہ لینے والے فارغینِ مدارس کی رہ نمائی- ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

عزیزی حمزہ ندوی نے خواہش کی کہ میں یونی ورسٹیوں میں داخلہ لینے والے فارغینِ مدارس کی رہ نمائی کے لیے شروع کی جانے والی لیکچر سیریز کے آخری سیشن میں شریک ہوں اور طلبہ کو کچھ نصیحتیں کروں _ اس خواہش کی تعمیل سے انکار ممکن نہ تھا۔

کسی زمانے میں دینی مدارس کے ذمے داروں کی جانب سے فارغینِ مدارس کے یونی ورسٹیوں میں داخلہ لینے کی حوصلہ شکنی کی جاتی تھی اور اسے پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھا جاتا تھا ، لیکن حالات بدلے ، بہت سے مدارس کی اسناد کو یونی ورسٹیوں میں تسلیم کیا گیا ، چنانچہ فارغینِ مدراس کو مختلف کورسز میں داخلہ کے مواقع حاصل ہوئے۔ مدارس کی انجمن ہائے طلبۂ قدیم بھی سرگرم ہوئیں اور انھوں نے نوواردان کی رہ نمائی کرنے اور سہولیات فراہم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے۔ اس بنا پر اِدھر کچھ برسوں سے فارغینِ مدارس کی خاصی تعداد یونی ورسٹیوں میں جارہی ہیں۔ اس پس منظر میں یونی ورسٹیوں میں پہلے سے موجود بعض فارغینِ مدارس نے بعد میں آنے والوں کی رہ نمائی کے لیے آل انڈیا مدرسہ گریجویٹس فورم قائم کیا ہے۔ لیکچر سیریز اسی فورم کے تحت شروع کی گئی تھی۔

آٹھ دن تک جاری رہنے والی اس سیریز میں 13 لیکچر دیے گئے _ اس کا آغاز پروفیسر مجیب الرحمٰن (JNU) کے لیکچر بہ عنوان ‘طلبۂ مدارس کے لیے یونی ورسٹی ایجوکیشن کی اہمیت’ سے ہوا تھا اور اس کا خاتمہ ڈاکٹر محی الدین غازی کے لیکچر بہ عنوان ‘طلبۂ مدراس اور شخصیت سازی’ پر ہوا۔ درمیان میں مختلف مضامین : عربی زبان و ادب ، انگریزی زبان و ادب ، اسلامک اسٹڈیز ، سماجی علوم ، طب ، قانون ، سوشل ورک ، صحافت وغیرہ میں تعلیم کی اہمیت ، فوائد اور مواقع پر لیکچر پیش کیے گئے _ کچھ عناوین عمومی نوعیت کے تھے ، مثلاً فارغینِ مدارس کے لیے معاشی استحکام کی ضرورت اور طریقۂ کار ، فارغینِ مدارس کے لیے سرکاری ملازمت : مواقع اور چیلنجز۔ ان پر ان حضرات کے لیکچر ہوئے جنھیں مدارس سے تعلیم کرنے کے بعد یونی ورسٹیوں سے بھی فیض اٹھانے کا موقع ملا اور اب وہ اعلیٰ مناصب پر فائز ہیں _ یہ لیکچرس کی بہت عمدہ سیریز تھی _ امید ہے کہ فورم کے ذمے داران تمام لیکچرس کو سوشل میڈیا پر عام کردیں گے ، تاکہ ان سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کیا جاسکے _ (افتتاحی اجلاس میں پروفیسر مجیب الرحمٰن کا لیکچر یو ٹیوب پر اپ لوڈ کردیا گیا ہے )

راقم سطور نے اپنی گفتگو میں یونی ورسٹیوں میں داخلہ لینے والے فارغینِ مدارس کو چار باتوں کی نصیحت کی :
(1) مدرسہ کی تعلیم کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھیے اور اسے بُھلا نہ دیجیے _ یونی ورسٹیوں میں آنے والے بہت سے فارغینِ مدارس جلد از جلد اپنے ماضی سے پیچھا چھڑالیتے ہیں _ وہ اپنے مدرسے کی طرف انتساب بھی پسند نہیں کرتے۔ اس احساس کا اظہار کرتے ہیں کہ مدرسے میں ان کا گزرا ہوا وقت ضائع ہوگیا۔ یہ احساسِ کم تری کا اظہار ہے۔ مدرسے میں انھوں نے اپنی زندگی کا قیمتی وقت گزارا ہے اور دین کا علم سیکھا ہے۔ اس کی انہیں قدر کرنی چاہیے ۔

(2) یونی ورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے اپنے دیگر ساتھیوں سے سبقت لے جائیے۔ آج کے دور میں کم معیار اور اوسط معیار کی کچھ اہمیت نہیں ہے _ یہ تأثر ہرگز قائم نہ ہونے دیجیے کہ دینی مدارس سے آنے والے طلبہ تعلیم میں پیچھے رہتے ہیں ، وہ کند ذہن اور لاپروا ہوتے ہیں _ آج کا دور مسابقت کا دور ہے۔آج اسی کی قدر ہوتی ہے جو علم کے میدان میں فائق ہوتا ہے۔ اسی کو ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے اور اسی کی شرائط پر اس سے کام لیا جاتا ہے۔

(3) کسی بھی فن میں اختصاص (Specialisation) حاصل کرنے کی کوشش کیجیے۔ آج اختصاص کا دور ہے۔ مختلف علوم شاخ در شاخ ہوکر بہت زیادہ وسعت اختیار کرگئے ہیں۔ حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رحمہ اللہ طلبۂ ندوہ کے سامنے کی جانے والی اپنی تقریروں میں ہمیشہ اختصاص حاصل کرنے کی تلقین فرمایا کرتے تھے۔ آج وہی شخص شہرت اور نام وری کی بلندیوں کو چھوتا ہے جو علم کی کسی شاخ میں اختصاص رکھتا ہو۔

(4) اپنے آپ کو دوسروں کے لیے نافع بنائیے۔ لوگوں کو فیض پہنچانے والے بنیے۔ دنیا داری میں نہ پڑیے ، دنیا خود آپ کی طرف دوڑی ہوئی آئے گی۔ لوگ اس کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اس سے محبت کرتے ہیں جس سے انہیں کسی معاملے میں کچھ فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ یہ فائدہ دنیاوی اور مادّی ہوسکتا ہے اور دینی اور روحانی بھی۔ آپ نے مدرسے میں دین کا جو علم حاصل کیا ہے اس سے دوسروں کو فیض پہنچانے کی تدابیر سوچیے اور ان پر عمل کیجیے۔