امراؤ جان ادا کا تنقیدی جائزہ

عبدالباری قاسمی
ریسرچ اسکالر دہلی یونیورسٹی
امراؤ جان ادا مرزا محمد ہادی رسوا کی معرکۃ الآرا تصنیف ہے ،اسے معاشرتی ،نفسیاتی اور تاریخی ناولوں میں اہم مقام حاصل ہے ،اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی ہوتا ہے کہ ایک صدی گزرنے کے بعد بھی اس کی روح اور کشش میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آئی ہے بلکہ وہی لطف آج بھی موجود ہے ،اس ناول میں فیض آباد سے اغوا شدہ لڑکی امیرن کا قصہ بیان کیا گیا ہے ،جسے امراؤ جان ادا کے نام سے لکھنؤ میں ایک طائفہ کی زندگی بسر کرنا پڑی ،رسوا نے اس ناول میں لکھنؤ کی معاشرتی ،تہذیبی اور ادبی جھلکیوں کو اس انداز سے پیش کیا ہے کہ اس کی نظیر نہیں ملتی ،اس ناول پریہ اعتراض ممکن ہے کہ رسوا نے طوائف کے کوٹھے کا ہی کیوں انتخاب کیا ؟ اس کا عام فہم جواب یہی ہے کہ اس وقت طوائف کا کوٹھا ہی لکھنؤ میں تہذیبی اور ادبی مرکز تھا اور اس سے نواب ،روسا اور شرفا سے لے کر مولوی ،ڈاکو ،شاعرو شاعرات تک سبھی وابستہ تھے ،اس ناول میں کرداروں کی بڑی تعداد ہے ،اس کے علاوہ پلاٹ ،تکنیک اور تہذیبی منظر کشی بھی بہت عمدہ ہے ،رسوا نے کرداروں کو اس انداز سے سمویا ہے کہ قصہ کی اصلیت و واقعیت میں قاری کو ذرہ برابر بھی شبہ نہیں ہوتا اور شروع سے آخر تک تجسس و جستجو کی کیفیت برقرار رہتی ہے
،اس کا اسلوب سادہ ہے اور زبان بھی عام فہم ہے ،واحد متکلم اور بیانیہ کی تکنیک استعمال کرکے رسوا نے اس ناول کو آگے بڑھایا ہے ،جس طرح سونار سونے کے ہارمیں ہیرے جڑتے ہیں اسی طرح رسوا نے نثر کے درمیان شاعری کو شامل کیا ہے ،اس کی وجہ سے اس کی خوبصورتی مزید دوبالا ہو گئی ہے ۔
مرزا محمد ہادی رسوا :
مرزا محمد ہادی رسوالکھنؤ کے ایک محلہ کوچۂ آفریں خاں میں 1858ء میں پیدا ہوئے ،ان کے والد کا نام مرزا محمد تقی تھا جو آصف الدولہ کی فوج میں ملازم تھے ،رسوا ذہین انسان تھے ،انہوں نے عربی،فارسی،ریاضی،نجوم،منطق اور فلسفہ کا علم حاصل کیا اور 1885ء میں پنجاب یونیورسٹی سے فلسفہ میں بی اے کیا ،پھر موسیقی وغیرہ بھی سیکھی اور مختلف جگہ ملازمت وغیرہ کرنے کے بعد دارالترجمہ عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد میں ملازم ہوئے اور وہیں 21اکتوبر 1931ء کو انتقال ہوا ،ان کے معاشرتی ناولوں میں افشائے راز ،شریف زادہ ،ذات شریف اور اختری بیگم اہم ناول ہیں ،اس کے علاوہ کچھ جاسوسی ناول بھی ہیں جس میں خونی جورو،خونی شہزادہ ،خونی مصور،بہرام کی رہائی ،خونی بھید اور خونی عاشق وغیرہ ہے،اس کے علاوہ مرزا رسوا ایک اچھے شاعر بھی تھے ان کی شاعری کا نمونہ امراؤ جان ادا اور دیگر ناولوں میں دیکھا جا سکتا ہے ،شاعری میں رسوا محمد جعفر اوج اور مرزا دبیر سے اصلاح لیتے تھے ۔
سن تصنیف :
شائع ہونے کی صحیح تاریخ کا علم تو کسی کو نہیں ؛البتہ امراؤ جان ادا پر جو انہوں نے دیباچہ
لکھا ہے اس میں 1899ء کی تاریخ درج ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ رسوا نے یہ معرکۃ الآرا ناول 1899ء میں لکھی ۔
موضوع : ناقدین اور محققین میں سے بعض حضرات نے اس کا موضوع طوائف کو قرار دیا ہے تو بعض نے لکھنؤ کے معاشرتی زوال کو ،مگر سنجیدگی سے اس کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ لکھنؤ کا معاشرہ ،زوال آمادہ تہذیب اور طوائف سب کچھ اس کا موضوع ہے ،رسواؔ کا بنیادی مقصد زوال آمادہ تہذیب اور اس میں رہنے والے لوگوں کی ذہنیت اور معیارات فخر کو سامنے لانا تھا ،اس زمانہ میں چوں کہ طوائف کے بالا خانوں سے ہر طرح کے لوگ وابستہ تھے ا س لیے انہوں نے اسے بنیاد بنا کر پوری تہذیب کی تاریخی اور نفسیاتی مرقع کشی بہت خوبصورتی سے کی ۔
مختصر قصہ : اس ناول کی سب سے اہم کردار اور ہیروئن امیرن فیض آباد کے ایک جمعدار کی لڑکی تھی ،ان کے پڑوس میں دلاور خان نامی ایک بدمعاش رہتا تھا ،گواہی کے سلسلہ میں اس سے اس کے والد کی نوک جھونک ہوئی ،امیرن کے گھر کے پاس املی کے پیڑکے نیچے بھائی کو کھلا رہی تھی کہ دلاور خان نے اسے اغوا کرلیا اور لکھنؤ لاکر ایک سرغنہ عورت خانم کے ہاتھوں فروخت کر دیا ،جس نے امیرن کو موسیقی ،شعرو شاعری اور دیگر چیزوں کی تعلیم دلا کر ’’ امراؤ جان ادا ‘‘ بنا دیا اور جلد ہی رؤسا ،نواب زادے اور دیگر عیش و عشرت کے دلدادہ حضرات اس کے کوٹھے پر آنے لگے اور امراؤ جان مجرے وغیرہ محفلوں کی بھی زینت بننے لگی ،اسی دور میں فیض علی نام کا ایک ڈاکوبھی وہاں آنے لگا اور اس قدر دولتیں لٹانی شروع کی کہ امراؤ جان اسے اپنا دلدادہ اور سچا
عاشق سمجھ کر اس کے ساتھ فرار ہو گئیں ،مگر راستہ میں جب فیض علی گرفتار ہوا تو پتہ چلا یہ تو ڈاکو ہے ،درمیان میں مختلف واقعات پیش آئے اور امیرن کانپور چلی گئیں ،جہاں سے بعد میں گوہر مرزا اور بواحسینی لکھنؤ لے آئے اور 1857ء کے غدر میں جب لکھنؤ لٹ گیا تو فیض آباد چلی گئی ،جہاں ایک مرتبہ ان کے اپنے آبائی گاؤں میں اسی املی کے درخت کے نیچے مجرے کی محفل میں شرکت کرنی پڑی ،جہاں وہ کھیلا کرتی تھی ،یہاں والدہ اور بھائی کی نظر پڑی جو قتل پر آمادہ ہوگیا ،اس کے بعد وہاں سے واپس چلی آئی اور قصہ کے آخر میں دلاور خان بھی جرم کے پاداش میں گرفتار ہوا ،یہ تو سرسری طور پر قصہ کو بیان کیا گیا ورنہ پچیس حصوں میں پورا قصہ ہے اور جگہ جگہ شاعری کی مجلسیں بھی خوب آراستہ ہوئی ہیں ۔
پلاٹ : واقعات کے پورے ایک ڈھانچہ کو پلاٹ سے تعبیر کیا جاتا ہے ،امراؤ جان ادا ناول کا پلاٹ انتہائی مضبوط اور لاجواب ہے ،عام طور پر دوہرے پلاٹ والے ناولوں میں پلاٹ مربوط کرنا بہت مشکل ہوتا ہے ،مگر مرزا ہادی رسوا کا کمال ہے کہ انہوں نے واقعات کے درمیان ایسا فطری اور منطقی ربط قائم رکھا کہ سارے واقعات ایک دوسرے سے جڑ گئے اور ایسی کشش پیدا ہو گئی کہ قارئین اس کی طرف خود بخود کھنچے چلے جاتے ہیں ،اسی سے مرزا ہادی رسوا کے مہارت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے پروفیسر اشرف رفیع نے اس کے پلاٹ کے متعلق اس انداز سے اظہار خیال کیا ہے کہ ’’ امراؤ جان ادا پلاٹ کے حساب سے ایک غیر معمولی ناول ہے ،اس کا پلاٹ نہ تو فسانہ آزاد کی طرح ڈھیلا ڈھالا ہے اور نہ نذیر احمد کی ناولوں کی طرح کسا بندھا ‘‘ یہ حقیقت ہے کہ اس ناول
کا پلاٹ معتدل ہے ،پورے ناول میں جتنے بھی واقعات ہیں سب امراؤ جان ادا کے ہی ارد گرد گھومتے ہیں خواہ اغوا کا واقعہ ہو یا ڈاکہ زنی کا امیروں کے کوٹھے پر آنے کا یا پھر شعر و شاعری اور مجرے کا ۔
تکنیک :
امراؤ جان ادا ناول میں مرزا رسوا نے واحد متکلم والی تکنیک استعمال کرکے مکالماتی انداز میں ناول کو آگے بڑھایا ہے یہ بڑا دلچسپ پہلو ہے اس سے نئی دلکشی پیدا ہو گئی ہے ،اس کے علاوہ بیانیہ تکنیک کا استعمال ہوا ہے ،رسوا کرید کرید کر امراؤ جان سے سوالات کرتے ہیں اور وہ جواب دیتی چلی جاتی ہے ،بسا اوقات ایسا موقع آتا ہے کہ اگر امراؤ جان بلا جھجک اپنی آپ بیتی بیان کردیں تو لوگ اسے بے حیا قرار دیں ،مگر کرید کرید کر رسوا امراؤ جان کے منھ سے بات نکلواتے ہیں اور بعض موقع پر وہ بہت کچھ کہنا چاہتی ہے ،مگر رسوا ’’ کہنے دیجیے ‘‘ کہ کرٹال دیتے ہیں ،اس کے علاوہ کبھی ایسی سنسنی خیز واقعات سامنے آتے ہیں کہ اچھے سے اچھے سخت دل آنکھوں سے بھی آنسو نکل پڑیں ،اس سے رسواکی مہارت کا اندازہ ہوتا ہے کہ نفسیاتی کیفیات اور جزئیات نگاری پر کتنا دسترس رکھتے تھے اور ایک شاندار اینکر کا رول ادا کرکے اپنی حیثیت سبھی سے منوا بھی لی ۔
کردار نگاری :
امراؤ جان ادا ایسا ناول ہے جس میں کرداروں کی بھرمار ہے ،قدم قدم پر نئے کرداروں سے واسطہ پڑتا ہے مگر کمال ہے کہ کردار مضبوط بہت ہیں ،تمام کے تمام کردار فطری
معلوم ہوتے ہیں ،انہوں نے ہر کردار کو بہت ہی چابکدستی سے پیش کیا ہے اور خاص طور پر امراؤ جان ادا کو ہیروئن کے طور پر اس انداز سے پیش کیا ہے کہ اس کی نظیر نہیں ملتی اس میں جہاں رؤ سا ،نواب اور امرانظر آتے ہیں تو وہیں چور ،ڈاکو اور لچے لپھنگے بھی ،مولوی بھی ہیں تو استاد شعرا اور موسیقی نگار بھی اور سب سے بڑھ کر قابلیت کرداروں کو پیش کرنے کا ہے رسوا نے کرداروں کو حقیقت کے سانچے میں ڈھال کر اس انداز سے پیش کیا ہے کہ آج بھی اس کے اصلیت و واقعیت کے سلسلہ میں شش و پنج برقرار ہے ،اس میں تین کیفیتیں ایسی سامنے آتی ہیں جو قاری کو جھنجوڑ کر رکھ دیتی ہے ،ایک وہ وقت جب دلاور خان امیرن کو اغوا کرتا ہے دوسرے جب فیض علی ڈاکو کے بہکاوے میں آکر امراؤ جان خانم کے گھر سے بھاگ جاتی ہے اور تیسرے وہ لمحہ جب وہ اپنے آبائی گاؤں بنگلہ فیض آباد مجرے کے لیے آتی ہے اور قدیم زمانہ گزر جانے کے باوجود گھر کے کچھ افراد پہچان لیتے ہیں ،اس کے علاوہ لکھنؤ کی زبان اور تہذیب نے اسے مزید نستعلیق بنا دیا ،امراؤ جان کی زبانی رسوا نے مظلومیت کا نقشہ اس انداز سے کھینچا ہے ’’ آپ مجھ سے کیا چھیڑ چھیڑ کر پوچھتے ہیں مجھ بد نصیب کی سرگزشت میں ایسا کیا مزہ ہے جس کے حالات سن کر مجھے ہر گز امید نہیں کہ آپ خوش ہوں گے ‘‘ (امراؤ جان ادا ص : 38) اس کے علاوہ دلاورخان ،خانم جان ،بسم اللہ جان ،خورشید جان،بوا حسینی ،رام دئی ،مولوی صاحب ،فیض علی ،نواب سلطان ،گوہر مرزا ،نواب راشد ،نواب جعفر ،نواب محمود علی خاں اور اکبر علی خاں وغیرہ خاصے اہم کردار ہیں اور سب سے بڑی بات منطقی ربط اور قصے کا فطری پن ہے ۔
اتنی بڑی تعداد میں کردار کسی اور ناول میں نظر نہیں آتے ،بعض حضرات گوہر مرزا کو اس ناول کا ہیرو قرار دیتے ہیں جس سے سب سے پہلے امراؤجان کی شناسائی ہوئی مگر رسوا کا مقصد ہیرو یا ہیروئن کو بیان کرنا نہیں بلکہ زوال آمادہ معاشرہ اور اس تہذیب کی عکاسی کرنی تھی اور اس میں رسوا کامیاب ہیں۔
مکالمہ نگاری :
اس ناول میں مکالمہ نگاری بھی بہت عمد ہ ہے،اس باب میں بھی رسوا نے اپنی مہارت کا ثبوت پیش کیا ہے ،ایک تو پورا ناول بیانیہ صنف میں ہے ،دوسرے ہر کردار کی زبان سے ویسے ہی الفاظ نکلتے ہیں جیسی اس کردار کی شخصیت ہوتی ہے ،ایک طائفہ اپنی زبان بولتی ہے ،خانم جیسی بردہ فروش عورت کی زبان سے ویسے ہی جملے نکلتے ہیں ،ڈاکو کی زبان وہی جملے ادا کرتی ہے جیسے عام طور پر ڈاکو بولتے ہیں اور مولوی حضرات مولویانہ جملے ہی ادا کرتے ہیں ،اس سے رسوا کی نفسیات پر قادر الکلامی کا اندازہ ہوتا ہے ۔
لکھنؤ کی معاشرت ا ور تہذیبی منظر کشی :
اس معرکۃ الآرا ناول میں رسوا نے لکھنؤ کی معاشرتی اور تہذیبی منظر کشی بہت ہی خوبصورتی سے کی ہے ،لکھنؤ کی عیش و عشرت کو اس انداز سے پیش کیا ہے کہ وہاں کے لوگوں کی حالت طوائف کے بغیر ماہئ بے آب کی سی ہے ،طوائف کے بالاخانوں پر جانا ان کے نزدیک تہذیب اور عزت کی چیز ہے ،ہر طبقہ کے لوگ طوائف کے پاس جانے کو باعث افتخار سمجھتے تھے ،نواب اور جاگیر داروں کے حالات انتہائی ناگفتہ بہ تھے ،اخلاقی پستی اور معاشرتی بیماری کے حد درجہ شکار تھے انہوں نے لکھنؤ کے رہن سہن اور بیگمات کا نقشہ بہت خوبصورتی سے کھینچا ہے ،حقہ بھی ہے ،گانے بجانے کی محفلیں بھی سج رہی ہیں اور بہت ہی خوبصورت پاندان بھی ہے ،غرض عیش و عشرت ہی ان کے نزدیک اصل زندگی ہے ،یہ حقیقت ہے کہ لکھنؤ کی معاشرتی زوال میں ش طوائفوں کا اہم کردار ہے ،مگر وقت کے گنڈوں اور اخلاق سوز لوگوں کا بھی کوئی کم کردار نہیں ہے ،رسوا نے اس ناول میں لکھنؤ کے محلوں ،میلوں ،گلیوں ،بازاروں اور مکانات کے محل وقوع کا نقشہ ایسا کھینچا ہے کہ اسے پڑھتے ہی لکھنؤ کا نقشہ آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے،اسی طرح لکھنؤ میں آرائش و زیبائش کے طور طریقے ،عید بقرعید ،محرم ،عزاداری ،شادی بیاہ وغیرہ کے رسوم ،رقص و موسیقی اور کھیل کود کو بہت ہی نستعلیقی انداز سے پیش کیا ہے ،ا س کے علاوہ انہوں نے نشست و برخاست کے طور طریقے ،مشاعرہ کی محفل اور علمی و ادبی ذو ق کو بھی بہت خوبصورتی سے پیش کیا ہے ،نخاس کا بازار اور عیش باغ کے میلے کا تذکرہ جب کرتے ہیں تو پورے بازار کا نقشہ آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے ،لوگ مزار اور امام باڑے پر بھی چڑھاوا چڑھاتے ہیں اور منتیں مانگتے ہیں اور مولوی بھی عیاشی کرتے دکھائی دیتے ہیں ،غرض رسوا نے لکھنؤ کی زوال آمادہ معاشرہ کھوکھلی تہذیب اور انسانی رشتوں کی تضحیک و بے حرمتی کا نقشہ بہت کامیابی سے کھینچا ہے ۔
تجسس و جستجو :
امراؤ جان ادا ایسا ناول ہے جس میں شروع سے آخر تک تجسس و جستجو کی کیفیت برقرار رہتی ہے ،خواہ دلاور خان کے امیرن کو اغوا کرنے کا معاملہ ہو یا امراؤ جان کے خانم کے کوٹھے سے بھاگنے کا یا پھر فیض آباد میں بیگم صاحبہ کے مکان پر اچانک مسلح گنڈوں کے آدھمکنے کا ہو یا پھر نواب صاحب کے خاں صاحب کو گولی مارنے کا ،ہر جگہ ایک متجسسانہ کیفیت قارئین پر برقرار رہتی ہے ،اب کیا ہوگا؟ ہر جگہ نہ جانے کیا ہو کی سنسنی خیز گونج کانوں میں سنائی دیتی ہے ،بطور مثال ایک اقتباس ’’ جب فیض علی کی محبت اور اپنے وعدہ کا خیال آتا تھا تو دل کہتا تھا جانا چاہیے مگر جیسے کوئی منع کرتا تھا کہ نہ جاؤ خدا جانے کیا ہو ‘‘ ۔
واقعیت :
پورے ناول کو مرزا رسوا نے اس انداز سے پیش کیا ہے کہ لگتا ہی نہیں کہ یہ واقعہ فرضی ہے ،یہی رسوا کا کمال فن ہے اگرچہ تمکین کاظمی نے لکھا ہے کہ انہوں نے مرزارسوا سے پوچھا کیا یہ سچا واقعہ ہے ؟ کیا کوئی امراؤ جان ادا تھی تو انہوں نے ہاں کہا ،مگر اس میں 1857ء اور اس کے قبل کے واقعات ہیں اور رسوا 1857ء میں پیدا ہوئے اس لیے حقیقی ہونامشکل امر ہے ،مگر اس انداز سے پیش کرنا کہ سچا واقعہ لگے اس میں مرزا کامیاب ہیں ۔
اسلوب :
اس ناول کی ایک اہم خصوصیت اس کے اسلوب کی سادگی ہے ،مرزا رسوا نے تصنع اور رنگینی کو اختیار نہیں کیا بلکہ نہایت سادگی ،بے تکلفی اور برجستگی کے ساتھ تمام مکالمات ادا کروائے ا ور بھی عام فہم ،سادہ اور عوامی زبان میں کہ اس کے فطری ہونے میں ذرہ برابر بھی شبہ نہ ہو چوں کہ مرزا کی زندگی لکھنؤ میں بسر ہوئی تھی ،وہاں کے محاورات ،ضرب الامثال ،بیگماتی زبان اور طوائفوں کے اشارات و کنایات کو بہت قریب سے جانتے تھے اس لیے بڑی مہارت اور چابکدستی سے ان چیزوں کو ناول کا حصہ بنایا ،اس ناول میں ہر چیز ممکن نظر آتی ہے ،داستانوں کی طرح مبالغہ آرائی اور تصنع کی کیفیت کہیں پیدا نہیں ہوتی ،جا بجا لکھنؤ کے شیریں اور شستہ زبان کے نمونے مل جاتے ہیں جو بہت ہی ظریفانہ انداز سے لکھنؤ کی تہذیبی ،نفسیاتی ،معاشیاتی ،اخلاقی اور ادبی منظر نامہ کی ترجمانی کرتے ہیں ۔
ناول سے پیغام :
ناول جہاں تفریح طبع کا ذریعہ ہوتے ہیں وہیں ان سے اخلاقی پیغامات بھی ملتے ہیں ،مرزا رسوا اخلاق سوز اور زوال آمادہ تہذیب کی منظر کشی کرکے قوم کو بیدار کرنا چاہتے ہیں کہ ایک غریب لڑکی کو نہ چاہتے ہوئے بھی طوائف کی صف میں شامل ہو کر ابتذال کے دلدل میں گھسیٹنا پڑتا ہے ،اس طرح کی بیہودہ لعنت سے بچا جائے اور ایک صالح معاشرہ کی تشکیل کی جائے تاکہ کسی امیرن کو امراؤ جان نہ بننا پڑے ۔
جب کوئی دیکھوں اداکارہ یقیں ہوتا ہے
حسن سو بار لٹے پھر بھی حسیں ہوتا ہے
بک گئے حیف جو سب شہر کے بازاروں میں
پھول پھر آنہ سکے لوٹ کے گلزاروں میں
حرف آخر :
امراؤ جان ادا مرزا رسوا کے شاہکار ناولوں میں سے ہے ،اس میں اس لکھنؤ ی تہذیب کی منظر کشی بہت خوبصورتی سے کی گئی ہے ،جس میں طوائف کے بالاخانوں پر جانا تہذیب ،عزت اور افتخار کا سبب سمجھاجاتا تھا ،انہوں نے سادہ اور سلیس عوامی زبان اور برجستہ و بے تکلف مکالماتی اسلوب اپنا کر فنکاری کا عمدہ ثبوت پیش کیا ہے پلاٹ ،کردار ،مکالمے ،منظر کشی ،زبان و بیان ،واقعیت و اصلیت اور اسلوب ہر چیز میں لاجواب ہے اور ایک فرضی قصہ کو ایسے فطری انداز سے پیش کیا ہے کہ آ ج بھی دنیائے ادب حیران ہے ۔